Tag: Bachookitaleemoterbiyat

  • How we could teach to children Rights of a Muslim towards other Muslims?Urdu.

     
       مسلمانوں کے ایک دوسرے پر حقوق کیا ہیں؟  
    بچوں کو ایک کھیل کے ذریعے  سیکھائیں
    How we could teach to children Rights of a Muslim towards other Muslims?


    بچپن میں کی گئی تربیت ساری عمر بچوں کے کام آتی ہے


    اور تربیت میں سب سے ضروری اسلامی شرعیت اور ااقتدار ہیں جہاں ہم دنیا وی تعلیم کو بہت زیادہ دلچپ طریقوں اور مختلف قسم کے کھیل کے ذریعے بچوں  کو سیکھاتے ہیں تا کہ بچوں کو سیکھنے میں مدد ملے اور بچوں  کی دلچسپی بھی بنی رہی اسی طرح تمام دینی علوم اور شرعی مسائل سیکھانے کے لیے بھی ہم کچھ ایسے  طریقےاپنانے چاہیں جس سے بچے زیادہ دلچسبی سے دین سیکھیں
    اور عمل بھی کر سکیں
     
    الله کا فرمان ہے کہ میں اپنے حقوق جو ایک بندے پر رکھتا ہوں ہو سکتا ہے معاف کر دوں لیکن ایک بندے کے جو دوسرے مسلمان پر حققوق ہیں وو کبھی معاف نہیں کروں گا جب تک وہ خود معاف نہ کرے اس کے ساتھ ہے دیکھاگیا ہی کہ کچھ لوگ بچوں کو یہ معملات سیکھانے میں اتنی سختی کرتے ہیں کہ بچے جونہی ذرابارے ہوتے ہیں وو ان باتوں پر عمل کرنا چھوڑ دیتے ہیں
    بچوں کو جتنا زیادہ دلائل دی کر اور آسان طریقےباتیں سمجھی اور سیکھائیجائیں ان کا اثرساری زندگی رہتا ہے
    اسی سلسلہ میں بچوں کو ایک مسلمان کے دوسرے مسلمان پر جو حق حاصل ہیں سیکھانے کے لیے ایک کھیل کا سلسلہ پیش ہے
                                                   
     آئیں دیکھتےہیں کہ ایک مسلمان کے دوسرےمسلمان پر حقوق کون سے  ہیں

    ١. جب وہ ایک دوسرے سے ملیں تو سلام کریں
    ٢. اگر وو کھانے پر بلائے تو  دعوت قبول کریں
    ٣.کوئی مشوره  کرے تو اسکو اچھا مشورہ دے
    ٤.اگر وہ چھینکے تو  اسکی چھینک کا جواب دے
    ٥.اگر وہ بیمار ہو تو اسکی عیادت کرے
    ٦.جب کوئی مسلمان مرےتو اسکی نماز جنازہ پڑے
     
     
     
     
     

    بچوں کو کیسے سیکھائیں

      ١ .    دو یا دو سے زائد بچے اس کھیل میں حصہ لیں اگر  بچہ ایک ہے ہو تو خود اس کھیل میں حصہ لیں

    ٢ .         گھر تیار کیا جا یے

                               
        ان کے لیے اس کھیل کےلیے  بلاک یا کچھ کرسیاں وغیر ہ
     یا بھر کوئی
    کیمپ     tent
    لے کر گھر گھر کهیلنے کا انتظام کریں اور اس طرح سے ایک کھیل کھلیں
     
    .٣ .دعوت کا انتظام

    انکو دعوت کے لیے کچھ پسندیدہ کھانے کی ایشیا مہیا کریں اگر بچے خود سے کچھ کھا نا تیار کرسکیں تو ان کی مدد کریں ورنہ کھانا خود بنا لیں ور بچوں سے ٹیبل سجانے میں مدد لیں

    ٤. میزبان کا تحفہ
    میزبان کو بھی کچھ تحفہ وغیرہ لے کر جانے کے لیے کچھ مناسب سا کھلونا یا کھا’نے کی چہز مہیا کریں اگھر ہو سکے تو بچوں سے خود کوئی کھلونا کارڈ  یا پھولوں کا گلدستہ تیار کروائیں

