Tag: achymaanbaap

  • Gaiy aor bakri Allama Iqbal Story in urdu    گا ۓ اور بکری  علا مہ اقبال کی نظم سی ماخوذ

    Gaiy aor bakri Allama Iqbal Story in urdu گا ۓ اور بکری علا مہ اقبال کی نظم سی ماخوذ

     

     

     

     

    گا ۓ اور بکری 

    علا مہ اقبال کی نظم سی ماخوذ

    گا ۓ اور بکری  علا مہ اقبال کی نظم سی ماخوذ

    وہ ایک خوبصورت سا  پہاڑی علاقہ تھا  

    اس میں ایک ہری بھری چرا ہ گاہ تھی

    یہ چراہ گاہ بہار خوشبو سے بھری تھی 

    اس چراہ گاہ کے پاس سے ایک ندی بھی گزرتی تھی

    جس کا پانی بہت ٹھنڈا اور میٹھا تھا 

     پیپل اور انار کےبے شمار درخت قطا روں میں لگے تھے 

    جن پر پرندے بیٹھ کرخوبصورت آوازوں میں چہچہاتےتھے  

    ٹھنڈی ہوا اس ماحول کو اور بھی پیارا کر دیتی  تھی
     اس خوبصورت  چرا گاہ میں ایک گا ۓ رہتی تھی 
    جو یہاں خوش نہیں تھی   

     ایک دن ایک بکری گھاس چڑ تے چڑ تےاس طرف  آ نکلی

    بکری نے ادھر ادھر نظر گھما کر دیکھا 

    تو اس کووہ  گاۓ نظر آئی  

    بکری نے گا ۓ کو جھک کر بڑ ے ادب سے سلام کیا

    اور پھربڑ ے اچھے انداز سے گا ۓ سے اسطرح بات کرنے لگی 

          : بکری

    کیا حا ل ہے بڑ ی بی 

    :  گا ۓ 

    خیر اچھے ہیں.(ساتھ ہی ایک ٹھنڈی آہ بھر ی

    (اور گلے کرنے لگی 
    کہنے لگی میں بہت پریشان ہوں
    میری زندگی مصیبت  میں پڑی ہوئی  ہے


      ایسے لگتا ہے
      میری قسمت ہی  خراب ہے 
     یہ انسان میرے ساتھ برا سلوک کرتا ہے

    میرا دودھ نکالنے  کے لیے بڑی چالیں چلتا ہے  

    جس دن میں دودھ کم دیتی ہوں یہ بڑبڑاتا ہے 

    اوراگر میں کمزور ہو جا ؤں تو یہ مجھے بیچ دیتا ہے

    اس نے  میری اس نیکی کا مجھے یہ صلہ دیا ہے

    کہ یہاں با ند ھ دیا ہے

    میں کمزور ہوں میرا ان انسانوں  پر ذورنہیں چلتا

    لیکن میں یہی دعا کرتی ہوں  

     کہ کسی کا پالا ان انسانوں سے پڑ ے  

     غرض یہ کہ 

    یہ انسان بہت ظالم ہے 

    بکری گا ۓ کی یہ سا ری کہانی سن کے بولی 

    :بکری  

     دیکھو بڑی بی
    سچ بات کڑوی ہوتی ہے لیکن میں تو پھر بھی سچ کہوں گے 
    کہ انسان کا گلہ کرنا ٹھیک نہیں ہے 
     ہم غریب کمزور جانور ہیں
     آج اگر یہ انسان نہ ہوتا تو 

     ہمیں یہ ساری 

    خوشیاں کہاں نصیب ہونی تھیں 

    یہ سا رے لطف اور مزے ہمیں انسان کی 

     وجہ سے ہی  ملے  ہوے ہیں

    اسی انسان کی وجہ  سے آج ہم زندہ ہیں 

    ورنہ جنگل کے خطرناک بھیڑیوں سے ہمیں کون بچاتا.

     یہی انسان ہمیں سردی گرمی سے
     بچانے کے لیے  گھر بنا کر دیتا ہے

    انسان کے ہم پر اتنے احسان ہیں 

    تو پھر تم بتاؤ کہ ھمارے لیے انسان کی قید اچھی ہے یا آزادی 

    ہمیں اس کا گلہ کرنا زیبا نہیں دیتا

    یہ سن کر گا ۓ نے دل میں سوچا

    کہ بکری تو بلکل ٹھیک کہہ رہی ہے 

    پھر بولی 

    :گا ۓ   

    ویسے بکری ہے تو چھوٹی سی

    لیکن بہت عقل مند ہے 

    اس کی بات میرے دل کو بہت پسند آئی ہے
    آج کے بعد میں کبھی کسی کا گلہ نہیں کروں گی  

    ادیبہ انور 

     

  • حضرت موسی علیہ السلام کی قومThe story of Hazrat Moosa A.S in Urdu.

    حضرت موسی علیہ السلام کی قومThe story of Hazrat Moosa A.S in Urdu.

    حضرت موسی علیہ السلام 


    ١.حضرت موسی علیہ السلام کی پیدائش اور شادی 

    فرعون بہت ظالم بادشاہ تھا- وہ بنی اسرائیل کے  تمام لڑکوں
    کو قتل کروا دیتا تھا- جب حضرت موسیٰ علیہ السلام پیدا

    ہوئے, تو ان کی ماں اس بات پرڈر گئ کہ فرعون ان کے بیٹے
    کو قتل کروادے  گا -لیکن اللہ نے آپ کی ماں کو بتایا کہ! آپ
    اپنے بیٹے کو دریا میں رکھ آئیں- اور ہم موسیٰ کو بچا لیں
    گے- حضرت موسی علیہ السلام کی ماں نے آپ کو ایک
    ٹوکری میں رکھا اور دریا میں رکھ آئیں وہ ٹوکری بہتی ہوئی
    فرعون کے دربار کی طرف گئی تو فرعون کے سپاہیوں نے
    اس کو اٹھا لیا اور محل میں لے گئے- وہاں پر اس بچے کو
    فرعون  کی بیوی نے لے لیا-اس نے  کہا کے بچہ میں پالوں
    گی- پھر بچے کو دودھ پلانے کے لئے ایک عورت کو بلایا
    گیا- وہ حضرت موسی کی اپنی ماں تھی-لیکن یہ بات کسی کو معلوم نہیں تھی –
    انہوں نے بچے کو دودھ پلایا- اور ان کی دیکھ بھال میں لگ
    گئیں- اور اس طرح حضرت موسی علیہ السلام فرعون کے
    دربار میں ہی رہنے لگے- کچھ عرصہ کے بعد جب حضرت
    موسی علیہ السلام ذرا بڑے ہو گئے- تو فرعون کو معلوم ہوا
    کہ یہ بچہ بنی اسرائیل کا ہے-
    حضرت موسی علیہ السلام بنی اسرائیل کے پاس واپس آ گئے- موسی علیہ السلام بکریاں چراتے تھے- ایک دن ان کے ایک ساتھی سے فرعون کے
    ایک سپاہی کا جھگڑا ہو گیا- موسی علیہ السلام مدد کے لئے
    گئے- تو ان کے ہاتھ سے وہ سپاہی قتل ہو گیا- حضرت موسی
    علیہ السلام گھبرا گئے- اور وہاں سے بھاگ کرمدین شہر چلےگئے-
    وہاں ان کو دو لڑکیاں ملی جو ایک کنویں پر پانی
    بھرنے کے لیے کھڑی تھیں -لیکن دوسرے لوگ ان کی باری
    نہیں آنے دے رہےتھے- حضرت موسی علیہ السلام نے ان کی
    مدد کی اور ان کو پانی بھر دیا- لڑکیوں نے ان سے کہا کہ
    آپ ہمارے گھر ہمارے والد صاحب سے ملنےآئیں-
    حضرت موسی علیہ السلام ان کے گھر پر پہنچے، تو وہاں
    جن سے ملے- وہ ایک نبی حضرت شیعب الہی سلام تھے -انہوں نے
    حضرت موسیٰ علیہ السلام کی اچھائی اور حیا دیکھی- تو کہا
    کہ! اگر آپ میرے گھر آٹھ سال تک رہیں گے، اورہماری  دیکھ
    بھال کریں گے -تو میں اپنی بیٹی کی شادی آپ سے کردوں گا-
    حضرت موسی علیہ السلام راضی ہوگئے -اور اس طرح
    حضرت موسی علیہ السلام تقریبا دس سال وہیں پر رہے اور
    ان کی شادی ہوگئی- 

    ٢.حضرت موسی علیہ السلام اور فرعون 


    دس سالوں کے بعد حضرت موسیٰ علیہ

    السلام نے سوچا کہ اب مجھے واپس اپنے شہر جانا چاہیے-
    وہ اپنی بیوی کو لے کر واپس چل پڑے – راستےمیں  ایک جگہ پر
    جب رات کے وقت وہ رکے ،تو انہوں نے ایک پہاڑ طور
    کے پاس کچھ روشنی دیکھی- انہوں نے اپنی بیوی سے کہا،
    کہ! آپ یہاں ٹھہرو میں نے روشنی دیکھی ہے- میں آپ کے
    لیے وہاں سے آگ لے کر آتا ہوں- جب حضرت موسی علیہ
    السلام اس پہاڑ کے پاس پہنچے تو ان کو ایک آوازآئی – اے
    موسی! حضرت موسیٰ علیہ السلام ڈر گئے -پھر  آواز آئی اےموسیٰ  ڈرو
    نہیں میں تمہارا رب ہوں- اللہ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام
    سےپوچھا ، یہ تمہارے ہاتھ میں کیا ہے؟ حضرت موسی علیہ
    السلام نے کہا یہ میرا عصا ہے- اس سے میں بکریاں
    چراتا ہوں اور اپنا راستہ تلاش کرتا ہوں- اللہ نے آپ سے کہا
    اس کو زمین پر پھینکیں-  جب انہوں نے عصا زمین پر
    پھینکا -تووہ سانپ بن گیا- حضرت موسی علیہ السلام کو اللہ نے حکم دیا
    کہ اپنا ہاتھ اپنی بغل میں ڈالیں-  جب انہوں نے ہاتھ ڈالااور  ڈال کر
    باہر نکالا تو وہ چمکنے لگا- حضرت موسی علیہ السلام کو
    اللہ نے کہا، کہ! آپ میرے نبی ہیں-  آپ فرعون کے پاس جائیں اور
    اس کو مجھ سے ڈرائیں اور کہیں کہ اللہ  کی عبادت کرو اور بنی
    اسرائیل کو چھوڑ دو- حضرت موسیٰ علیہ السلام اپنے گھر
    والوں کو لے کر آگئے-
    حضرت علیہ السلام نےاللہ سے دعا کی کہ! اے اللہ! زبان میں لکنت ہے-
    یہ  صاف نہیں ہے- آپ میرے بھائی
    کو بھی میرے ساتھ دعوت کے کام میں لگا دیں- تاکہ وہ میری
    مدد کرے- اللہ تعالی نے حضرت ہارون علیہ السلام جو
    حضرت موسی علیہ السلام کے بھائی تھے- ان کو بھی آپ کے ساتھ
    بھیجا-

