Tag: chracterbuildinginurdu

  • Hazrat Sulemon A.S. Free PDF Islamic stories for children in Urdu.


     حضرت سلیمان الہسلا م کی کہانی 

    حضرت سلیمانؑ ایک اللہ کے ایک طاقت ور, عقلمند اور بہت زیادہ علم والے نبی تھے

    free Urdu stories for children

    . ان کے باباحضرت دائودؑ بھی بھی اللہ کے نبی اور بادشاہ تھے


    . اور وہ جانوروں کی بولی بھی سمجھتے تھے
    حضرت سلیمانؑ نے بھی جانوروں کی بولیاں سیکھی ہوئی تھیں.
    انہوں نے اللہ سے دعا کی کہ اے اللہ مجھے ایسی حکومت عطا فرما. جو پہلے کسی کو نا دی ہو اور نا میرے بعد کسی کو ملے.
    اللہ نے ان کی دعا قبول کی. اور ان کو ہوائوں , جنوں اور تمام مخلوقات کا بادشاہ بنا دیا.
    اب جن ان کے پاس ہر وقت حاضر رہتے اور ان کی ہر بات مانتے. جب وہ کسی کام کا حکم دیتے تو جن کہتے
    “جو حکم میرے آقا”
    حضرت سلیمانؑ ان کو حکم دیتے, تو وہ زمین کے اندر سے ان کے لیے لوہا نکال کر لاتے اور اس سے اونچی اونچی عمارتیں بناتے.
     ہوائیں  ہوائی جہاز سے بھی تیز چلتیں اور  ان کو
     اڑا کر لے جاتیں. پرندے اور جانور ان سے باتیں کرتےتھے

    حضرت سلیمانؑ اور چونٹی!

    ایک دفعہ حضرت سلیمانؑ اپنی فوج کے ساتھ گھوڑوں پر بیٹھ کر کہیں جا رہے تھے.
    راستے میں ایک جگہ چونٹیوں کی بستی تھی.وہاں بہت ساری چونٹیاں رہتی تھیں.
    چونٹیوں کو گھوڑوں کے چلنے کی آواز آئی.
    تو چونٹیوں کی ملکہ بل سے باہر نکلی, اس نے دیکھا کہ,  حضرت سلیمانؑ ایک بہت بڑی فوج کے ساتھ آ رہے ہیں.
    اس نے اعلان کیا کہ سب چونٹیاں اپنی بلوں کے اندر چلی جائو. ایسا نا ہو کہ, سلیمانؑ کی فوج تمہیں پائوں میں روند کر چلی جائے.
    حضرت سلیمانؑ نے اللہ کی دی ہوئی طاقت سے, دور سے ہی چنٹیوں کی یہ گفتگو سن لی تھی. وہ مسکرانے لگے. انہوں اپنی فوج کو حکم دیا کہ راستہ بدل لو. آگے چونٹیاں رہتی ہیں.
    ساری فوج نے اپنا راستہ بدل لیا اور اس طرح چنٹیوں کی بستی بچ گئی.


    حضرت سلیمانؑ اور مچھلی.

    حضرت سلیمانؑ اللہ کی نعمتوں پر بہت خوش تھے. اور اللہ کے شکر گزار بھی تھے.
    ایک دفعی حضرت سلیمانؑ نے اللی سے کہا کہ,
    “اے اللہ تم نے مجھے بےشمار نعمتیں دی ہیں . میں چاہتا ہوں کہ ان نعمتوں سے میں ایک دن کے لیے تیری ساری مخلوق کی دعوت کروں”.
    اللہ نے ان سے کہا کہ,
    “سلیمان ساری مخلوق کو صرف میں ہی رزق دیتا ہوں. تم ایسا نہیں کر سکو گے” .
    پھر ان کے اصرار پر اللہ نے ان کو اجازات دے دی.
    حضرت سلیمانؑ کی دعوت کھانے سب سے پہلے ایک مچھلی آئی.
    حضرت سلیمانؑ نے اس کو کھانا ڈالا. وہ سب کھا گئی. اس نے اور مانگا.حضرت سلیمان نے اس کو پہلے سے بھی زیادہ کھانا ڈالا.  مچھلی وہ سب  بھی  کھا گئی.
    مچھلی نے اور کھانا مانگا. اسطرح وہ بہت سارا کھانا کھا گئی.
    حضرت سلیمانؑ یہ دیکھ کر بہت حیران ہوئے. اور مچھلی سے کہنے لگے کہ,
    ” اے مچھلی! تو ایک دن میں کتنا کھاتی ہے?”
    مچھلی کہنے لگی کہ,
    “اللہ کے نبی, میرا اللہ تو روز مجھے کھلاتا ہے. اس نے تو آج  تک مجھ سے حساب نہیں کیا. اور تم نے ایک دن کھلا کر ہی حساب لینا شروع کر دیا”?
    .       حضرت سلیمانؑ کو اب اللہ کی عظمت اورشان پہلے سے بھی زیادہ بڑی نظرآئی.
    اور اللہ سے فرمایا,
    “اے اللہ تو نے سچ کہا تھا. یہ صرف تو ہے جو ساری مخلوق کو کھلاتا ہے. اور 
    حساب بھی نہیں کرتا..

    حضرت سلیمانؑ اور ملکہ بلقیس

    حضرت سلیمانؑ تمام مخلوقات کے بادشاہ اور اللہ کے نبی تھے.
    ایک دن حضرت سلیمانؑ نے سب انسانوں,جنوں اور مخلوقات کو حکم دیا کہ وہ میرے پاس حاضر ہوں. تو سب ان کے پاس جمع ہو گئے.حضرت سلیمانؑ نے دیکھا کہ ہدہد نہیں آیا.
    حضرت سلیمانؑ نے پوچھا کہ ہدہد کیوں نہیں آیا.
    کوا چونکہ ہدہد کو پسند نہیں کرتا تھا. اس لئے اس نے شکایت لگائی کہ, ہد ہد کو پیغام دیا تھا لیکن اس نے نا فرمانی کی ہے.
    حضرت سلیمانؑ نےحکم دیا کہ ہدہد کو بلایا جائے. اگر وہ بغیر کسی ٹھیک وجہ سے غیر حاضر ہے تو اس کو سخت سزا دی جائے.
    جب ہدہد آ گیا تو اس نے بتایا,کہ میں نے دیکھا کہ ایک ملک سباء کی ملکہ اور اس کے تمام لوگ بتوں کہ عبادت کر رہے تھے. اس لئے میں وہاں رک گیا تاکہ میں اس کہ خبر لا سکوں.
    حضرت سلیمانؑ ا س سے اب ناراض نہیں تھے.
    انہوں نے ایک خط لکھ کر ملکہ کو بیجھا. ملکہ نے وہ خط پڑھا تو اس میں بسم اللہ الرحمٰن الرحیم کے بعد لکھا تھا کہ تم بتوں کی عبادت چھوڑ کر صرف  ایک اللہ کی عبادت کرو نہیں تو ہم سے جنگ کے لئے تیار ہو جائو.
    ملکہ نےاس سے پہلے اللہ کا نام اور بسم اللہ  کبھی نہیں سنی تھی.
    اس نے اپنے وزیروں سے مشورہ کیا تو انہوں نے کہا کہ, اگر تو یہ بادشاہ سچ کہ رہا ہے تو واقعے ہی یہ ہمیں برباد کر دے گا.
     ملکہ بلقیس نے حضرات سلیمانؑ سے ملنے کا اراداہ کیا. وہ اپنے ملک سے نکلی تو حضرت سلیمانؑ کو اس کے آنے کی خبر مل گئی. انہوں نےسب جنوں اور انسانوں سے پوچھا کہ کون ہے جوملکہ کے یہاں پہنچنےسے پہلے اس کا تخت یہاں لا دے. ایک جن بولا میں ایک منٹ میں وہ تخت یہاں لا سکتا ہوں. اسی محفل میں ایک انساں جس کو اللہ نے علم اور نیکی کی وجہ سے بہت طاقت دی ہوئی تھی. وہ بولا کہ میں آپ کی آنکھ جپھکنے سے پہلےاللہ کےحکم سے اس تخت کو یہاں لا سکتا ہوں. پھر وہ شخص اس تخت اس کو لے آیا.
    اس تخت کو جہاں رکھا گیا اس کے راستے میں پانی کا ایک تالاب بنا دیا گیا.جس -کے اوپر شیشے کا خوبصورت رستہ بنا دیا گیا.
    پھر جب ملکہ بلقیس وہاں پہنچی تو اس کو پانی کے اس تالاب کےاوپر سے گزر کر تخت تک جانا تھا.اس نے اپنے پہنچے اٹھا لئے. جاب اس نےپائوں آگے رکھا تو شیشے کےراستے پر پائوں  پڑا وہ بہت شرمندہ ہوئی.
    اس طرح ملکہ بلقیس اس عجیب و غریب مگر شاندار ریاست دیکھ کر بہت متاثر ہوئی.
    اس نے مان لیا کہ یہ واقعے ہی اللہ کی عطا کردہ طاقت ہے. اور اس نے اسلام قبول 
      کر لیا
    اس طرح حضرت سلیمان کی دو عاقبول ہوئی  ان جیسی سلطنت اور نبوت کسی اور -کو نہیں ملی 