    مثال کے طور پر اس طرح
    Image may contain: flower
    Image may contain: drink and flower



     
    ٥. کھیل
           ایک یا ایک سے زیادہ بچے مہمان بین گے اور ایک گھر میں  میزبان  


    میزبان فون پر  دوسرے بچے کو گھر میں کھا نے پر دعوت دے اور دوسرے بچے دعوت قبول کریں
     مکالمہ

    اسلام و علیکم  سے شروع کریں 

     دوسرا  بچہ  : وہ علیکم سلام ورحمت الله کہے
    پھر بچے کو اپنی مرضی سے گفتگو کرنیں دیں  
    جتنا زیادہ ہو سکے بچے خود سارا کھیل کھیلیں کیوں کہ بہت زیادہ مدا خلت سے بچہ ججھک 
    محسوس کرتا ہے اور آزادانہ طریقے سے کھیل کا زیادہ مزہ نہیں  لے سکتا ہے
     
     
     
    اسی دوران اگر کسی ایک بچے کو چھینکے یا خود کسی بچے کو چھینک مارنے اور  الحمد للہ پڑھننے کو کہیں اور چھینک کا جواب کیسے (   یر حمک الله)   دیتے ہیں یہ سیکھائیں
    کھانے کے بعدمہمان کھانے کی تعریف کرے اور یہ دعا پڑھے
     
     
     
     
    Αποτέλεσμα εικόνας για ‫میزبان کے لیے دعا‬‎

     


    پھر بچوں کو اپنی مرضی سے جتنا چا ہے اس کھیل کا مزہ لینے دن
    اور اخرمیں بچے ایک دوسرے  الله حافظ کہ کر رخصت ہوں
    مہمان کی عیادت کیسے کریں اس کھیل کو دوسرے حصے میں پیش کیا جا ےگا
        بہت شکریہ 
    د عا  میں یاد رکھیں 
     کھیل پسند آیے تو لا ئق اور شیر کرضرور کریں تا کہ سب اس سے فائدہ اٹھا سکیں

     
    تحریر ادیبہ انور
  • بچہ سست ہے یا بہت زیادہ تخیلاتی؟. ?How to deal lazy kids. Pakistani Parents guide in Urdu.

    کیا آپ کا                          

    بچہ سست ہے یا بہت زیادہ تخیلاتی؟

     ایسے بچوں کے ساتھ کیسا رویہ اپنایا جایے؟  



    Αποτέλεσμα εικόνας για lazy child images free
    اکثردکھا گیا ہے کہ ایک ہی گھر میں بعض بچے بہت زیادہ تیز اور ہوشیار ہوتے ہیں اور بعض بہت ہی سست ہوتے ہیں. تیز اور ہوشیار بچوں کو بہت زیادہ تعریف اور شاباش ملتی ہیں ہر ایک کے سامنے انکی تعریف ہونے سے وہ اور بھی زیادہ محنتی اورلائق ہو جاتے ہیں جب کہ جو بچہ سست یا ذرا کمزور ہوں وہ ایسے ہوشیار بچوں کی تعریف سن کر  اور بھی زیادہ سست ہو جاتا ہے.  اس کے ساتھ ہی یہ بھی بات یاد رکھنی چاہے کہ جس طرح ایک بچے کی تعریف سب کے سامنے کرنے سے وہ اور بھی زیادہ پر اعتماد ہو جاتا ہے بلکل اسی طرح جس بچے کو ہر وقت سست یا نالائق کہا جایے اور سب کے سامنے اس کی برائی کی جایے تو نفسیاتی طور پر اس بچے پر بھی بہت برا اثر پڑتا ہے اور وہ اور بھی زیادہ سست ہو جاتا  بے
    بےاعتمادی اور حساسیت کا شکار ہو کر کام کرنا چھوڑ دیتا ہے
     آئیےدیکھتے ہیں ک ہم عام لفظوں میں کس بچے کو سست یا کمزور ، نالائق وغیرہ کے الفاظ سے پکارتے ہیں؟
    کیا اسے بچے واقعی سست یا کمزور ہوتے ہیں یا بہت زیادہ حساس

