Tag: storiesofpropheturdu

  • Story 8 Urdu|Hadith about How To Teach Eating Manners To Kids?

    Story 8 Urdu|Hadith about How To Teach Eating Manners To Kids?

    Welcome to Our Hadith with stories course for Kids. You are going to Start a short course for your child. After this course, your children would have their own mini -Kitab -UL-Hadess (For a Description of this Free online course scroll down)Here is the “First Hadees and story of Our hadith with stories course for kids

    hadith on Eating manners in Islam in Urdu

    This is a story of a hungry boy who started to eat with his left hand. This story will teach hadith on the Eating manners in Islam and the use of the right hand.

    پیارے بچوں، ہمیشہ کی طرح، میں ایک خوبصورت حدیث اور ایک دلچسپ کہانی آپ سب کے ساتھ شیئر کرنے جا   رہی  ہوں-  آج کے لئے ہماری حدیث مندرجہ ذیل باتوں پر مبنی ہے: ‘تم میں سے کوئی بھی اپنے بائیں ہاتھ سے نہ کھائے۔

     

    hadith on Eating manners in Islam in Urdu

    پیارے بچوں، اس حدیث کو پڑھنے کے بعد آپ کو پتہ چل جائے گا کہ ہمیں اپنے بائیں ہاتھ سے کھانا نہیں کھانا چاہئے۔ آپ کے بائیں ہاتھ سے کھانے کے مضر اثرات کیا ہیں اور ہمیں اس عادت سے کیوں گریز کرنا چاہئے؟ آئیے اس موضوع کے بارے میں مزید جاننے کے لئے ایک کہانی سنتے ہیں۔

    hadith on Eating manners in Islam in Urdu
    Hadith on Eating manners in Islam in Urdu with story

    بھوکا لڑکا

     کہانی ایک لڑکے کے بارے میں ہے جس کا نام علی تھا۔ علی ایک اچھا اور خوش اخلاق بچہ تھا۔ وہ ہمیشہ اچھا برتاؤ کرتا تھا اور دوسروں کا احترام کرتا تھا۔ وہ وقت پر کھیلتا اور تعلیم حاصل کرتا تھا۔ سب اس کی تعریف کرتے   تھے- لیکن پیارے بچوں، کچھ عرصے بعد، علی کی عادات تبدیل ہونے لگیں۔اب ایسا ہوا کہ علی نے کھیل کھیلنے میں زیادہ وقت گزارنا شروع کیا۔ وہ کھانا کھاتے ہوئے بھی اپنے کھلونوں سے کھیلتارہتا تھا۔ اس کے ہاتھ میں ہمیشہ کھیلنے کے لئے کچھ نہ کچھ ہوتا تھا۔  پیارے بچوں، علی جب بھی کھانا کھاتا، یا توموبائل فون اس کے ہاتھ میں  ہوتایا کھانے کے دوران کھیلنے کے لئے اس کے ہاتھ میں کھلونا ہوتا تھا۔اس طرح اس نے اپنے بائیں ہاتھ سے کھانا شروع کردیا تاکہ وہ اپنے دائیں ہاتھ سے کھیل سکے۔ پیارے بچوں، کیا آپ جانتے ہیں کہ شیطان ان لوگوں کے ساتھ کھاتا ہے جو اپنے بائیں ہاتھ سے کھاتے ہیں، اور اگر بائیں ہاتھ کو کھانے کے لئے استعمال کیا جاتا ہے تو کھانے کی برکت شیطان کے پیٹ میں جاتی ہے۔ ایک دن علی کی والدہ نے اسے مشورہ دیا کہ وہ اپنے بائیں ہاتھ سے کھانا نہ کھائے کیونکہ یہ ایک بری عادت تھی، لیکن علی اس پر عمل کرنا بھول جاتا۔ جلد ہی، یہ اس کی عادت بن گئی کہ وہ  ہمیشہ اپنے  بائیں ہاتھ سے کھانا کھاتا- لیکن جب بھی وہ اپنے بائیں ہاتھ سے کھانا کھاتا تو ایک شیطان اس کےکھانے سے برکت چھین لے جاتا اور یہ شیطان کے پیٹ میں چلا جاتا۔جب بھی علی اپنے بائیں ہاتھ سے کھانا کھایا کرتا تو اس کی بھوک مطمئن نہ ہوتی اور وہ خالی محسوس کرتا۔ وہ دن بدن کمزور ہوتا گیا۔ اس نے زیادہ کھانا کھا نا  شروع کیا لیکن یہ کبھی کافی نہیں ہوتا تھا کیونکہ وہ کھانے کے آداب بھول گیا تھا۔

