Tag: Urduwaldain —Allamaiqbaalforkids

  • Story 8 Urdu|Hadith about How To Teach Eating Manners To Kids?

    Story 8 Urdu|Hadith about How To Teach Eating Manners To Kids?

    Welcome to Our Hadith with stories course for Kids. You are going to Start a short course for your child. After this course, your children would have their own mini -Kitab -UL-Hadess (For a Description of this Free online course scroll down)Here is the “First Hadees and story of Our hadith with stories course for kids

    hadith on Eating manners in Islam in Urdu

    This is a story of a hungry boy who started to eat with his left hand. This story will teach hadith on the Eating manners in Islam and the use of the right hand.

    پیارے بچوں، ہمیشہ کی طرح، میں ایک خوبصورت حدیث اور ایک دلچسپ کہانی آپ سب کے ساتھ شیئر کرنے جا   رہی  ہوں-  آج کے لئے ہماری حدیث مندرجہ ذیل باتوں پر مبنی ہے: ‘تم میں سے کوئی بھی اپنے بائیں ہاتھ سے نہ کھائے۔

     

    hadith on Eating manners in Islam in Urdu

    پیارے بچوں، اس حدیث کو پڑھنے کے بعد آپ کو پتہ چل جائے گا کہ ہمیں اپنے بائیں ہاتھ سے کھانا نہیں کھانا چاہئے۔ آپ کے بائیں ہاتھ سے کھانے کے مضر اثرات کیا ہیں اور ہمیں اس عادت سے کیوں گریز کرنا چاہئے؟ آئیے اس موضوع کے بارے میں مزید جاننے کے لئے ایک کہانی سنتے ہیں۔

    hadith on Eating manners in Islam in Urdu
    Hadith on Eating manners in Islam in Urdu with story

    بھوکا لڑکا

     کہانی ایک لڑکے کے بارے میں ہے جس کا نام علی تھا۔ علی ایک اچھا اور خوش اخلاق بچہ تھا۔ وہ ہمیشہ اچھا برتاؤ کرتا تھا اور دوسروں کا احترام کرتا تھا۔ وہ وقت پر کھیلتا اور تعلیم حاصل کرتا تھا۔ سب اس کی تعریف کرتے   تھے- لیکن پیارے بچوں، کچھ عرصے بعد، علی کی عادات تبدیل ہونے لگیں۔اب ایسا ہوا کہ علی نے کھیل کھیلنے میں زیادہ وقت گزارنا شروع کیا۔ وہ کھانا کھاتے ہوئے بھی اپنے کھلونوں سے کھیلتارہتا تھا۔ اس کے ہاتھ میں ہمیشہ کھیلنے کے لئے کچھ نہ کچھ ہوتا تھا۔  پیارے بچوں، علی جب بھی کھانا کھاتا، یا توموبائل فون اس کے ہاتھ میں  ہوتایا کھانے کے دوران کھیلنے کے لئے اس کے ہاتھ میں کھلونا ہوتا تھا۔اس طرح اس نے اپنے بائیں ہاتھ سے کھانا شروع کردیا تاکہ وہ اپنے دائیں ہاتھ سے کھیل سکے۔ پیارے بچوں، کیا آپ جانتے ہیں کہ شیطان ان لوگوں کے ساتھ کھاتا ہے جو اپنے بائیں ہاتھ سے کھاتے ہیں، اور اگر بائیں ہاتھ کو کھانے کے لئے استعمال کیا جاتا ہے تو کھانے کی برکت شیطان کے پیٹ میں جاتی ہے۔ ایک دن علی کی والدہ نے اسے مشورہ دیا کہ وہ اپنے بائیں ہاتھ سے کھانا نہ کھائے کیونکہ یہ ایک بری عادت تھی، لیکن علی اس پر عمل کرنا بھول جاتا۔ جلد ہی، یہ اس کی عادت بن گئی کہ وہ  ہمیشہ اپنے  بائیں ہاتھ سے کھانا کھاتا- لیکن جب بھی وہ اپنے بائیں ہاتھ سے کھانا کھاتا تو ایک شیطان اس کےکھانے سے برکت چھین لے جاتا اور یہ شیطان کے پیٹ میں چلا جاتا۔جب بھی علی اپنے بائیں ہاتھ سے کھانا کھایا کرتا تو اس کی بھوک مطمئن نہ ہوتی اور وہ خالی محسوس کرتا۔ وہ دن بدن کمزور ہوتا گیا۔ اس نے زیادہ کھانا کھا نا  شروع کیا لیکن یہ کبھی کافی نہیں ہوتا تھا کیونکہ وہ کھانے کے آداب بھول گیا تھا۔

