Tag: chracterbuildinginurdu
-
The story of Hazrat Younas A.S in Urdu with free pdf download. حضرت یونسؑ
حضرت یونسؑایک دفعہ کا زکر ہے،کہ !ایک جگہ ایک بستی تھی-
جس کا نام نینوا تھا-
– اس بستی کے -لوگ ایک اللہ کو بھول گئے تھے-اور بہت سے گندے کام کرنے لگ گئے تھےاللہ تعالیٰ نے ان کی ہدایت کے لئے ان کے
پاس حضرت یونسؑ کو بیجھا-وہ اللہ کے ایک
نیک بندے تھے- انہوں نے بستی والوں کو بتایا
کہ بتوں کی عبادت چھوڑ کر صرف ایک اللہ کی
-عبادت کرو-اور گندے کم چھوڑ کر الله کا حکم مانو
– نہیں تو اللہ تم سب سے ناراض ہو جائے گا
-اور تم پر عذاب بیجھے گا
-لیکن ان لوگوں پر کوئی اثر نا ہوا-حضرت یونسؑ بہت سال ان کو سمجھاتے رہے
– لیکن کوئی بھی ان کی بات نا سمجھا
حضرت یونسؑ نینوا بستی کے لوگوں
سے بہت ناراض ہو گئے-وہ لوگوں کو
-بتوں کے لئے سجدہ کرتے نہیں دیکھ سکتے تھے
اسی لئے ایک دن انہوں نے اللہ کی
-اجازات کے بغیر وہ بستی چھوڑ دی
-اور کسی دوسری بستی جانے کا فیصلہ کیا
-تا کے کسی اور بستی کے لوگوں کوالله کا حکم سنا سکیں-وہ ایک بحری جہاز پر سوار ہو گئے
-جب وہ جہاز سمندر کے درمیان پہنچا
-تو سمندر میں آچانک طوفان آ گیا
-اور جہاز زور زور سے ہلنے لگ گیالوگوں نے اچانک طوفان آ جانے کی
وجہ سے سوچا ،کہ! ضرور کوئی غلام اپنے
-مالک سے بھاگ کر آ گیا ہے
اسی لیے جہاز اس طرح اچانک بغیر کسی
وجہ کے ہلنے لگ گیا ہے-اگر وہ جہاز سے
-نکل جائے تو ہم سب بچ سکتے ہیں
-لیکن وہاں ان کو کوئی بھی غلام نظر نہ آیا
انہوں نے یہ معلوم کرنے کے لئے کہ
وہ غلام کون ہے،سب لوگوں کے نام لکھ کر
پرچی نکالی-تو حضرت یونسؑ کا
نام نکلا- لوگوں نے دیکھا کہ یونسؑ تو غلام
-نہیں ہیں-انہوں نے دوبارہ پر چی نکالی
-پھر حضرت یونس کا نام نکلا
-جب تین بار ہی حضرت یونسؑ کا نام نکلا
-تو لوگوں نے حضرت یونسؑ کو پانی میں پھینک دیاپانی میں ایک بڑی سی مچھلی نے
حضرت یونسکونگل لیا-حضرت یونسؑ بہت
-پریشان ہوئے-مچھلی کے پیٹ میں بہت اندھیرا تھا
،حضرت یونسؑ بہت روئے-انہوں نے سوچا
کہ مجھے اللہ کے حکم کے بغیر بستی سے
-نہیں نکلنا چاہئےتھا-وہ رو رو کر اللہ سے دعا کرتے رہےاس دعاکے بار بر پڑھنے، اور بہت زیادہ رو رو
کر الله سے معافی مانگنےکے بعد اللہ نے
انہیں معاف کر دیا-مچھلی نے اللہ کے
حکم سے حضرت یونسؑ کو دریا کے باہر
کنارے پر پھینک دیا-حضرت یونس بھوک
-اور پیاس کی وجہ سے بہت کمزور ہو گئے تھے
اللہ کے حکم سے وہاں سمندرکے کنارے
ایک درخت اگ آیا -جس سے آپ کو سایہ
– اور پھل ملے ،اور آپ میں طاقت آ گئی
-پھر حضرت یونسؑ اپنی بستی واپس چلے گیے
،گئے-وہاں پہنچ کر آپ نے دیکھا
-کہ کافی لوگ مسلمان ہو چکے تھے