     وہ اپنے ہاتھ نہیں دھوتا تھا۔

    وہ  کھانے سے پہلےبسم اللہ نہیں پڑھتا تھا۔

    وہ اپنے دائیں ہاتھ سے نہیں کھاتا  تھا۔ 

    اور ہمیشہ کھاتے وقت کھیلتا   رہتا  تھا

    اس  پر شیطان واقعی خوش تھا کیونکہ وہ علی کی بری عادات کی تعریف کرتا تھا۔ وہ موٹا ہو رہا تھا کیونکہ وہ علی کے کھانے سے ساری توانائی لے رہا تھا۔علی پہلے کی طرح نہیں کھیل سکتا تھا کیونکہ جب بھی وہ کھیلنے کے لئے باہر جاتا تھا تو اسے بھوک لگتی تھی۔ اسے اپنا پیٹ بھرنے کے لئے گھر واپس جانا پڑتاتھا ۔ لہذا، وہ زیادہ تر اپنی کھڑکی سے کھیلتے ہوئے بچوں کو دیکھتا تھا-پیارے بچوں، اس کے والدین اس کے بارے میں بہت پریشان ہو گئے لیکن علی نے ان کی بات نہیں سنی اور اس کے بجائے جب بھی وہ اس سے بات کرنے کی کوشش کرتے تو ان پر غصہ کرتا تھا۔وہ اب قابو سے باہر ہو گیا تھا. اکثروہ اپنے بھائی اور بہن کا حصہ بھی کھا جاتا تھا- پھر بھی وہ بھوکا رہتا تھا۔ اس کی بھوک کی کہانی ہر طرف پھیل گئی۔ اس کے رشتہ دار اور خاندان کے افراد اسے مطمئن نہیں کر سکے چاہے وہ اسے کتنا کھانا ہی کیوں نہ دیں۔ آخر کار کسی نے اس  کے والدین کو مشورہ دیا کہ وہ کسی اچھے علم والے سے سے ملاقات کر کے مشورہ کریں جو اللہ کا نیک بندہ اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت پر عمل کرنے والا  ہو اور اس کا علاج کرے ۔ علی کے والدین اسے ایک عالم بندے کے پاس لے گئے۔ اس نے ا ن کا مسئلہ سنا اور کہا، ‘فکر نہ کرو، علی کو کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ ان شاء اللہ علی چند دنوں میں ٹھیک ہو جائے گا۔ اس شخص نے علی کو اپنے ساتھ رکھ لیا-اور اس کے لئے کھانے کا انتظام کیا۔ جب علی کھانے لگا، تو اس شخص نے علی سے کہا کہ کھانا کھانے سے پہلے اسے ایک شرائط ماننی ہوگی۔ علی کافی عرصے سے بھوکا تھا لہذا اس نے اس سے کہا کہ وہ اسے شرائط بتائے تاکہ وہ اس پر عمل کرسکے۔اس نیک عالم نے علی کو پہلے ہاتھ دھونے کو کہا۔ علی نے فورا تعمیل کی۔ پھر علی سے بسم اللہ پڑھنے کو کہا۔ علی نے ہدایات پر عمل کیا اور بسم اللہ پڑھی۔ جب وہ کھانے جا رہا تھا تو اس نے اپنا بائیاں ہاتھ استعمال کرنا چاہا۔انہوں نے وضاحت کی کہ ہمیں ہمیشہ کھانے کے لئے اپنے دائیں ہاتھ کا استعمال کرنا چاہئے چاہے اس میں کتنا ہی وقت کیوں نہ لگے۔علی نے بسم اللہ پڑھی .. اور پھر دائیں ہاتھ سے کھانا شروع کیا لیکن اسے مشکل پیش آئی کیونکہ وہ بائیں ہاتھ سے کھانے کا عادی تھا۔ یہ اس کے لئے بہت تکلیف دہ تھا لیکن چونکہ یہ ایک نصیحت تھی جس کے بارے میں دانشمند نے زور دیا تھا، اس لئے وہ آہستہ آہستہ اپنے دائیں ہاتھ سے کھاتا رہا۔  پیارے بچوں، اس بار شیطان کو اس کے کھانے سے حصہ نہیں مل سکا۔ وہ علی کے بائیں ہاتھ سے کھانے کا انتظار کرتا رہا تاکہ اسے علی کے کھانے کا حصہ مل سکے۔ لیکن وہ شخص علی کے ساتھ بیٹھا تھا اور اس نے اس بات کو یقینی بنایا کہ علی بائیں ہاتھ سے کھانا نہ کھائے اور اپنا کھانا ٹھیک سے ختم کرے۔ ہر دفعہ ایسا کرنے سے علی مطمئن اوراپنا  پیٹ بھرا ہوا محسوس کرتا تھا۔ شیطان بھوکا رہتا. پیارے بچوں، جب بھی عقیدت مند شخص علی کو کھانا دیتا، وہ اسے اپنے دائیں ہاتھ سے کھاتا تھا۔ ایک نیک آدمی کی دانش مندی کی وجہ سے شیطان چلا گیا-علی نے اپنی بھوک کے مطابق اور وقت پر کھانا کھانا شروع کر دیا۔  علی کے والدین اس شخص کے شکر گزار تھے۔  علی نے اپنے آپ سے یہ وعدہ بھی کیا تھا کہ وہ دائیں ہاتھ سے کھانے کی اپنی عادت کو کبھی تبدیل نہیں کرے گا۔ پیارے بچوں، آپ دیکھ رہے ہیں کہ علی اپنی بری عادات کی وجہ سے شیطان کے ہاتھوں کیسے پھنس گیا؟ 