     وہ اپنے ہاتھ نہیں دھوتا تھا۔

    وہ  کھانے سے پہلےبسم اللہ نہیں پڑھتا تھا۔

    وہ اپنے دائیں ہاتھ سے نہیں کھاتا  تھا۔ 

    اور ہمیشہ کھاتے وقت کھیلتا   رہتا  تھا

    اس  پر شیطان واقعی خوش تھا کیونکہ وہ علی کی بری عادات کی تعریف کرتا تھا۔ وہ موٹا ہو رہا تھا کیونکہ وہ علی کے کھانے سے ساری توانائی لے رہا تھا۔علی پہلے کی طرح نہیں کھیل سکتا تھا کیونکہ جب بھی وہ کھیلنے کے لئے باہر جاتا تھا تو اسے بھوک لگتی تھی۔ اسے اپنا پیٹ بھرنے کے لئے گھر واپس جانا پڑتاتھا ۔ لہذا، وہ زیادہ تر اپنی کھڑکی سے کھیلتے ہوئے بچوں کو دیکھتا تھا-پیارے بچوں، اس کے والدین اس کے بارے میں بہت پریشان ہو گئے لیکن علی نے ان کی بات نہیں سنی اور اس کے بجائے جب بھی وہ اس سے بات کرنے کی کوشش کرتے تو ان پر غصہ کرتا تھا۔وہ اب قابو سے باہر ہو گیا تھا. اکثروہ اپنے بھائی اور بہن کا حصہ بھی کھا جاتا تھا- پھر بھی وہ بھوکا رہتا تھا۔ اس کی بھوک کی کہانی ہر طرف پھیل گئی۔ اس کے رشتہ دار اور خاندان کے افراد اسے مطمئن نہیں کر سکے چاہے وہ اسے کتنا کھانا ہی کیوں نہ دیں۔ آخر کار کسی نے اس  کے والدین کو مشورہ دیا کہ وہ کسی اچھے علم والے سے سے ملاقات کر کے مشورہ کریں جو اللہ کا نیک بندہ اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت پر عمل کرنے والا  ہو اور اس کا علاج کرے ۔ علی کے والدین اسے ایک عالم بندے کے پاس لے گئے۔ اس نے ا ن کا مسئلہ سنا اور کہا، ‘فکر نہ کرو، علی کو کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ ان شاء اللہ علی چند دنوں میں ٹھیک ہو جائے گا۔ اس شخص نے علی کو اپنے ساتھ رکھ لیا-اور اس کے لئے کھانے کا انتظام کیا۔ جب علی کھانے لگا، تو اس شخص نے علی سے کہا کہ کھانا کھانے سے پہلے اسے ایک شرائط ماننی ہوگی۔ علی کافی عرصے سے بھوکا تھا لہذا اس نے اس سے کہا کہ وہ اسے شرائط بتائے تاکہ وہ اس پر عمل کرسکے۔اس نیک عالم نے علی کو پہلے ہاتھ دھونے کو کہا۔ علی نے فورا تعمیل کی۔ پھر علی سے بسم اللہ پڑھنے کو کہا۔ علی نے ہدایات پر عمل کیا اور بسم اللہ پڑھی۔ جب وہ کھانے جا رہا تھا تو اس نے اپنا بائیاں ہاتھ استعمال کرنا چاہا۔انہوں نے وضاحت کی کہ ہمیں ہمیشہ کھانے کے لئے اپنے دائیں ہاتھ کا استعمال کرنا چاہئے چاہے اس میں کتنا ہی وقت کیوں نہ لگے۔علی نے بسم اللہ پڑھی .. اور پھر دائیں ہاتھ سے کھانا شروع کیا لیکن اسے مشکل پیش آئی کیونکہ وہ بائیں ہاتھ سے کھانے کا عادی تھا۔ یہ اس کے لئے بہت تکلیف دہ تھا لیکن چونکہ یہ ایک نصیحت تھی جس کے بارے میں دانشمند نے زور دیا تھا، اس لئے وہ آہستہ آہستہ اپنے دائیں ہاتھ سے کھاتا رہا۔  پیارے بچوں، اس بار شیطان کو اس کے کھانے سے حصہ نہیں مل سکا۔ وہ علی کے بائیں ہاتھ سے کھانے کا انتظار کرتا رہا تاکہ اسے علی کے کھانے کا حصہ مل سکے۔ لیکن وہ شخص علی کے ساتھ بیٹھا تھا اور اس نے اس بات کو یقینی بنایا کہ علی بائیں ہاتھ سے کھانا نہ کھائے اور اپنا کھانا ٹھیک سے ختم کرے۔ ہر دفعہ ایسا کرنے سے علی مطمئن اوراپنا  پیٹ بھرا ہوا محسوس کرتا تھا۔ شیطان بھوکا رہتا. پیارے بچوں، جب بھی عقیدت مند شخص علی کو کھانا دیتا، وہ اسے اپنے دائیں ہاتھ سے کھاتا تھا۔ ایک نیک آدمی کی دانش مندی کی وجہ سے شیطان چلا گیا-علی نے اپنی بھوک کے مطابق اور وقت پر کھانا کھانا شروع کر دیا۔  علی کے والدین اس شخص کے شکر گزار تھے۔  علی نے اپنے آپ سے یہ وعدہ بھی کیا تھا کہ وہ دائیں ہاتھ سے کھانے کی اپنی عادت کو کبھی تبدیل نہیں کرے گا۔ پیارے بچوں، آپ دیکھ رہے ہیں کہ علی اپنی بری عادات کی وجہ سے شیطان کے ہاتھوں کیسے پھنس گیا؟ 