     آئیے سست بچے کیکچھ حرکت کا جائزہ لیتے ہیں

    ١.کھانا آہستہ آہستہ کھانا یا نہ کھانا
    ٢.واش روم میں برش کرتے ہوۓ اور نہا تے ھوے پانی سے کھیلنا
    ٣.لکھتے ھوے ادھر ادھردیکھتے رہنا یا فضول لکیریں لگانا
    ٤.رک رک کر پڑھنا یا بہت زیادہ باتیں کرنا
    ٥.بہت زیادہ رونا
    ٦.دوسروں کی شکایت کرنا
    ٧.بہت زیادہ ضد کرنا
    ٨.روز روز کھلونوں کی فرمائش کرنا
    ٩.آواز دینے پر بات نہ سننا یا جواب نہ دینا
    ٠١٠.جلدی تھک جانا یا کسی کام میں دل نہ لگانا
    ١١.ہر وقت کوئی نہ کوئی چیز یا کھلونا ہاتھ میں رکھنا
    ١٢.ہر وقت کچھ سوچتے رہنا
    سر درد یا تھکاوٹ کا اظہار کرنا



    وجوہات

    ١.بچپن میں دوسرے بچوں سے کیا گیا مقابلہ
    ٢.ضرورت سے زیادہ سخت
    ٣.زیادہ حساس سوچ  
        ٤.بچے میں تخیلاتی انداز فکر
     ٥.صحت کا کوئی مسئلہ 
    ٦.بعض دفعہ کوئی جسمانی کمزوری 
    ٧.قوت فیصلہ کی کمی یا خود اعتمادی نہ ہونا
    ٨.کسی چیز کا ڈر یا خوف

    بچے کو پیش آنے والے ان مسائل سے کیسے نپٹا جاے

    سب سے زیادہ ضروری بات جو ہمیشہ یاد رکھنی چا ہے وہ یہ کی ایسے بچے کند ذھن یا نالائق ہرگز نہیں ہوتےبلکہ ایسے بچے دوسرے بچوں کی نسبت زیادہ تخیلاتی اور حساس ہوتے ہیں. بلکہ ایسے بچوں کو اگر باغی بھی کہا جا ے تو بے جا نہ ہو گا.
    اصل میں یہ دوسروں کے بنایے ھوے اصولوں پر چلنے کی بجاے ہر چیز کو اپنی نظر سے دیکھتےہیں اور اسی وجہ سے 
    سامنے موجود چیزوں کو یا تو دیکھتے نہیں ہیں یا دیکھنا نہیں چاھتے.
    ایسے بچوں کی سوچ بہت گہری ہوتی ہیں.   یہ بچے ان چیزوں پر بھی غور کرتے ہیں جن پر ایک عام بچہ نظر بھی نہیں ڈالتا
    .وہ اپنی مرضی سے ہر کام کرنا چاھتے ہیں
    تا ہم ان ساری باتوں کے باوجود ایسے بچوں کو بہت ساری آزمائشوں سے گذرنا پڑتا ہے
    ایسے بچے کو انتہائی توجہ اور پیار کی ضرورت ہوتی ہیں اور والدین کو اور استادکو بھی ایسے بچوں کے ساتھ انتہائی محنت کرنی پڑتی ہے
     بےجا سختی ، ڈانٹ ،تنقید یا تضحیک ایسے بچوں کو بزدل، ضدی، سست ، کند ذہن،  بنا دیتی ہے
    ایسے بچوں کے ساتھ کچھ تدابیر اپنا کر ایسے بچوں کی صلاخیتوں کو اور بھی نکھارا جا سکتا ہے
    ١.ایسے بچوں کا دوسرے بچوں سے مقابلہ نہ کروایا جایے
    ٢.   ایسے بچوں کے سا تھ کچھ وقت کھیلا جا یے
    جہاں تک ہو سکے ہر کھیل میں ان کی پسند کا خاص کھال رکھا جایے

    ٣.  ایسے بچوں سے زیادہ باتیں کریں اور ان کی بات کو زیادہ سے زیادہ سنیں

    ٤.  ان کو پکارتےھوے یا مخاطب ہوتے ھوے دلچپ لہجہ اور الفاظ اپناے جایں
    ٥.  نرمی سے بات کریں اور غلطی ہونے پر انکو ڈانٹںےکی بجایے ان  سے اس کے بارے میں بات کریں اور احساس دلائیں کہ  آپ سے کیا غلطی ہوئی ہے
    ٦.   کھانا دیتے ھوے کھانےاور پلیٹ کو تھوڑا سجھا لیں