–حضرت یونسؑ بہت خوش ہوئے اور اللہ کا شکر ادا کیاادیبہ انوراس کہانی سے بچوں کو تین سبق ملے.١. اللہ کے حکم کی کبھی بھی نافرمانی نہیں کرنی چاہی٢. جو کام کرنے لگیں اس میں صبر اور انتظار سا کام لینا چاہینے ایک دن کامیابی ضرور ملتی ہیں
٣. جب بھی کسی مصیبت میں ہوں رو رو کر الله سے د عا کرنی چاہی اللہ مدد کرتا ہے.بچوں کی کہانی میں دلچسبی پیدا کرنے کے لیےعملی کام
اس کہانی کے آخر میں بچوں سےکا غذ کی ایک کشتی بنوائی گئیجس کا لنک نیچے دیا گیا ہےبچوں سے حضرت یونس الہاسلام کی دعوا کی ایک تختی بنوایے گئیبچوں سے ایک مچھلی بھی بنوائی گئی ..چھو ٹے بچوں سی کاغذ پر اور بڑے بچوں سے کپڑے کی سللائی کی ہوئیمچھلی بنوائی گئ
بچوں کو دولفینی شو کی سیر کروائیں یا پھر فش ایکویریم دیکھیں تا کو وہ اس سے لطف اندوز ہوںبچوں سے د عا یاد بھی کروائی جائے
اگر آپ بچوں کی پڑھائی ور تعلیم و تربیت کے متعلق مزید
videos
تخلیقی مواد ور بچوں کو پڑھانے
کے طریقوں کے متعلق مواد چاھتے ہیں
تومیری انگلش کی ویب سائٹ پر تشریف لے جائیں.اس دعاکے بار بر پڑھنے، اور بہت زیادہ رو رو کر الله سے معافی مانگنےکے بعد اللہ نےانہیں معاف کر دیا.مچھلی نے اللہ کے حکم سے حضرت یونسؑ کو دریا کے باہرکنارے پر پھینک دیا-حضرت یونس بھوک اور پیاس کی وجہ سے بہت کمزور ہو گئے تھے.
اللہ کے حکم سے وہاں سمندرکے کنارےایک درخت اگ آیا.جس سے آپ کو سایہ,اور پھل ملے ،اور آپ میں طاقت آ گئی.
پھر حضرت یونسؑ اپنی بستی واپس چلے گیےگئے-وہاں پہنچ کر آپ نے دیکھا,کہ کافی لوگ مسلمان ہو چکے تھے .حضرت یونسؑ بہت خوش ہوئے اور اللہ کا شکر ادا کیا -
Bachon ki taleem o Terbiayt. Parents role in Character buidling urdu.
کیا ،کیوں، کیسےبچوں کو مطمئن کیسے کریں بچوں کی تربیت اور ہمارا کردارانسان کی پیدائش کے ساتھ ہے اس کے سیکھنے کا عمل شروع ہو جاتا ہے– بچہ جب پہلی آواز سنتا ہے توغوروفکر پیدا ہو جاتی ہےجب وہ آنکہ کھولتا ہے تو حیران کن نظروں سے اردہ گرد کا جائزہ نا ہے… ایک ایک نقش اسکی آنکہ کے عدسےسے دماغ پر نقش ہو جاتا ہےس کے دماغ میں یہ سوال پیدا ہوتا ہےیہ کیا ہے؟پھر ان تصویروں اور آوازو کے ملاپ سے ایک اگلا مرحلہ آتاہے جب وو سوچتا ہےیہ کیوں ہے ؟اور پھر وو چلتنی پھرنے کے قا بل ہوتا ہے اپنے اس تجسس کی کھوج شرو ع کر دیتا ہے. ہر چیز کو پکر کر چھو کر اور دیکھ کر سمجھنے کی شروعات کرتا ہےاور جونہی اسکی زبان ساتھ دیتی ہےاس کے سارے سوال اسکی زبان پر آ جاتےہی-