    تو پیارے بچوں، ہمیشہ کھانے کے آداب کو یاد رکھیں جیسے: بسم اللہ پڑھتے ہوئے ہاتھ دھوئیں… دائیں ہاتھ سے کھانا کھانا’ کھانے کے دوران بات نہ کرنا (یا صرف اچھی چیزوں کے بارے میں بات کرنا)’ آرام سےبیٹھ کر  کھانا کھانا’کھانا ٹھیک سے ختم کرنا ‘کھاناکھانےکے بعد الحمداللہ کہنا – پیارے بچوں مجھے امید ہے کہ آپ ان اصولوں پر عمل کریں گے۔ اب آپ کو اس حدیث کو یاد رکھنا ہوگا اور یہ معلومات دوسروں تک بھی پھیلانی ہوں گی۔ 

    Eating manners poster

    hadith on Eating manners in Islam in Urdu

    Click the link for the Video of this Story

    Hadith worksheet about hadith on Eating manners in Islam in Urdu

    hadith on Eating manners in Islam in Urdu

    Enrolments Available

    This is a short course of hadith and stories from My 30 short hadith with stories course. My hadith course is very much liked and appreciated by parents and students. Online group classes are available online for all time zones. Recommended age for the class Hadith for kids is 7+. These classes are available in English and Urdu. If you want to enroll your child in our classes contact us via.

    Other courses we have

    • Easy Tafseer for kids with exciting stories you can see that course in my hadith course tab.
    • Prayer for kids course is a short course to teach about taharat, Gusal, wudu, times of prayers, number and names of prayers, pillars and conditions, and prayer method. Search as Prayer for kids course on the search bar.
    • Ramzan boost course we do start 2 weeks before Ramzan.
    • Faith boos course In December to say No To Marry Christmas.
    • Kindness to Parents

    If you want to start this course with me then leave a comment, Email me or enroll your child here.

    Download your free copy of 30 short Hadith book pdf in Urdu/Eng from the Posts tab.

    Worksheet for this Hadith and story. (Buy This worksheet book here)

    A child is telling about eating manners and This story after learning this hadith.

    Students activities

    https://youtu.be/RvXRqIK4NjQ

  • Story 9Urdu| A New Story|The Kindness Of Subuktigin|سبکیتیگین کی نرم دلی

    Story 9Urdu| A New Story|The Kindness Of Subuktigin|سبکیتیگین کی نرم دلی

    Welcome to our Hadees with stories short course for kids and adults. This course has been designed for personality development.

    Lesson no 10

    Hadees no 9| Sahih Muslim 2593

    Topic of Hadith Kindness|حدیث کا  موضوع نرم دلی

    Story Kindness of Subuktigin|کہانی کا نا م سبکیتیگین کی نرم دلی

    Hadith Introduction|حدیث کا  موضوع

    آج   کی حدیث کا  موضوع نرم دلی ہے  ۔

    اس حدیث کا مفہوم ہے کہ  اللہ نرم دل ہے اور وہ نرم دلی کو پسند کرتا ہے ۔ یہ حدیث صحیح مسلم 2593 کی کتاب سے لی گئی ہے ۔

    hadees

    پیارے بچوں، نرم دلی اللہ کے اوصاف میں سے ایک صفت ہے. اللہ اپنی مخلوق پر بہت مہربان ہے. اور وہ جانوروں اور کیڑوں کے ساتھ بھی حسن سلوک کرتا ہے۔ اللہ کے نبی محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سب سے نرم دلیانسان تھے۔ آپ  صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کبھی کسی کو تکلیف نہیں دی۔ اور ۔ آپ  صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمیں بھی  رحمدلی کا سبق دیا۔ چنانچہ ہم اسلام میں بہت سی کہانیاں دیکھ سکتے ہیں جہاں مسلمان اللہ کی مخلوق کے ساتھ بہت مہربان نظر آیا ہے۔ آج ہم نرم دلی کی ایک بہت آج کی کہانی کا نا م سبکیتیگین کی نرم دلی ہےبڑی کہانی سنیں گے۔

