Tag: ProphetAdamstoryinurdu

  • Gaiy aor bakri Allama Iqbal Story in urdu    گا ۓ اور بکری  علا مہ اقبال کی نظم سی ماخوذ

    Gaiy aor bakri Allama Iqbal Story in urdu گا ۓ اور بکری علا مہ اقبال کی نظم سی ماخوذ

     

     

     

     

    گا ۓ اور بکری 

    علا مہ اقبال کی نظم سی ماخوذ

    گا ۓ اور بکری  علا مہ اقبال کی نظم سی ماخوذ

    وہ ایک خوبصورت سا  پہاڑی علاقہ تھا  

    اس میں ایک ہری بھری چرا ہ گاہ تھی

    یہ چراہ گاہ بہار خوشبو سے بھری تھی 

    اس چراہ گاہ کے پاس سے ایک ندی بھی گزرتی تھی

    جس کا پانی بہت ٹھنڈا اور میٹھا تھا 

     پیپل اور انار کےبے شمار درخت قطا روں میں لگے تھے 

    جن پر پرندے بیٹھ کرخوبصورت آوازوں میں چہچہاتےتھے  

    ٹھنڈی ہوا اس ماحول کو اور بھی پیارا کر دیتی  تھی
     اس خوبصورت  چرا گاہ میں ایک گا ۓ رہتی تھی 
    جو یہاں خوش نہیں تھی   

     ایک دن ایک بکری گھاس چڑ تے چڑ تےاس طرف  آ نکلی

    بکری نے ادھر ادھر نظر گھما کر دیکھا 

    تو اس کووہ  گاۓ نظر آئی  

    بکری نے گا ۓ کو جھک کر بڑ ے ادب سے سلام کیا

    اور پھربڑ ے اچھے انداز سے گا ۓ سے اسطرح بات کرنے لگی 

          : بکری

    کیا حا ل ہے بڑ ی بی 

    :  گا ۓ 

    خیر اچھے ہیں.(ساتھ ہی ایک ٹھنڈی آہ بھر ی

    (اور گلے کرنے لگی 
    کہنے لگی میں بہت پریشان ہوں
    میری زندگی مصیبت  میں پڑی ہوئی  ہے


      ایسے لگتا ہے
      میری قسمت ہی  خراب ہے 
     یہ انسان میرے ساتھ برا سلوک کرتا ہے

    میرا دودھ نکالنے  کے لیے بڑی چالیں چلتا ہے  

    جس دن میں دودھ کم دیتی ہوں یہ بڑبڑاتا ہے 

    اوراگر میں کمزور ہو جا ؤں تو یہ مجھے بیچ دیتا ہے

    اس نے  میری اس نیکی کا مجھے یہ صلہ دیا ہے

    کہ یہاں با ند ھ دیا ہے

    میں کمزور ہوں میرا ان انسانوں  پر ذورنہیں چلتا

    لیکن میں یہی دعا کرتی ہوں  

     کہ کسی کا پالا ان انسانوں سے پڑ ے  

     غرض یہ کہ 

    یہ انسان بہت ظالم ہے 

    بکری گا ۓ کی یہ سا ری کہانی سن کے بولی 

    :بکری  

     دیکھو بڑی بی
    سچ بات کڑوی ہوتی ہے لیکن میں تو پھر بھی سچ کہوں گے 
    کہ انسان کا گلہ کرنا ٹھیک نہیں ہے 
     ہم غریب کمزور جانور ہیں
     آج اگر یہ انسان نہ ہوتا تو 

     ہمیں یہ ساری 

    خوشیاں کہاں نصیب ہونی تھیں 

    یہ سا رے لطف اور مزے ہمیں انسان کی 

     وجہ سے ہی  ملے  ہوے ہیں

    اسی انسان کی وجہ  سے آج ہم زندہ ہیں 

    ورنہ جنگل کے خطرناک بھیڑیوں سے ہمیں کون بچاتا.

     یہی انسان ہمیں سردی گرمی سے
     بچانے کے لیے  گھر بنا کر دیتا ہے

    انسان کے ہم پر اتنے احسان ہیں 

    تو پھر تم بتاؤ کہ ھمارے لیے انسان کی قید اچھی ہے یا آزادی 

    ہمیں اس کا گلہ کرنا زیبا نہیں دیتا

    یہ سن کر گا ۓ نے دل میں سوچا

    کہ بکری تو بلکل ٹھیک کہہ رہی ہے 

    پھر بولی 

    :گا ۓ   

    ویسے بکری ہے تو چھوٹی سی

    لیکن بہت عقل مند ہے 

    اس کی بات میرے دل کو بہت پسند آئی ہے
    آج کے بعد میں کبھی کسی کا گلہ نہیں کروں گی  

    ادیبہ انور 

     

  • حضرت موسی علیہ السلام کی قومThe story of Hazrat Moosa A.S in Urdu.

    حضرت موسی علیہ السلام کی قومThe story of Hazrat Moosa A.S in Urdu.