١. یہ کیا ہے٢. ایسا کیوں ہے؟٣. یہ کس نے بنایا ہے؟٤.کہاں ہےانسان کی ابتدا سے لے کر آخر تک یہ تجسس ور جا ن لینے کی خواہش ہمیشہ رہتی ہے-اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کے بچوں کو ان کے سوالوں کے مناسب جواب کیسے دے جائیں. یاد رکھیں بچے کی ہر ذہنی الجھن ا ور ہر دور کے تجسس کی گرہیں اس کی عمر ور اس کی ذہنی سطح کو مد نظررکھ کر دینا بہت ضروری ہی ورنہ اگر کسی ذہنی الجھن کا اس کو مناسب ا ور درست جواب نہ ملا تو اس کی شخصیت پر بھی اس کے برے اثرات مرتب ہوں گےاور بعض دفعہ غلط علم اورغلط معلومات اس کی تربیت اور کردار پر بھی اثر انداز ہوتی ہیں
ماں اور باپ باغ کے ایسے مالی ہیں جو اپنے ہاتھوں سے پودالگاتے ہیں،اپنےخون اور پسینے سے اس کی آبیاری کرتے ہیں اور صحت تکلیفیں برداشت کر کے اس کو پروان چڑ ھاتے ہیں لکن اس کے ساتھ ہی ساتھ انکو اپنے ہاتھوں سے لگاے ہوۓ پودوں کی کانٹ چھانٹ بھی کرنی پڑتی ہےاور یہ کانت چھانٹ چوٹی عمر میں ضروری ہوتی ہے کیوں ک جب پودا برا ہو جاتا ہے تو اسکی شاخیں سخت ہوجاتیں ہیں اور ذرا سی سختی سے ٹوٹنے لگتی ہیں
بچے کی تربیت میں ماں کا کردار کردار
بچہ سب سے زیادہ ماں کی قریب ہوتا ہے ماں کا رویہ اور کردار سب سے زیادہ بچے کی تربیت پر اثر انداز ہوتاہےاوربچہ سب سے زیادہ اسی سے سوال پوچھتا ہےاس لیے یہ نہایت ضروری ہے کہ ماں بچے کے ہر سوال کا نہایت تحمل اور سمجھداری سے جواب دے.اس کے لیےماں کو خود بھی ایک با علم اور باشعورفرد بن کر نئی علمی معلومات اور دینی تربیت کا سیکھنا ضروری ہےماں علم و تربیت کا پہلا ستون ہے . ما ں کو رب نے محبت اور برداشت عطاکی ہے اسی قوت برداشت اور محبت سے سے وو اپنے بچے کو ایک اچھا انسان اور باشعور فرد بنا سکتی ہے.بچے کی تربیت میں باپ کا کردار
اکثر بچے اپنے باپ سے بہت زیادہ اثر قبول کرتے ہیںکیوں کہ باپ گھر کا سربراہ اور حکمران ہوتا ہےاور اس کا رعب اور دبدبہ بھی زیادہ ہوتا ہے یہی وجہ ہے ک بچے اپنے والد کے جیسا بنے کی کوشش کرتے ہیں اس کے ساتھ ہی مرد کا کیوں کہ حلقہ احباب اور سرگرمیاں بھی زیادہ ہوتی ہیں. وہ با ہر کے ماحول اور تبدیلیوں سے بھی اگاہ ہوتا ہے یہی وجہ ہے کہ باپ زیادہ اچھے طریقے سے بچے کی تعمیر و تربیت میں مثبت کردار ادا کر سکتا ہےلیکن عملی طورپر دیکھاگیا ہی کہ باپ ساری ذمہ داری ماں پر ڈال دیتے ہیں اور بعض دفعہ بہت زیادہ سختی سے کام لیتے ہیں جس کی وجہ سے بچے ذہنی طور پر باپ سے دور ہو جاتے ہیں اور اسی وجہ سے وو سوال جن کا جواب ایک باپ ہی دیےسکتا ہے اور ایسے مسائل جن کی تربیت صرف والد ہے کر سکتا ہی وہ ادھورے رہ جاتے ہیں اور پھر یہ اس بچے کی شخصیت میں ادھورے پن پیدا کر دیتے ہیںبچے کی تربیت میں ماحول کا کردار