    Story of Subuntigin| سبکیتیگین کی نرم دلی

    hadees

     سبکیتیگن جوانی میں غلام تھا اور بعد میں اس نے اپنے مالک الپتگین کی بیٹی سے شادی کر لی۔ یہ وہ وقت تھا جب وہ غلام تھا۔ ایک بار وہ اپنے مالک کے شکار کے لئے گیا۔ وہ پورے دن شکار ڈھو   نڈتا ہے لیکن شکار نہیں ملتا۔ جب وہ واپس جا رہا تھا تو اسے ایک جھیل کے قریب ایک ہرن کا  بچہ ملا۔ وہ خوش تھا، آخر کار اسے کچھ مل گیا. اس نے دوڑ کر ہرن کے بچے کو پکڑ لیا اور اسے کھینچ لیا ہرن کا  بچہ بہت چھوٹا تھا  اس نے کوئی مزاحمت نہیں کی۔۔۔۔ اس نے ہرن کے بچے کو اپنے گھوڑے کے پیچھے رکھا اور اپنی سواری شروع کی۔

    اندھیرا ہونے والا تھا بہت جلد وہ اپنی منزل تک پہنچنے کے لئے تیزی سے سوار ہوا۔ کچھ دیر بعد جب وہ واپس مڑا   تو اس نے ایک ہرنی کو دیکھا۔ اس نے سوچا یہ ہرن کا  بچہ میرے لئے کافی ہے. مجھے ہرنی کا شکار کرنے کی کوشش نہیں کرنی چاہئے۔ اس نے اپنا سفر جاری رکھا۔ کچھ دیر بعد اس نے دیکھا، ہرنی اب بھی اس کے پیچھے آ رہی ہے ۔

    وہ  سوچنے لگا   ہرنی اس کی کیوں پیروی کر رہی ہے۔ وہ خود کو خطرے میں کیوں ڈال رہی  ہے۔ وہ مجھ سے کیا چاہتی ہے. وہ اپنی گہری سوچ میں تھا، اس کی نظر ہرنی کی آنکھوں پر  پڑی ۔ اس نے دیکھا کہ ہرنی بہت  فکر مند نظر آ رہی ہے۔ اس کی آنکھیں پریشان، بھری اور اسے دل لجا تی نظر آنے لگ رہی ہیں۔

    اس کے دماغ نے فورا ً سوچا کہ کیا یہ ماں ہرن ہے؟ اس نے سوچا. اوہ وہ ہے، ہاں وہ ایک ماں ہی  ہے. صرف ایک ماں ہی خود کو خطرے میں ڈال سکتی ہے۔ میں اتنا ظالم کیسے ہو سکتا ہوں؟ مجھے انہیں الگ نہیں کرنا چاہئے.  اس نے سوچا اور  ہرن کے بچے کو آزاد کر دیا. وہ تیزی سے بھاگا اور اپنی ماں کے پاس پہنچا  ، وہ ایک دوسرے سے مل رہے تھے۔

    ماں مہربان تھی اور ہرن کا  بچہ خوش تھا۔ وہ کچھ دیر وہاں رہا اور محبت کے لمحات کو محسوس کیا۔ پھر وہ سوار ہوتا ہے اور اس جذباتی منظر پر آخری نظر دیکھنے کے لئے گھومتا ہے۔

    اس کا شکریہ ادا کرنے  کے لیے ہرنی کی آنکھیں. اس کی شکر گزار تھیں. وہ مطمئن تھا کہ ہرنی خوش ہے۔ اس دن اس کے پاس کچھ نہیں تھا، لیکن اسے اس کے حسن سلوک پر بہت اطمینان ملا۔  اس رات جب وہ سوتا ہے تو اس نے ایک خواب دیکھا ۔ وہ ہرن اس سے کہہ رہا تھا کہ ”تم ایک نیک آدمی ہو، ایک دن تم بادشاہ بنو گے۔

    کئی سال بعد اس کا خواب پورا ہوا۔ اور وہ کچھ سالوں کے بعد غنسی کا بادشاہ بن گیا۔ اس کی نیکیاں اور شفقتیں اس طرح اس کی طرف لوٹ آئیں۔ 

    میرے پیارے بچوں ، ہمیں بھی ہمیشہ ہر ایک کو خوش اورمطمئن رکھنا چاہیے – ہر ایک کے ساتھ رحمدل ہونا چاہئے۔

      اب آپ کو اس حدیث کو اپنی کتاب میں لکھنا چاہیے اور اسے اچھی طرح سیکھنا چاہیے

    This hadees and story in a video

    https://www.youtube.com/watch?v=qC_6yLCTVyg

    Kids activity after learning this Hadees story

    https://www.youtube.com/watch?v=ddwLyfhVX-E

    The workbook buys on our courses sign-up page.