    پھر انہوں نے

    فرعون کو اللہ کی دعوت دی- انہوں نے فرعون کو کہا کہ!
    اللہ سے ڈرو ،اس کی عبادت کرو اور اور بنی اسرائیل پر ظلم
    کرنا چھوڑ دو- اورانہیں میرے  ساتھ بھیج دو-لیکن فرعون نا مانا-

    موسی علیہ السلام نے فرعون کوپھر دعوت دی- تو فرعون

    نے پوچھا- آپ ہمیں کوئی نشانی دکھائیں- موسی علیہ السلام نے
    اپنا ہاتھ اپنی بغل میں ڈالا تو وہ چمکنے لگا- اپنا عصا پھینکا
    تو وہ بھی سانپ بن گیا-فرعون  اور اس کے درباریوں نے کہا
    کہ یہ تو جادو ہے- فرعون منے  اعلان کروایاکہ ساری دنیا کے
    جادوگر آئیں-  اور حضرت موسی علیہ سلام سے مقابلہ کریں-
    لہٰذہ سب  لوگ اور  فرعون  اپنے وقت اور جگہ کے مطابق
    جمع ہوگئے-سری دنیا کے بہت بڑے بڑے جادوگر وہاں آئے-
    جادوگروں نےفرعون سے پوچھا کہ اگر ہم نے حضرت موسی علیہ السلام
    کو ہرا دیا تو ہمیں کیا انعام ملے گا فرعون نے کہا کہ
    جو حضرت موسی علیہ السلام کو ہرا دے گا-
    میں اس کو بہت
    سارے انعام بھی دوں گا-ا اور اپنے دربار میں اپنے ساتھ بھی
    بٹھاؤں گا-
    مقابلہ شروع ہوا- جادوگروں نے حضرت موسی علیہ
    السلام سے پوچھا ،کہ کون اپنا جادو پہلے دکھائے گا- حضرت
    موسی علیہ السلام نے کہا، آپ شروع کرو- توجادوگروں  نے بہت
    ساری رسیاں  پھینکیں جو سانپ بن کے دوڑنے  لگیں –
    اللہ تعالی نے حضرت موسی علیہ
    السلام کو پکارا اور کہا اے موسیٰ! ڈرو نہیں- اور اپنا عصا
    زمین پر پھینکو- حضرت موسی علیہ السلام نےاپنا عصا
    زمیں پر پھینکا وہ بڑا سا اژدہا بن کر سارے سانپوں کو نگل گیا-
    تمام جادوگر سجدے میں گر گئے-اور کہنے لگے کہ ہم
    موسی علیہ السلام کے رب پر ایمان لے آئے- کیونکہ وہ پہچان
    گئے تھے- کہ یہ کوئی جادو نہیں ہے- بلکہ یہ کوئی اور طاقت ہے- فرعون کو بہت غصہ
    آیا-اس نے جادوگروں سے کہا کہ میں تم لوگوں کو سزا دوں
    گا-اور تمہارے ہاتھ ایک طرف سے کاٹ کر دوسری طرف
    سے پاؤں کاٹ دونگا-انہوں نے کہا کہ آپ جو مرضی سزا دیں
    ہم سچ کی روشنی کو پا چکے ہیں- اس طرح  فرعون کو اپنی
    شکست بہت بری لگی- وہ حضرت موسی علیہ السلام اور
    ان کے ساتھیوں کا بہت دشمن ہو گیا- حضرت موسی علیہ
    السلام نے بہت کوشش کی- فرعون اللہ کو رب مان کر بنی
    اسرائیل کو آزاد کر دے لیکن فرعون نہ مانا آخر ایک دن موسیٰ
    علیہ السلام نے اللہ کے حکم سے اپنے سارے ساتھیوں کو جمع کیا
    اور رات کو بستی چھوڑ دینے کا فیصلہ کیا-حضرت موسی علیہ السلام رات کو
    جب سب ساتھیوں کو لے کر بستی چھوڑ کر نکل آئے -تو فرعون
    کو معلوم ہو گیا کہ بنی اسرائیل بھاگ رہے ہیں- اس نے اپنے
    سپاہیوں کو لے کر پیچھا کرنا شروع کردیا- حضرت موسی علیہ السلام اور ان کے
    ساتھی ایک دریا کے کنارے پہنچ گئ- ان کے ساتھیوں نے
    کہا کہ اب تو ہم پکڑے جائیں گے- فرعون اور اس کے سپاہی
    ہمیں مار دیں گے- لیکن حضرت موسی علیہ السلام نے کہا، کہ
    ڈ رونہیں اللہ ہمارے ساتھ ہے- موسی علیہ السلام نے اللہ کے
    حکم سے اپنا عصا پانی پر مارا تو پانی پھٹ گیا- اور بارہ
    راستے بن گئے –حضرت موسی علیہ السلام کے سارے ساتھی آسانی سی
    دریا پار کرگیے- پیچھے فرعون جب اس جگہ پہنچا- تو اس نے
    بھی اپنے سپاہیوں کو لے کر اسی راستے پر چلنا شروع کر
    دیا- لیکن جب تمام سپاہی اور فرعون دریا کے درمیان میں پہنچے تو
    پانی ساتھ مل گیا – اس طرح فرعون اور اس کا سارا لشکر پانی
    میں ڈوب کر غرق ہو گیا-دوسری طرف حضرت موسی علیہ
    السلام اور بنی اسرائیل دریا کے دوسری طرف پہنچ گتے –
    ٣.حضرت موسی علیہ السلام اور بنی اسرائیل دریا کی دوسری طرف صحرا ہی صحرا تھا –حضرت موسی علیہ السلام کی تمام قوم تھک چکی تھی- انہوں نے حضرت موسی علیہ السلام سے پوچھا
    کہ اب ہم کیا کریں گے-حضرت موسی علیہ السلام نے ان سے کہا کہ اب ہم مصر واپس جا کر اپنا ملک آزاد کروائیں گے-لیکن وہ نہ مانے انہوں کہا کہ ہم میں لڑ نے کی طاقت نہیں ہے- پھر چالیس سال تک وہ لوگ اسی صحرا میں بھٹکتے – اور وہی پر اپنی بستی بسا لی- ٤.بنی اسرائیل پر اللہ کی نعمتیں وہ لوگ سینا صحرا کے کنارے ہی رهنے لگے-وہاں پھر انہوں نے طرح طرح کی فرمائشیں کرنی شروع کر دیں –پہلے کہا کہ ہم کہاں سے کھائیں گے – انہوں نے حضرت موسی علیہ
    السلام سے کہا کہ آپ اپنے رب سے دعا کریں- کہ ہمارے
    لیے آسمان سے کھانانازل فرمائیں . اس پر حضرت موسی علیہ
    السلام نے دعا کی تو ان پر اللہ تعالی نے ان پر اپنی نعمت بیجھی.اور آسمان سے من وسلویٰ بھیجنا شروع کر دیا- جو کہ چالیس سال تک آتا رہا – پھر
    ایک د ن ان کی قوم نے کہا- کہ اے موسیٰ ہم ایک جیسا کھانا کھا کھا کر
    تھک چکے ہیں- ہمیں کوئی اور کھانا چاہیے- اس پر اللہ
    ناراض ہو گیا اور ان کا سارا کھانا آ نا بند ہو گیا – ان پر الله کی دوسری نعمت یہ تھی کہ اللہ تعالیٰ نے
    ایک بادل کو ان کےاوپر بھیج
    رکھا تھا – جو ہر وقت ان کے اوپرسایہ رکھتا تھا- اور پھر اللہ تعالی نے ان کے لئے ایک پتھر سے
    بھی پانی نکالا تھا- جس کے 12 چشمے تھے جن سے
    ان کے بارہ قبیلے پانی پیتے تھے- لیکن یہ قوم پھر بھی اللہ کا
    شکر ادا نہ کر تی -اور ہر وقت شکوے کرتی رہتی-اسی لیے ایک ایک کر کے اللّہ نے ان سے تمام نعمتیں چھین لیں – ٥.حضرت موسی علیہ السلام کوہ طور پر 
    ایک دن حضرت موسی علیہ السلام نے اپنے بھائی ہارون کو کہا کہ
    ایے میرے بھائی میں تیس دن کے لیے کوہ طور پر جا رہا ہوں – میرے
    پیچھے قوم کا خیال رکھنا- اور ان کو سیدھے راستے پر
    جمائے رکھنا- حضرت موسی علیہ السلام پہاڑ پر چلے گئے-
    حضرت موسی علیہ السلام نے وہاں اللہ کی بہت ہی عبادت کی- ایک دن حضرت موسی علیہ السلام نے اللہ سے کہا- کہ ایے اللہ
    میں آپ کو دیکھنا چاہتا ہوں- اللہ نے کہا کہ آپ مجھے نہیں دیکھ سکو گے – حضرت موسی علیہ السلام نے بہت اصرار کیا – تو اللہ نےکہا کہ آپ اس پہاڑ پر نظر ڈالیں- اگر آپ کی نظر جمی رہےگی-تو آپ مجھے دیکھ لیں گے- موسی علیہ السلام نے پہاڑ کو دیکھا تو
    وہ بہت زیادہ چمک رہا تھا-حضرت موسی علیہ السلام سے
    اس طرف نہ دیکھا گیا اور بیہوش ہو گئے- پھر جب ان کو
    ہوش آیا -توانہوں نے کہا- کہ اے اللہ ! واقعی میں آپ کو نہیں
    دیکھ سکتا ہوں- پھر اللہ تعالی نے ان کو کتاب تورات دی اور
    اور زندگی گزارنے کی تمام اچھی باتیں بتا دیں- حضرت
    موسی علیہ السلام چالیس دن وہاں رہے – اور تورات لیکر واپس آ گیے –
    ٦بنی اسرائیل اور بچھڑے کی پوجا-
    بنی اسرائیل کے پاس آئے تو انہوں نے دیکھا کہ ان کی قوم
    ایک سونے کے بنے ہوئے بچھڑے کی پوجا کر رہی تھی- موسی علیہ السلام بہت غصہ آیا-
    بھائی ہارون علیہ السلام سے پوچھا -کہ یہ کیا ہے تم نے ان
    کو منع کیوں نہیں کیا- حضرت ہارون علیہ السلام نے اپنے
    بھائی موسی علیہ السلام سے کہا- کہ اے میرے بھائی مجھے
    نہ پکڑو- میں نے ان کو بہت منع کیا تھا- لیکن سامری جادوگر
    نے ان کو دھوکے میں ڈال دیا تھا- اور کہا تھا کہ تمہارا رب
    نظر نہیں آتا ہے- اس لئےمیں تم کو عبادت کے لئے بچھڑا بنا دیتا ہوں –
    بنی اسرائیل نے سوچا کہ حضرت موسی علیہ السلام
    تیس دن کے لئے کوہ طور پر گے تھے –وہ واپس نہیں آئے تو شایدفوت ہوچکے ہیں
    سامری جادوگر نے ان کو دھوکا دے کر ان کو ایک بچھڑا بنا
    دیا- اور کہا کہ یہ تمہارا خدا ہے – اب تو اس کی عبادت کیا کرو-
    حضرت موسی علیہ السلام نے وہ بچھڑا اٹھایا- اور اس کو توڑ کر دریا میں
    پھینک دیا-جب غصہ ذرا ٹھنڈا ہوا- تو موسی علیہ السلام نے ان لوگوں کو بتایا- کہ اللہ نے مجھےیہ کتاب تورات
    دی ہے-اور اس نے تمام حکم بتا دیے ہیں- کہ اللہ کی عبادت کیسے کرنی ہے – اور کون کون سے کام حرام ہیں – لیکن وہ نا شکرے لوگ کہنے لگے- کہ موسی ہمیں کیا پتا ہے یہ کتاب تمہیں اللہ نے دی ہے- یا تو خود لکھ کرلے آئے ہو-جب ہم خود اللہ کو اپنی آنکھوں سے
    دیکھیں گے -پھر ہمیں یقین آئے گا- حضرت موسی اپنے قبیلوں
    کے 70 افراد کو لے کر کوہ طور پر چلے گئے- وہاں پر اللہ
    نے ان ستر لوگوں سے بات کی- تو وہ لوگ کہنے لگے یہ تو
    صرف آواز ہے- ہمیں تو اپنی آنکھوں سے اللہ کو دیکھنا ہے- اس پر اللہ تعالی بہت ناراض ہوگئے- اور وہ ستر کے ستر لوگ مر گئے-
    موسی علیہ السلام  پریشان ہو گۓ –
    موسی علیہ السلام نے اللہ سے دعا کی-کہ اے اللہ جب میں اپنے قبیلے
    کے پاس واپس جاؤں گا- تو ان کو کیا جواب دوں گا- اے اللہ مجھ پر اوران لوگوں پر رحم کر- تو اللہ ان ستر لوگوں کو دوبارہ زندہ
    کر دیا- اوروہ اپنے قبیلے کے پاس واپس آ گئے-