    اس کہانی کی لیے عملی کام ، تخلیقی کا م اور دوسری معلومات کی لیے میری Thefireflies .دوسری سائٹ پر تشریف لے جائیں 
     شکریہ..یا.
  • The story of Hazrat Younas A.S in Urdu with free pdf download. حضرت یونسؑ

     حضرت یونسؑ

    Urdu islami kahania


    ایک دفعہ کا زکر ہے،کہ !ایک جگہ ایک بستی تھی-
     جس کا نام نینوا تھا-
    – اس بستی کے -لوگ ایک اللہ کو بھول گئے تھے

    -اور بہت سے گندے کام کرنے لگ گئے تھے
    اللہ تعالیٰ نے ان کی ہدایت کے لئے ان کے 
    پاس حضرت یونسؑ کو بیجھا-وہ اللہ کے ایک
     نیک بندے تھے- انہوں نے بستی  والوں کو بتایا
     کہ بتوں کی عبادت چھوڑ کر صرف  ایک اللہ کی
    -عبادت کرو-اور گندے کم چھوڑ  کر الله کا حکم مانو
    – نہیں تو اللہ تم سب سے ناراض ہو جائے گا 
    -اور تم پر عذاب بیجھے گا 
    -لیکن ان لوگوں پر کوئی اثر نا ہوا
    -حضرت یونسؑ بہت سال ان کو سمجھاتے رہے
    – لیکن کوئی بھی ان کی بات نا سمجھا
    حضرت یونسؑ نینوا بستی کے لوگوں
     سے بہت ناراض ہو گئے-وہ لوگوں کو 
    -بتوں کے لئے سجدہ کرتے نہیں دیکھ سکتے تھے
    اسی  لئے ایک دن انہوں نے اللہ کی 
    -اجازات کے بغیر وہ بستی چھوڑ دی
    -اور کسی دوسری بستی جانے کا فیصلہ کیا
    -تا کے کسی اور بستی کے لوگوں کوالله کا حکم سنا سکیں  
    -وہ ایک بحری جہاز پر سوار ہو گئے
    -جب وہ جہاز سمندر کے درمیان پہنچا 
    -تو سمندر میں آچانک طوفان آ گیا 
    -اور جہاز زور زور سے ہلنے لگ گیا
    لوگوں نے اچانک طوفان آ جانے کی 
    وجہ سے سوچا ،کہ! ضرور کوئی غلام اپنے
    -مالک سے بھاگ کر آ گیا ہے 
    اسی لیے جہاز اس طرح اچانک بغیر کسی 
    وجہ کے ہلنے لگ گیا ہے-اگر وہ جہاز سے 
    -نکل جائے تو ہم سب بچ سکتے ہیں
    -لیکن وہاں ان کو کوئی بھی غلام نظر نہ آیا 
    انہوں نے یہ معلوم کرنے کے لئے کہ
     وہ غلام کون ہے،سب لوگوں کے نام لکھ کر
     پرچی نکالی-تو حضرت یونسؑ کا 
    نام نکلا- لوگوں نے دیکھا کہ یونسؑ تو غلام 
    -نہیں ہیں-انہوں نے دوبارہ پر چی نکالی
    -پھر حضرت یونس کا نام نکلا 
    -جب تین بار ہی حضرت یونسؑ کا نام نکلا
     -تو لوگوں نے حضرت یونسؑ کو پانی میں پھینک دیا
    پانی میں ایک بڑی سی  مچھلی نے
     حضرت یونسکونگل لیا-حضرت یونسؑ بہت 
    -پریشان ہوئے-مچھلی کے پیٹ میں بہت اندھیرا تھا
    ،حضرت یونسؑ بہت روئے-انہوں نے سوچا 
    کہ مجھے اللہ کے حکم کے بغیر بستی سے 
    -نہیں نکلنا چاہئےتھا-وہ رو رو کر اللہ سے دعا کرتے رہے
    -پھر ایک دن ایک فرشتہ ان کے پاس آیا
    . اس نے حضرت یونسؑ کو ایک دعا سکھائی
    -جو اسطرح  تھی 
    Dua and story of Hazrat younas
    اس دعاکے بار بر پڑھنے، اور بہت  زیادہ رو رو  
     کر الله سے معافی مانگنےکے بعد اللہ نے
     انہیں معاف کر دیا-مچھلی نے اللہ کے 
    حکم سے حضرت یونسؑ کو دریا کے باہر
     کنارے پر پھینک دیا-حضرت یونس بھوک 
    -اور پیاس کی وجہ سے بہت کمزور ہو گئے تھے
    اللہ کے حکم سے وہاں سمندرکے  کنارے 
    ایک درخت اگ آیا -جس سے آپ کو سایہ
    – اور پھل ملے ،اور آپ میں طاقت آ گئی
    -پھر حضرت یونسؑ اپنی بستی واپس چلے گیے 
    ،گئے-وہاں پہنچ کر آپ نے دیکھا 
     -کہ کافی لوگ مسلمان ہو چکے تھے 
    حضرت یونسؑ بہت خوش ہوئے اور اللہ کا شکر ادا کیا
    ادیبہ انور
    اس کہانی سے بچوں کو تین سبق ملے.
    ١. اللہ کے حکم کی کبھی بھی نافرمانی نہیں کرنی چاہی
    ٢. جو کام کرنے لگیں اس میں صبر اور انتظار سا کام لینا چاہینے ایک دن کامیابی ضرور ملتی ہیں
    ٣. جب بھی کسی مصیبت میں ہوں رو رو کر الله سے د عا کرنی چاہی اللہ مدد کرتا ہے.

    بچوں کی کہانی میں دلچسبی پیدا کرنے کے لیےعملی کام

     اس کہانی کے آخر میں بچوں  سےکا غذ کی  ایک کشتی بنوائی گئی  
    جس کا لنک نیچے دیا گیا ہے
    بچوں سے حضرت یونس الہاسلام کی دعوا کی ایک تختی بنوایے گئی 
    بچوں سے ایک مچھلی بھی بنوائی گئی .
    چھو ٹے بچوں سی کاغذ پر اور بڑے بچوں سے کپڑے کی سللائی کی  ہوئی
    مچھلی بنوائی گئ
    بچوں کو دولفینی شو کی سیر کروائیں یا پھر فش ایکویریم دیکھیں تا کو وہ اس سے لطف اندوز ہوں 
    بچوں سے د عا  یاد بھی کروائی جائے

      اگر آپ بچوں کی پڑھائی ور تعلیم و تربیت کے متعلق مزید
    videos
    تخلیقی مواد ور بچوں کو پڑھانے
    کے طریقوں کے متعلق مواد چاھتے ہیں
    تومیری انگلش کی ویب سائٹ پر تشریف لے جائیں.
       