    ٧.   انکی دلچپی کے کا م کروائیں
    ٨.   پانی سے کهیلنے کے لیے پودوں کو پانی دلوائیں یا پھر برتن میں پانی دال کر کپ یا چمچ کی مدد سے نکلنے اور گننے کی مشق کروا یں 
    ٩.  گھر سے بھر پارک وغیرہ میں کهیلنے کے لیے لے جائیں اور قدرت کا مشاہدہ کروائیں
    Αποτέλεσμα εικόνας για lazy child images free


    ١٠. ایسے بچوں کے لیے فنی مہارتیں بہت اچھی رہتی ہیں انکو ایسے وسائل مہیا کریں یا  ایسے کھلونے اور اوزار مہیا کریں جس سے وہ نیا سیکھ اور کچھ نیا کر سکیں


    ١١.  ایسے بچوں کو بوریت سے بچانےے لیے نئی نئی جگہوں اور چیزوں کا مشاہدہ کروائیں
    ١٢.  ایسے بچوں کی بہت زیادہ حوصلہ افزائی کریں 
    ١٣.  انکو سست یا کا ہل کہنے کی بجایےانکو بتایا جایے کہ وہ ہر کام بہت دلجمی اور نفاست سے کرتا ہے
    ١٤.  انکی خوراک کا خاص خیال رکھا جا یے اگر ہو سکے تو کچھ اضافی صحت کا  سپلیمنٹسsupplementsلیے  
    بھی دیےجائیں
    ١٥.  چونکہ ایسے بچے بہت زیادہ سوچتے اور کھیلتے ہیں اس لیے جلدی تھک 
    جاتے ہیں لہٰذہ ان کے آرام اور نیند کاخاص خیال رکھا جائے
    ایک جملہ اکثر بولا جاتا ہے کہ عظیم لوگ یا سائنسدن عام باتوں پر غور نہیں کرتے یاشا عر بے ترتیب ہوتے ہیں کسی حد تک یہ بات درست بھی ہے
    اور اس کی وجہ بھی یہی ہے کہ ایسے لوگ معاشرےکے حساس ترین لوگ ہوتے ہیں اور انکی نگاہ وہ  د یکھہ رہی ہوتی ہے جو ہم نہیں دیکھ سکتے 
    ضرورت اس بات کی ہے کہ ان بچوں کو تضحیک کا نشانہ بنانے کی بجا ےان کی مدد کی جایے اور ان کی صلاحیتوں کو برویے کارلا کر نو ع
    انسانی کی مدد کی جایے
      
    اگر آپ کو یہ تحریر پسندآئی ہے تو اسے زیادہ سے زیادہ پھیلائیں تا کہ دوسرے بھی اس سے فائدہ حاصل کر سکیں کریں اور اپنی قیمتی آراسے بھی نوازیں
    اگر کسی ایسے بچے کو جانتے ہیں جو ایسی کسی کیفیت سے دوچار ہے تو اس کے سلسے میں ہر طرح کی مدد ہم سے لے سکتے ہیں
     بہت شکریہ.
    ادیبہ انور
  • Free Islamic Stories for children.. ایک بڑھیا کی کہانی

     ایک بڑھیا کی  کہانی 
    حضرت محمد  صلو علیہ ) کی سیرت کے واقعیات   
         
                          بچو ! آج میں آپ کو ایک اایسی  
    The story about seerah of Muhammad SAW: ایک بڑھیا کی کہانی ...حضرت محمد صل کی سیرت کے واقع...                          