    ٧.بنی اسرئیل کی نافرمانیاں اور سزائیں 

    حضرت موسیٰ علیہ سلام کو الله نے شریعت دی. اور عبادت
    کا طریقے بھی  بتا دیۓ-ان کو روزہ رکھنے  اور نماز
    پڑھنے کا طریقہ بھی سکھایا گیا- لیکن بہت کم لوگ اللہ کی عبادت کرتے تھے.

    حضرت موسی علیہ السلام کی قوم بنی اسرائیل بار بار اللہ ک

    فرمانی کرتی رہی-

    اس لیے اللہ نے ان کو بہت سا ری سزائیں اور ان پر عذاب بھجھے –

    ایک دفعہ الله نے ان کی  نافرمانیوں کی وجہ  سنے  ان پر جوؤں ،ٹیٹدیو ں اور مینڈکو ں کا عذاب بھیجا- 
    وہ لوگ مچھلی کا شکار کر
    کے  اپنی روزی کماتے تھے -الله تعا لّی نے ان کو حکم دیا کہ
    وہ ہفتہ کے دن مچھلی کا شکار نہ کریں- اور سب کام چھوڑ
    کرصرف الله کی عبادت کیا کریں- الله نے ان کی آزمائش کی- کہ جب ہفتہ کا دن ہوتا تو بہت
    ساری مچھلیاں اچھل اچھل کر باہر آتیں-لیکن باقی دنوں میں مچھلیاں پانی کےنیچے چلی جاتیں-اور کوئی مچھلی نہ پکڑی جاتی – ان لوگوں نے ایک ترکیب
    سوچی- اور دریا سے پانی کا راستہ بنا کر چھوٹے چھوٹے  گڑھے کھود لیے —
    اس طرح ہفتہ کے دن مچھلیاں  وہاں آ کر بند ہو جاتیں- اور اگلے دن وہ لوگ مچھلیاں
    پکڑ لیتے-کچھ لوگ جوالله سے ڈرتے تھے- انھوں نے ان لوگوں کو روکا لیکن وہ لوگ نہ مانے-وہ کہتے کہ ہم ہفتہ کے دن تو مچھلی کا شکار نہیں کرتے- اسطرح انھوں نے الله کو دھوکہ دینے کی کوشش کی-اللہ نے ان تمام لوگوں کوجنہوں نے مچھلیاں پکڑی تھیں-اور ان کے ساتھی جنہوں نےان کو نہیں روکا تھا-
    سب کو بندر بنا دیا-اور کچھ دنوں کے بعد وہ سب بندر بن کر مر گے-
    ان کی نافرمانیوں میں ایک اور نا فرمانی یہ تھی- کہ  جب اللہ تعالی نے اس قوم کو کہا-کہ آپ ایک گائے ذبح کرکے میری راہ میں  قربان کریں-
    تو ان لوگوں کادل اس گائے اور بچھڑے کی محبت میں ڈوبا ہوا تھا – انہوں نے بہانے بنانا شروع کر دیے- اور کہا کہ ہمیں بتائیں وہ گائے
    کیسی ہو، اس کا رنگ کیسا ہو ، اس کی عمر کتنی ہو اور اس طرح
    کے بہت سارے سوال کیے – حضرت موسی علیہ السلام کو اللہ نے
    بتایا کہ وہ گائے سرخ رنگ کیا ا یک جوان اور خوبصورت سی،
    بے داغ گائے ہونی چاہیے -اس طرح کی گائے دو یتیم
    بچوں سے مل گئی-
    ان لوگوں نے مجبوری سے وہ گایے خریدی اور ذبح کر دی-
    ان دنوں ایک اور واقعہ ہوا – ایک بھائی نے دوسرے بھائی کو دولت کے لالچ میں
    قتل کرکے کسی کےگھر کے آگے پھینک دیا تھا- حضرت موسی علیہ اسلام نے
    گائے ذبح کروائی- اور اس کا ایک ٹکڑا اس مرے ہوئے آدمی
    کی لاش کے اوپر مارا- جس پر وہ اٹھ کر بیٹھ گیا اور ا سنے
    بتادیا کہ مجھے کس نےقتل کیا ہے -اس طرح اللہ کے حکم سے اس قتل کا پول کھل گیا –
    بچو! یہ بنی اسرائیل وہی ہیں جن کو آج ہم یہود کے نام سے جانتے ہیں-.یہ لوگ اللہ کے بڑ ے نافرمان تھے – اور اللہ کا شکر نہیں کرتے تھے –اس لیے الله نے ان سے اپنی سا ری نعمتیں بھی چھین لیں. اور یہ لوگ بہت سال صحرا میں بھٹکتے رہے-

    عملی کام :-

    اس کہانی کے آخر میں بچوں سے 
    ١.  حضرت موسی علیہ اسلام کی قوم اور فرعون کے متعلق سوال پوچھیں– ٢. قران پاک سے اس کہانی ک متعلق مختلفواقعیات کا ذکر کریں ٣. تخلیقی کم کروائیں
    یہ کہانی میں  نے اپنے بچوں کو کیسے پڑھائی اور اس کے  لیے کون سے تخلیقی کام کیا – اس کے لئے میری اس ویب سائٹ پر جائیں   

  • Phanto aik Hathi.   Urdu story for children. Urdu kahania.

    Phanto aik Hathi. Urdu story for children. Urdu kahania.