    تو پیارے بچوں، ہمیشہ کھانے کے آداب کو یاد رکھیں جیسے: بسم اللہ پڑھتے ہوئے ہاتھ دھوئیں… دائیں ہاتھ سے کھانا کھانا’ کھانے کے دوران بات نہ کرنا (یا صرف اچھی چیزوں کے بارے میں بات کرنا)’ آرام سےبیٹھ کر  کھانا کھانا’کھانا ٹھیک سے ختم کرنا ‘کھاناکھانےکے بعد الحمداللہ کہنا – پیارے بچوں مجھے امید ہے کہ آپ ان اصولوں پر عمل کریں گے۔ اب آپ کو اس حدیث کو یاد رکھنا ہوگا اور یہ معلومات دوسروں تک بھی پھیلانی ہوں گی۔ 

    Eating manners poster

    hadith on Eating manners in Islam in Urdu

    Click the link for the Video of this Story

    Hadith worksheet about hadith on Eating manners in Islam in Urdu

    hadith on Eating manners in Islam in Urdu

    Enrolments Available

    This is a short course of hadith and stories from My 30 short hadith with stories course. My hadith course is very much liked and appreciated by parents and students. Online group classes are available online for all time zones. Recommended age for the class Hadith for kids is 7+. These classes are available in English and Urdu. If you want to enroll your child in our classes contact us via.

    Other courses we have

    • Easy Tafseer for kids with exciting stories you can see that course in my hadith course tab.
    • Prayer for kids course is a short course to teach about taharat, Gusal, wudu, times of prayers, number and names of prayers, pillars and conditions, and prayer method. Search as Prayer for kids course on the search bar.
    • Ramzan boost course we do start 2 weeks before Ramzan.
    • Faith boos course In December to say No To Marry Christmas.
    • Kindness to Parents

    If you want to start this course with me then leave a comment, Email me or enroll your child here.

    Download your free copy of 30 short Hadith book pdf in Urdu/Eng from the Posts tab.

    Worksheet for this Hadith and story. (Buy This worksheet book here)

    A child is telling about eating manners and This story after learning this hadith.

    Students activities

    https://youtu.be/RvXRqIK4NjQ

  • Hazrat Sulemon A.S. Free PDF Islamic stories for children in Urdu.