                
              عورت کی  
    کہانی سناؤ گی جو ایک  غیرمسلم تھی 
                    بچوآپ کو پتا  ہے ناغیر مسلم کسےکہتےہیں           
     جی ہاں بلکل ٹھیک بتایا آپ نے  
    اس  کو جو اللہ کو ایک نہیں مانتا 
     اور نماز نہیں پڑھتا   
        توبچوں  وہ عورت ایک  
     نوجوان سے بہت نفرت کرتی تھی  –   
      اس لئےکہ وہ نوجوان  
    لوگوں کو ایکاللہ کی باتیں  بتاتا  تھا  
     اور  بتوں کی عبادت سے روکتا تھا   
    تو پیارے بچو!  اس نوجوان کا گزر روز  
    اس عورت کے گھر کے 
                                                   قریب سےہوتا تھا  
    سے  وہ عورت اپنی نفرت  
    کا اظہار اس طرح کرتی 
     کہ جب بھی وہ نوجوان   
    اس کے گھر کے قریب سے گزرتا 
    وہ عورت اس کے اوپر اپنے گھر کا  
    سارا کچرا پھینک دیتی 
     ایک دن ایسے ہوا کہ  
    اس عورت نے  
    نوجوان پر کچرا نہیں پھینکا ۔ 
    نوجوان کو خیرت ہوئی  
    کہ  آج وہ بڑھیا چھت  پر  
    کیوں نہیں کیوں کہ ایسا پہلے  
      کبھی نہی ہوا تھا  
    اس نوجوان نے اس عورت   
    کے ہمسایوں  سے  
    پوچھا کہ وہ بوڑھی   
     عورت کہاں ہے۔ 
    ہمسائیوں نے بتایا کہ  
    وہ تو بیمار ہے۔ 
    نوجوان نے سوچا  
    کہ مجھے ضرور  
    اس کا حال پوچھنے   
        جانا چاہیے  
    جب اس عورت نے دیکھا  
    – کہ یہ تو وہ وہی لڑکا ہے 
    جس پر میں کچرا پھینکتی  تھی 
             تو پیارے بچو 
    وہ عورت بہت ڈری 
    اس نے سوچا کہ  
    اب میں تو بہت کمزور ہوں  
     اس لیے یہ لڑکا پتا نہیں   
    میرے ساتھ  کیا  
    سلوک کرے 
    لیکن جب اس عورت کو  
    معلوم ہواکہ  
    وہ نوجوان تو میرا  
    حال معلوم کرنے آیا ہے 
     تو وہ عورت بہت شرمندہ ہوئی  
    اور پیارے بچو 
     اس لڑکےنےاتنے اچھے  
    انداز سےبات 
    کی کہ وہ عورت اس کے 
    اچھے اخلاق اور میٹھی گفتگو 
    (بات) 
    سے بہت متاثرہوئی  
    اور اس نے اسلام قبول کر لیا 
    پیارے بچو کیا آپ بتا سکتے ہیں کہ  
    وہ نوجوان کون تھا 
                         جی ہاں جی 
    بچو آپ نے بلکل ٹھیک سوچا 
    اتنے اچھے سلوک اور   
    اخلاق والے نوجوان کا نام  
    حضرت محمد صل اللہعلیہوسلم ہے 
    دیکھا بچواچھی میٹھی گفتگو اورi 
    اچھے اخلاق سے دشمن  بھی 
         دوست بن جاتے ہیں 
    اس لیےبچو ہمیشہ  
    اپنے بہن بھائیوں،دوستوں   
    اور دوسرے سب لوگوں سے  
    اچھے سے بات کرنی چاہیے 
    اور سب کا خیال بھی رکھنا چاہیے 
    خاص طورپر اپنے ماں باپ   
                     اور بہن بھائیوں کا 
    کیوں کہ ہم ساری اچھیعادات گھر 
    سے ہی سیکھ سکتے ہیں               
    اچھا بچو پھر ملیں گےایک اور کہانی کے ساتھ
     تب تک،  الله حافظ      
    ادیبہ انور
      اگر آپ بچوں کی پڑھائی ور تعلیم و تربیت کے متعلق مزید
    videos
    تخلیقی مواد ور بچوں کو پڑھانے
    کے طریقوں کے متعلق مواد چاھتے ہیں
    تومیری انگلش کی ویب سائٹ پر تشریف لے جائیں.
      
                        

    Download and print this story

  • 100 Free stories. A story about love insects.میری پیاری لال بیگ

    100 Free stories. A story about love insects.میری پیاری لال بیگ

    100 Urdu stories for reading series.

    Insects are vanishing from the earth. We can teach children to love them and save them.