    حضرت موسی علیہ السلام 


    ١.حضرت موسی علیہ السلام کی پیدائش اور شادی 

    فرعون بہت ظالم بادشاہ تھا- وہ بنی اسرائیل کے  تمام لڑکوں
    کو قتل کروا دیتا تھا- جب حضرت موسیٰ علیہ السلام پیدا

    ہوئے, تو ان کی ماں اس بات پرڈر گئ کہ فرعون ان کے بیٹے
    کو قتل کروادے  گا -لیکن اللہ نے آپ کی ماں کو بتایا کہ! آپ
    اپنے بیٹے کو دریا میں رکھ آئیں- اور ہم موسیٰ کو بچا لیں
    گے- حضرت موسی علیہ السلام کی ماں نے آپ کو ایک
    ٹوکری میں رکھا اور دریا میں رکھ آئیں وہ ٹوکری بہتی ہوئی
    فرعون کے دربار کی طرف گئی تو فرعون کے سپاہیوں نے
    اس کو اٹھا لیا اور محل میں لے گئے- وہاں پر اس بچے کو
    فرعون  کی بیوی نے لے لیا-اس نے  کہا کے بچہ میں پالوں
    گی- پھر بچے کو دودھ پلانے کے لئے ایک عورت کو بلایا
    گیا- وہ حضرت موسی کی اپنی ماں تھی-لیکن یہ بات کسی کو معلوم نہیں تھی –
    انہوں نے بچے کو دودھ پلایا- اور ان کی دیکھ بھال میں لگ
    گئیں- اور اس طرح حضرت موسی علیہ السلام فرعون کے
    دربار میں ہی رہنے لگے- کچھ عرصہ کے بعد جب حضرت
    موسی علیہ السلام ذرا بڑے ہو گئے- تو فرعون کو معلوم ہوا
    کہ یہ بچہ بنی اسرائیل کا ہے-
    حضرت موسی علیہ السلام بنی اسرائیل کے پاس واپس آ گئے- موسی علیہ السلام بکریاں چراتے تھے- ایک دن ان کے ایک ساتھی سے فرعون کے
    ایک سپاہی کا جھگڑا ہو گیا- موسی علیہ السلام مدد کے لئے
    گئے- تو ان کے ہاتھ سے وہ سپاہی قتل ہو گیا- حضرت موسی
    علیہ السلام گھبرا گئے- اور وہاں سے بھاگ کرمدین شہر چلےگئے-
    وہاں ان کو دو لڑکیاں ملی جو ایک کنویں پر پانی
    بھرنے کے لیے کھڑی تھیں -لیکن دوسرے لوگ ان کی باری
    نہیں آنے دے رہےتھے- حضرت موسی علیہ السلام نے ان کی
    مدد کی اور ان کو پانی بھر دیا- لڑکیوں نے ان سے کہا کہ
    آپ ہمارے گھر ہمارے والد صاحب سے ملنےآئیں-
    حضرت موسی علیہ السلام ان کے گھر پر پہنچے، تو وہاں
    جن سے ملے- وہ ایک نبی حضرت شیعب الہی سلام تھے -انہوں نے
    حضرت موسیٰ علیہ السلام کی اچھائی اور حیا دیکھی- تو کہا
    کہ! اگر آپ میرے گھر آٹھ سال تک رہیں گے، اورہماری  دیکھ
    بھال کریں گے -تو میں اپنی بیٹی کی شادی آپ سے کردوں گا-
    حضرت موسی علیہ السلام راضی ہوگئے -اور اس طرح
    حضرت موسی علیہ السلام تقریبا دس سال وہیں پر رہے اور
    ان کی شادی ہوگئی- 

    ٢.حضرت موسی علیہ السلام اور فرعون 


    دس سالوں کے بعد حضرت موسیٰ علیہ

    السلام نے سوچا کہ اب مجھے واپس اپنے شہر جانا چاہیے-
    وہ اپنی بیوی کو لے کر واپس چل پڑے – راستےمیں  ایک جگہ پر
    جب رات کے وقت وہ رکے ،تو انہوں نے ایک پہاڑ طور
    کے پاس کچھ روشنی دیکھی- انہوں نے اپنی بیوی سے کہا،
    کہ! آپ یہاں ٹھہرو میں نے روشنی دیکھی ہے- میں آپ کے
    لیے وہاں سے آگ لے کر آتا ہوں- جب حضرت موسی علیہ
    السلام اس پہاڑ کے پاس پہنچے تو ان کو ایک آوازآئی – اے
    موسی! حضرت موسیٰ علیہ السلام ڈر گئے -پھر  آواز آئی اےموسیٰ  ڈرو
    نہیں میں تمہارا رب ہوں- اللہ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام
    سےپوچھا ، یہ تمہارے ہاتھ میں کیا ہے؟ حضرت موسی علیہ
    السلام نے کہا یہ میرا عصا ہے- اس سے میں بکریاں
    چراتا ہوں اور اپنا راستہ تلاش کرتا ہوں- اللہ نے آپ سے کہا
    اس کو زمین پر پھینکیں-  جب انہوں نے عصا زمین پر
    پھینکا -تووہ سانپ بن گیا- حضرت موسی علیہ السلام کو اللہ نے حکم دیا
    کہ اپنا ہاتھ اپنی بغل میں ڈالیں-  جب انہوں نے ہاتھ ڈالااور  ڈال کر
    باہر نکالا تو وہ چمکنے لگا- حضرت موسی علیہ السلام کو
    اللہ نے کہا، کہ! آپ میرے نبی ہیں-  آپ فرعون کے پاس جائیں اور
    اس کو مجھ سے ڈرائیں اور کہیں کہ اللہ  کی عبادت کرو اور بنی
    اسرائیل کو چھوڑ دو- حضرت موسیٰ علیہ السلام اپنے گھر
    والوں کو لے کر آگئے-
    حضرت علیہ السلام نےاللہ سے دعا کی کہ! اے اللہ! زبان میں لکنت ہے-
    یہ  صاف نہیں ہے- آپ میرے بھائی
    کو بھی میرے ساتھ دعوت کے کام میں لگا دیں- تاکہ وہ میری
    مدد کرے- اللہ تعالی نے حضرت ہارون علیہ السلام جو
    حضرت موسی علیہ السلام کے بھائی تھے- ان کو بھی آپ کے ساتھ
    بھیجا-