    اس دعاکے بار بر پڑھنے، اور بہت  زیادہ رو رو کر الله سے معافی مانگنےکے بعد اللہ نےانہیں معاف کر دیا.مچھلی نے اللہ کے حکم سے حضرت یونسؑ کو دریا کے باہرکنارے پر پھینک دیا-حضرت یونس بھوک اور پیاس کی وجہ سے بہت کمزور ہو گئے تھے.
    اللہ کے حکم سے وہاں سمندرکے  کنارےایک درخت اگ آیا.جس سے آپ کو سایہ,اور پھل ملے ،اور آپ میں طاقت آ گئی.
    پھر حضرت یونسؑ اپنی بستی واپس چلے گیےگئے-وہاں پہنچ کر آپ نے دیکھا,کہ کافی لوگ مسلمان ہو چکے تھے .حضرت یونسؑ بہت خوش ہوئے اور اللہ کا شکر ادا کیا

  • Bachon ki taleem o Terbiayt. Parents role in Character buidling urdu.

    کیا ،کیوں، کیسےبچوں کو مطمئن کیسے کریں بچوں کی تربیت اور ہمارا کردار

    انسان کی پیدائش کے ساتھ ہے اس کے سیکھنے کا عمل شروع ہو جاتا ہے
    – بچہ جب پہلی آواز سنتا ہے  توغوروفکر پیدا ہو جاتی ہے
    جب وہ آنکہ کھولتا ہے تو حیران کن نظروں سے اردہ گرد کا جائزہ نا ہے… ایک ایک نقش اسکی آنکہ کے عدسےسے دماغ پر نقش ہو جاتا ہےس کے دماغ میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے


    یہ کیا ہے؟
    پھر ان تصویروں اور آوازو کے ملاپ سے ایک اگلا مرحلہ آتاہے جب وو سوچتا ہے
    یہ کیوں ہے ؟
    اور پھر وو چلتنی پھرنے کے قا بل ہوتا ہے اپنے اس تجسس کی کھوج شرو ع کر دیتا ہے. ہر چیز کو پکر کر چھو کر اور دیکھ  کر سمجھنے کی شروعات کرتا ہے
    اور جونہی اسکی زبان ساتھ دیتی ہے
    اس کے سارے سوال اسکی زبان پر آ جاتےہی-

    ١. یہ کیا ہے
    ٢. ایسا کیوں ہے؟
    ٣. یہ کس نے بنایا ہے؟
    ٤.کہاں ہے
    انسان کی ابتدا سے لے کر آخر تک یہ تجسس ور جا ن لینے کی خواہش ہمیشہ رہتی ہے-
    اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کے بچوں کو ان کے سوالوں کے مناسب جواب کیسے دے جائیں. یاد رکھیں بچے کی ہر ذہنی الجھن ا ور ہر دور کے تجسس کی گرہیں اس کی عمر ور اس کی ذہنی سطح کو مد نظررکھ کر دینا بہت ضروری ہی ورنہ اگر کسی ذہنی الجھن کا اس کو مناسب ا ور درست جواب نہ ملا تو اس کی شخصیت پر بھی اس  کے  برے اثرات مرتب ہوں گےاور بعض دفعہ غلط علم اورغلط معلومات اس کی تربیت اور کردار پر بھی اثر انداز ہوتی ہیں


    ماں اور باپ باغ کے ایسے مالی ہیں جو اپنے ہاتھوں سے پودالگاتے ہیں،اپنےخون اور پسینے سے اس کی آبیاری کرتے ہیں اور صحت تکلیفیں برداشت کر کے اس کو پروان چڑ ھاتے ہیں لکن اس کے ساتھ ہی ساتھ انکو اپنے ہاتھوں سے لگاے ہوۓ پودوں کی کانٹ چھانٹ بھی کرنی پڑتی ہےاور یہ کانت چھانٹ چوٹی عمر میں ضروری ہوتی ہے کیوں ک جب پودا برا ہو جاتا ہے تو اسکی شاخیں سخت ہوجاتیں ہیں اور ذرا سی سختی سے ٹوٹنے لگتی ہیں

    بچے کی تربیت میں ماں کا کردار کردار


    بچہ سب سے زیادہ ماں کی قریب ہوتا ہے ماں کا رویہ اور کردار سب سے زیادہ بچے کی تربیت پر اثر انداز ہوتاہے
    اوربچہ سب سے زیادہ اسی سے سوال پوچھتا ہے
    اس لیے یہ نہایت ضروری ہے کہ ماں بچے کے ہر سوال کا نہایت تحمل اور سمجھداری سے جواب دے.اس کے لیےماں کو خود بھی ایک با علم اور باشعورفرد بن کر  نئی علمی معلومات اور دینی تربیت کا سیکھنا ضروری ہے
    ماں علم و تربیت کا پہلا ستون ہے . ما ں کو رب نے محبت اور برداشت عطاکی ہے اسی قوت برداشت اور محبت سے سے وو اپنے بچے کو ایک اچھا انسان اور باشعور فرد بنا سکتی ہے.

    بچے کی تربیت میں باپ کا کردار 

    اکثر بچے اپنے باپ سے بہت زیادہ اثر قبول کرتے ہیں
    کیوں کہ باپ گھر کا سربراہ اور حکمران ہوتا ہےاور اس کا رعب اور دبدبہ بھی زیادہ ہوتا ہے یہی وجہ ہے ک بچے اپنے والد کے جیسا بنے کی کوشش کرتے ہیں اس کے ساتھ ہی مرد کا  کیوں کہ حلقہ احباب اور سرگرمیاں بھی زیادہ ہوتی ہیں. وہ با ہر کے ماحول اور تبدیلیوں سے بھی اگاہ ہوتا ہے یہی وجہ ہے کہ باپ زیادہ اچھے طریقے سے  بچے کی تعمیر و تربیت میں مثبت کردار ادا کر سکتا ہےلیکن عملی طورپر دیکھاگیا ہی کہ باپ ساری ذمہ داری ماں پر ڈال دیتے ہیں اور بعض دفعہ بہت زیادہ سختی سے کام لیتے ہیں  جس کی وجہ سے بچے ذہنی طور پر باپ سے دور ہو جاتے ہیں اور اسی  وجہ سے وو سوال جن کا جواب ایک باپ ہی دیےسکتا ہے اور ایسے مسائل جن کی تربیت صرف والد ہے کر سکتا ہی وہ ادھورے رہ جاتے ہیں اور پھر یہ اس بچے کی شخصیت میں ادھورے پن پیدا کر دیتے ہیں

    بچے کی تربیت میں ماحول کا کردار

    بچے کے تجسس کی کھوج اس کو چوٹی عمر میں ہے کبھی کچن کے دراز کھنگالنے’ کی طرف لے جاتی ہے اور کبھی باپ کے جوتے پہن کر چیزوں کے فرق کو سمجھنے کی کوشش کرتا ہے
    ایسے میں گھر کا ماحول ایسا ہونا چاہے جس میں وہ بآسانی چل پھر کر اپنے سوالوں کا جواب ڈھونڈ سکے اور ساتھ ہی بڑھتی ہوئی عمر میں گھر اور گھر کا ماحول دوست، رشتے دار سب بچے کی تربیت میں اثر انداز ہوتے ہیں
    اسی لیے گھر اور گھر کا ماحول ایسا ہونا چا ہیے جس میں بچے کی شخصیت نکھرے. اس سلسے میں ذرا سی سختی یا بلاوجہ سے روک ٹوک بچے کہ اس تجسس کی رہ میں رکاوٹ بنتی ہے
    جس کی وجہ سے یا تو بچے باغی ہو جاتے ہیں 
    اور یا پھر ان کی ذات میں ایسا خلاپیدا ہو جاتا ہے جس کی وجہ سے وہ معا شرے کے مثبت کردار ادا نہیں کر سکتے
    والدین خود دوست بنیں ان کے لیے گھر کا ماحول اچھا  دوست  بنائیں اور  اس سے پہلے ک وو اپنے سوالوں کا جواب  تلاش کرنے کے لیے غلطانداز اور اور طریقہ اپنائیں اگے بڑھ کر ہر وقت انکی مدد کو تیار رہیں ناں کہنے کی بجایے ہر وقت انکے ساتھ رہیں. مشبت جواب اور حوصلہ افزائی کے ساتھ ان کے ساتھ چلیں.نئےوقت اور  حالات کے تقاضوں کو سمجھیں
    تو بچہ خود کو اپ کے قریب کرے گا اور ہر کیوں کا جواب جاننے کے لیے آپ کے پاس ہی آیے گا
    آخر میں صرف اتنا ہی کہ جب انسان ذرا سی محنت اور پیا ر سے جانوروں کو سدھا سکتا ہے تو ذرا سی محںت  اور پیا ر ا پنے بچوں کے لیے کیوں نہیں

    ادیبہ انور

      اگر آپ بچوں کی پڑھائی ور تعلیم و تربیت کے متعلق مزید
    videos
    تخلیقی مواد ور بچوں کو پڑھانے
    کے طریقوں کے متعلق مواد چاھتے ہیں
    تومیری انگلش کی ویب سائٹ پر تشریف لے جائیں.