    This course is also helping Homeschooling mothers in different ways. You can get all resources from my website to teach your child 30 short hadiths at home. We have videos, written stories, worksheets, and a full teaching method. So contact us if you need to get these helpful resources.

    This course could be done online for free with the help of our free hadiths and stories.

    This course could be done online for free with the help of our free hadiths and stories.

    You can read English stories here and

    Or you can join our online classes to learn about Islam. List of courses/ Classes we have

    • Online Quran classes for beginners
    • Online Quran recitation and Memorisation classes
    • Islamic education for children
    • Seerah course
    • Ramzan boost course
    • Faith boost course
    • Rights of parents course
    • Prayer for kids course

    How was your experience visiting our site? If this course help you? Please leave your thoughts. You can ask questions in the Question tab if you have any questions. If you want to connect with us via Email, then email here

  • Hazrat Sulemon A.S. Free PDF Islamic stories for children in Urdu.


     حضرت سلیمان الہسلا م کی کہانی 

    حضرت سلیمانؑ ایک اللہ کے ایک طاقت ور, عقلمند اور بہت زیادہ علم والے نبی تھے

    free Urdu stories for children

    . ان کے باباحضرت دائودؑ بھی بھی اللہ کے نبی اور بادشاہ تھے


    . اور وہ جانوروں کی بولی بھی سمجھتے تھے
    حضرت سلیمانؑ نے بھی جانوروں کی بولیاں سیکھی ہوئی تھیں.
    انہوں نے اللہ سے دعا کی کہ اے اللہ مجھے ایسی حکومت عطا فرما. جو پہلے کسی کو نا دی ہو اور نا میرے بعد کسی کو ملے.
    اللہ نے ان کی دعا قبول کی. اور ان کو ہوائوں , جنوں اور تمام مخلوقات کا بادشاہ بنا دیا.
    اب جن ان کے پاس ہر وقت حاضر رہتے اور ان کی ہر بات مانتے. جب وہ کسی کام کا حکم دیتے تو جن کہتے
    “جو حکم میرے آقا”
    حضرت سلیمانؑ ان کو حکم دیتے, تو وہ زمین کے اندر سے ان کے لیے لوہا نکال کر لاتے اور اس سے اونچی اونچی عمارتیں بناتے.
     ہوائیں  ہوائی جہاز سے بھی تیز چلتیں اور  ان کو
     اڑا کر لے جاتیں. پرندے اور جانور ان سے باتیں کرتےتھے

    حضرت سلیمانؑ اور چونٹی!

    ایک دفعہ حضرت سلیمانؑ اپنی فوج کے ساتھ گھوڑوں پر بیٹھ کر کہیں جا رہے تھے.
    راستے میں ایک جگہ چونٹیوں کی بستی تھی.وہاں بہت ساری چونٹیاں رہتی تھیں.
    چونٹیوں کو گھوڑوں کے چلنے کی آواز آئی.
    تو چونٹیوں کی ملکہ بل سے باہر نکلی, اس نے دیکھا کہ,  حضرت سلیمانؑ ایک بہت بڑی فوج کے ساتھ آ رہے ہیں.
    اس نے اعلان کیا کہ سب چونٹیاں اپنی بلوں کے اندر چلی جائو. ایسا نا ہو کہ, سلیمانؑ کی فوج تمہیں پائوں میں روند کر چلی جائے.
    حضرت سلیمانؑ نے اللہ کی دی ہوئی طاقت سے, دور سے ہی چنٹیوں کی یہ گفتگو سن لی تھی. وہ مسکرانے لگے. انہوں اپنی فوج کو حکم دیا کہ راستہ بدل لو. آگے چونٹیاں رہتی ہیں.
    ساری فوج نے اپنا راستہ بدل لیا اور اس طرح چنٹیوں کی بستی بچ گئی.


    حضرت سلیمانؑ اور مچھلی.