    پھر انہوں نے

    فرعون کو اللہ کی دعوت دی- انہوں نے فرعون کو کہا کہ!
    اللہ سے ڈرو ،اس کی عبادت کرو اور اور بنی اسرائیل پر ظلم
    کرنا چھوڑ دو- اورانہیں میرے  ساتھ بھیج دو-لیکن فرعون نا مانا-

    موسی علیہ السلام نے فرعون کوپھر دعوت دی- تو فرعون

    نے پوچھا- آپ ہمیں کوئی نشانی دکھائیں- موسی علیہ السلام نے
    اپنا ہاتھ اپنی بغل میں ڈالا تو وہ چمکنے لگا- اپنا عصا پھینکا
    تو وہ بھی سانپ بن گیا-فرعون  اور اس کے درباریوں نے کہا
    کہ یہ تو جادو ہے- فرعون منے  اعلان کروایاکہ ساری دنیا کے
    جادوگر آئیں-  اور حضرت موسی علیہ سلام سے مقابلہ کریں-
    لہٰذہ سب  لوگ اور  فرعون  اپنے وقت اور جگہ کے مطابق
    جمع ہوگئے-سری دنیا کے بہت بڑے بڑے جادوگر وہاں آئے-
    جادوگروں نےفرعون سے پوچھا کہ اگر ہم نے حضرت موسی علیہ السلام
    کو ہرا دیا تو ہمیں کیا انعام ملے گا فرعون نے کہا کہ
    جو حضرت موسی علیہ السلام کو ہرا دے گا-
    میں اس کو بہت
    سارے انعام بھی دوں گا-ا اور اپنے دربار میں اپنے ساتھ بھی
    بٹھاؤں گا-
    مقابلہ شروع ہوا- جادوگروں نے حضرت موسی علیہ
    السلام سے پوچھا ،کہ کون اپنا جادو پہلے دکھائے گا- حضرت
    موسی علیہ السلام نے کہا، آپ شروع کرو- توجادوگروں  نے بہت
    ساری رسیاں  پھینکیں جو سانپ بن کے دوڑنے  لگیں –
    اللہ تعالی نے حضرت موسی علیہ
    السلام کو پکارا اور کہا اے موسیٰ! ڈرو نہیں- اور اپنا عصا
    زمین پر پھینکو- حضرت موسی علیہ السلام نےاپنا عصا
    زمیں پر پھینکا وہ بڑا سا اژدہا بن کر سارے سانپوں کو نگل گیا-
    تمام جادوگر سجدے میں گر گئے-اور کہنے لگے کہ ہم
    موسی علیہ السلام کے رب پر ایمان لے آئے- کیونکہ وہ پہچان
    گئے تھے- کہ یہ کوئی جادو نہیں ہے- بلکہ یہ کوئی اور طاقت ہے- فرعون کو بہت غصہ
    آیا-اس نے جادوگروں سے کہا کہ میں تم لوگوں کو سزا دوں
    گا-اور تمہارے ہاتھ ایک طرف سے کاٹ کر دوسری طرف
    سے پاؤں کاٹ دونگا-انہوں نے کہا کہ آپ جو مرضی سزا دیں
    ہم سچ کی روشنی کو پا چکے ہیں- اس طرح  فرعون کو اپنی
    شکست بہت بری لگی- وہ حضرت موسی علیہ السلام اور
    ان کے ساتھیوں کا بہت دشمن ہو گیا- حضرت موسی علیہ
    السلام نے بہت کوشش کی- فرعون اللہ کو رب مان کر بنی
    اسرائیل کو آزاد کر دے لیکن فرعون نہ مانا آخر ایک دن موسیٰ
    علیہ السلام نے اللہ کے حکم سے اپنے سارے ساتھیوں کو جمع کیا
    اور رات کو بستی چھوڑ دینے کا فیصلہ کیا-حضرت موسی علیہ السلام رات کو
    جب سب ساتھیوں کو لے کر بستی چھوڑ کر نکل آئے -تو فرعون
    کو معلوم ہو گیا کہ بنی اسرائیل بھاگ رہے ہیں- اس نے اپنے
    سپاہیوں کو لے کر پیچھا کرنا شروع کردیا- حضرت موسی علیہ السلام اور ان کے
    ساتھی ایک دریا کے کنارے پہنچ گئ- ان کے ساتھیوں نے
    کہا کہ اب تو ہم پکڑے جائیں گے- فرعون اور اس کے سپاہی
    ہمیں مار دیں گے- لیکن حضرت موسی علیہ السلام نے کہا، کہ
    ڈ رونہیں اللہ ہمارے ساتھ ہے- موسی علیہ السلام نے اللہ کے
    حکم سے اپنا عصا پانی پر مارا تو پانی پھٹ گیا- اور بارہ
    راستے بن گئے –حضرت موسی علیہ السلام کے سارے ساتھی آسانی سی
    دریا پار کرگیے- پیچھے فرعون جب اس جگہ پہنچا- تو اس نے
    بھی اپنے سپاہیوں کو لے کر اسی راستے پر چلنا شروع کر
    دیا- لیکن جب تمام سپاہی اور فرعون دریا کے درمیان میں پہنچے تو
    پانی ساتھ مل گیا – اس طرح فرعون اور اس کا سارا لشکر پانی
    میں ڈوب کر غرق ہو گیا-دوسری طرف حضرت موسی علیہ
    السلام اور بنی اسرائیل دریا کے دوسری طرف پہنچ گتے –
    ٣.حضرت موسی علیہ السلام اور بنی اسرائیل دریا کی دوسری طرف صحرا ہی صحرا تھا –حضرت موسی علیہ السلام کی تمام قوم تھک چکی تھی- انہوں نے حضرت موسی علیہ السلام سے پوچھا
    کہ اب ہم کیا کریں گے-حضرت موسی علیہ السلام نے ان سے کہا کہ اب ہم مصر واپس جا کر اپنا ملک آزاد کروائیں گے-لیکن وہ نہ مانے انہوں کہا کہ ہم میں لڑ نے کی طاقت نہیں ہے- پھر چالیس سال تک وہ لوگ اسی صحرا میں بھٹکتے – اور وہی پر اپنی بستی بسا لی- ٤.بنی اسرائیل پر اللہ کی نعمتیں وہ لوگ سینا صحرا کے کنارے ہی رهنے لگے-وہاں پھر انہوں نے طرح طرح کی فرمائشیں کرنی شروع کر دیں –پہلے کہا کہ ہم کہاں سے کھائیں گے – انہوں نے حضرت موسی علیہ