         میری پیاری لال بیگ

       بچوں کے لئےایک پیاری سی کہانی -urdu stories for reading 

    urdu stories for reading

     







    بہارکا موسم ہے- ہر طرف  خوب صورت رنگوں اور پیاری پیاری خوشبو والے پھول کھلے ہیں
    اور رنگ برنگی تتلیاں ، لال بیگ، مدومکھیاں،اڑ رہی ہیں
    پرندے چہچہا رہے ہیں
    میں کهیلنے کے لیے باہر نکلا

    اوہ ! یہ لال بیگ کتنی خوبصورت ہے
    میں نے اپنے بھائی سے کہا 
    میں اسے ہمشہ کے لیے اپنے ساتھ رکھنا چاہتا ہوں
    میں نے اپنے بھا ئی کے ساتھ مل کر اسے پکڑ لیا
    ہم نے اسے کمرے میں لا کر ایک بوتل میں بند کر دیا
    اور وہ بوتل ایک میز پر رکھ دی
    اور اس بوتل میں تھوڑی سی گھاس 
    اور پھول بھی رکھ دیے
    دوپہر تک وہ لال بیگ بوتل کے
     اندر چھلانگیں مارتی رہی
    وہ باربار اوپر چڑھتی  اور پھر نیچے گر جا تی
    ہم اسے دیکھ کربہت خوش تھے
    مگر شام کو وہ لال بیگ آرام سے بیٹھ گئی
     اب وہ  بار بار اوپر بھی نہیں چڑھ رہی تھی
    وہ تھوڑی اداس اور تھکی ہوئی لگ رہی تھی
     ایسا لگتا تھا
    وہ اب ھمارے ساتھ خوش نہی ہے
    اور پھر ہم نے غورکیا اس نے صبح سے
    کچھ بھی نہیں کھایا تھا
    ہم اپنی امی جی سے اس کےلیےکھا نا لینےگیا 
    تب ہماری امی نے بتایا
    دیکھو بیٹا 
    وہاں اس کا گھراوردوست
    ہیں وہ سب اس کو یاد آ رہے ہوں گے
    جس طرح آپ کو کوئی پکڑکر کہیں بند کر دے
     تو آپ کو اچھا نہیں لگے گااسی طرح
    وہ بھی بوتل میں بند ہو کے 
     اچھا محسوس نہیں کر رہی ہو گی

     

    آپ اس کو خوش دکھنا چاھتے ہیں 
    تو اسکو واپس با غ میں چھوڑ آئیں
     اس لیے ہم نے بوتل اٹھائی
     اوراسکوپودوں کے پاس جا کر چھوڑ دیا
    ھمارے دیکھتے ہی دیکھتے
     وہ اڑتی ہوئی پودوں میں کہیں گم ہو گئی
    رات کو میں نے خواب دیکھا
    کہ میں اور میرا بھائی ایک خوبصورت باغ میں اڑ
    رہے ہیں
    اور وہاں ہماری پیاری لال بیگ بھی ہمارے ساتھ اڑ 
    رہی ہے 
     اور بہت خوبصورت نغمےگا رہی ہیں
    وہ اب سچ میں  ھمارے ساتھ بہت خوش ہے.
     
    مصنفہ :  ادیبہ انور  
     
     
     
    urdu stories for reading

    Read more stories in Urdu

    Read more stories in English

    Enrolments Available

    This is a short course of hadith and stories from My 30 short hadith with stories course. Online group classes are available online for all time zones. Recommended age for the class Hadith for kids is 7+. These classes are available in English and Urdu. If you want to enroll your child in our classes contact us via.

    Other courses we have

    • Easy Tafseer for kids with interesting stories you can see that course in my hadith course tab.
    • Prayer for kids course is a short course to teach about taharat, Gusal, wudu, times of prayers, number and names of prayers, pillars and conditions of prayer, and method of prayer. Search as Prayer for kids course on the search bar.
    • Ramzan boost course we do start 2 weeks before Ramzan.
    • Faith boos course In December to say No To Marry Christmas.
    • Kindness to Parents

    If you want to start this course with me then leave a comment, Email me or enroll your child here.

    Download your free copy of 30 short Hadith book pdfs in Urdu/Eng from the Posts tab.