    حضرت سلیمانؑ اللہ کی نعمتوں پر بہت خوش تھے. اور اللہ کے شکر گزار بھی تھے.
    ایک دفعی حضرت سلیمانؑ نے اللی سے کہا کہ,
    “اے اللہ تم نے مجھے بےشمار نعمتیں دی ہیں . میں چاہتا ہوں کہ ان نعمتوں سے میں ایک دن کے لیے تیری ساری مخلوق کی دعوت کروں”.
    اللہ نے ان سے کہا کہ,
    “سلیمان ساری مخلوق کو صرف میں ہی رزق دیتا ہوں. تم ایسا نہیں کر سکو گے” .
    پھر ان کے اصرار پر اللہ نے ان کو اجازات دے دی.
    حضرت سلیمانؑ کی دعوت کھانے سب سے پہلے ایک مچھلی آئی.
    حضرت سلیمانؑ نے اس کو کھانا ڈالا. وہ سب کھا گئی. اس نے اور مانگا.حضرت سلیمان نے اس کو پہلے سے بھی زیادہ کھانا ڈالا.  مچھلی وہ سب  بھی  کھا گئی.
    مچھلی نے اور کھانا مانگا. اسطرح وہ بہت سارا کھانا کھا گئی.
    حضرت سلیمانؑ یہ دیکھ کر بہت حیران ہوئے. اور مچھلی سے کہنے لگے کہ,
    ” اے مچھلی! تو ایک دن میں کتنا کھاتی ہے?”
    مچھلی کہنے لگی کہ,
    “اللہ کے نبی, میرا اللہ تو روز مجھے کھلاتا ہے. اس نے تو آج  تک مجھ سے حساب نہیں کیا. اور تم نے ایک دن کھلا کر ہی حساب لینا شروع کر دیا”?
    .       حضرت سلیمانؑ کو اب اللہ کی عظمت اورشان پہلے سے بھی زیادہ بڑی نظرآئی.
    اور اللہ سے فرمایا,
    “اے اللہ تو نے سچ کہا تھا. یہ صرف تو ہے جو ساری مخلوق کو کھلاتا ہے. اور 
    حساب بھی نہیں کرتا..

    حضرت سلیمانؑ اور ملکہ بلقیس

    حضرت سلیمانؑ تمام مخلوقات کے بادشاہ اور اللہ کے نبی تھے.
    ایک دن حضرت سلیمانؑ نے سب انسانوں,جنوں اور مخلوقات کو حکم دیا کہ وہ میرے پاس حاضر ہوں. تو سب ان کے پاس جمع ہو گئے.حضرت سلیمانؑ نے دیکھا کہ ہدہد نہیں آیا.
    حضرت سلیمانؑ نے پوچھا کہ ہدہد کیوں نہیں آیا.
    کوا چونکہ ہدہد کو پسند نہیں کرتا تھا. اس لئے اس نے شکایت لگائی کہ, ہد ہد کو پیغام دیا تھا لیکن اس نے نا فرمانی کی ہے.
    حضرت سلیمانؑ نےحکم دیا کہ ہدہد کو بلایا جائے. اگر وہ بغیر کسی ٹھیک وجہ سے غیر حاضر ہے تو اس کو سخت سزا دی جائے.
    جب ہدہد آ گیا تو اس نے بتایا,کہ میں نے دیکھا کہ ایک ملک سباء کی ملکہ اور اس کے تمام لوگ بتوں کہ عبادت کر رہے تھے. اس لئے میں وہاں رک گیا تاکہ میں اس کہ خبر لا سکوں.
    حضرت سلیمانؑ ا س سے اب ناراض نہیں تھے.
    انہوں نے ایک خط لکھ کر ملکہ کو بیجھا. ملکہ نے وہ خط پڑھا تو اس میں بسم اللہ الرحمٰن الرحیم کے بعد لکھا تھا کہ تم بتوں کی عبادت چھوڑ کر صرف  ایک اللہ کی عبادت کرو نہیں تو ہم سے جنگ کے لئے تیار ہو جائو.
    ملکہ نےاس سے پہلے اللہ کا نام اور بسم اللہ  کبھی نہیں سنی تھی.
    اس نے اپنے وزیروں سے مشورہ کیا تو انہوں نے کہا کہ, اگر تو یہ بادشاہ سچ کہ رہا ہے تو واقعے ہی یہ ہمیں برباد کر دے گا.
     ملکہ بلقیس نے حضرات سلیمانؑ سے ملنے کا اراداہ کیا. وہ اپنے ملک سے نکلی تو حضرت سلیمانؑ کو اس کے آنے کی خبر مل گئی. انہوں نےسب جنوں اور انسانوں سے پوچھا کہ کون ہے جوملکہ کے یہاں پہنچنےسے پہلے اس کا تخت یہاں لا دے. ایک جن بولا میں ایک منٹ میں وہ تخت یہاں لا سکتا ہوں. اسی محفل میں ایک انساں جس کو اللہ نے علم اور نیکی کی وجہ سے بہت طاقت دی ہوئی تھی. وہ بولا کہ میں آپ کی آنکھ جپھکنے سے پہلےاللہ کےحکم سے اس تخت کو یہاں لا سکتا ہوں. پھر وہ شخص اس تخت اس کو لے آیا.
    اس تخت کو جہاں رکھا گیا اس کے راستے میں پانی کا ایک تالاب بنا دیا گیا.جس -کے اوپر شیشے کا خوبصورت رستہ بنا دیا گیا.
    پھر جب ملکہ بلقیس وہاں پہنچی تو اس کو پانی کے اس تالاب کےاوپر سے گزر کر تخت تک جانا تھا.اس نے اپنے پہنچے اٹھا لئے. جاب اس نےپائوں آگے رکھا تو شیشے کےراستے پر پائوں  پڑا وہ بہت شرمندہ ہوئی.
    اس طرح ملکہ بلقیس اس عجیب و غریب مگر شاندار ریاست دیکھ کر بہت متاثر ہوئی.
    اس نے مان لیا کہ یہ واقعے ہی اللہ کی عطا کردہ طاقت ہے. اور اس نے اسلام قبول 
      کر لیا
    اس طرح حضرت سلیمان کی دو عاقبول ہوئی  ان جیسی سلطنت اور نبوت کسی اور -کو نہیں ملی 