    فانٹو ایک ہاتھی!
    فانٹو ایک ہاتھی تھا جو کے جنگل میں اپنے ماں باپ کے ساتھ رہتا تھا، وہاں جنگل اس کے ا ور بھی بہت سے ہاتھی دوست تھے جن کے ساتھ وہ کھیلتا تھا  
    لیکن ا
    جنگل میں اس کا سب سے اچھا دوست پانی تھا. وہاں جنگل میں اس کے گھر کے قریب ایک  تالاب تھا. جو ٹھنڈے میٹھے پانی سےبھرا ہوا تھا
    bacho ki urdu kahania. urdu stories


    وہ اس پانی کے ساتھ خوب کھیلتا. اس کو پانی میں تیرنا , چھلانگیں لگانا بہت اچھا لگتا تھا
    وہ پانی اپنی سونڈ میں بھرتا اور کبھی اپنے اوپر چھڑکتا اور کبھی اپنے دوستوں پر
    اس کے دوست بھی اپنی اپنی سونڈ میں پانی بھر کر ایک دوسرے پر پھینکتے رہتے
    اس طرح وہ بہت سارا پانی ضائع کر دیتے.لیکن انہوں نے کھبی اس بات پر دھیان نا دیا کہ وہ کتنا پانی ضائع کر رہے ھیں
    کافی عرصہ سے جنگل میں بارش بھی نہیں ہوئی تھی.گرمی بہت شدید تھی.اب تو وہ اور بھی زیادہ وقت پانی میں گزارنے لگے تھے
    تالاب کا پانی آہستہ آہستہ کم ہونے لگا. اس کے ماں باپ اس کو سمجھاتے کہ اپنے سب سےاچھے دوست کو یوں ضائع نہیں کرنا چاہئے
    لیکن وہ پانی سے کھیلنے کے بغیر نہیں رہ سکتے تھے. آخر ایک دن ایسا آیا کہ تالاب بالکل سوکھ گیا. اس  کا پانی بالکل ختم ہو گیا
    سب والدین ہاتھی اس صورت حال سے بہت پریشان تھے. فانٹو بھی اپنے سب سے پیارے دوست کے بغیر خوش نہیں تھا.لیکن اس کو یہ معلوم نہیں تھا کہ پانی کے بغیر زندگی کتنی مشکل ہونے والی ہے
    وہ اپنے دوستوں کے ساتھ دوسرے کھیل کھیلنے میں مصروف ہو گیا.وہ سب اب بھی ادھر ادھر بھاگ رہے تھے اور شور مچا رہے تھے. دوپہر بہت گرم ہو گئی وہ کھیل کھیل کر تھک چکے تھے. اس کو پیاس بھی بہت لگی ہوئی تھی
    وہ پیٹ بھر کر پانی پینا چاہتا تھا. لیکن وہاں تو ایک گھونٹ بھی پینے کےلئے نہیں تھا
    اس نے اداس ہو کر سر جھٹکا اور کیلے کھانے چلا گیا
    اس نے کیلے کھاتے کھاتے سرگوشی کی کہ
    ‘کیلے میری پیاس تو نہیں بجھا سکتے’
    اب تو پانی کے بغیر اس سے کھیلا بھی نہیں جا رہا تھا
    شام ہو گئی تھی سب کا پیاس سے برا حال تھا.وہ سب صرف پانی کے بارےمیں ہی سوچ رہے تھے. والدین ہاتھی بچوں کی پیاس اور پریشانی محسوس کر رہے تھے. لیکن وہ کچھ نہیں کر سکتے تھے. سوا اس کے کہ اللہ سے دعا کریں. وہ سب اللہ سے دعا کر رہے تھے کہ اے اللہ اپنی رحمت سے بارش برسا دے.اور ہم پر رحم فرما.  وہ سب بار بار آسمان کو بھی امید سے دیکھ رہے تھے کہ شاید ابھی کوئی بادل آسمان پر آئے گا اور بہت سارا پانی برسا جائے گا
    رات ہو گئی تو فانٹو وہیں گھاس پر لیٹ گیا
    رات کو اس کو سب چیزیں اور بھی زیادہ بے رنگ لگ رہی تھیں. اس نے ایک دفعہ پھر اپنی ماں ہاتھی سے پانی مانگا. ماں بے بس تھی. اس نے فانٹو کو کہا کہ وہ بھی اللہ سے دعا کرے. پھر اللہ بہت سارا پانی برسائے گا. فانٹو دعا کرنے لگا لیکن پیاس سے اس کے ہونٹ بھی نہیں ہل رہے تھے. پھر اس نے چپکے سے دل ہی دل میں دعا کرنی شروع کر دی. دعا کرتے کرتے وہ سو گیا.
    ابھی وہ تھوری دیر ہی سویا تھا کہ اس کو لگا اس پر پانی کے چھینٹے پڑے ہیں. اس نے سوچا کہ وہ خواب دیکھ رہا ہے
    پھر اس نے ایک آواز سنی. کوئی کہہ رہا تھا کہ بارش آ گئی اس نے آنکھیں کھول دیں. اسی وقت اس کی ماں اس کے پاس جلدی سے آئی اور کہنے لگی
    فانٹو ! میرے بیٹے , دیکھو , بارش ہو رہی ہے. اب تم بہت سارا پی سکو گے. فانٹو جلدی سے اٹھ گیا. بارش بہت تیز ی سے اس کے چہرے اور سارے جسم پر برس رہی تھی. آہستہ آہستہ پانی نرمی اور بہت پیار سے اس کے جسم پر بہنے لگا. ایسا لگ رہا تھا کہ پانی بھی اس کے بغیر اداس ہو گیا تھا.
    فانٹو نے دل ہی دل میں خود سے وعدہ کیا کہ وہ آئندہ کبھی بھی اپنے پیارے دوست کو ضائع نہیں کرے
    لکھاری :- ادیبہ انور
    اردو کہانی چینل  
    انگلش کرافٹ چیننل 
    Print this story here.

  • حضرت آدم علیہ سلام. The story of hz Adam A.S Free/PDF stories for Muslim children in Urdu.

    حضرت آدم علیہ سلام
    حصہ اول
    Urdu islami kahaina.


    پیارے بچو! آپ کو پتا ہے

    کہ سب سے پہلے انسان
    حضرت آدم علیہ سلام تھے. وہ جنت
    میں رہتے تھے.
    ان سے پہلےاللہ نے روشنی سے
    فرشتوں کو پیدا کیا. پھر آگ سے جن پیدا کیے.
    لیکن حضرت آدمؑ کو اللہ نے
    مٹی سے پیدا کیا تھا
    . اور پھر ان سے حضرت حواؑ کو پیدا کیا.
    فرشتے اور جن ہر وقت اللہ کی
    عبادت کرتے رہتے تھے
    اور اللہ کا ہر حکم مانتےتھے
    .سب سے زیادہ عبادت ابلیس جن کرتا تھا
    ابلیس جن کو اللہ نے
    فرشتوں کےساتھ جنت میں رکھا تھا
    اور اس کی عزت بھی کی جاتی تھی.
    جس سے وہ بہت مغرور ہو گیا تھا.
    اللہ تعالٰی نےحضرت آدمؑ کو
    سب چیزوں کے نام
    سکھا دیۓتھے
    . پھر فرشتوں
    اور جنوں کو کہا کہ آدمؑ کو سجدہ کریں.
    سب نے سجدہ کیا.
    لیکن  ابلیس نے نہیں کیا.
    اللہ اس سے ناراض ہو گیا.
    اور اس کو جنت سے نکال دیا.
    اور کہا کہ تم نا فر مان, شیطان ہو.
    شیطان اس طرح انسان کا دشمن بن گیا  
    ،اور اللہ سے کہا
    کہ! میں انسانوں سےگندے کام کرواؤں گا
    حضرت آدمؑ اور حواؑ جنت میں رہنے لگے
    -اللہ نے ان سے کہا کہ جو  مرضی کھائو پیو
    -لیکن ایک پھل نہیں کھانا
    -اور شیطان کا کہنا نا ماننا ،وہ تمھارا دشمن ہے
    ،جنت میں وہ دونوں اللہ کی عبادت کرتے
    ،مزے مزے کی چیزیں کھاتے
    -اور فریشتے ان کی خدمت کرتے تھے
    -شیطان کو یہ سب اچھا نہیں لگتا تھا
    ایک دن شیطان نے آ کر ان دونوں کو دھوکے
    ،سے وہ پھل کھلا دیا
    -جس کو کھانے سے اللہ نے منع کیا تھا
    .جس سے ان کا پردہ اتر گیا
    . اللہ تعالیٰ ان دونوں سے ناراض ہو گیا
    – اور انہیں جنت سےنکال کر زمین پر بھیج دیا
    اور شیطان کو بھی اللہ نے آسمانوں
    – سے ہمیشہ کے لیۓنکال دیا
    -حضرت آدمؑ زمین کے  ایک کونے پر تھے
    – اور حضرت حواؑ دوسرے کونے پر تھیں
    -وہ دونوں بہت شرمندہ تھے
    -اور اللہ سے ہر وقت رو رو کر دعا کرتے رہتے
    -اللہ  نے ان کو معاف کر دیا
    -اور ایک جگہ اکٹھا کردیا.
    اللہ نے ان کو کہا کہ اب تم لوگ
    زمین پر رہو گے- اور
    اگر تم لوگوں نے اچھے کام کیے،تو
    -تمہیں دوبارہ جنت  میں بھیج دوں گا
    -اب جنت کے لیۓتمھیں محنت کرنی ہو گی-
    ،اور اگر شیطان کا کہنا مانا
    -تو پھر اسی کے دوست بن جائوگے
    -اللہ نےان کو زمین پر اپنا خلیفہ بنا دیا-
    حضرت آدمؑ اور حواؑ زمین  پر
    -بہت اچھے بن کر رہنےلگے
    -وہ ایک اللہ عبادت کرتےرہتے تھے
    -اللہ نے ان کو بہت سے بچے دئیے
    سب سے پہلے قابیل اور اس کی ایک بہن
    ،ھوئی
    -پھر ہابیل اور اس کی بہن ہوئی
    وہ سب بہت پیار اور محبت سے رہتےتھے
    ہابیل اور قابیل ایک دوسرے
    -سے بہت پیار کرتے تھے
    -لیکن قابیل تھوڑا ضدی اور غصےوالا تھا
    -جب کہ قابیل بہت سمجھ دار تھا
    بس شیطان نے قابیل کو
    -ورغلانا شروع کر دیا
    قابیل کے دل میں شیطان نے
    !یہ بات ڈال دی کہ
    -بابا آدمؑ ہابیل سے زیادہ پیار کرتے ہیں
    جب کہ قابیل سے کم
    اسی لئے قابیل نےہابیل کے
     ساتھ ضد کرنا شروع کردی
    ہابیل کی شادی قابیل کی
    جڑوا بہن سے ہونی تھی
    اور قابیل کی شادی  ہابیل
    کی جڑوا بہن سے ہونا تھی
    .. قابیل کہنے لگا
    کہ! میں تواپنی ہی جڑوا بہن سے شادی کروں گا
    حضرت آدمؑ نے اس کو سمجھایا
    کہ ایسا نہیں ہو سکتا
    .. پھرایک دن وہ جنگل میں
    -اکٹھے کام کر رہے تھے
    -تو اچانک قابیل کا پائوں پھسل گیا
    ،وہ دریا میں گرنےلگا تھا
    کہ !ہابیل نے اس کو بچا لیا
    اس طرح قابیل کے
    دل میں پھر ہابیل کے لئیے  محبت پیدا ہو گئی
    لیکن شیطان نے پھر سے قابیل کو بھڑکانہ شروع دی