    السلام سے کہا کہ آپ اپنے رب سے دعا کریں- کہ ہمارے
    لیے آسمان سے کھانانازل فرمائیں . اس پر حضرت موسی علیہ
    السلام نے دعا کی تو ان پر اللہ تعالی نے ان پر اپنی نعمت بیجھی.اور آسمان سے من وسلویٰ بھیجنا شروع کر دیا- جو کہ چالیس سال تک آتا رہا – پھر
    ایک د ن ان کی قوم نے کہا- کہ اے موسیٰ ہم ایک جیسا کھانا کھا کھا کر
    تھک چکے ہیں- ہمیں کوئی اور کھانا چاہیے- اس پر اللہ
    ناراض ہو گیا اور ان کا سارا کھانا آ نا بند ہو گیا – ان پر الله کی دوسری نعمت یہ تھی کہ اللہ تعالیٰ نے
    ایک بادل کو ان کےاوپر بھیج
    رکھا تھا – جو ہر وقت ان کے اوپرسایہ رکھتا تھا- اور پھر اللہ تعالی نے ان کے لئے ایک پتھر سے
    بھی پانی نکالا تھا- جس کے 12 چشمے تھے جن سے
    ان کے بارہ قبیلے پانی پیتے تھے- لیکن یہ قوم پھر بھی اللہ کا
    شکر ادا نہ کر تی -اور ہر وقت شکوے کرتی رہتی-اسی لیے ایک ایک کر کے اللّہ نے ان سے تمام نعمتیں چھین لیں – ٥.حضرت موسی علیہ السلام کوہ طور پر 
    ایک دن حضرت موسی علیہ السلام نے اپنے بھائی ہارون کو کہا کہ
    ایے میرے بھائی میں تیس دن کے لیے کوہ طور پر جا رہا ہوں – میرے
    پیچھے قوم کا خیال رکھنا- اور ان کو سیدھے راستے پر
    جمائے رکھنا- حضرت موسی علیہ السلام پہاڑ پر چلے گئے-
    حضرت موسی علیہ السلام نے وہاں اللہ کی بہت ہی عبادت کی- ایک دن حضرت موسی علیہ السلام نے اللہ سے کہا- کہ ایے اللہ
    میں آپ کو دیکھنا چاہتا ہوں- اللہ نے کہا کہ آپ مجھے نہیں دیکھ سکو گے – حضرت موسی علیہ السلام نے بہت اصرار کیا – تو اللہ نےکہا کہ آپ اس پہاڑ پر نظر ڈالیں- اگر آپ کی نظر جمی رہےگی-تو آپ مجھے دیکھ لیں گے- موسی علیہ السلام نے پہاڑ کو دیکھا تو
    وہ بہت زیادہ چمک رہا تھا-حضرت موسی علیہ السلام سے
    اس طرف نہ دیکھا گیا اور بیہوش ہو گئے- پھر جب ان کو
    ہوش آیا -توانہوں نے کہا- کہ اے اللہ ! واقعی میں آپ کو نہیں
    دیکھ سکتا ہوں- پھر اللہ تعالی نے ان کو کتاب تورات دی اور
    اور زندگی گزارنے کی تمام اچھی باتیں بتا دیں- حضرت
    موسی علیہ السلام چالیس دن وہاں رہے – اور تورات لیکر واپس آ گیے –
    ٦بنی اسرائیل اور بچھڑے کی پوجا-
    بنی اسرائیل کے پاس آئے تو انہوں نے دیکھا کہ ان کی قوم
    ایک سونے کے بنے ہوئے بچھڑے کی پوجا کر رہی تھی- موسی علیہ السلام بہت غصہ آیا-
    بھائی ہارون علیہ السلام سے پوچھا -کہ یہ کیا ہے تم نے ان
    کو منع کیوں نہیں کیا- حضرت ہارون علیہ السلام نے اپنے
    بھائی موسی علیہ السلام سے کہا- کہ اے میرے بھائی مجھے
    نہ پکڑو- میں نے ان کو بہت منع کیا تھا- لیکن سامری جادوگر
    نے ان کو دھوکے میں ڈال دیا تھا- اور کہا تھا کہ تمہارا رب
    نظر نہیں آتا ہے- اس لئےمیں تم کو عبادت کے لئے بچھڑا بنا دیتا ہوں –
    بنی اسرائیل نے سوچا کہ حضرت موسی علیہ السلام
    تیس دن کے لئے کوہ طور پر گے تھے –وہ واپس نہیں آئے تو شایدفوت ہوچکے ہیں
    سامری جادوگر نے ان کو دھوکا دے کر ان کو ایک بچھڑا بنا
    دیا- اور کہا کہ یہ تمہارا خدا ہے – اب تو اس کی عبادت کیا کرو-
    حضرت موسی علیہ السلام نے وہ بچھڑا اٹھایا- اور اس کو توڑ کر دریا میں
    پھینک دیا-جب غصہ ذرا ٹھنڈا ہوا- تو موسی علیہ السلام نے ان لوگوں کو بتایا- کہ اللہ نے مجھےیہ کتاب تورات
    دی ہے-اور اس نے تمام حکم بتا دیے ہیں- کہ اللہ کی عبادت کیسے کرنی ہے – اور کون کون سے کام حرام ہیں – لیکن وہ نا شکرے لوگ کہنے لگے- کہ موسی ہمیں کیا پتا ہے یہ کتاب تمہیں اللہ نے دی ہے- یا تو خود لکھ کرلے آئے ہو-جب ہم خود اللہ کو اپنی آنکھوں سے
    دیکھیں گے -پھر ہمیں یقین آئے گا- حضرت موسی اپنے قبیلوں
    کے 70 افراد کو لے کر کوہ طور پر چلے گئے- وہاں پر اللہ
    نے ان ستر لوگوں سے بات کی- تو وہ لوگ کہنے لگے یہ تو
    صرف آواز ہے- ہمیں تو اپنی آنکھوں سے اللہ کو دیکھنا ہے- اس پر اللہ تعالی بہت ناراض ہوگئے- اور وہ ستر کے ستر لوگ مر گئے-
    موسی علیہ السلام  پریشان ہو گۓ –
    موسی علیہ السلام نے اللہ سے دعا کی-کہ اے اللہ جب میں اپنے قبیلے
    کے پاس واپس جاؤں گا- تو ان کو کیا جواب دوں گا- اے اللہ مجھ پر اوران لوگوں پر رحم کر- تو اللہ ان ستر لوگوں کو دوبارہ زندہ
    کر دیا- اوروہ اپنے قبیلے کے پاس واپس آ گئے-