بچے کے تجسس کی کھوج اس کو چوٹی عمر میں ہے کبھی کچن کے دراز کھنگالنے’ کی طرف لے جاتی ہے اور کبھی باپ کے جوتے پہن کر چیزوں کے فرق کو سمجھنے کی کوشش کرتا ہےایسے میں گھر کا ماحول ایسا ہونا چاہے جس میں وہ بآسانی چل پھر کر اپنے سوالوں کا جواب ڈھونڈ سکے اور ساتھ ہی بڑھتی ہوئی عمر میں گھر اور گھر کا ماحول دوست، رشتے دار سب بچے کی تربیت میں اثر انداز ہوتے ہیںاسی لیے گھر اور گھر کا ماحول ایسا ہونا چا ہیے جس میں بچے کی شخصیت نکھرے. اس سلسے میں ذرا سی سختی یا بلاوجہ سے روک ٹوک بچے کہ اس تجسس کی رہ میں رکاوٹ بنتی ہےجس کی وجہ سے یا تو بچے باغی ہو جاتے ہیںاور یا پھر ان کی ذات میں ایسا خلاپیدا ہو جاتا ہے جس کی وجہ سے وہ معا شرے کے مثبت کردار ادا نہیں کر سکتےوالدین خود دوست بنیں ان کے لیے گھر کا ماحول اچھا دوست بنائیں اور اس سے پہلے ک وو اپنے سوالوں کا جواب تلاش کرنے کے لیے غلطانداز اور اور طریقہ اپنائیں اگے بڑھ کر ہر وقت انکی مدد کو تیار رہیں ناں کہنے کی بجایے ہر وقت انکے ساتھ رہیں. مشبت جواب اور حوصلہ افزائی کے ساتھ ان کے ساتھ چلیں.نئےوقت اور حالات کے تقاضوں کو سمجھیںتو بچہ خود کو اپ کے قریب کرے گا اور ہر کیوں کا جواب جاننے کے لیے آپ کے پاس ہی آیے گاآخر میں صرف اتنا ہی کہ جب انسان ذرا سی محنت اور پیا ر سے جانوروں کو سدھا سکتا ہے تو ذرا سی محںت اور پیا ر ا پنے بچوں کے لیے کیوں نہیں
ادیبہ انور
اگر آپ بچوں کی پڑھائی ور تعلیم و تربیت کے متعلق مزید
videos
تخلیقی مواد ور بچوں کو پڑھانے
کے طریقوں کے متعلق مواد چاھتے ہیں
تومیری انگلش کی ویب سائٹ پر تشریف لے جائیں.
-
waldin kay Faraiz, The Duties of Parents in urdu To rais muslim Child. A guide for Parents.
حقوق العباد
والدین کے فرائض
تعلیم و تربیت والدین کی ذمہداری ہےوہ اس ذمہ داری کو
کیسے پورا کریں
بچوں کی تعلیم ور تربیت والدین پر فرض ہے .اسلام نے والدین پر اولاد کے جو حقوق واجب کیے ہیں. وہ یہ ہیں
١. اچھا نام رکھنا ٢. اچھی تعلیم و تربیت دینا ٣. اور اچھی جگہ شادی کرنا
تعلیم کے لیےآج بہت سارے ادارے بن چکے ہیں جہاں ہم اپنے بچوں کو بھیجتےہیں تو وہ دنیا کے سآرے علوم و فنون سیکھتا ہے جو اس کو یہ سیکھا دیتے ہیں کہ کس طرح زیادہ سے زیادہ کمایا جا سکتا ہےا ور آسائشیں حاصل کر کے اپنا معاشرتی مقام بلندکیا جا سکتا ہے لکن اس ساری دور بھاگ میں انسان یہ بھول گیا ہے ک تعلیم کے ساتھ تربیت بھی ضروری ہیں… اب وہ چند لوگ جو بچوں کی تربیت کو اہمیت دیتے ہیں ان میں سے بھی بعض ایسے ہیں جوصرف سوری بولنے، شکریہ بھولنےا ور زیادہ سے زیادہ جھوٹ ، چوری، اور تمیز سے بات کرنے کو ہی تربیت کہتے ہیں… جب کہ اسلامی نقطہنظر سے تربیت کے معنی ہیں اخلاق اور تہذیب سیکھنا یہ اس انسان کے والدین اور عزیزوں کی ذمہ داری ہے کہ اس کی اچھی تربیت کرکے اس کو خوش بخت بنائےیا اپنی ذمہ داری کو انجام نہ دیتے ہوئے اس کی بری تربیت کرکے اس کو بد بخت بنائیں۔ تربیت کرنے کے لئے بھی سیرت اور نمونہ عمل کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ اس نمونہ عمل کو سامنے رکھ کر اور اس کی روش وفرامین کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنے بچے کی تربیت کرسکے ۔ خدا کے فضل سے مسلمانوں کے لئے بلکہ پوری انسانیت کے لئے خدا نے نمونہ کی نشاندہی کر دی ہے لقد کان لکم فی رسول اللّٰہ اسوۃ حسنۃ(احزب ٢١) تمہارے لئے رسول اللہؐ بہترین نمونہ عمل ہیں ۔رسولؐ نے جن کی تربیت کی ہے ان شخصیات کو دیکھنے کے بعد ہمیں اندازہ ہو تا ہے کہ آپ نے کتنی بہترین تربیت کی ہے اور ان کی تربیت کی مثا ل دنیامیں نہیں ملتی
اس کی ذمہ داری ماں اور باپ دونوں پر آتی ہے مگرآج کے انسسان کو دنیا کی آسایشوں نے اتنا غافل کر دیا ہے کہ اس نے آسائشیں مہیا کرنے اور دنیاوی تعلیم کو ہی اپنی ذمہداریسمجھ لیا ہے جب کے تربیتکا مطلب ہے بچے کو ایسا انسان بنانا جس میں صبرہو،اخلاص ہوتوکل ہو،قوت برداشت ہوجو دنیا میںرہتے ھوے بھی دنیا کا نہ ہو،جو بہادربھی ہو اور دردمند بھی جو حق کے لیے لرنے والا بھی ہو اور معاف کرنے والا بھی ،جس میں شرم اور حیا بھی ہو کوئی بھی والدین یہ نہیں چاہتا کہ اسکی اولاد غلط راستے پر چلے یا اس کو غلط تربیت ملی… لکن افسوس یہ ہے کہ آج والدین خود ہی غلط اور صحیی کا فرق بھول گے ہیں بس دنیا کے بہاؤکے ساتھ چلے جا رہیے ہیں…… نماز، روزہ، حج زکاتہ ادا کر کے دین مکمل نہیں ہوتا دین مکمل ہوتا ہے اسوہ رسول اپنا کر .. اور امر بالمعروف ونہی عن المنکر اپنا کر
یاد رکھیں ہماری اولاد ہمارے لیے صدقہ جاریہ ہے اسے آخرت کے لیےتیار کریں نا کہ دنیا کےلیے والد کی ذمہ داری ماں اور باپ دونوں پر ایک جتنی ہے ماں کی تربیت گود سے شروع ہوتی ہے اور باپ کی انگلی پکڑ کر چلنے سے لے کر با لغ ہونے تک اپنی اپنی ذمہ داری کے بارے میں دونوں ہی اللہ کے سامنے جواب دہ ہوں گے اس کے لیے ضروری ہے کہ اپنا مقام و مرتبہ پہچانیں خود سیکھیں عمل کریں اور اولاد کو سکھائیں کوئی بھی اسکول یا کالج آپ کے بچے کو ایسی تربیت نہیں دے سکتا جو دنیا اور آخرت دونوں کے لائی کافی ہو… والدین جو سکھاتیں ہیں وہ تا عمریاد رہتا ہے والدین بنننا خوش قسمتی ہے اس سے بھی بری خوش قسمتی ہے کہ اولاد ہماری آخرت میں بہشش کا ذریعہ بن جایے قران میں بیان ہوا ہے کہ تماری اولاد ، بیویاںاور مال و دولت تمہارے لیے آزمائش ہیں… اس آزمائشپر پورا اتریں خود علم سیکھیں اور بچوں کوسیکھائیں پوسٹ کو دوسروں کے ساتھ شیرکریں تا کہ زیادہ سے زیادہ لوگ اس سے استفادہ حاصل کر سکیں
(ادیبہ انور)
-
How we could teach to children Rights of a Muslim towards other Muslims?Urdu.
مسلمانوں کے ایک دوسرے پر حقوق کیا ہیں؟بچوں کو ایک کھیل کے ذریعے سیکھائیںHow we could teach to children Rights of a Muslim towards other Muslims?