    آدمؑ حصہ دوم
    پھر ایک دن حضرت آدمؑ نے
    ، اللہ کے حکم سے دونوں کو کہا
    کہ! چونکہ ہابیل زیادہ سمجھدار
    اور نرم مزاج ہے اس لیے
    میرےبعد ہابیل خلیفہ ہو گا
    -اس بار قابیل کو بہت غصہ آیا
    -اور اس نے یہ بات ماننے سے انکار کر دیا
    – اس نے کہا بلکہ میں خلیفہ بنوں گا
    -اللہ تعالٰی نے دونوں کو حکم دیا
    -کہ !اپنی اپنی طرف سے کچھ قربانی دو
    -جس کی قربانی مجھے پسند آئی وہی خلیفہ ھو گا
    ،قابیل کا پیشہ کھیتی کرنا
    – اور پھل سبزیاں اگانا تھا
    ،اس لیے اس نے کچھ سوکھے سڑے
    ،اور ناقص پھل سبزیاں ایک ٹوکرے میں بھرے
    -اور میدان میں رکھ آ یا
    -جب کہ ہابیل کا پیشہ جانوروں کی دیکھ بھال تھا
    اس نے ایک پیاری سی موٹی،تازی گائے
    -اللہ کے لئے قربانی کرنے کے لئےرکھ دی
    -پھر ایک آسمانی بجلی آئی
    اور ہابیل کی گائے کو لے گئی
    جب کہ قابیل کی قربانی وہاں ہی پڑی
    -رہ گئی
    اب تو قابیل اور بھی زیادہ ہابیل
    -کا دشمن بن گیا
    -اوراس طرح  ایک دن
    -قابیل نے ہابیل کوماردیا
    اس کےبعد قابیل کو
    سمجھ ناآئی کہ اب اس کا کیا کرے؟
    اچانک اس کی نظر
    -ایک کوۓ پر پڑھی
    جو ایک مرے ہوئے
    -کوۓکو زمین میں دبا رہا تھا
    اس طرح قابیل کو ترکیب مل گئی، کہ! وہ ہابیل کو
    کیسے چھپا ۓ ؟
    -قابیل کو بہت افسوس ہوا
    -اس نے کہا
    -یہ کوا بھی مجھ سے زیادہ سیانا  ہے
    پھر اللہ نے ہابیل کی
    جگہ حضرت آدمؑ کوایک اوربیٹا
    – حضرت شیتؑ دئیےجو کےاللہ کےخلیفہ بنے
    !دیکھا؟ پیارے بچو
    شیطان کس طرح غصہ دلا
    .کر ہمارا نقصان کرواتا ہے
    -ہمیں بھی ہمیشہ غصہ کرنے سی بچنا چاھیے

    تحریر :- ادیبہ انور

    -: عملی کام
    اس کہانی کے آخر میں بچوں سی کچھ عملی کام کروایے
    تا کہ کہانی بچوں کو اچھی طرح ذھن نشین ہو جا یے
    اس کا ایک طریقہ تو وہی سوال جواب کا ہے جو
    ہمیشہ سے کیا جا رہا ہے اس کے علاوہ
    بچوں سے کچھ تخلیقی کام کروایا جا سکتا ہے ،جیسے
    اس کہانی کیبعد حضرت آدم کا ممنوعہ درخت بنوایا جا سکتا ہےاس کہانی میں کوۓ کا ذکر ہے لہٰذہ بچوں سے کوے کے بارے میں بات کریں کوا ایک ہوشیار اور چالاک پرندہ ہے پرندووں کے گھونسلے کا معائنہ کروائیں اور گھونسلے وغیرہ بنواحضرت آدم الہ اسلا م اور حضرت یونس کی کہانی کی pdf نیچے دے گئی ہے. شیر کریں تا کہ اور لوگ بھی اٹھائیں اگر آپ بچوں کی پڑھائی ور تعلیم و تربیت کے متعلق مزید videos تخلیقی مواد ور بچوں کو پڑھانے کے طریقوں کے متعلق مواد چاھتے ہیں تومیری انگلش کی ویب سائٹ پر تشریف لے جائیں.

  • Story of Hz Ibraheem A.S.حضرت ابراہیمؑ… free pdf Stories for children In Urdu.

    حضرت ابراہیمؑ
    حضرت ابراہیمؑ ایک وادی کنان میں پیدا ہوے. کنان کے لوگ بت پرست ائر ستارہ پرست تھے. حضت ابراہیمؑ ان لوگوں کو بتوں کی عبادت کرتے اور ان سے مانگتے دیکھتے تو ان کو بہت برا لگتا

    جب وہ ذرا بڑے ہوے تو انہوں نے اپنے بابا(چاچا) آزر سے کہا کہ یہ سب بت جنہیں تم اپنے ہاتھوں سے بناتے ہو وہ تمہیں کیا دے سکتے ہیں. اس بات پر وہ بہت ناراض ہوئے.
    پھر حضرت ابراہیمؑ نے ان لوگوں کو سمجھانے کے لئے ایک دن ایک چمکتا ہوا ستارہ دیکھا تو کہا یہ میرا رب ہے.  لوگ بہت خوش ہوئے کہ اس نے بھی ہماری طرح کی بات کی ہے. پھر وہ ستارہ ڈوب گیا تو ابراہیمؑ نے کیا کہ ڈوبنے والا میرا رب نہیں ہو سکتا. پر چاند نکل آیا تو ابرہیمؑ نے کہا کہ یہ زیادہ روشن اور چمکدار ہے یہ میرا رب ہے
    پھر چاند بھی ڈوب گیا تو انہوں نے کہا کہ ڈوبنے والا میرا رب نہیں ہو سکتا. پھر سورج نکلا تو آپؑ نے کہا یہ میرا رب ہے. پھر وہ بھی شام کو ڈوب گیا تو حضرت ابراہیمؑ نے کہا کہ یہ بھی ڈوب گیا.  میرا رب تو وہ ہےجو ہمیشہ سے ہے کبھی ڈوب نہیں سکتا. تم سب ان کو چھوڑ کر اس اللہ کی عبادت کرو.
     اس بات پر سب لوگ آپؑ سے بہت ناراض ہوئے اور کہنے لگے کہ آپ کے خاندان کی وجہ سے آپ کو چھوڑ رہے ہیں. آئیندہ ہمارے خداؤں کو برا مت کہنا.
    پھر حضرت ابراہیم نے ان کو سمجھانے کے لئے ایک اور ترکیب سوچی.
    ایک دن جب سب لوگ میلے میں جانے لگے تو حضرت ابراہیمؑ ن کہا کہ میں بیمار  میں نہیں جاؤں گا.  لہٰذا جب سب لوگ چلے گئے تو ابراہیمؑ نے ان کے عبادت خانے میں جا کر ان کے سب بتوں کو کلہاڑی سےتوڑ دیا. اور ایک سب سے بڑے بت کو چھوڑ دیا.اور کلہاڑی اس بڑے بت کےاوپر رکھ دی.
    جب لوگ واپس آئےتو اپنے بتوں کا یہ حال دیکھ کے بہت غصہ میں آئے. انہوں نے حضرت ابراہیمؑ سے پوچھا کہ یہ  سب بت کس نے توڑے ہیں .حضرت ابراہیمؑ نے کہا اس بڑے بت نے توڑےہوں گے اس سے پوچھو. لوگوں نے کہا یہ کیسے بول سکتا ہے
    ابراہیمؑ نے کہا کہ جو نا بول سکتے ہیں نا اپنی حفاظت کر سکتے ہیں تم ان سے کیوں مانگتے ہو
    لوگ سمجھنے کی بجائے اور بھی غصہ میں آ گئے. انہوں نے کہا کہ اب ہم تمیں نہیں چھوڑیں گے.
    وہ سب حضرت ابرہیمؑ کی شکایت لے کر نمرود کے پاس چلے گئے.
    حضرت ابراہیمؑ اور نمرود
    لوگ اپنے ٹوٹے ہوئے بت دیکھ کر شدید غصہ میں تھے. وہ حضرت ابراہیمؑ کو نمرود کے پاس لے گئے.
    نمرود نے ان سے پوچھا اچھا بتا کون ہے تیرا اللہ
    حضرت ابراہیمؑ نے کہا ک میرا رب وہ ہے جو زندگی بھی دیتا ہے اور موت بھی
    نمرود نے کہا کہ وہ تو میں بھی کر سکتا ہوں.
    یہ کہ کر نمرود نے ایک پھانسی کے قیدی کوآزاد کر دیا اور ایک بےگناہ کو مروا دیا.
    پھر حضرت ابراہیمؑ نے کہاکہ میرارب سورج کو مشرق سے نکالتا ہے تو مغرب سے نکال کر دیکھا.
    نمرود لاجواب ہو گیا.
    اس نے حکم دیا کہ ابراہیمؑ کو آگ میں ڈال دیا جائے.
    ایک میدان میں بہت ساری لکڑیاں ڈال کر خوب آگ جلائی گئی. پھر حضرت ابراہیمؑ کو اس آگ میں ڈال دیا گیا.  اللہ نے جلدی سےحضرت جبرائیل کو بیجھا.
    حضرت جبرائیل نے اللہ کے حکم سے آگ کو ٹھنڈا کر دیا.  لوگ دیکھنے آئے کہ ابراہیمؑ  آگ میں جل گئے ہوں گے.لیکن انہوں  نے آ کر دیکھا کہحضرت جبرائیل پھولوں پر بیٹھے ہوئے اللہ کو یاد کر  رہے ہیں.
    یہ دیکھ کر بہت سے لوگ مسلمان ہو گئے. لیکن نمرود اور اس کے بہت سارے ساتھی مسلمان نا ہوئے.
     اللہ نے ان پر مچھروں کا عذاب  بیجھا. یہ بہت موٹے موٹے مچھر تھے جوان کو کاٹ کاٹ کر  ان کا گوشت بھی کھا جاتے تھے.
     ایک مچھر نمرود کے ناک میں گھس کر دماغ میں بیٹھ گیا. جب وہ مچھر اس کو کاٹتا تو وہ چیخیں مارتا. پھر لوگوں سے سر میں جوتے مرواتا.
    اس طرح اللہ نےے اس کو نا فرمانی کی سزا دی.