    ٧.بنی اسرئیل کی نافرمانیاں اور سزائیں 

    حضرت موسیٰ علیہ سلام کو الله نے شریعت دی. اور عبادت
    کا طریقے بھی  بتا دیۓ-ان کو روزہ رکھنے  اور نماز
    پڑھنے کا طریقہ بھی سکھایا گیا- لیکن بہت کم لوگ اللہ کی عبادت کرتے تھے.

    حضرت موسی علیہ السلام کی قوم بنی اسرائیل بار بار اللہ ک

    فرمانی کرتی رہی-

    اس لیے اللہ نے ان کو بہت سا ری سزائیں اور ان پر عذاب بھجھے –

    ایک دفعہ الله نے ان کی  نافرمانیوں کی وجہ  سنے  ان پر جوؤں ،ٹیٹدیو ں اور مینڈکو ں کا عذاب بھیجا- 
    وہ لوگ مچھلی کا شکار کر
    کے  اپنی روزی کماتے تھے -الله تعا لّی نے ان کو حکم دیا کہ
    وہ ہفتہ کے دن مچھلی کا شکار نہ کریں- اور سب کام چھوڑ
    کرصرف الله کی عبادت کیا کریں- الله نے ان کی آزمائش کی- کہ جب ہفتہ کا دن ہوتا تو بہت
    ساری مچھلیاں اچھل اچھل کر باہر آتیں-لیکن باقی دنوں میں مچھلیاں پانی کےنیچے چلی جاتیں-اور کوئی مچھلی نہ پکڑی جاتی – ان لوگوں نے ایک ترکیب
    سوچی- اور دریا سے پانی کا راستہ بنا کر چھوٹے چھوٹے  گڑھے کھود لیے —
    اس طرح ہفتہ کے دن مچھلیاں  وہاں آ کر بند ہو جاتیں- اور اگلے دن وہ لوگ مچھلیاں
    پکڑ لیتے-کچھ لوگ جوالله سے ڈرتے تھے- انھوں نے ان لوگوں کو روکا لیکن وہ لوگ نہ مانے-وہ کہتے کہ ہم ہفتہ کے دن تو مچھلی کا شکار نہیں کرتے- اسطرح انھوں نے الله کو دھوکہ دینے کی کوشش کی-اللہ نے ان تمام لوگوں کوجنہوں نے مچھلیاں پکڑی تھیں-اور ان کے ساتھی جنہوں نےان کو نہیں روکا تھا-
    سب کو بندر بنا دیا-اور کچھ دنوں کے بعد وہ سب بندر بن کر مر گے-
    ان کی نافرمانیوں میں ایک اور نا فرمانی یہ تھی- کہ  جب اللہ تعالی نے اس قوم کو کہا-کہ آپ ایک گائے ذبح کرکے میری راہ میں  قربان کریں-
    تو ان لوگوں کادل اس گائے اور بچھڑے کی محبت میں ڈوبا ہوا تھا – انہوں نے بہانے بنانا شروع کر دیے- اور کہا کہ ہمیں بتائیں وہ گائے
    کیسی ہو، اس کا رنگ کیسا ہو ، اس کی عمر کتنی ہو اور اس طرح
    کے بہت سارے سوال کیے – حضرت موسی علیہ السلام کو اللہ نے
    بتایا کہ وہ گائے سرخ رنگ کیا ا یک جوان اور خوبصورت سی،
    بے داغ گائے ہونی چاہیے -اس طرح کی گائے دو یتیم
    بچوں سے مل گئی-
    ان لوگوں نے مجبوری سے وہ گایے خریدی اور ذبح کر دی-
    ان دنوں ایک اور واقعہ ہوا – ایک بھائی نے دوسرے بھائی کو دولت کے لالچ میں
    قتل کرکے کسی کےگھر کے آگے پھینک دیا تھا- حضرت موسی علیہ اسلام نے
    گائے ذبح کروائی- اور اس کا ایک ٹکڑا اس مرے ہوئے آدمی
    کی لاش کے اوپر مارا- جس پر وہ اٹھ کر بیٹھ گیا اور ا سنے
    بتادیا کہ مجھے کس نےقتل کیا ہے -اس طرح اللہ کے حکم سے اس قتل کا پول کھل گیا –
    بچو! یہ بنی اسرائیل وہی ہیں جن کو آج ہم یہود کے نام سے جانتے ہیں-.یہ لوگ اللہ کے بڑ ے نافرمان تھے – اور اللہ کا شکر نہیں کرتے تھے –اس لیے الله نے ان سے اپنی سا ری نعمتیں بھی چھین لیں. اور یہ لوگ بہت سال صحرا میں بھٹکتے رہے-