بچپن میں کی گئی تربیت ساری عمر بچوں کے کام آتی ہے
اور تربیت میں سب سے ضروری اسلامی شرعیت اور ااقتدار ہیں جہاں ہم دنیا وی تعلیم کو بہت زیادہ دلچپ طریقوں اور مختلف قسم کے کھیل کے ذریعے بچوں کو سیکھاتے ہیں تا کہ بچوں کو سیکھنے میں مدد ملے اور بچوں کی دلچسپی بھی بنی رہی اسی طرح تمام دینی علوم اور شرعی مسائل سیکھانے کے لیے بھی ہم کچھ ایسے طریقےاپنانے چاہیں جس سے بچے زیادہ دلچسبی سے دین سیکھیں
اور عمل بھی کر سکیںالله کا فرمان ہے کہ میں اپنے حقوق جو ایک بندے پر رکھتا ہوں ہو سکتا ہے معاف کر دوں لیکن ایک بندے کے جو دوسرے مسلمان پر حققوق ہیں وو کبھی معاف نہیں کروں گا جب تک وہ خود معاف نہ کرے اس کے ساتھ ہے دیکھاگیا ہی کہ کچھ لوگ بچوں کو یہ معملات سیکھانے میں اتنی سختی کرتے ہیں کہ بچے جونہی ذرابارے ہوتے ہیں وو ان باتوں پر عمل کرنا چھوڑ دیتے ہیں
بچوں کو جتنا زیادہ دلائل دی کر اور آسان طریقےباتیں سمجھی اور سیکھائیجائیں ان کا اثرساری زندگی رہتا ہےاسی سلسلہ میں بچوں کو ایک مسلمان کے دوسرے مسلمان پر جو حق حاصل ہیں سیکھانے کے لیے ایک کھیل کا سلسلہ پیش ہےآئیں دیکھتےہیں کہ ایک مسلمان کے دوسرےمسلمان پر حقوق کون سے ہیں
١. جب وہ ایک دوسرے سے ملیں تو سلام کریں٢. اگر وو کھانے پر بلائے تو دعوت قبول کریں٣.کوئی مشوره کرے تو اسکو اچھا مشورہ دے٤.اگر وہ چھینکے تو اسکی چھینک کا جواب دے٥.اگر وہ بیمار ہو تو اسکی عیادت کرے٦.جب کوئی مسلمان مرےتو اسکی نماز جنازہ پڑےبچوں کو کیسے سیکھائیں
١ . دو یا دو سے زائد بچے اس کھیل میں حصہ لیں اگر بچہ ایک ہے ہو تو خود اس کھیل میں حصہ لیں
٢ . گھر تیار کیا جا یے
ان کے لیے اس کھیل کےلیے بلاک یا کچھ کرسیاں وغیر ہ
یا بھر کوئیکیمپ tentلے کر گھر گھر کهیلنے کا انتظام کریں اور اس طرح سے ایک کھیل کھلیں.٣ .دعوت کا انتظامانکو دعوت کے لیے کچھ پسندیدہ کھانے کی ایشیا مہیا کریں اگر بچے خود سے کچھ کھا نا تیار کرسکیں تو ان کی مدد کریں ورنہ کھانا خود بنا لیں ور بچوں سے ٹیبل سجانے میں مدد لیں
٤. میزبان کا تحفہمیزبان کو بھی کچھ تحفہ وغیرہ لے کر جانے کے لیے کچھ مناسب سا کھلونا یا کھا’نے کی چہز مہیا کریں اگھر ہو سکے تو بچوں سے خود کوئی کھلونا کارڈ یا پھولوں کا گلدستہ تیار کروائیں
مثال کے طور پر اس طرح٥. کھیلایک یا ایک سے زیادہ بچے مہمان بین گے اور ایک گھر میں میزبان
میزبان فون پر دوسرے بچے کو گھر میں کھا نے پر دعوت دے اور دوسرے بچے دعوت قبول کریں
مکالمہاسلام و علیکم سے شروع کریں
دوسرا بچہ : وہ علیکم سلام ورحمت الله کہےپھر بچے کو اپنی مرضی سے گفتگو کرنیں دیںجتنا زیادہ ہو سکے بچے خود سارا کھیل کھیلیں کیوں کہ بہت زیادہ مدا خلت سے بچہ ججھک
محسوس کرتا ہے اور آزادانہ طریقے سے کھیل کا زیادہ مزہ نہیں لے سکتا ہےاسی دوران اگر کسی ایک بچے کو چھینکے یا خود کسی بچے کو چھینک مارنے اور الحمد للہ پڑھننے کو کہیں اور چھینک کا جواب کیسے ( یر حمک الله) دیتے ہیں یہ سیکھائیںکھانے کے بعدمہمان کھانے کی تعریف کرے اور یہ دعا پڑھے
پھر بچوں کو اپنی مرضی سے جتنا چا ہے اس کھیل کا مزہ لینے دناور اخرمیں بچے ایک دوسرے الله حافظ کہ کر رخصت ہوں
مہمان کی عیادت کیسے کریں اس کھیل کو دوسرے حصے میں پیش کیا جا ےگابہت شکریہد عا میں یاد رکھیں
کھیل پسند آیے تو لا ئق اور شیر کرضرور کریں تا کہ سب اس سے فائدہ اٹھا سکیںتحریر ادیبہ انور -
بچہ سست ہے یا بہت زیادہ تخیلاتی؟. ?How to deal lazy kids. Pakistani Parents guide in Urdu.