  • waldin kay Faraiz, The Duties of Parents in urdu To rais muslim Child. A guide for Parents.

    حقوق العباد 

    والدین کے فرائض

    تعلیم و تربیت والدین کی ذمہداری ہےوہ اس ذمہ داری کو

           کیسے پورا کریں 

    بچوں کی تعلیم ور تربیت والدین پر فرض  ہے .اسلام نے والدین پر اولاد  کے جو حقوق واجب کیے ہیں.  وہ یہ ہیں 

    ١. اچھا نام رکھنا ٢.   اچھی تعلیم و  تربیت دینا ٣. اور اچھی جگہ شادی کرنا   

    تعلیم  کے لیےآج بہت سارے ادارے بن چکے  ہیں جہاں ہم اپنے بچوں کو بھیجتےہیں  تو وہ دنیا کے سآرے علوم و فنون سیکھتا ہے جو اس کو یہ سیکھا دیتے ہیں کہ کس طرح زیادہ سے زیادہ کمایا جا سکتا ہےا ور آسائشیں حاصل کر کے اپنا معاشرتی مقام بلندکیا جا سکتا ہے لکن اس ساری دور بھاگ میں انسان یہ بھول گیا ہے ک تعلیم کے ساتھ تربیت بھی ضروری ہیں   اب وہ چند لوگ جو بچوں کی تربیت کو اہمیت دیتے ہیں ان میں سے بھی بعض ایسے ہیں جوصرف سوری بولنے، شکریہ بھولنےا ور زیادہ سے زیادہ جھوٹ ، چوری، اور تمیز سے بات کرنے کو ہی تربیت کہتے ہیں جب کہ اسلامی نقطہنظر سے تربیت کے معنی ہیں اخلاق اور تہذیب سیکھنا   یہ اس انسان کے والدین اور عزیزوں کی ذمہ داری ہے کہ اس کی اچھی تربیت کرکے اس کو خوش بخت بنائےیا اپنی ذمہ داری کو انجام نہ دیتے ہوئے اس کی بری تربیت کرکے اس کو بد بخت بنائیں۔ تربیت کرنے کے لئے بھی سیرت اور نمونہ عمل کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ اس نمونہ عمل کو سامنے رکھ کر اور اس کی روش وفرامین کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنے بچے کی تربیت کرسکے ۔ خدا کے فضل سے مسلمانوں کے لئے بلکہ پوری انسانیت کے لئے خدا نے نمونہ کی نشاندہی کر دی ہے لقد کان لکم فی رسول اللّٰہ اسوۃ حسنۃ(احزب ٢١) تمہارے لئے رسول اللہؐ بہترین نمونہ عمل ہیں ۔رسولؐ نے جن کی تربیت کی ہے ان شخصیات کو دیکھنے کے بعد ہمیں اندازہ ہو تا ہے کہ آپ نے کتنی بہترین تربیت کی ہے اور ان کی تربیت کی مثا ل دنیامیں نہیں ملتی 
    اس کی ذمہ داری ماں اور باپ دونوں پر آتی ہے مگرآج کے انسسان کو دنیا کی آسایشوں  نے اتنا غافل کر دیا ہے کہ اس نے آسائشیں مہیا کرنے اور دنیاوی تعلیم کو ہی اپنی ذمہداریسمجھ لیا ہے جب کے تربیتکا مطلب ہے بچے کو ایسا انسان بنانا جس میں صبرہو،اخلاص ہوتوکل ہو،قوت برداشت ہوجو دنیا میںرہتے ھوے بھی دنیا کا نہ ہو،جو  بہادربھی ہو اور دردمند بھی جو حق کے لیے لرنے والا بھی ہو اور معاف کرنے والا بھی ،جس میں شرم اور حیا بھی ہو  کوئی بھی والدین یہ نہیں چاہتا کہ اسکی اولاد غلط راستے پر چلے یا اس کو غلط تربیت ملی… لکن افسوس یہ ہے کہ آج والدین خود ہی غلط اور صحیی کا فرق بھول گے ہیں بس دنیا کے بہاؤکے ساتھ چلے جا رہیے ہیں…… نماز، روزہ، حج زکاتہ ادا کر کے دین مکمل نہیں ہوتا دین مکمل ہوتا ہے اسوہ رسول اپنا کر .. اور  امر بالمعروف ونہی عن المنکر اپنا کر 
    یاد رکھیں ہماری اولاد ہمارے لیے صدقہ جاریہ ہے اسے آخرت کے لیےتیار کریں نا کہ دنیا کےلیے والد کی ذمہ داری ماں اور باپ دونوں پر ایک جتنی ہے ماں کی تربیت گود سے شروع ہوتی ہے اور باپ کی انگلی پکڑ کر چلنے سے لے کر با لغ ہونے تک اپنی اپنی ذمہ داری کے بارے میں دونوں ہی اللہ کے سامنے جواب دہ ہوں گے اس کے لیے ضروری ہے کہ اپنا مقام و مرتبہ پہچانیں خود سیکھیں عمل کریں اور اولاد کو سکھائیں کوئی بھی اسکول  یا کالج آپ کے بچے کو ایسی تربیت نہیں دے سکتا جو دنیا اور آخرت دونوں کے لائی کافی ہو… والدین جو سکھاتیں ہیں وہ تا عمریاد رہتا ہے والدین بنننا خوش قسمتی ہے اس سے بھی بری خوش قسمتی ہے کہ اولاد ہماری آخرت میں بہشش کا ذریعہ بن جایے قران میں بیان ہوا ہے کہ  تماری اولاد  ، بیویاںاور مال و دولت تمہارے لیے آزمائش ہیں… اس آزمائشپر پورا اتریں خود علم سیکھیں اور بچوں کوسیکھائیں پوسٹ کو دوسروں کے ساتھ شیرکریں تا کہ زیادہ سے زیادہ لوگ اس سے استفادہ حاصل کر سکیں 

                                (ادیبہ انور)




  • How we could teach to children Rights of a Muslim towards other Muslims?Urdu.

     
       مسلمانوں کے ایک دوسرے پر حقوق کیا ہیں؟  
    بچوں کو ایک کھیل کے ذریعے  سیکھائیں
    How we could teach to children Rights of a Muslim towards other Muslims?