    حضرت ابراہیمؑ کے بیٹے.
     پھر حضرت ابراہیمؑ ہجرت کر کے فلسطین چلے گئے انہوں نے حضرت ساراہ سے شادی کی. لیکن ان کے بچے نا ہوئے. پھر انہوں نے حضرت ہاجرہ سے شادی کی. لیکن ان کے بھی بچے نا ہوئے.
    ایک دن  حضرت ابراہیمؑ کے پاس دو مہمان آئے. انہوں نے سفید لباس پہنے ہوئے تھے. حضرت ابراہیمؑ نے ان کو نا پہچانا.
    حضرت ابراہیمؑ نے کھانا بنوایا. اور ان کے سامنے رکھا.لیکن انہوں نے کھانا نا کھایا.
    حضرت ابراہیمؑ کوان سے خوف محسوس ہوا.
    ان مہمانوں نے کہا کہ ڈریں نا ہم اللہ کی طرف بیجھے ہوئے فرشتے ہیں.
    حضرت ہاجرہ یہ سن کر ہنس پڑیں . فرشتوں نے ان کی طرف دیکھا اور کہا ہم آپ کو ایک بیٹے کی بشارت دیتے ہیں. یہ سن کر حضرت ہاجرہ شرما گئیں اور کہنے لگیں کہ اب میرا بیٹا کیسے پیدا ہو سکتا ہے. کیوں کہ میرا شوہر اور میں دونوں ہی بوڑھے ہو چکے ہیں.
    فرشتوں نے کہا کہ جب اللہ کسی کام کو کرنے کا ارادہ کر لیتا ہے تو وہ بس اس کام کو کہتا ہے کہ ہو جا اور وہ کام ہو جاتا ہے.
    یہ کہ کر فرشتے حضرت لوطؑ کی قوم کی طرف چلے گئے.
    پھر حضرت ہاجرہ کا بیٹا ہوا جس کا نام انہوں نے اسمائیلؑ رکھا.
    اس کے بعد حضرت سارا کا بھی ایک بیٹا ہوا. جس کا نام اسحاقؑ رکھا گیا.
    اس طرح حضرت ابراہیمؑ کے دونوں بیٹے بھی اللہ کے نبی بنے.
    حضرت اسحاقؑ کے بیٹوں کے بیٹوں اور ان نکی نسل میں بہت سارے اور نبی بھی آئے جیسےحضرت یوسفؑ اور حضرت موسیٰؑ  وغیرہ.
    بنکہ حضرت اسمائیلؑ کی نسل میں سے بعد میں صرف ایک ہی نبی آئے. جو کہ آخری نبی حضرت محمدؐ تھے.
    حضرت اسماعیلؑ اور زم زم
    حضرت ابراہیمؑ اپنے دونوں بیٹوں حضرت اسحاقؑ اور حضرت اسماعیلؑ کے ساتھ فلسطین میں تھے. جب اللہ تعا لیٰ نے ان کو آزمائش میں ڈالا اور ان کو حکم دیا کہ حضرت اسماعیلؑ کو ان کی ماں کےساتھ فلسطین سے دور عرب کے شہر مکہ میں چھوڑ آؤ.
    حضرت ابراہیمؑ دونوں کو لے کر مکہ چلے گئے. مکہ کا یہ علاقہ پہاڑی تھا. دور دور تک پانی نہیں ملتا تھا. اس وجہ سے وہاں کوئی رہتا بھی نہیں تھا. بلکل سنسان  جگہ تھی. حضرت ابراہیمؑ اللہ کے حکم کے مطابق کچھ کھانا اور پانی ان دونوں کو دے کر آنے لگے. تو حضرت ہاجرہ نے ان سے پوچھا ہمیں کس کے آسرے پر یہاں چھوڑ کر جا رہے ہیں. انہوں نے کہا
    اللہ کے آسرے پر. یہ سن کر حضرت ہاجرہ نے کہا پھر ٹھیک ہے. اللہ ہمیں کبھی اکیلا نہیں چھوڑے گا.
    حضرت ابراہیمؑ نے ان ک لئے دعا کی کہ اللہ ان کی حفاظت فرمانا اور پھر چلے گئے.
     حضرت ہاجرہ وہاں بیٹھی اللہ کو یاد کرتی رہیں.کچھ وقت گزر گیا تو ان کے پاس کھانا اور پانی ختم ہو گیا.
    حضرت اسماعیلؑ کو بہت پیاس لگی تو وہ رونے لگے.  جب رو رو کر نڈھال ہونے لگے تو حضرت ہاجرہ ان کو لٹا کر پانی تلاش کرنے لگیں.ان کے دونوں طرف صفا اور مروہ پہاڑیاں تھیں.
    انہوں نے صفا کی پہاڑی پر چڑھ کر ادھر ادھر دیکھا لیکن

       حضرت ابراہیمؑ اور اسمائیلؑ کی قربانی
    حضرت اسمائیلؑ مکہ میں اپنی ماں ہاجرہ کےساتھ رہ رہے تھے. جب وہ تقریبا دس سال کے ہوئے تو ایک دن ان کے بابا حضرت ابراہیمؑ جو کہ اپنے دوسرے بیٹے حضرت اسحاقؑ کے ساتھ فلسطین میں رہتے تھے ان سے ملنے آئے.
    حضرت اسماعیلؑ بہت خوش ہوئے وہ پہلی مرتبہ اپنے بابا کو دیکھ رہے تھے.
    کچھ دیر کے بعد ان کے بابا نے ان سے کہا.
     بیٹا میں نے خواب میں دیکھا کہ میں تمہیں زبح کر رہا ہوں.
    لیکن میں نےاس بات کو حقیقت نا سمجھا.
    پھر اگلی رات بھی میں نے یہی خواب دیکھا. اور اسے اپنا خیال سمجھا.
    لیکن پھر تیسری رات بھی میں نے یہی خواب دیکھا.
    پھر میں یہ سمجھ گیا کہ یہ میرا خیال نہیں بلکہ اللہ کا حکم ہے.
    اب بتا تو کیا کہتا ہے
    حضرت اسماعیلؑ ایک بہادر اور فرماں بردار بیٹے تھے.
    انہوں نے اپنے بابا کو بہت پیار سے کہا کہ
    بابا آپ کو جو حکم اللہ سے ملا ہے آپ اس پر عمل کیجیئے
    انشاءاللہ آپ مجھے ثابت قدم دیکھیں گے.
    اس طرح حضرت ابراہیمؑ اپنے پیارے بیٹے حضرت اسماعیلؑ کو ذبح کرنے کے لئے چل پڑے
    رستے میں شیطان نے ان کو اللہ کا حکم ماننے سے روکنا چاہا
    شیطان آ کر حضرت ابراہیمؑ ک دل یہ وہم ڈالنے لگا کہ یہ سچا خواب نہیں ہے.
    لیکن اسی وقت وہاں پر  ایک فرشتہ جس کا نام  حضرت جبرائیلؑ ہے آگیا
    اس نے حضرت ابراہیمؑ کو بتایا کہ یہ شیطان آپ کو اللہ کا حکم ماننے سے روکنے آیا ہے.
    اس کو سات کنکر ماریں
    جب حضرت ابراہیمؑ نے اسکو سات کنکر مارے تو وہ غائب ہو گیا. لیکن تھوڑی آگے جا کے وہ پھر آ گیا
    پھر حضرت ابراہیمؑ نے اس کو سات کنکر مارے
    تو وہ غائب ہو گیا
    تھوڑا اور آگے گئے تو وہ شیطان مردود پھر آ گیا
    کہنے لگا گھر میں اس کی ماں انتظار کر رہی ہو گی
    آپ واپس جا کر ان کو کیا بتائیں گے.
    لیکن پھر جبرائیل کے کہنے پر حضرت ابراہیمؑ نے شیطان کو سات کنکر مارے
    اب شیطان مایوس ہو کر چلا گیا
    حضرت ابراہیمؑ اپنے بیٹے کو لے کر مینا کے مقام پر پہنچے
    حضرت اسماعیلؑ نے اپنے بابا سے کہا کہ اپنی آنکھوں پر پٹی باندھ لیجئے
    ایسا نا ہو میرا چہرا دیکھ کر آپ کو مجھ پر پیار آ جائے اور آپ کو ذبح کرنے میں مشکل ہو
    حضرت ابراہیمؑ نے آنکھوں پر پٹی باندھ لی
    ابھی وہ چھڑی چلانے ہی لگے تھے کہ آواز آئی
    کہ اے ابراہیمؑ تم سچے ہو اور تم نے اپنا خواب بھی سچا کر دیا.
    یہ آپ کی آزمائش تھی آپ اس آزمائش پر پورے اترے ہو.
    اب یہ آپ کے پاس ایک دنبہ ہے آپ اس کو ذبح کریں اور کھائیں اور اللہ کا شکر ادا کریں
    حضرت ابراہیمؑ نے دیکھا کہ ان کے پاس جنت سے آیا ہوا دنبہ کھڑا ہے. اور حضرت اسماعیلؑ پاس کھڑے ہنس
    تھےحضرت ابراہیمؑ اور حضرت اسماعیلؑ نے کعبہ تعمیر کیا.
    جب حضرت اسماعیلؑ جوان ہوئے تو اس وقت خانہ کعبہ کی جگہ سے بت ختم کرنے اور وہاں پر اللہ کا گھر تعمیر کرنے کا حکم ملا. دونوں باپ بیٹا اللہ کا گھر تعمیر کرنے لگے. حضرت اسماعیلؑ پتھر اٹھا کر پکڑانے لگ گئے. اور حضرت ابراہیمؑ ان پتھروں کو ٹھیک ٹھیک اندازے سے جوڑ کر خاںہ کعبہ کی دیواریں بنانے لگے.
    وہ دونوں اپنا کام بھی کرتے جاتے اور اللہ سے دعا بھی کرتے جاتے کہ
    اے اللہ ہمارے اس کام کو قبول فرما لے, اور اس گھر کو برکت والا کر دے, اور ہماری اولاد میں ایک ایسا پیغمبر بھیج دے جو ان کو پاک کر دے اور ان کو دانائی اور حکمت کی باتیں سکھائے اللہ نے ان کی دعا قبول فرما لی .
    اس کے بعد آج تک خانہ کعبہ دنیا کا سب سے زیادہ عزت والا گھر ہے. اللہ نےحضرت اسماعیلؑ کی اولاد میں سے ہمارے پیارے نبی حضرت محمدؐ
     بھیجے
    اللہ نے ان کو کتاب قرآن مجید  بھی دی.  جس میں اللہ نے زندگی گزارنے کے سارےاصول بھی بتا دئیے ہیں
    حضرت محمدؐ نےلوگوں کو یہ بھی بتا دیا ک خانہ کعبہ میں جا کر  حج کیسے کرنا ہے.
    اب ہر سال لوگ ذوالحجہ کے مہینے میں خانه کعبہ جاتے ہیں اور حضرت ابراہیمؑ اور حضرت اسماعیلؑ کی سنت پوری کرتے ہیں.
    خانہ کعبہ کا طواف, صفا اور مروا کی سعی, جمرات اور جانوروں کی قربانی سب کچھ حضرت ابراہیمؑ اور حضرت اسماعیلؑ کی یاد میں ادا کئے جانے والے ارکان ہیں