    عملی کام :-

    اس کہانی کے آخر میں بچوں سے 
    ١.  حضرت موسی علیہ اسلام کی قوم اور فرعون کے متعلق سوال پوچھیں– ٢. قران پاک سے اس کہانی ک متعلق مختلفواقعیات کا ذکر کریں ٣. تخلیقی کم کروائیں
    یہ کہانی میں  نے اپنے بچوں کو کیسے پڑھائی اور اس کے  لیے کون سے تخلیقی کام کیا – اس کے لئے میری اس ویب سائٹ پر جائیں   

  • حضرت آدم علیہ سلام. The story of hz Adam A.S Free/PDF stories for Muslim children in Urdu.

    حضرت آدم علیہ سلام
    حصہ اول
    Urdu islami kahaina.


    پیارے بچو! آپ کو پتا ہے

    کہ سب سے پہلے انسان
    حضرت آدم علیہ سلام تھے. وہ جنت
    میں رہتے تھے.
    ان سے پہلےاللہ نے روشنی سے
    فرشتوں کو پیدا کیا. پھر آگ سے جن پیدا کیے.
    لیکن حضرت آدمؑ کو اللہ نے
    مٹی سے پیدا کیا تھا
    . اور پھر ان سے حضرت حواؑ کو پیدا کیا.
    فرشتے اور جن ہر وقت اللہ کی
    عبادت کرتے رہتے تھے
    اور اللہ کا ہر حکم مانتےتھے
    .سب سے زیادہ عبادت ابلیس جن کرتا تھا
    ابلیس جن کو اللہ نے
    فرشتوں کےساتھ جنت میں رکھا تھا
    اور اس کی عزت بھی کی جاتی تھی.
    جس سے وہ بہت مغرور ہو گیا تھا.
    اللہ تعالٰی نےحضرت آدمؑ کو
    سب چیزوں کے نام
    سکھا دیۓتھے
    . پھر فرشتوں
    اور جنوں کو کہا کہ آدمؑ کو سجدہ کریں.
    سب نے سجدہ کیا.
    لیکن  ابلیس نے نہیں کیا.
    اللہ اس سے ناراض ہو گیا.
    اور اس کو جنت سے نکال دیا.
    اور کہا کہ تم نا فر مان, شیطان ہو.
    شیطان اس طرح انسان کا دشمن بن گیا  
    ،اور اللہ سے کہا
    کہ! میں انسانوں سےگندے کام کرواؤں گا
    حضرت آدمؑ اور حواؑ جنت میں رہنے لگے
    -اللہ نے ان سے کہا کہ جو  مرضی کھائو پیو
    -لیکن ایک پھل نہیں کھانا
    -اور شیطان کا کہنا نا ماننا ،وہ تمھارا دشمن ہے
    ،جنت میں وہ دونوں اللہ کی عبادت کرتے
    ،مزے مزے کی چیزیں کھاتے
    -اور فریشتے ان کی خدمت کرتے تھے
    -شیطان کو یہ سب اچھا نہیں لگتا تھا
    ایک دن شیطان نے آ کر ان دونوں کو دھوکے
    ،سے وہ پھل کھلا دیا
    -جس کو کھانے سے اللہ نے منع کیا تھا
    .جس سے ان کا پردہ اتر گیا
    . اللہ تعالیٰ ان دونوں سے ناراض ہو گیا
    – اور انہیں جنت سےنکال کر زمین پر بھیج دیا
    اور شیطان کو بھی اللہ نے آسمانوں
    – سے ہمیشہ کے لیۓنکال دیا
    -حضرت آدمؑ زمین کے  ایک کونے پر تھے
    – اور حضرت حواؑ دوسرے کونے پر تھیں
    -وہ دونوں بہت شرمندہ تھے
    -اور اللہ سے ہر وقت رو رو کر دعا کرتے رہتے
    -اللہ  نے ان کو معاف کر دیا
    -اور ایک جگہ اکٹھا کردیا.
    اللہ نے ان کو کہا کہ اب تم لوگ
    زمین پر رہو گے- اور
    اگر تم لوگوں نے اچھے کام کیے،تو
    -تمہیں دوبارہ جنت  میں بھیج دوں گا
    -اب جنت کے لیۓتمھیں محنت کرنی ہو گی-
    ،اور اگر شیطان کا کہنا مانا
    -تو پھر اسی کے دوست بن جائوگے
    -اللہ نےان کو زمین پر اپنا خلیفہ بنا دیا-
    حضرت آدمؑ اور حواؑ زمین  پر
    -بہت اچھے بن کر رہنےلگے
    -وہ ایک اللہ عبادت کرتےرہتے تھے
    -اللہ نے ان کو بہت سے بچے دئیے
    سب سے پہلے قابیل اور اس کی ایک بہن
    ،ھوئی
    -پھر ہابیل اور اس کی بہن ہوئی
    وہ سب بہت پیار اور محبت سے رہتےتھے
    ہابیل اور قابیل ایک دوسرے
    -سے بہت پیار کرتے تھے
    -لیکن قابیل تھوڑا ضدی اور غصےوالا تھا
    -جب کہ قابیل بہت سمجھ دار تھا
    بس شیطان نے قابیل کو
    -ورغلانا شروع کر دیا
    قابیل کے دل میں شیطان نے
    !یہ بات ڈال دی کہ
    -بابا آدمؑ ہابیل سے زیادہ پیار کرتے ہیں
    جب کہ قابیل سے کم
    اسی لئے قابیل نےہابیل کے
     ساتھ ضد کرنا شروع کردی
    ہابیل کی شادی قابیل کی
    جڑوا بہن سے ہونی تھی
    اور قابیل کی شادی  ہابیل
    کی جڑوا بہن سے ہونا تھی
    .. قابیل کہنے لگا
    کہ! میں تواپنی ہی جڑوا بہن سے شادی کروں گا
    حضرت آدمؑ نے اس کو سمجھایا
    کہ ایسا نہیں ہو سکتا
    .. پھرایک دن وہ جنگل میں
    -اکٹھے کام کر رہے تھے
    -تو اچانک قابیل کا پائوں پھسل گیا
    ،وہ دریا میں گرنےلگا تھا
    کہ !ہابیل نے اس کو بچا لیا
    اس طرح قابیل کے
    دل میں پھر ہابیل کے لئیے  محبت پیدا ہو گئی
    لیکن شیطان نے پھر سے قابیل کو بھڑکانہ شروع دی