    بچپن میں کی گئی تربیت ساری عمر بچوں کے کام آتی ہے


    اور تربیت میں سب سے ضروری اسلامی شرعیت اور ااقتدار ہیں جہاں ہم دنیا وی تعلیم کو بہت زیادہ دلچپ طریقوں اور مختلف قسم کے کھیل کے ذریعے بچوں  کو سیکھاتے ہیں تا کہ بچوں کو سیکھنے میں مدد ملے اور بچوں  کی دلچسپی بھی بنی رہی اسی طرح تمام دینی علوم اور شرعی مسائل سیکھانے کے لیے بھی ہم کچھ ایسے  طریقےاپنانے چاہیں جس سے بچے زیادہ دلچسبی سے دین سیکھیں
    اور عمل بھی کر سکیں
     
    الله کا فرمان ہے کہ میں اپنے حقوق جو ایک بندے پر رکھتا ہوں ہو سکتا ہے معاف کر دوں لیکن ایک بندے کے جو دوسرے مسلمان پر حققوق ہیں وو کبھی معاف نہیں کروں گا جب تک وہ خود معاف نہ کرے اس کے ساتھ ہے دیکھاگیا ہی کہ کچھ لوگ بچوں کو یہ معملات سیکھانے میں اتنی سختی کرتے ہیں کہ بچے جونہی ذرابارے ہوتے ہیں وو ان باتوں پر عمل کرنا چھوڑ دیتے ہیں
    بچوں کو جتنا زیادہ دلائل دی کر اور آسان طریقےباتیں سمجھی اور سیکھائیجائیں ان کا اثرساری زندگی رہتا ہے
    اسی سلسلہ میں بچوں کو ایک مسلمان کے دوسرے مسلمان پر جو حق حاصل ہیں سیکھانے کے لیے ایک کھیل کا سلسلہ پیش ہے
                                                   
     آئیں دیکھتےہیں کہ ایک مسلمان کے دوسرےمسلمان پر حقوق کون سے  ہیں

    ١. جب وہ ایک دوسرے سے ملیں تو سلام کریں
    ٢. اگر وو کھانے پر بلائے تو  دعوت قبول کریں
    ٣.کوئی مشوره  کرے تو اسکو اچھا مشورہ دے
    ٤.اگر وہ چھینکے تو  اسکی چھینک کا جواب دے
    ٥.اگر وہ بیمار ہو تو اسکی عیادت کرے
    ٦.جب کوئی مسلمان مرےتو اسکی نماز جنازہ پڑے
     
     
     
     
     

    بچوں کو کیسے سیکھائیں

      ١ .    دو یا دو سے زائد بچے اس کھیل میں حصہ لیں اگر  بچہ ایک ہے ہو تو خود اس کھیل میں حصہ لیں

    ٢ .         گھر تیار کیا جا یے

                               
        ان کے لیے اس کھیل کےلیے  بلاک یا کچھ کرسیاں وغیر ہ
     یا بھر کوئی
    کیمپ     tent
    لے کر گھر گھر کهیلنے کا انتظام کریں اور اس طرح سے ایک کھیل کھلیں
     
    .٣ .دعوت کا انتظام

    انکو دعوت کے لیے کچھ پسندیدہ کھانے کی ایشیا مہیا کریں اگر بچے خود سے کچھ کھا نا تیار کرسکیں تو ان کی مدد کریں ورنہ کھانا خود بنا لیں ور بچوں سے ٹیبل سجانے میں مدد لیں

    ٤. میزبان کا تحفہ
    میزبان کو بھی کچھ تحفہ وغیرہ لے کر جانے کے لیے کچھ مناسب سا کھلونا یا کھا’نے کی چہز مہیا کریں اگھر ہو سکے تو بچوں سے خود کوئی کھلونا کارڈ  یا پھولوں کا گلدستہ تیار کروائیں

    مثال کے طور پر اس طرح
    Image may contain: flower
    Image may contain: drink and flower



     
    ٥. کھیل
           ایک یا ایک سے زیادہ بچے مہمان بین گے اور ایک گھر میں  میزبان  


    میزبان فون پر  دوسرے بچے کو گھر میں کھا نے پر دعوت دے اور دوسرے بچے دعوت قبول کریں
     مکالمہ

    اسلام و علیکم  سے شروع کریں 

     دوسرا  بچہ  : وہ علیکم سلام ورحمت الله کہے
    پھر بچے کو اپنی مرضی سے گفتگو کرنیں دیں  
    جتنا زیادہ ہو سکے بچے خود سارا کھیل کھیلیں کیوں کہ بہت زیادہ مدا خلت سے بچہ ججھک 
    محسوس کرتا ہے اور آزادانہ طریقے سے کھیل کا زیادہ مزہ نہیں  لے سکتا ہے
     
     
     
    اسی دوران اگر کسی ایک بچے کو چھینکے یا خود کسی بچے کو چھینک مارنے اور  الحمد للہ پڑھننے کو کہیں اور چھینک کا جواب کیسے (   یر حمک الله)   دیتے ہیں یہ سیکھائیں
    کھانے کے بعدمہمان کھانے کی تعریف کرے اور یہ دعا پڑھے
     
     
     
     
    Αποτέλεσμα εικόνας για ‫میزبان کے لیے دعا‬‎

     


    پھر بچوں کو اپنی مرضی سے جتنا چا ہے اس کھیل کا مزہ لینے دن
    اور اخرمیں بچے ایک دوسرے  الله حافظ کہ کر رخصت ہوں
    مہمان کی عیادت کیسے کریں اس کھیل کو دوسرے حصے میں پیش کیا جا ےگا
        بہت شکریہ 
    د عا  میں یاد رکھیں 
     کھیل پسند آیے تو لا ئق اور شیر کرضرور کریں تا کہ سب اس سے فائدہ اٹھا سکیں

     
    تحریر ادیبہ انور
  • بچہ سست ہے یا بہت زیادہ تخیلاتی؟. ?How to deal lazy kids. Pakistani Parents guide in Urdu.

    کیا آپ کا                          

    بچہ سست ہے یا بہت زیادہ تخیلاتی؟

     ایسے بچوں کے ساتھ کیسا رویہ اپنایا جایے؟  



    Αποτέλεσμα εικόνας για lazy child images free
    اکثردکھا گیا ہے کہ ایک ہی گھر میں بعض بچے بہت زیادہ تیز اور ہوشیار ہوتے ہیں اور بعض بہت ہی سست ہوتے ہیں. تیز اور ہوشیار بچوں کو بہت زیادہ تعریف اور شاباش ملتی ہیں ہر ایک کے سامنے انکی تعریف ہونے سے وہ اور بھی زیادہ محنتی اورلائق ہو جاتے ہیں جب کہ جو بچہ سست یا ذرا کمزور ہوں وہ ایسے ہوشیار بچوں کی تعریف سن کر  اور بھی زیادہ سست ہو جاتا ہے.  اس کے ساتھ ہی یہ بھی بات یاد رکھنی چاہے کہ جس طرح ایک بچے کی تعریف سب کے سامنے کرنے سے وہ اور بھی زیادہ پر اعتماد ہو جاتا ہے بلکل اسی طرح جس بچے کو ہر وقت سست یا نالائق کہا جایے اور سب کے سامنے اس کی برائی کی جایے تو نفسیاتی طور پر اس بچے پر بھی بہت برا اثر پڑتا ہے اور وہ اور بھی زیادہ سست ہو جاتا  بے
    بےاعتمادی اور حساسیت کا شکار ہو کر کام کرنا چھوڑ دیتا ہے
     آئیےدیکھتے ہیں ک ہم عام لفظوں میں کس بچے کو سست یا کمزور ، نالائق وغیرہ کے الفاظ سے پکارتے ہیں؟
    کیا اسے بچے واقعی سست یا کمزور ہوتے ہیں یا بہت زیادہ حساس

     آئیے سست بچے کیکچھ حرکت کا جائزہ لیتے ہیں

    ١.کھانا آہستہ آہستہ کھانا یا نہ کھانا
    ٢.واش روم میں برش کرتے ہوۓ اور نہا تے ھوے پانی سے کھیلنا
    ٣.لکھتے ھوے ادھر ادھردیکھتے رہنا یا فضول لکیریں لگانا
    ٤.رک رک کر پڑھنا یا بہت زیادہ باتیں کرنا
    ٥.بہت زیادہ رونا
    ٦.دوسروں کی شکایت کرنا
    ٧.بہت زیادہ ضد کرنا
    ٨.روز روز کھلونوں کی فرمائش کرنا
    ٩.آواز دینے پر بات نہ سننا یا جواب نہ دینا
    ٠١٠.جلدی تھک جانا یا کسی کام میں دل نہ لگانا
    ١١.ہر وقت کوئی نہ کوئی چیز یا کھلونا ہاتھ میں رکھنا
    ١٢.ہر وقت کچھ سوچتے رہنا
    سر درد یا تھکاوٹ کا اظہار کرنا