     حضرت سلیمان الہسلا م کی کہانی 

    حضرت سلیمانؑ ایک اللہ کے ایک طاقت ور, عقلمند اور بہت زیادہ علم والے نبی تھے

    free Urdu stories for children

    . ان کے باباحضرت دائودؑ بھی بھی اللہ کے نبی اور بادشاہ تھے


    . اور وہ جانوروں کی بولی بھی سمجھتے تھے
    حضرت سلیمانؑ نے بھی جانوروں کی بولیاں سیکھی ہوئی تھیں.
    انہوں نے اللہ سے دعا کی کہ اے اللہ مجھے ایسی حکومت عطا فرما. جو پہلے کسی کو نا دی ہو اور نا میرے بعد کسی کو ملے.
    اللہ نے ان کی دعا قبول کی. اور ان کو ہوائوں , جنوں اور تمام مخلوقات کا بادشاہ بنا دیا.
    اب جن ان کے پاس ہر وقت حاضر رہتے اور ان کی ہر بات مانتے. جب وہ کسی کام کا حکم دیتے تو جن کہتے
    “جو حکم میرے آقا”
    حضرت سلیمانؑ ان کو حکم دیتے, تو وہ زمین کے اندر سے ان کے لیے لوہا نکال کر لاتے اور اس سے اونچی اونچی عمارتیں بناتے.
     ہوائیں  ہوائی جہاز سے بھی تیز چلتیں اور  ان کو
     اڑا کر لے جاتیں. پرندے اور جانور ان سے باتیں کرتےتھے

    حضرت سلیمانؑ اور چونٹی!

    ایک دفعہ حضرت سلیمانؑ اپنی فوج کے ساتھ گھوڑوں پر بیٹھ کر کہیں جا رہے تھے.
    راستے میں ایک جگہ چونٹیوں کی بستی تھی.وہاں بہت ساری چونٹیاں رہتی تھیں.
    چونٹیوں کو گھوڑوں کے چلنے کی آواز آئی.
    تو چونٹیوں کی ملکہ بل سے باہر نکلی, اس نے دیکھا کہ,  حضرت سلیمانؑ ایک بہت بڑی فوج کے ساتھ آ رہے ہیں.
    اس نے اعلان کیا کہ سب چونٹیاں اپنی بلوں کے اندر چلی جائو. ایسا نا ہو کہ, سلیمانؑ کی فوج تمہیں پائوں میں روند کر چلی جائے.
    حضرت سلیمانؑ نے اللہ کی دی ہوئی طاقت سے, دور سے ہی چنٹیوں کی یہ گفتگو سن لی تھی. وہ مسکرانے لگے. انہوں اپنی فوج کو حکم دیا کہ راستہ بدل لو. آگے چونٹیاں رہتی ہیں.
    ساری فوج نے اپنا راستہ بدل لیا اور اس طرح چنٹیوں کی بستی بچ گئی.


    حضرت سلیمانؑ اور مچھلی.

    حضرت سلیمانؑ اللہ کی نعمتوں پر بہت خوش تھے. اور اللہ کے شکر گزار بھی تھے.
    ایک دفعی حضرت سلیمانؑ نے اللی سے کہا کہ,
    “اے اللہ تم نے مجھے بےشمار نعمتیں دی ہیں . میں چاہتا ہوں کہ ان نعمتوں سے میں ایک دن کے لیے تیری ساری مخلوق کی دعوت کروں”.
    اللہ نے ان سے کہا کہ,
    “سلیمان ساری مخلوق کو صرف میں ہی رزق دیتا ہوں. تم ایسا نہیں کر سکو گے” .
    پھر ان کے اصرار پر اللہ نے ان کو اجازات دے دی.
    حضرت سلیمانؑ کی دعوت کھانے سب سے پہلے ایک مچھلی آئی.
    حضرت سلیمانؑ نے اس کو کھانا ڈالا. وہ سب کھا گئی. اس نے اور مانگا.حضرت سلیمان نے اس کو پہلے سے بھی زیادہ کھانا ڈالا.  مچھلی وہ سب  بھی  کھا گئی.
    مچھلی نے اور کھانا مانگا. اسطرح وہ بہت سارا کھانا کھا گئی.
    حضرت سلیمانؑ یہ دیکھ کر بہت حیران ہوئے. اور مچھلی سے کہنے لگے کہ,
    ” اے مچھلی! تو ایک دن میں کتنا کھاتی ہے?”
    مچھلی کہنے لگی کہ,
    “اللہ کے نبی, میرا اللہ تو روز مجھے کھلاتا ہے. اس نے تو آج  تک مجھ سے حساب نہیں کیا. اور تم نے ایک دن کھلا کر ہی حساب لینا شروع کر دیا”?
    .       حضرت سلیمانؑ کو اب اللہ کی عظمت اورشان پہلے سے بھی زیادہ بڑی نظرآئی.
    اور اللہ سے فرمایا,
    “اے اللہ تو نے سچ کہا تھا. یہ صرف تو ہے جو ساری مخلوق کو کھلاتا ہے. اور 
    حساب بھی نہیں کرتا..