    آدمؑ حصہ دوم
    پھر ایک دن حضرت آدمؑ نے
    ، اللہ کے حکم سے دونوں کو کہا
    کہ! چونکہ ہابیل زیادہ سمجھدار
    اور نرم مزاج ہے اس لیے
    میرےبعد ہابیل خلیفہ ہو گا
    -اس بار قابیل کو بہت غصہ آیا
    -اور اس نے یہ بات ماننے سے انکار کر دیا
    – اس نے کہا بلکہ میں خلیفہ بنوں گا
    -اللہ تعالٰی نے دونوں کو حکم دیا
    -کہ !اپنی اپنی طرف سے کچھ قربانی دو
    -جس کی قربانی مجھے پسند آئی وہی خلیفہ ھو گا
    ،قابیل کا پیشہ کھیتی کرنا
    – اور پھل سبزیاں اگانا تھا
    ،اس لیے اس نے کچھ سوکھے سڑے
    ،اور ناقص پھل سبزیاں ایک ٹوکرے میں بھرے
    -اور میدان میں رکھ آ یا
    -جب کہ ہابیل کا پیشہ جانوروں کی دیکھ بھال تھا
    اس نے ایک پیاری سی موٹی،تازی گائے
    -اللہ کے لئے قربانی کرنے کے لئےرکھ دی
    -پھر ایک آسمانی بجلی آئی
    اور ہابیل کی گائے کو لے گئی
    جب کہ قابیل کی قربانی وہاں ہی پڑی
    -رہ گئی
    اب تو قابیل اور بھی زیادہ ہابیل
    -کا دشمن بن گیا
    -اوراس طرح  ایک دن
    -قابیل نے ہابیل کوماردیا
    اس کےبعد قابیل کو
    سمجھ ناآئی کہ اب اس کا کیا کرے؟
    اچانک اس کی نظر
    -ایک کوۓ پر پڑھی
    جو ایک مرے ہوئے
    -کوۓکو زمین میں دبا رہا تھا
    اس طرح قابیل کو ترکیب مل گئی، کہ! وہ ہابیل کو
    کیسے چھپا ۓ ؟
    -قابیل کو بہت افسوس ہوا
    -اس نے کہا
    -یہ کوا بھی مجھ سے زیادہ سیانا  ہے
    پھر اللہ نے ہابیل کی
    جگہ حضرت آدمؑ کوایک اوربیٹا
    – حضرت شیتؑ دئیےجو کےاللہ کےخلیفہ بنے
    !دیکھا؟ پیارے بچو
    شیطان کس طرح غصہ دلا
    .کر ہمارا نقصان کرواتا ہے
    -ہمیں بھی ہمیشہ غصہ کرنے سی بچنا چاھیے

    تحریر :- ادیبہ انور

    -: عملی کام
    اس کہانی کے آخر میں بچوں سی کچھ عملی کام کروایے
    تا کہ کہانی بچوں کو اچھی طرح ذھن نشین ہو جا یے
    اس کا ایک طریقہ تو وہی سوال جواب کا ہے جو
    ہمیشہ سے کیا جا رہا ہے اس کے علاوہ
    بچوں سے کچھ تخلیقی کام کروایا جا سکتا ہے ،جیسے
    اس کہانی کیبعد حضرت آدم کا ممنوعہ درخت بنوایا جا سکتا ہےاس کہانی میں کوۓ کا ذکر ہے لہٰذہ بچوں سے کوے کے بارے میں بات کریں کوا ایک ہوشیار اور چالاک پرندہ ہے پرندووں کے گھونسلے کا معائنہ کروائیں اور گھونسلے وغیرہ بنواحضرت آدم الہ اسلا م اور حضرت یونس کی کہانی کی pdf نیچے دے گئی ہے. شیر کریں تا کہ اور لوگ بھی اٹھائیں اگر آپ بچوں کی پڑھائی ور تعلیم و تربیت کے متعلق مزید videos تخلیقی مواد ور بچوں کو پڑھانے کے طریقوں کے متعلق مواد چاھتے ہیں تومیری انگلش کی ویب سائٹ پر تشریف لے جائیں.