    اس کہانی کی لیے عملی کام ، تخلیقی کا م اور دوسری معلومات کی لیے میری Thefireflies .دوسری سائٹ پر تشریف لے جائیں 
     شکریہ..یا.
  • The story of Hazrat Younas A.S in Urdu with free pdf download. حضرت یونسؑ

     حضرت یونسؑ

    Urdu islami kahania


    ایک دفعہ کا زکر ہے،کہ !ایک جگہ ایک بستی تھی-
     جس کا نام نینوا تھا-
    – اس بستی کے -لوگ ایک اللہ کو بھول گئے تھے

    -اور بہت سے گندے کام کرنے لگ گئے تھے
    اللہ تعالیٰ نے ان کی ہدایت کے لئے ان کے 
    پاس حضرت یونسؑ کو بیجھا-وہ اللہ کے ایک
     نیک بندے تھے- انہوں نے بستی  والوں کو بتایا
     کہ بتوں کی عبادت چھوڑ کر صرف  ایک اللہ کی
    -عبادت کرو-اور گندے کم چھوڑ  کر الله کا حکم مانو
    – نہیں تو اللہ تم سب سے ناراض ہو جائے گا 
    -اور تم پر عذاب بیجھے گا 
    -لیکن ان لوگوں پر کوئی اثر نا ہوا
    -حضرت یونسؑ بہت سال ان کو سمجھاتے رہے
    – لیکن کوئی بھی ان کی بات نا سمجھا
    حضرت یونسؑ نینوا بستی کے لوگوں
     سے بہت ناراض ہو گئے-وہ لوگوں کو 
    -بتوں کے لئے سجدہ کرتے نہیں دیکھ سکتے تھے
    اسی  لئے ایک دن انہوں نے اللہ کی 
    -اجازات کے بغیر وہ بستی چھوڑ دی
    -اور کسی دوسری بستی جانے کا فیصلہ کیا
    -تا کے کسی اور بستی کے لوگوں کوالله کا حکم سنا سکیں  
    -وہ ایک بحری جہاز پر سوار ہو گئے
    -جب وہ جہاز سمندر کے درمیان پہنچا 
    -تو سمندر میں آچانک طوفان آ گیا 
    -اور جہاز زور زور سے ہلنے لگ گیا
    لوگوں نے اچانک طوفان آ جانے کی 
    وجہ سے سوچا ،کہ! ضرور کوئی غلام اپنے
    -مالک سے بھاگ کر آ گیا ہے 
    اسی لیے جہاز اس طرح اچانک بغیر کسی 
    وجہ کے ہلنے لگ گیا ہے-اگر وہ جہاز سے 
    -نکل جائے تو ہم سب بچ سکتے ہیں
    -لیکن وہاں ان کو کوئی بھی غلام نظر نہ آیا 
    انہوں نے یہ معلوم کرنے کے لئے کہ
     وہ غلام کون ہے،سب لوگوں کے نام لکھ کر
     پرچی نکالی-تو حضرت یونسؑ کا 
    نام نکلا- لوگوں نے دیکھا کہ یونسؑ تو غلام 
    -نہیں ہیں-انہوں نے دوبارہ پر چی نکالی
    -پھر حضرت یونس کا نام نکلا 
    -جب تین بار ہی حضرت یونسؑ کا نام نکلا
     -تو لوگوں نے حضرت یونسؑ کو پانی میں پھینک دیا
    پانی میں ایک بڑی سی  مچھلی نے
     حضرت یونسکونگل لیا-حضرت یونسؑ بہت 
    -پریشان ہوئے-مچھلی کے پیٹ میں بہت اندھیرا تھا
    ،حضرت یونسؑ بہت روئے-انہوں نے سوچا 
    کہ مجھے اللہ کے حکم کے بغیر بستی سے 
    -نہیں نکلنا چاہئےتھا-وہ رو رو کر اللہ سے دعا کرتے رہے