    حضرت سلیمانؑ اور ملکہ بلقیس

    حضرت سلیمانؑ تمام مخلوقات کے بادشاہ اور اللہ کے نبی تھے.
    ایک دن حضرت سلیمانؑ نے سب انسانوں,جنوں اور مخلوقات کو حکم دیا کہ وہ میرے پاس حاضر ہوں. تو سب ان کے پاس جمع ہو گئے.حضرت سلیمانؑ نے دیکھا کہ ہدہد نہیں آیا.
    حضرت سلیمانؑ نے پوچھا کہ ہدہد کیوں نہیں آیا.
    کوا چونکہ ہدہد کو پسند نہیں کرتا تھا. اس لئے اس نے شکایت لگائی کہ, ہد ہد کو پیغام دیا تھا لیکن اس نے نا فرمانی کی ہے.
    حضرت سلیمانؑ نےحکم دیا کہ ہدہد کو بلایا جائے. اگر وہ بغیر کسی ٹھیک وجہ سے غیر حاضر ہے تو اس کو سخت سزا دی جائے.
    جب ہدہد آ گیا تو اس نے بتایا,کہ میں نے دیکھا کہ ایک ملک سباء کی ملکہ اور اس کے تمام لوگ بتوں کہ عبادت کر رہے تھے. اس لئے میں وہاں رک گیا تاکہ میں اس کہ خبر لا سکوں.
    حضرت سلیمانؑ ا س سے اب ناراض نہیں تھے.
    انہوں نے ایک خط لکھ کر ملکہ کو بیجھا. ملکہ نے وہ خط پڑھا تو اس میں بسم اللہ الرحمٰن الرحیم کے بعد لکھا تھا کہ تم بتوں کی عبادت چھوڑ کر صرف  ایک اللہ کی عبادت کرو نہیں تو ہم سے جنگ کے لئے تیار ہو جائو.
    ملکہ نےاس سے پہلے اللہ کا نام اور بسم اللہ  کبھی نہیں سنی تھی.
    اس نے اپنے وزیروں سے مشورہ کیا تو انہوں نے کہا کہ, اگر تو یہ بادشاہ سچ کہ رہا ہے تو واقعے ہی یہ ہمیں برباد کر دے گا.
     ملکہ بلقیس نے حضرات سلیمانؑ سے ملنے کا اراداہ کیا. وہ اپنے ملک سے نکلی تو حضرت سلیمانؑ کو اس کے آنے کی خبر مل گئی. انہوں نےسب جنوں اور انسانوں سے پوچھا کہ کون ہے جوملکہ کے یہاں پہنچنےسے پہلے اس کا تخت یہاں لا دے. ایک جن بولا میں ایک منٹ میں وہ تخت یہاں لا سکتا ہوں. اسی محفل میں ایک انساں جس کو اللہ نے علم اور نیکی کی وجہ سے بہت طاقت دی ہوئی تھی. وہ بولا کہ میں آپ کی آنکھ جپھکنے سے پہلےاللہ کےحکم سے اس تخت کو یہاں لا سکتا ہوں. پھر وہ شخص اس تخت اس کو لے آیا.
    اس تخت کو جہاں رکھا گیا اس کے راستے میں پانی کا ایک تالاب بنا دیا گیا.جس -کے اوپر شیشے کا خوبصورت رستہ بنا دیا گیا.
    پھر جب ملکہ بلقیس وہاں پہنچی تو اس کو پانی کے اس تالاب کےاوپر سے گزر کر تخت تک جانا تھا.اس نے اپنے پہنچے اٹھا لئے. جاب اس نےپائوں آگے رکھا تو شیشے کےراستے پر پائوں  پڑا وہ بہت شرمندہ ہوئی.
    اس طرح ملکہ بلقیس اس عجیب و غریب مگر شاندار ریاست دیکھ کر بہت متاثر ہوئی.
    اس نے مان لیا کہ یہ واقعے ہی اللہ کی عطا کردہ طاقت ہے. اور اس نے اسلام قبول 
      کر لیا
    اس طرح حضرت سلیمان کی دو عاقبول ہوئی  ان جیسی سلطنت اور نبوت کسی اور -کو نہیں ملی 

    اس کہانی کی لیے عملی کام ، تخلیقی کا م اور دوسری معلومات کی لیے میری Thefireflies .دوسری سائٹ پر تشریف لے جائیں 
     شکریہ..یا.