کیا آپ کا
بچہ سست ہے یا بہت زیادہ تخیلاتی؟
ایسے بچوں کے ساتھ کیسا رویہ اپنایا جایے؟
اکثردکھا گیا ہے کہ ایک ہی گھر میں بعض بچے بہت زیادہ تیز اور ہوشیار ہوتے ہیں اور بعض بہت ہی سست ہوتے ہیں. تیز اور ہوشیار بچوں کو بہت زیادہ تعریف اور شاباش ملتی ہیں ہر ایک کے سامنے انکی تعریف ہونے سے وہ اور بھی زیادہ محنتی اورلائق ہو جاتے ہیں جب کہ جو بچہ سست یا ذرا کمزور ہوں وہ ایسے ہوشیار بچوں کی تعریف سن کر اور بھی زیادہ سست ہو جاتا ہے. اس کے ساتھ ہی یہ بھی بات یاد رکھنی چاہے کہ جس طرح ایک بچے کی تعریف سب کے سامنے کرنے سے وہ اور بھی زیادہ پر اعتماد ہو جاتا ہے بلکل اسی طرح جس بچے کو ہر وقت سست یا نالائق کہا جایے اور سب کے سامنے اس کی برائی کی جایے تو نفسیاتی طور پر اس بچے پر بھی بہت برا اثر پڑتا ہے اور وہ اور بھی زیادہ سست ہو جاتا بے
بےاعتمادی اور حساسیت کا شکار ہو کر کام کرنا چھوڑ دیتا ہےآئیےدیکھتے ہیں ک ہم عام لفظوں میں کس بچے کو سست یا کمزور ، نالائق وغیرہ کے الفاظ سے پکارتے ہیں؟کیا اسے بچے واقعی سست یا کمزور ہوتے ہیں یا بہت زیادہ حساسآئیے سست بچے کیکچھ حرکت کا جائزہ لیتے ہیں
١.کھانا آہستہ آہستہ کھانا یا نہ کھانا٢.واش روم میں برش کرتے ہوۓ اور نہا تے ھوے پانی سے کھیلنا٣.لکھتے ھوے ادھر ادھردیکھتے رہنا یا فضول لکیریں لگانا٤.رک رک کر پڑھنا یا بہت زیادہ باتیں کرنا٥.بہت زیادہ رونا٦.دوسروں کی شکایت کرنا٧.بہت زیادہ ضد کرنا٨.روز روز کھلونوں کی فرمائش کرنا٩.آواز دینے پر بات نہ سننا یا جواب نہ دینا
٠١٠.جلدی تھک جانا یا کسی کام میں دل نہ لگانا١١.ہر وقت کوئی نہ کوئی چیز یا کھلونا ہاتھ میں رکھنا١٢.ہر وقت کچھ سوچتے رہناسر درد یا تھکاوٹ کا اظہار کرنا
وجوہات
١.بچپن میں دوسرے بچوں سے کیا گیا مقابلہ٢.ضرورت سے زیادہ سخت٣.زیادہ حساس سوچ٤.بچے میں تخیلاتی انداز فکر٥.صحت کا کوئی مسئلہ٦.بعض دفعہ کوئی جسمانی کمزوری٧.قوت فیصلہ کی کمی یا خود اعتمادی نہ ہونا٨.کسی چیز کا ڈر یا خوفبچے کو پیش آنے والے ان مسائل سے کیسے نپٹا جاے
سب سے زیادہ ضروری بات جو ہمیشہ یاد رکھنی چا ہے وہ یہ کی ایسے بچے کند ذھن یا نالائق ہرگز نہیں ہوتےبلکہ ایسے بچے دوسرے بچوں کی نسبت زیادہ تخیلاتی اور حساس ہوتے ہیں. بلکہ ایسے بچوں کو اگر باغی بھی کہا جا ے تو بے جا نہ ہو گا.اصل میں یہ دوسروں کے بنایے ھوے اصولوں پر چلنے کی بجاے ہر چیز کو اپنی نظر سے دیکھتےہیں اور اسی وجہ سےسامنے موجود چیزوں کو یا تو دیکھتے نہیں ہیں یا دیکھنا نہیں چاھتے.ایسے بچوں کی سوچ بہت گہری ہوتی ہیں. یہ بچے ان چیزوں پر بھی غور کرتے ہیں جن پر ایک عام بچہ نظر بھی نہیں ڈالتا.