    -پھر ایک دن ایک فرشتہ ان کے پاس آیا
    . اس نے حضرت یونسؑ کو ایک دعا سکھائی
    -جو اسطرح  تھی 
    Dua and story of Hazrat younas
    اس دعاکے بار بر پڑھنے، اور بہت  زیادہ رو رو  
     کر الله سے معافی مانگنےکے بعد اللہ نے
     انہیں معاف کر دیا-مچھلی نے اللہ کے 
    حکم سے حضرت یونسؑ کو دریا کے باہر
     کنارے پر پھینک دیا-حضرت یونس بھوک 
    -اور پیاس کی وجہ سے بہت کمزور ہو گئے تھے
    اللہ کے حکم سے وہاں سمندرکے  کنارے 
    ایک درخت اگ آیا -جس سے آپ کو سایہ
    – اور پھل ملے ،اور آپ میں طاقت آ گئی
    -پھر حضرت یونسؑ اپنی بستی واپس چلے گیے 
    ،گئے-وہاں پہنچ کر آپ نے دیکھا 
     -کہ کافی لوگ مسلمان ہو چکے تھے 
    حضرت یونسؑ بہت خوش ہوئے اور اللہ کا شکر ادا کیا
    ادیبہ انور
    اس کہانی سے بچوں کو تین سبق ملے.
    ١. اللہ کے حکم کی کبھی بھی نافرمانی نہیں کرنی چاہی
    ٢. جو کام کرنے لگیں اس میں صبر اور انتظار سا کام لینا چاہینے ایک دن کامیابی ضرور ملتی ہیں
    ٣. جب بھی کسی مصیبت میں ہوں رو رو کر الله سے د عا کرنی چاہی اللہ مدد کرتا ہے.

    بچوں کی کہانی میں دلچسبی پیدا کرنے کے لیےعملی کام

     اس کہانی کے آخر میں بچوں  سےکا غذ کی  ایک کشتی بنوائی گئی  
    جس کا لنک نیچے دیا گیا ہے
    بچوں سے حضرت یونس الہاسلام کی دعوا کی ایک تختی بنوایے گئی 
    بچوں سے ایک مچھلی بھی بنوائی گئی .
    چھو ٹے بچوں سی کاغذ پر اور بڑے بچوں سے کپڑے کی سللائی کی  ہوئی
    مچھلی بنوائی گئ
    بچوں کو دولفینی شو کی سیر کروائیں یا پھر فش ایکویریم دیکھیں تا کو وہ اس سے لطف اندوز ہوں 
    بچوں سے د عا  یاد بھی کروائی جائے

      اگر آپ بچوں کی پڑھائی ور تعلیم و تربیت کے متعلق مزید
    videos
    تخلیقی مواد ور بچوں کو پڑھانے
    کے طریقوں کے متعلق مواد چاھتے ہیں
    تومیری انگلش کی ویب سائٹ پر تشریف لے جائیں.
       

    اس دعاکے بار بر پڑھنے، اور بہت  زیادہ رو رو کر الله سے معافی مانگنےکے بعد اللہ نےانہیں معاف کر دیا.مچھلی نے اللہ کے حکم سے حضرت یونسؑ کو دریا کے باہرکنارے پر پھینک دیا-حضرت یونس بھوک اور پیاس کی وجہ سے بہت کمزور ہو گئے تھے.
    اللہ کے حکم سے وہاں سمندرکے  کنارےایک درخت اگ آیا.جس سے آپ کو سایہ,اور پھل ملے ،اور آپ میں طاقت آ گئی.
    پھر حضرت یونسؑ اپنی بستی واپس چلے گیےگئے-وہاں پہنچ کر آپ نے دیکھا,کہ کافی لوگ مسلمان ہو چکے تھے .حضرت یونسؑ بہت خوش ہوئے اور اللہ کا شکر ادا کیا