    وجوہات

    ١.بچپن میں دوسرے بچوں سے کیا گیا مقابلہ
    ٢.ضرورت سے زیادہ سخت
    ٣.زیادہ حساس سوچ  
        ٤.بچے میں تخیلاتی انداز فکر
     ٥.صحت کا کوئی مسئلہ 
    ٦.بعض دفعہ کوئی جسمانی کمزوری 
    ٧.قوت فیصلہ کی کمی یا خود اعتمادی نہ ہونا
    ٨.کسی چیز کا ڈر یا خوف

    بچے کو پیش آنے والے ان مسائل سے کیسے نپٹا جاے

    سب سے زیادہ ضروری بات جو ہمیشہ یاد رکھنی چا ہے وہ یہ کی ایسے بچے کند ذھن یا نالائق ہرگز نہیں ہوتےبلکہ ایسے بچے دوسرے بچوں کی نسبت زیادہ تخیلاتی اور حساس ہوتے ہیں. بلکہ ایسے بچوں کو اگر باغی بھی کہا جا ے تو بے جا نہ ہو گا.
    اصل میں یہ دوسروں کے بنایے ھوے اصولوں پر چلنے کی بجاے ہر چیز کو اپنی نظر سے دیکھتےہیں اور اسی وجہ سے 
    سامنے موجود چیزوں کو یا تو دیکھتے نہیں ہیں یا دیکھنا نہیں چاھتے.
    ایسے بچوں کی سوچ بہت گہری ہوتی ہیں.   یہ بچے ان چیزوں پر بھی غور کرتے ہیں جن پر ایک عام بچہ نظر بھی نہیں ڈالتا
    .وہ اپنی مرضی سے ہر کام کرنا چاھتے ہیں
    تا ہم ان ساری باتوں کے باوجود ایسے بچوں کو بہت ساری آزمائشوں سے گذرنا پڑتا ہے
    ایسے بچے کو انتہائی توجہ اور پیار کی ضرورت ہوتی ہیں اور والدین کو اور استادکو بھی ایسے بچوں کے ساتھ انتہائی محنت کرنی پڑتی ہے
     بےجا سختی ، ڈانٹ ،تنقید یا تضحیک ایسے بچوں کو بزدل، ضدی، سست ، کند ذہن،  بنا دیتی ہے
    ایسے بچوں کے ساتھ کچھ تدابیر اپنا کر ایسے بچوں کی صلاخیتوں کو اور بھی نکھارا جا سکتا ہے
    ١.ایسے بچوں کا دوسرے بچوں سے مقابلہ نہ کروایا جایے
    ٢.   ایسے بچوں کے سا تھ کچھ وقت کھیلا جا یے
    جہاں تک ہو سکے ہر کھیل میں ان کی پسند کا خاص کھال رکھا جایے

    ٣.  ایسے بچوں سے زیادہ باتیں کریں اور ان کی بات کو زیادہ سے زیادہ سنیں

    ٤.  ان کو پکارتےھوے یا مخاطب ہوتے ھوے دلچپ لہجہ اور الفاظ اپناے جایں
    ٥.  نرمی سے بات کریں اور غلطی ہونے پر انکو ڈانٹںےکی بجایے ان  سے اس کے بارے میں بات کریں اور احساس دلائیں کہ  آپ سے کیا غلطی ہوئی ہے
    ٦.   کھانا دیتے ھوے کھانےاور پلیٹ کو تھوڑا سجھا لیں

    ٧.   انکی دلچپی کے کا م کروائیں
    ٨.   پانی سے کهیلنے کے لیے پودوں کو پانی دلوائیں یا پھر برتن میں پانی دال کر کپ یا چمچ کی مدد سے نکلنے اور گننے کی مشق کروا یں 
    ٩.  گھر سے بھر پارک وغیرہ میں کهیلنے کے لیے لے جائیں اور قدرت کا مشاہدہ کروائیں
    Αποτέλεσμα εικόνας για lazy child images free


    ١٠. ایسے بچوں کے لیے فنی مہارتیں بہت اچھی رہتی ہیں انکو ایسے وسائل مہیا کریں یا  ایسے کھلونے اور اوزار مہیا کریں جس سے وہ نیا سیکھ اور کچھ نیا کر سکیں


    ١١.  ایسے بچوں کو بوریت سے بچانےے لیے نئی نئی جگہوں اور چیزوں کا مشاہدہ کروائیں
    ١٢.  ایسے بچوں کی بہت زیادہ حوصلہ افزائی کریں 
    ١٣.  انکو سست یا کا ہل کہنے کی بجایےانکو بتایا جایے کہ وہ ہر کام بہت دلجمی اور نفاست سے کرتا ہے
    ١٤.  انکی خوراک کا خاص خیال رکھا جا یے اگر ہو سکے تو کچھ اضافی صحت کا  سپلیمنٹسsupplementsلیے  
    بھی دیےجائیں
    ١٥.  چونکہ ایسے بچے بہت زیادہ سوچتے اور کھیلتے ہیں اس لیے جلدی تھک 
    جاتے ہیں لہٰذہ ان کے آرام اور نیند کاخاص خیال رکھا جائے
    ایک جملہ اکثر بولا جاتا ہے کہ عظیم لوگ یا سائنسدن عام باتوں پر غور نہیں کرتے یاشا عر بے ترتیب ہوتے ہیں کسی حد تک یہ بات درست بھی ہے
    اور اس کی وجہ بھی یہی ہے کہ ایسے لوگ معاشرےکے حساس ترین لوگ ہوتے ہیں اور انکی نگاہ وہ  د یکھہ رہی ہوتی ہے جو ہم نہیں دیکھ سکتے 
    ضرورت اس بات کی ہے کہ ان بچوں کو تضحیک کا نشانہ بنانے کی بجا ےان کی مدد کی جایے اور ان کی صلاحیتوں کو برویے کارلا کر نو ع
    انسانی کی مدد کی جایے
      
    اگر آپ کو یہ تحریر پسندآئی ہے تو اسے زیادہ سے زیادہ پھیلائیں تا کہ دوسرے بھی اس سے فائدہ حاصل کر سکیں کریں اور اپنی قیمتی آراسے بھی نوازیں
    اگر کسی ایسے بچے کو جانتے ہیں جو ایسی کسی کیفیت سے دوچار ہے تو اس کے سلسے میں ہر طرح کی مدد ہم سے لے سکتے ہیں
     بہت شکریہ.
    ادیبہ انور
  • Free Islamic Stories for children.. ایک بڑھیا کی کہانی

     ایک بڑھیا کی  کہانی 
    حضرت محمد  صلو علیہ ) کی سیرت کے واقعیات   
         
                          بچو ! آج میں آپ کو ایک اایسی  
    The story about seerah of Muhammad SAW: ایک بڑھیا کی کہانی ...حضرت محمد صل کی سیرت کے واقع...                          