      اگر آپ بچوں کی پڑھائی ور تعلیم و تربیت کے متعلق مزید
    videos
    تخلیقی مواد ور بچوں کو پڑھانے
    کے طریقوں کے متعلق مواد چاھتے ہیں
    تومیری انگلش کی ویب سائٹ پر تشریف لے جائیں.

  • Abraha ki faoj. Free pdf Urdu Islamic stories for children.

    ہاتھی اور ابابیل  
    ابرہہ ایک بہادرلیکن مغرور جنرل تھا. اس کے پاس لڑنے کے لیئے بہادر فوجی اور ہاتھی تھے.جو وہ افریقہ سے لے کر آیا تھا

     

    islami urdu kahania

     

    اس نے یمن پر قبضہ کر کے وہاں ایک بہت بڑا گرجا بنوایا تھا. وہ عربیوں کو مجبور کرتا کہ سب اس کے گرجا گھر میں آ کر عبادت کریں. اور جب بہت سارے لوگ عبادت کرتے تو وہ فخر سے کہتا کہ میرا گرجا دنیاکا سب سے بڑا عبادت خانہ ہے.

    لیکن ایک دن ایک عربی نے اس کو کہا کہ عرب کے شہر مکہ میں اس سے بھی بڑا ایک عبادت خانہ ہے. جہاں ساری دنیا سے لوگ عبادت کرنے آتے ہیں. اس کو بہت غصہ آیا. اس نےکہا کہ اگر میں اس عبادت خانے کو توڑ دوں تو پھر سب لوگ یہاں ہی آئیں گے. اس لئے وہ اپنی ساری فوج اور ہاتھیوں کو لے کر چل پڑا. اس نے سب سے  بڑے ہاتھی محمود کو بھی لے لیا. تا کہ وہ اس کے زور سے عمارت گرا سکے. اور اس عربی کو بھی ساتھ لیا جس نے خانہ کعبہ کے بارے میں بتایا تھا. تا کہ اس سے راستہ پوچھ سکے.
    مکہ کے قریب پہنچ کر اس نے مکہ والوں کو پیغام بیجھا کہ میں تم لوگوں کو کچھ نہیں کہوں گا اگر تم لوگ مجھے خانہ کعبہ ڈھانے دو گے.
    اس وقت عبدالمطلب خانہ کعبہ کے متولی اور سردار تھے. لوگوں نے ان سے کہا کہ ہاتھیوں والی فوج سےلڑنے کی ہم میں طاقت نہیں. حضرت عبدالمطلب نے اس سے کہا کہ تم سب اپنے مال لےکر پہاڑی پر چلےجائو. حضرت عبدالمطلب خود ساری رات خانہ کعبہ کے اندر بیٹھ کر دعا کرتے رہے. کہ اے اللہ یہ تیرا گھر ہے تو ہی اس کی حفاظت فرما. اللہ نے ان کی دعا قبول فرمائی .
     اور ہاتھی والی فوج حال خراب کر دیا.
    سب سے پہلے ابرہہ نےآگے بڑھنے کے فوج کو تیار کیا.جس عربی کو وہ ساتھ لائے تھے اس نے چپکے سے  ہاتھی محمود کےکان میں کیا کہ خبرداریہ تمھارے خالق کا گھر ہے آگے مت بڑھنا.
    فوج نے بہت زور لگایا. مار مار کر لہولہان کر دیا لیکن ہاتھی آگے نا بڑھا.
    ابرہہ اور اس کے ساتھی بہت غصہ میں تھے.
    اسی وقت اللہ نے ان کے پیچھے سے بے شمار ابابیل پرندے بھیج دیئے جنہوں نے اپنی چونچ میں چھوٹے چھوٹے پتھر پکڑے ہوئے تھے.
    وہ پتھر فوج کے اوپر پیھنکےلگے. تھوڑی دیر میں وہ سب فوجی پتھر کھا کھا کے وہ وہیں مر گئے.
    ایک پتھر ابرہہ کے سر میں لگا جس سے وہ بہت زخمی ہو گیا اور ڈر کر وہاں سے بھاگ گیا.
    اور کچھ دنوں بعد راستے میں ہی مر گیا. اس طرح اللہ تعالٰی نے اپنے گھر کی -حفاظت کی.
    ادیبہ انور 
    اس کہانی کے بعد  بچوں سے سوال جواب سے  بچوں کی معلومات بڑھائیں 
    بچوں کو  الفیل یاد کروائی جائیں اور آسان تخلیکی مشق کروائی جیے 
    اس مشاق میں ہاتھی ابابیل اور اس کا گھونسلا اور خانہ کعبہ بنوایا جایے 
    اس کے علاوہ اللہ کا پہلا  اور لوگوں کے  سب سے بڑھے عبادت خانے کے بارے میں بتایا جایے 
    اس کہانی  کو لوگوں کے ساتھ شیر  کریں تا کہ زیادہ لوگ فائدہ اٹھا سکیں
      اگر آپ بچوں کی پڑھائی ور تعلیم و تربیت کے متعلق مزید
    تخلیقی مواد ور بچوں کو پڑھانے
    کے طریقوں کے متعلق مواد چاھتے ہیں
    کمنٹ کریں
    free PDF kay liy click kerin
      

    My Urdu channel for stories and Islamic video

    My English Channel for Islamic crafts, parenting and Stories

    Read more stories in Stories section above. You can join my stories live sessions comment for info.

  • Hazrat Sulemon A.S. Free PDF Islamic stories for children in Urdu.


     حضرت سلیمان الہسلا م کی کہانی 

    حضرت سلیمانؑ ایک اللہ کے ایک طاقت ور, عقلمند اور بہت زیادہ علم والے نبی تھے

    free Urdu stories for children

    . ان کے باباحضرت دائودؑ بھی بھی اللہ کے نبی اور بادشاہ تھے


    . اور وہ جانوروں کی بولی بھی سمجھتے تھے
    حضرت سلیمانؑ نے بھی جانوروں کی بولیاں سیکھی ہوئی تھیں.
    انہوں نے اللہ سے دعا کی کہ اے اللہ مجھے ایسی حکومت عطا فرما. جو پہلے کسی کو نا دی ہو اور نا میرے بعد کسی کو ملے.
    اللہ نے ان کی دعا قبول کی. اور ان کو ہوائوں , جنوں اور تمام مخلوقات کا بادشاہ بنا دیا.
    اب جن ان کے پاس ہر وقت حاضر رہتے اور ان کی ہر بات مانتے. جب وہ کسی کام کا حکم دیتے تو جن کہتے
    “جو حکم میرے آقا”
    حضرت سلیمانؑ ان کو حکم دیتے, تو وہ زمین کے اندر سے ان کے لیے لوہا نکال کر لاتے اور اس سے اونچی اونچی عمارتیں بناتے.
     ہوائیں  ہوائی جہاز سے بھی تیز چلتیں اور  ان کو
     اڑا کر لے جاتیں. پرندے اور جانور ان سے باتیں کرتےتھے

    حضرت سلیمانؑ اور چونٹی!

    ایک دفعہ حضرت سلیمانؑ اپنی فوج کے ساتھ گھوڑوں پر بیٹھ کر کہیں جا رہے تھے.
    راستے میں ایک جگہ چونٹیوں کی بستی تھی.وہاں بہت ساری چونٹیاں رہتی تھیں.
    چونٹیوں کو گھوڑوں کے چلنے کی آواز آئی.
    تو چونٹیوں کی ملکہ بل سے باہر نکلی, اس نے دیکھا کہ,  حضرت سلیمانؑ ایک بہت بڑی فوج کے ساتھ آ رہے ہیں.
    اس نے اعلان کیا کہ سب چونٹیاں اپنی بلوں کے اندر چلی جائو. ایسا نا ہو کہ, سلیمانؑ کی فوج تمہیں پائوں میں روند کر چلی جائے.
    حضرت سلیمانؑ نے اللہ کی دی ہوئی طاقت سے, دور سے ہی چنٹیوں کی یہ گفتگو سن لی تھی. وہ مسکرانے لگے. انہوں اپنی فوج کو حکم دیا کہ راستہ بدل لو. آگے چونٹیاں رہتی ہیں.
    ساری فوج نے اپنا راستہ بدل لیا اور اس طرح چنٹیوں کی بستی بچ گئی.