وہ اپنی مرضی سے ہر کام کرنا چاھتے ہیںتا ہم ان ساری باتوں کے باوجود ایسے بچوں کو بہت ساری آزمائشوں سے گذرنا پڑتا ہےایسے بچے کو انتہائی توجہ اور پیار کی ضرورت ہوتی ہیں اور والدین کو اور استادکو بھی ایسے بچوں کے ساتھ انتہائی محنت کرنی پڑتی ہےبےجا سختی ، ڈانٹ ،تنقید یا تضحیک ایسے بچوں کو بزدل، ضدی، سست ، کند ذہن، بنا دیتی ہےایسے بچوں کے ساتھ کچھ تدابیر اپنا کر ایسے بچوں کی صلاخیتوں کو اور بھی نکھارا جا سکتا ہے١.ایسے بچوں کا دوسرے بچوں سے مقابلہ نہ کروایا جایے٢. ایسے بچوں کے سا تھ کچھ وقت کھیلا جا یےجہاں تک ہو سکے ہر کھیل میں ان کی پسند کا خاص کھال رکھا جایے
٣. ایسے بچوں سے زیادہ باتیں کریں اور ان کی بات کو زیادہ سے زیادہ سنیں
٤. ان کو پکارتےھوے یا مخاطب ہوتے ھوے دلچپ لہجہ اور الفاظ اپناے جایں٥. نرمی سے بات کریں اور غلطی ہونے پر انکو ڈانٹںےکی بجایے ان سے اس کے بارے میں بات کریں اور احساس دلائیں کہ آپ سے کیا غلطی ہوئی ہے٦. کھانا دیتے ھوے کھانےاور پلیٹ کو تھوڑا سجھا لیں
٧. انکی دلچپی کے کا م کروائیں٨. پانی سے کهیلنے کے لیے پودوں کو پانی دلوائیں یا پھر برتن میں پانی دال کر کپ یا چمچ کی مدد سے نکلنے اور گننے کی مشق کروا یں٩. گھر سے بھر پارک وغیرہ میں کهیلنے کے لیے لے جائیں اور قدرت کا مشاہدہ کروائیں
١٠. ایسے بچوں کے لیے فنی مہارتیں بہت اچھی رہتی ہیں انکو ایسے وسائل مہیا کریں یا ایسے کھلونے اور اوزار مہیا کریں جس سے وہ نیا سیکھ اور کچھ نیا کر سکیں
١١. ایسے بچوں کو بوریت سے بچانےے لیے نئی نئی جگہوں اور چیزوں کا مشاہدہ کروائیں١٢. ایسے بچوں کی بہت زیادہ حوصلہ افزائی کریں١٣. انکو سست یا کا ہل کہنے کی بجایےانکو بتایا جایے کہ وہ ہر کام بہت دلجمی اور نفاست سے کرتا ہے١٤. انکی خوراک کا خاص خیال رکھا جا یے اگر ہو سکے تو کچھ اضافی صحت کا سپلیمنٹسsupplementsلیےبھی دیےجائیں١٥. چونکہ ایسے بچے بہت زیادہ سوچتے اور کھیلتے ہیں اس لیے جلدی تھکجاتے ہیں لہٰذہ ان کے آرام اور نیند کاخاص خیال رکھا جائےایک جملہ اکثر بولا جاتا ہے کہ عظیم لوگ یا سائنسدن عام باتوں پر غور نہیں کرتے یاشا عر بے ترتیب ہوتے ہیں کسی حد تک یہ بات درست بھی ہےاور اس کی وجہ بھی یہی ہے کہ ایسے لوگ معاشرےکے حساس ترین لوگ ہوتے ہیں اور انکی نگاہ وہ د یکھہ رہی ہوتی ہے جو ہم نہیں دیکھ سکتےضرورت اس بات کی ہے کہ ان بچوں کو تضحیک کا نشانہ بنانے کی بجا ےان کی مدد کی جایے اور ان کی صلاحیتوں کو برویے کارلا کر نو ع. انسانی کی مدد کی جایےاگر آپ کو یہ تحریر پسندآئی ہے تو اسے زیادہ سے زیادہ پھیلائیں تا کہ دوسرے بھی اس سے فائدہ حاصل کر سکیں کریں اور اپنی قیمتی آراسے بھی نوازیںاگر کسی ایسے بچے کو جانتے ہیں جو ایسی کسی کیفیت سے دوچار ہے تو اس کے سلسے میں ہر طرح کی مدد ہم سے لے سکتے ہیںبہت شکریہ.ادیبہ انور














کرتا ہوا اٹھ گیا