                
              عورت کی  
    کہانی سناؤ گی جو ایک  غیرمسلم تھی 
                    بچوآپ کو پتا  ہے ناغیر مسلم کسےکہتےہیں           
     جی ہاں بلکل ٹھیک بتایا آپ نے  
    اس  کو جو اللہ کو ایک نہیں مانتا 
     اور نماز نہیں پڑھتا   
        توبچوں  وہ عورت ایک  
     نوجوان سے بہت نفرت کرتی تھی  –   
      اس لئےکہ وہ نوجوان  
    لوگوں کو ایکاللہ کی باتیں  بتاتا  تھا  
     اور  بتوں کی عبادت سے روکتا تھا   
    تو پیارے بچو!  اس نوجوان کا گزر روز  
    اس عورت کے گھر کے 
                                                   قریب سےہوتا تھا  
    سے  وہ عورت اپنی نفرت  
    کا اظہار اس طرح کرتی 
     کہ جب بھی وہ نوجوان   
    اس کے گھر کے قریب سے گزرتا 
    وہ عورت اس کے اوپر اپنے گھر کا  
    سارا کچرا پھینک دیتی 
     ایک دن ایسے ہوا کہ  
    اس عورت نے  
    نوجوان پر کچرا نہیں پھینکا ۔ 
    نوجوان کو خیرت ہوئی  
    کہ  آج وہ بڑھیا چھت  پر  
    کیوں نہیں کیوں کہ ایسا پہلے  
      کبھی نہی ہوا تھا  
    اس نوجوان نے اس عورت   
    کے ہمسایوں  سے  
    پوچھا کہ وہ بوڑھی   
     عورت کہاں ہے۔ 
    ہمسائیوں نے بتایا کہ  
    وہ تو بیمار ہے۔ 
    نوجوان نے سوچا  
    کہ مجھے ضرور  
    اس کا حال پوچھنے   
        جانا چاہیے  
    جب اس عورت نے دیکھا  
    – کہ یہ تو وہ وہی لڑکا ہے 
    جس پر میں کچرا پھینکتی  تھی 
             تو پیارے بچو 
    وہ عورت بہت ڈری 
    اس نے سوچا کہ  
    اب میں تو بہت کمزور ہوں  
     اس لیے یہ لڑکا پتا نہیں   
    میرے ساتھ  کیا  
    سلوک کرے 
    لیکن جب اس عورت کو  
    معلوم ہواکہ  
    وہ نوجوان تو میرا  
    حال معلوم کرنے آیا ہے 
     تو وہ عورت بہت شرمندہ ہوئی  
    اور پیارے بچو 
     اس لڑکےنےاتنے اچھے  
    انداز سےبات 
    کی کہ وہ عورت اس کے 
    اچھے اخلاق اور میٹھی گفتگو 
    (بات) 
    سے بہت متاثرہوئی  
    اور اس نے اسلام قبول کر لیا 
    پیارے بچو کیا آپ بتا سکتے ہیں کہ  
    وہ نوجوان کون تھا 
                         جی ہاں جی 
    بچو آپ نے بلکل ٹھیک سوچا 
    اتنے اچھے سلوک اور   
    اخلاق والے نوجوان کا نام  
    حضرت محمد صل اللہعلیہوسلم ہے 
    دیکھا بچواچھی میٹھی گفتگو اورi 
    اچھے اخلاق سے دشمن  بھی 
         دوست بن جاتے ہیں 
    اس لیےبچو ہمیشہ  
    اپنے بہن بھائیوں،دوستوں   
    اور دوسرے سب لوگوں سے  
    اچھے سے بات کرنی چاہیے 
    اور سب کا خیال بھی رکھنا چاہیے 
    خاص طورپر اپنے ماں باپ   
                     اور بہن بھائیوں کا 
    کیوں کہ ہم ساری اچھیعادات گھر 
    سے ہی سیکھ سکتے ہیں               
    اچھا بچو پھر ملیں گےایک اور کہانی کے ساتھ
     تب تک،  الله حافظ      
    ادیبہ انور
      اگر آپ بچوں کی پڑھائی ور تعلیم و تربیت کے متعلق مزید
    videos
    تخلیقی مواد ور بچوں کو پڑھانے
    کے طریقوں کے متعلق مواد چاھتے ہیں
    تومیری انگلش کی ویب سائٹ پر تشریف لے جائیں.
      
                        

    Download and print this story

  • 100 Free stories. A story about love insects.میری پیاری لال بیگ

    100 Free stories. A story about love insects.میری پیاری لال بیگ

    100 Urdu stories for reading series.

    Insects are vanishing from the earth. We can teach children to love them and save them.

         میری پیاری لال بیگ

       بچوں کے لئےایک پیاری سی کہانی -urdu stories for reading 

    urdu stories for reading

     







    بہارکا موسم ہے- ہر طرف  خوب صورت رنگوں اور پیاری پیاری خوشبو والے پھول کھلے ہیں
    اور رنگ برنگی تتلیاں ، لال بیگ، مدومکھیاں،اڑ رہی ہیں
    پرندے چہچہا رہے ہیں
    میں کهیلنے کے لیے باہر نکلا

    اوہ ! یہ لال بیگ کتنی خوبصورت ہے
    میں نے اپنے بھائی سے کہا 
    میں اسے ہمشہ کے لیے اپنے ساتھ رکھنا چاہتا ہوں
    میں نے اپنے بھا ئی کے ساتھ مل کر اسے پکڑ لیا
    ہم نے اسے کمرے میں لا کر ایک بوتل میں بند کر دیا
    اور وہ بوتل ایک میز پر رکھ دی
    اور اس بوتل میں تھوڑی سی گھاس 
    اور پھول بھی رکھ دیے
    دوپہر تک وہ لال بیگ بوتل کے
     اندر چھلانگیں مارتی رہی
    وہ باربار اوپر چڑھتی  اور پھر نیچے گر جا تی
    ہم اسے دیکھ کربہت خوش تھے
    مگر شام کو وہ لال بیگ آرام سے بیٹھ گئی
     اب وہ  بار بار اوپر بھی نہیں چڑھ رہی تھی
    وہ تھوڑی اداس اور تھکی ہوئی لگ رہی تھی
     ایسا لگتا تھا
    وہ اب ھمارے ساتھ خوش نہی ہے
    اور پھر ہم نے غورکیا اس نے صبح سے
    کچھ بھی نہیں کھایا تھا
    ہم اپنی امی جی سے اس کےلیےکھا نا لینےگیا 
    تب ہماری امی نے بتایا
    دیکھو بیٹا 
    وہاں اس کا گھراوردوست
    ہیں وہ سب اس کو یاد آ رہے ہوں گے
    جس طرح آپ کو کوئی پکڑکر کہیں بند کر دے
     تو آپ کو اچھا نہیں لگے گااسی طرح
    وہ بھی بوتل میں بند ہو کے 
     اچھا محسوس نہیں کر رہی ہو گی

     

    آپ اس کو خوش دکھنا چاھتے ہیں 
    تو اسکو واپس با غ میں چھوڑ آئیں
     اس لیے ہم نے بوتل اٹھائی
     اوراسکوپودوں کے پاس جا کر چھوڑ دیا
    ھمارے دیکھتے ہی دیکھتے
     وہ اڑتی ہوئی پودوں میں کہیں گم ہو گئی
    رات کو میں نے خواب دیکھا
    کہ میں اور میرا بھائی ایک خوبصورت باغ میں اڑ
    رہے ہیں
    اور وہاں ہماری پیاری لال بیگ بھی ہمارے ساتھ اڑ 
    رہی ہے 
     اور بہت خوبصورت نغمےگا رہی ہیں
    وہ اب سچ میں  ھمارے ساتھ بہت خوش ہے.
     
    مصنفہ :  ادیبہ انور  
     
     
     
    urdu stories for reading

    Read more stories in Urdu

    Read more stories in English

    Enrolments Available

    This is a short course of hadith and stories from My 30 short hadith with stories course. Online group classes are available online for all time zones. Recommended age for the class Hadith for kids is 7+. These classes are available in English and Urdu. If you want to enroll your child in our classes contact us via.

    Other courses we have

    • Easy Tafseer for kids with interesting stories you can see that course in my hadith course tab.
    • Prayer for kids course is a short course to teach about taharat, Gusal, wudu, times of prayers, number and names of prayers, pillars and conditions of prayer, and method of prayer. Search as Prayer for kids course on the search bar.
    • Ramzan boost course we do start 2 weeks before Ramzan.
    • Faith boos course In December to say No To Marry Christmas.
    • Kindness to Parents

    If you want to start this course with me then leave a comment, Email me or enroll your child here.

    Download your free copy of 30 short Hadith book pdfs in Urdu/Eng from the Posts tab.