  • Abraha ki faoj. Free pdf Urdu Islamic stories for children.

    ہاتھی اور ابابیل  
    ابرہہ ایک بہادرلیکن مغرور جنرل تھا. اس کے پاس لڑنے کے لیئے بہادر فوجی اور ہاتھی تھے.جو وہ افریقہ سے لے کر آیا تھا

     

    islami urdu kahania

     

    اس نے یمن پر قبضہ کر کے وہاں ایک بہت بڑا گرجا بنوایا تھا. وہ عربیوں کو مجبور کرتا کہ سب اس کے گرجا گھر میں آ کر عبادت کریں. اور جب بہت سارے لوگ عبادت کرتے تو وہ فخر سے کہتا کہ میرا گرجا دنیاکا سب سے بڑا عبادت خانہ ہے.

    لیکن ایک دن ایک عربی نے اس کو کہا کہ عرب کے شہر مکہ میں اس سے بھی بڑا ایک عبادت خانہ ہے. جہاں ساری دنیا سے لوگ عبادت کرنے آتے ہیں. اس کو بہت غصہ آیا. اس نےکہا کہ اگر میں اس عبادت خانے کو توڑ دوں تو پھر سب لوگ یہاں ہی آئیں گے. اس لئے وہ اپنی ساری فوج اور ہاتھیوں کو لے کر چل پڑا. اس نے سب سے  بڑے ہاتھی محمود کو بھی لے لیا. تا کہ وہ اس کے زور سے عمارت گرا سکے. اور اس عربی کو بھی ساتھ لیا جس نے خانہ کعبہ کے بارے میں بتایا تھا. تا کہ اس سے راستہ پوچھ سکے.
    مکہ کے قریب پہنچ کر اس نے مکہ والوں کو پیغام بیجھا کہ میں تم لوگوں کو کچھ نہیں کہوں گا اگر تم لوگ مجھے خانہ کعبہ ڈھانے دو گے.
    اس وقت عبدالمطلب خانہ کعبہ کے متولی اور سردار تھے. لوگوں نے ان سے کہا کہ ہاتھیوں والی فوج سےلڑنے کی ہم میں طاقت نہیں. حضرت عبدالمطلب نے اس سے کہا کہ تم سب اپنے مال لےکر پہاڑی پر چلےجائو. حضرت عبدالمطلب خود ساری رات خانہ کعبہ کے اندر بیٹھ کر دعا کرتے رہے. کہ اے اللہ یہ تیرا گھر ہے تو ہی اس کی حفاظت فرما. اللہ نے ان کی دعا قبول فرمائی .
     اور ہاتھی والی فوج حال خراب کر دیا.
    سب سے پہلے ابرہہ نےآگے بڑھنے کے فوج کو تیار کیا.جس عربی کو وہ ساتھ لائے تھے اس نے چپکے سے  ہاتھی محمود کےکان میں کیا کہ خبرداریہ تمھارے خالق کا گھر ہے آگے مت بڑھنا.
    فوج نے بہت زور لگایا. مار مار کر لہولہان کر دیا لیکن ہاتھی آگے نا بڑھا.
    ابرہہ اور اس کے ساتھی بہت غصہ میں تھے.
    اسی وقت اللہ نے ان کے پیچھے سے بے شمار ابابیل پرندے بھیج دیئے جنہوں نے اپنی چونچ میں چھوٹے چھوٹے پتھر پکڑے ہوئے تھے.
    وہ پتھر فوج کے اوپر پیھنکےلگے. تھوڑی دیر میں وہ سب فوجی پتھر کھا کھا کے وہ وہیں مر گئے.
    ایک پتھر ابرہہ کے سر میں لگا جس سے وہ بہت زخمی ہو گیا اور ڈر کر وہاں سے بھاگ گیا.
    اور کچھ دنوں بعد راستے میں ہی مر گیا. اس طرح اللہ تعالٰی نے اپنے گھر کی -حفاظت کی.
    ادیبہ انور 
    اس کہانی کے بعد  بچوں سے سوال جواب سے  بچوں کی معلومات بڑھائیں 
    بچوں کو  الفیل یاد کروائی جائیں اور آسان تخلیکی مشق کروائی جیے 
    اس مشاق میں ہاتھی ابابیل اور اس کا گھونسلا اور خانہ کعبہ بنوایا جایے 
    اس کے علاوہ اللہ کا پہلا  اور لوگوں کے  سب سے بڑھے عبادت خانے کے بارے میں بتایا جایے 
    اس کہانی  کو لوگوں کے ساتھ شیر  کریں تا کہ زیادہ لوگ فائدہ اٹھا سکیں
      اگر آپ بچوں کی پڑھائی ور تعلیم و تربیت کے متعلق مزید
    تخلیقی مواد ور بچوں کو پڑھانے
    کے طریقوں کے متعلق مواد چاھتے ہیں
    کمنٹ کریں
    free PDF kay liy click kerin
      

    My Urdu channel for stories and Islamic video

    My English Channel for Islamic crafts, parenting and Stories

    Read more stories in Stories section above. You can join my stories live sessions comment for info.