  • Free stories for children in Urdu. Mera Helicopter میرا ہیلی کاپٹر

                     

             بچوں کے لیے اردواسلامی  کہانی

      میرا ہیلی کاپٹر

    احمد سویا ہوا تھا کہ اچانک  شور

    Free Islamic stories for children in Urdu کرتا ہوا  اٹھ گیا


    میرا ہیلی کاپٹر
    ، میرا ہیلی کاپٹر
    کہاں ہے? میرا ہیلی کاپٹر

    کہاں ہے میرا ہیلی کاپٹر


    دادا جان مسجد سے نماز پڑھ کر واپس آ رہے تھے 

    انہوں نے احمد کا شورسنا تو احمد کی کمرے کی طرف چلے گے

    اور  احمد سے پوچھنے لگے  بیٹا آپ کون سے ہیلی کاپٹر کی بات کر رہے ہو

    :احمد

    دادا جان میں میرے اپنے ہیلی کاپٹر کی بات کر رہا ہوں جس سے میں

    کھیل رہا تھا

    وہ ایک ریموٹ کنٹرول ہیلی

    کاپٹر تھا اورمیں اس کو ایک بہت پیارے سے باغ میں اڑا رہا تھا

    : دادا جان

    اچھا لیکن آپ کے پاس تو ایسا کوئی ہیلی کاپٹر نہیں تھا

    آپ نے وہ ہیلی کاپٹر کہاں سے لیا

    : احمد

    پتا نہیں دادا جان

    لیکن ابھی تھوڑی دیر پہلے تو وہ میرےپاس تھا

    : داداجان

     مسکراتے ھوے

    اچھا بیٹا اس کا مطلب ہے آپ نے خواب دیکھا  ہے

    : احمد

    خواب لیکن دادا جان وہ تو سچ میں ہیلی کاپٹر تھا اور میں اس کے ساتھ 

    بہت زیادہ  کھیل رہا تھا

    اور مجھے بہت مزہ آیا

    : دادا جان

    احمد بیٹا تم بلکل ٹھیک کہ رہے ہو

    تمہیں واقعی ہی بہت مزہ آیا ہو گا

    لیکن بیٹا وہ سچ میں خواب  ہی تھا 

    اچھا یہ بتائو!  آپ نے الله  تعالیٰ سے ہیلی کاپٹر کے لیے کوئی دعا کی تھی

    : احمد

    جی ہاں  دادا  جی

    مجھے ریموٹ  کنٹرول ہیلی کاپٹر بہت اچھا لگتا ہے

    میں نے ایک ویڈیو میں دیکھا تھا کہ ایک بچہ

    ہیلی کاپٹر اڑا رہا تھا اور

    وہ لڑکا اس ہیلی کاپٹر کو کبھی بہت اونچا  لے کر جاتا

    ا ور کبھی کلا بازیاں لگاتا ہوا نیچے لے آتا

      مجھے بھی ویسا ہی ہیلی کاپٹرچاہیے

     میں نے الله تعالی سے دعا کی کہ

    مجھے بھی ایسا ہی ہیلی کاپٹر چاہیے

     لیکن مجھے  ابھی تک ہیلی کاپٹرنہیں ملا

    میں نے باباجان سے بھی کہا تھا کہ

    مجھے ویسا ہیلی کاپٹر  دلادیں

    لیکن وہ کہتے ہیں کہ ابھی میں بہت چھوٹا ہوں

    دیکھیں نا دادا جان میں کتنا بڑاہو گیا ہوں

    یہ کہتے ہوۓ احمد کرسی پر چڑھ گیا

    اور ہاتھ اور بھی اوپر کر لیے

    یہ دیکھ  کر دادا جان مسکرا نے لگے

    اور پھر دادا جان کہنے لگے

    احمد تم واقعی ہی بڑھے ہو گے

    لیکن احمد بیٹا ابھی آپ کی عمراتنی نہیں ہوئی ہے

    کہ آپ ریموٹ کنٹرول  ہیلی کاپٹر چلا سکو

    دیکھو احمد بیٹا اللہ تعا لی ہمارا مالک ہے

    اللہ بچوں سے بہت پیا ر کرتا ہے

    اور بچوں کی کبھی کوئی د عا نہیں ٹالتا

     صرف اللہ ہی بہترجانتا ہے کہ ھمارے لیے کیا اچھا ہے

    ا ور کیا اچھا  نہیں