  • Free stories for children in Urdu. Mera Helicopter میرا ہیلی کاپٹر

                     

             بچوں کے لیے اردواسلامی  کہانی

      میرا ہیلی کاپٹر

    احمد سویا ہوا تھا کہ اچانک  شور

    Free Islamic stories for children in Urdu کرتا ہوا  اٹھ گیا


    میرا ہیلی کاپٹر
    ، میرا ہیلی کاپٹر
    کہاں ہے? میرا ہیلی کاپٹر

    کہاں ہے میرا ہیلی کاپٹر


    دادا جان مسجد سے نماز پڑھ کر واپس آ رہے تھے 

    انہوں نے احمد کا شورسنا تو احمد کی کمرے کی طرف چلے گے

    اور  احمد سے پوچھنے لگے  بیٹا آپ کون سے ہیلی کاپٹر کی بات کر رہے ہو

    :احمد

    دادا جان میں میرے اپنے ہیلی کاپٹر کی بات کر رہا ہوں جس سے میں

    کھیل رہا تھا

    وہ ایک ریموٹ کنٹرول ہیلی

    کاپٹر تھا اورمیں اس کو ایک بہت پیارے سے باغ میں اڑا رہا تھا

    : دادا جان

    اچھا لیکن آپ کے پاس تو ایسا کوئی ہیلی کاپٹر نہیں تھا

    آپ نے وہ ہیلی کاپٹر کہاں سے لیا

    : احمد

    پتا نہیں دادا جان

    لیکن ابھی تھوڑی دیر پہلے تو وہ میرےپاس تھا

    : داداجان

     مسکراتے ھوے

    اچھا بیٹا اس کا مطلب ہے آپ نے خواب دیکھا  ہے

    : احمد

    خواب لیکن دادا جان وہ تو سچ میں ہیلی کاپٹر تھا اور میں اس کے ساتھ 

    بہت زیادہ  کھیل رہا تھا

    اور مجھے بہت مزہ آیا

    : دادا جان

    احمد بیٹا تم بلکل ٹھیک کہ رہے ہو

    تمہیں واقعی ہی بہت مزہ آیا ہو گا

    لیکن بیٹا وہ سچ میں خواب  ہی تھا 

    اچھا یہ بتائو!  آپ نے الله  تعالیٰ سے ہیلی کاپٹر کے لیے کوئی دعا کی تھی

    : احمد

    جی ہاں  دادا  جی

    مجھے ریموٹ  کنٹرول ہیلی کاپٹر بہت اچھا لگتا ہے

    میں نے ایک ویڈیو میں دیکھا تھا کہ ایک بچہ

    ہیلی کاپٹر اڑا رہا تھا اور

    وہ لڑکا اس ہیلی کاپٹر کو کبھی بہت اونچا  لے کر جاتا

    ا ور کبھی کلا بازیاں لگاتا ہوا نیچے لے آتا

      مجھے بھی ویسا ہی ہیلی کاپٹرچاہیے

     میں نے الله تعالی سے دعا کی کہ

    مجھے بھی ایسا ہی ہیلی کاپٹر چاہیے

     لیکن مجھے  ابھی تک ہیلی کاپٹرنہیں ملا

    میں نے باباجان سے بھی کہا تھا کہ

    مجھے ویسا ہیلی کاپٹر  دلادیں

    لیکن وہ کہتے ہیں کہ ابھی میں بہت چھوٹا ہوں

    دیکھیں نا دادا جان میں کتنا بڑاہو گیا ہوں

    یہ کہتے ہوۓ احمد کرسی پر چڑھ گیا

    اور ہاتھ اور بھی اوپر کر لیے

    یہ دیکھ  کر دادا جان مسکرا نے لگے

    اور پھر دادا جان کہنے لگے

    احمد تم واقعی ہی بڑھے ہو گے

    لیکن احمد بیٹا ابھی آپ کی عمراتنی نہیں ہوئی ہے

    کہ آپ ریموٹ کنٹرول  ہیلی کاپٹر چلا سکو

    دیکھو احمد بیٹا اللہ تعا لی ہمارا مالک ہے

    اللہ بچوں سے بہت پیا ر کرتا ہے

    اور بچوں کی کبھی کوئی د عا نہیں ٹالتا

     صرف اللہ ہی بہترجانتا ہے کہ ھمارے لیے کیا اچھا ہے

    ا ور کیا اچھا  نہیں

    اسی لیے کبھی کبھی کوئی چیز ہم الله سے مانگتے ہیں

    لیکن اللہ ہمیں  وہ چیز نہیں دیتا

    یا پھر جب اس کا ٹھیک وقت آتا ہےتب دیتا ہیں

     بلکل اسی طرح جس طرح آپ کے بابا

    آپ سے بہت پیار کرتے ہیں

    لیکن انہیں پتا ہی کہ ابھی آپ ہیلی کاپٹر نہیں چلا سکتے

    اسی لیے انھوں نے نہیں دلایا

    :احمد

    اچھا دادا جان تو پھر وہ ہیلی کاپٹر جو میں نےخواب

    دیکھا تھا وہ کہاں ہے

    : دادا جان

     دیکھو احمد!  بیٹاالله تعالہ پیارے بچوں کا دل کبھی نہیں توڑتا

    اور جو بچے اللہ سے دعا کرتے ہیں

     اور اچھے اچھے کام کرتے ہیں

     اللہ تعالہ ان بچوں کی ساری چیزیں

     اپنے پاس جنت میں رکھتے جاتے ہیں

    اور جب کسی بچے کا کوئی کام بہت پسند آتاہے

    تو رات کو الله تعالہ وہ چیز دے کر

    ہےفرشتوں کو بیجھتا

    اور اس طرح بچے  اس چیز کو دیکھہ بھی لیتےہیں

    اور اس کے ساتھ خوب کھیل بھی لیتےہیں



    :احمد

    تو دادا جان وہ  ہیلی کاپٹراللہ تعالہ مجھے کب دن گے

    میں نےاتنی زیا دہ اللہ سے دعاکی ہے

    :دادا جان

    بیٹا آپ اللہ سے دعا کرتے رہا کرو

    جب اللہ اسے آپ کے لئےاچھا سمجھے گا

    تو آپ کو مل جایے گااور 
    اور کبھی کبھی اللہ کو آپ پر بہت پیار آ رہا ہوتا ہے 

    اس لئے اللہ چاہتا ہے کہ آپ اس سے بار بار د عاکرو

    پھر آپ کو وہ چیزملے
    اور اگر آپ کو وہ ہیلی کاپٹر نہ ملا تو تو اس کی جگہ اللہ آپ کو کوئی اور پیاری سی چیز بھی  دے گا

    اور بھر  الله تعا لہ جنت میں

     اس دنیا کے سا رے

     ہیلی کاپٹر اور کھلونوں سے

    بھی زیادہ خوب صورت کھلونے اور اچھی اچھی چیزیں 

    سٹور بھی  کر دے گا

    آپ وہاں جتنا چاہو گےان کھلونوں کے ساتھ کھیل سکو گے

    اس لئے اللہ تعالہ سے دعا کرتے رہو ہمیشہ

    تا کہ آپ کو بہت ساری اچھی اچھی جنت کی چیزیں ملیں

    ٹھیک ہے نا کرو گے نا دعا

    :احمد

    جی دادا جان

    مجھے چاہیےجنت کے سارے کھلونے

      ان شا  اللہ

    یہ کہتے ھوے احمد کلا بازیاں لگاتاہوا

     بستر سے اترا اور باہر بھاگ گیا




     مصنفہ: ادیبہ انور
     تصویر کشی اور مشق : محمد محسن
    اس تصویر میں رنگ بھری

    مشق


     اس کہانی کے آخر میں بچوں سے آسان سوال کریں



    ١. دعا کیسے کرتے ہیں 

    ٢.آپ اللہ سے کس کس چیز کی د عا کرتے ہو

         ٣. آپ کو جنت میں کیا کیا چیزیں چاہیں

    ٤. اللہ نے ہمیں کون کون سی چیزیں دی ہیں

    ایک ورق پر تصویریں بنا کر ان کے نام لکھیں  

    ٥. اللہ نے جنت میں ھمارے لیےکون سے پھل اور نعمتیں رکھیں ہیں

     ٦. احمد نے خواب میں کیا دیکھا 

    ہماری جو  د عا ئیں  پوری نہیں ہوتیں وہ کہاں جاتی ہیں



    ہاتھ سے بنا ہوا ایک جنت کا خالی نقشہ جس میں آدم  علیہ سلام اور حوا علیہ سلام کو زمین پر اتارے جانے سے پہلے کا نقشہ ہے