    اسی لیے کبھی کبھی کوئی چیز ہم الله سے مانگتے ہیں

    لیکن اللہ ہمیں  وہ چیز نہیں دیتا

    یا پھر جب اس کا ٹھیک وقت آتا ہےتب دیتا ہیں

     بلکل اسی طرح جس طرح آپ کے بابا

    آپ سے بہت پیار کرتے ہیں

    لیکن انہیں پتا ہی کہ ابھی آپ ہیلی کاپٹر نہیں چلا سکتے

    اسی لیے انھوں نے نہیں دلایا

    :احمد

    اچھا دادا جان تو پھر وہ ہیلی کاپٹر جو میں نےخواب

    دیکھا تھا وہ کہاں ہے

    : دادا جان

     دیکھو احمد!  بیٹاالله تعالہ پیارے بچوں کا دل کبھی نہیں توڑتا

    اور جو بچے اللہ سے دعا کرتے ہیں

     اور اچھے اچھے کام کرتے ہیں

     اللہ تعالہ ان بچوں کی ساری چیزیں

     اپنے پاس جنت میں رکھتے جاتے ہیں

    اور جب کسی بچے کا کوئی کام بہت پسند آتاہے

    تو رات کو الله تعالہ وہ چیز دے کر

    ہےفرشتوں کو بیجھتا

    اور اس طرح بچے  اس چیز کو دیکھہ بھی لیتےہیں

    اور اس کے ساتھ خوب کھیل بھی لیتےہیں



    :احمد

    تو دادا جان وہ  ہیلی کاپٹراللہ تعالہ مجھے کب دن گے

    میں نےاتنی زیا دہ اللہ سے دعاکی ہے

    :دادا جان

    بیٹا آپ اللہ سے دعا کرتے رہا کرو

    جب اللہ اسے آپ کے لئےاچھا سمجھے گا

    تو آپ کو مل جایے گااور 
    اور کبھی کبھی اللہ کو آپ پر بہت پیار آ رہا ہوتا ہے 

    اس لئے اللہ چاہتا ہے کہ آپ اس سے بار بار د عاکرو

    پھر آپ کو وہ چیزملے
    اور اگر آپ کو وہ ہیلی کاپٹر نہ ملا تو تو اس کی جگہ اللہ آپ کو کوئی اور پیاری سی چیز بھی  دے گا

    اور بھر  الله تعا لہ جنت میں

     اس دنیا کے سا رے

     ہیلی کاپٹر اور کھلونوں سے

    بھی زیادہ خوب صورت کھلونے اور اچھی اچھی چیزیں 

    سٹور بھی  کر دے گا

    آپ وہاں جتنا چاہو گےان کھلونوں کے ساتھ کھیل سکو گے

    اس لئے اللہ تعالہ سے دعا کرتے رہو ہمیشہ

    تا کہ آپ کو بہت ساری اچھی اچھی جنت کی چیزیں ملیں

    ٹھیک ہے نا کرو گے نا دعا

    :احمد

    جی دادا جان

    مجھے چاہیےجنت کے سارے کھلونے

      ان شا  اللہ

    یہ کہتے ھوے احمد کلا بازیاں لگاتاہوا

     بستر سے اترا اور باہر بھاگ گیا




     مصنفہ: ادیبہ انور
     تصویر کشی اور مشق : محمد محسن
    اس تصویر میں رنگ بھری

    مشق


     اس کہانی کے آخر میں بچوں سے آسان سوال کریں



    ١. دعا کیسے کرتے ہیں 

    ٢.آپ اللہ سے کس کس چیز کی د عا کرتے ہو

         ٣. آپ کو جنت میں کیا کیا چیزیں چاہیں

    ٤. اللہ نے ہمیں کون کون سی چیزیں دی ہیں

    ایک ورق پر تصویریں بنا کر ان کے نام لکھیں  

    ٥. اللہ نے جنت میں ھمارے لیےکون سے پھل اور نعمتیں رکھیں ہیں

     ٦. احمد نے خواب میں کیا دیکھا 

    ہماری جو  د عا ئیں  پوری نہیں ہوتیں وہ کہاں جاتی ہیں



    ہاتھ سے بنا ہوا ایک جنت کا خالی نقشہ جس میں آدم  علیہ سلام اور حوا علیہ سلام کو زمین پر اتارے جانے سے پہلے کا نقشہ ہے