    حضرت سلیمانؑ اور مچھلی.

    حضرت سلیمانؑ اللہ کی نعمتوں پر بہت خوش تھے. اور اللہ کے شکر گزار بھی تھے.
    ایک دفعی حضرت سلیمانؑ نے اللی سے کہا کہ,
    “اے اللہ تم نے مجھے بےشمار نعمتیں دی ہیں . میں چاہتا ہوں کہ ان نعمتوں سے میں ایک دن کے لیے تیری ساری مخلوق کی دعوت کروں”.
    اللہ نے ان سے کہا کہ,
    “سلیمان ساری مخلوق کو صرف میں ہی رزق دیتا ہوں. تم ایسا نہیں کر سکو گے” .
    پھر ان کے اصرار پر اللہ نے ان کو اجازات دے دی.
    حضرت سلیمانؑ کی دعوت کھانے سب سے پہلے ایک مچھلی آئی.
    حضرت سلیمانؑ نے اس کو کھانا ڈالا. وہ سب کھا گئی. اس نے اور مانگا.حضرت سلیمان نے اس کو پہلے سے بھی زیادہ کھانا ڈالا.  مچھلی وہ سب  بھی  کھا گئی.
    مچھلی نے اور کھانا مانگا. اسطرح وہ بہت سارا کھانا کھا گئی.
    حضرت سلیمانؑ یہ دیکھ کر بہت حیران ہوئے. اور مچھلی سے کہنے لگے کہ,
    ” اے مچھلی! تو ایک دن میں کتنا کھاتی ہے?”
    مچھلی کہنے لگی کہ,
    “اللہ کے نبی, میرا اللہ تو روز مجھے کھلاتا ہے. اس نے تو آج  تک مجھ سے حساب نہیں کیا. اور تم نے ایک دن کھلا کر ہی حساب لینا شروع کر دیا”?
    .       حضرت سلیمانؑ کو اب اللہ کی عظمت اورشان پہلے سے بھی زیادہ بڑی نظرآئی.
    اور اللہ سے فرمایا,
    “اے اللہ تو نے سچ کہا تھا. یہ صرف تو ہے جو ساری مخلوق کو کھلاتا ہے. اور 
    حساب بھی نہیں کرتا..

    حضرت سلیمانؑ اور ملکہ بلقیس

    حضرت سلیمانؑ تمام مخلوقات کے بادشاہ اور اللہ کے نبی تھے.
    ایک دن حضرت سلیمانؑ نے سب انسانوں,جنوں اور مخلوقات کو حکم دیا کہ وہ میرے پاس حاضر ہوں. تو سب ان کے پاس جمع ہو گئے.حضرت سلیمانؑ نے دیکھا کہ ہدہد نہیں آیا.
    حضرت سلیمانؑ نے پوچھا کہ ہدہد کیوں نہیں آیا.
    کوا چونکہ ہدہد کو پسند نہیں کرتا تھا. اس لئے اس نے شکایت لگائی کہ, ہد ہد کو پیغام دیا تھا لیکن اس نے نا فرمانی کی ہے.
    حضرت سلیمانؑ نےحکم دیا کہ ہدہد کو بلایا جائے. اگر وہ بغیر کسی ٹھیک وجہ سے غیر حاضر ہے تو اس کو سخت سزا دی جائے.
    جب ہدہد آ گیا تو اس نے بتایا,کہ میں نے دیکھا کہ ایک ملک سباء کی ملکہ اور اس کے تمام لوگ بتوں کہ عبادت کر رہے تھے. اس لئے میں وہاں رک گیا تاکہ میں اس کہ خبر لا سکوں.
    حضرت سلیمانؑ ا س سے اب ناراض نہیں تھے.
    انہوں نے ایک خط لکھ کر ملکہ کو بیجھا. ملکہ نے وہ خط پڑھا تو اس میں بسم اللہ الرحمٰن الرحیم کے بعد لکھا تھا کہ تم بتوں کی عبادت چھوڑ کر صرف  ایک اللہ کی عبادت کرو نہیں تو ہم سے جنگ کے لئے تیار ہو جائو.
    ملکہ نےاس سے پہلے اللہ کا نام اور بسم اللہ  کبھی نہیں سنی تھی.
    اس نے اپنے وزیروں سے مشورہ کیا تو انہوں نے کہا کہ, اگر تو یہ بادشاہ سچ کہ رہا ہے تو واقعے ہی یہ ہمیں برباد کر دے گا.
     ملکہ بلقیس نے حضرات سلیمانؑ سے ملنے کا اراداہ کیا. وہ اپنے ملک سے نکلی تو حضرت سلیمانؑ کو اس کے آنے کی خبر مل گئی. انہوں نےسب جنوں اور انسانوں سے پوچھا کہ کون ہے جوملکہ کے یہاں پہنچنےسے پہلے اس کا تخت یہاں لا دے. ایک جن بولا میں ایک منٹ میں وہ تخت یہاں لا سکتا ہوں. اسی محفل میں ایک انساں جس کو اللہ نے علم اور نیکی کی وجہ سے بہت طاقت دی ہوئی تھی. وہ بولا کہ میں آپ کی آنکھ جپھکنے سے پہلےاللہ کےحکم سے اس تخت کو یہاں لا سکتا ہوں. پھر وہ شخص اس تخت اس کو لے آیا.
    اس تخت کو جہاں رکھا گیا اس کے راستے میں پانی کا ایک تالاب بنا دیا گیا.جس -کے اوپر شیشے کا خوبصورت رستہ بنا دیا گیا.
    پھر جب ملکہ بلقیس وہاں پہنچی تو اس کو پانی کے اس تالاب کےاوپر سے گزر کر تخت تک جانا تھا.اس نے اپنے پہنچے اٹھا لئے. جاب اس نےپائوں آگے رکھا تو شیشے کےراستے پر پائوں  پڑا وہ بہت شرمندہ ہوئی.
    اس طرح ملکہ بلقیس اس عجیب و غریب مگر شاندار ریاست دیکھ کر بہت متاثر ہوئی.
    اس نے مان لیا کہ یہ واقعے ہی اللہ کی عطا کردہ طاقت ہے. اور اس نے اسلام قبول 
      کر لیا
    اس طرح حضرت سلیمان کی دو عاقبول ہوئی  ان جیسی سلطنت اور نبوت کسی اور -کو نہیں ملی 

    اس کہانی کی لیے عملی کام ، تخلیقی کا م اور دوسری معلومات کی لیے میری Thefireflies .دوسری سائٹ پر تشریف لے جائیں 
     شکریہ..یا.
  • The story of Hazrat Younas A.S in Urdu with free pdf download. حضرت یونسؑ

     حضرت یونسؑ

    Urdu islami kahania


    ایک دفعہ کا زکر ہے،کہ !ایک جگہ ایک بستی تھی-
     جس کا نام نینوا تھا-
    – اس بستی کے -لوگ ایک اللہ کو بھول گئے تھے

    -اور بہت سے گندے کام کرنے لگ گئے تھے
    اللہ تعالیٰ نے ان کی ہدایت کے لئے ان کے 
    پاس حضرت یونسؑ کو بیجھا-وہ اللہ کے ایک
     نیک بندے تھے- انہوں نے بستی  والوں کو بتایا
     کہ بتوں کی عبادت چھوڑ کر صرف  ایک اللہ کی
    -عبادت کرو-اور گندے کم چھوڑ  کر الله کا حکم مانو
    – نہیں تو اللہ تم سب سے ناراض ہو جائے گا 
    -اور تم پر عذاب بیجھے گا 
    -لیکن ان لوگوں پر کوئی اثر نا ہوا
    -حضرت یونسؑ بہت سال ان کو سمجھاتے رہے
    – لیکن کوئی بھی ان کی بات نا سمجھا
    حضرت یونسؑ نینوا بستی کے لوگوں
     سے بہت ناراض ہو گئے-وہ لوگوں کو 
    -بتوں کے لئے سجدہ کرتے نہیں دیکھ سکتے تھے
    اسی  لئے ایک دن انہوں نے اللہ کی 
    -اجازات کے بغیر وہ بستی چھوڑ دی
    -اور کسی دوسری بستی جانے کا فیصلہ کیا
    -تا کے کسی اور بستی کے لوگوں کوالله کا حکم سنا سکیں  
    -وہ ایک بحری جہاز پر سوار ہو گئے
    -جب وہ جہاز سمندر کے درمیان پہنچا 
    -تو سمندر میں آچانک طوفان آ گیا 
    -اور جہاز زور زور سے ہلنے لگ گیا
    لوگوں نے اچانک طوفان آ جانے کی 
    وجہ سے سوچا ،کہ! ضرور کوئی غلام اپنے
    -مالک سے بھاگ کر آ گیا ہے 
    اسی لیے جہاز اس طرح اچانک بغیر کسی 
    وجہ کے ہلنے لگ گیا ہے-اگر وہ جہاز سے 
    -نکل جائے تو ہم سب بچ سکتے ہیں
    -لیکن وہاں ان کو کوئی بھی غلام نظر نہ آیا 
    انہوں نے یہ معلوم کرنے کے لئے کہ
     وہ غلام کون ہے،سب لوگوں کے نام لکھ کر
     پرچی نکالی-تو حضرت یونسؑ کا 
    نام نکلا- لوگوں نے دیکھا کہ یونسؑ تو غلام 
    -نہیں ہیں-انہوں نے دوبارہ پر چی نکالی
    -پھر حضرت یونس کا نام نکلا 
    -جب تین بار ہی حضرت یونسؑ کا نام نکلا
     -تو لوگوں نے حضرت یونسؑ کو پانی میں پھینک دیا
    پانی میں ایک بڑی سی  مچھلی نے
     حضرت یونسکونگل لیا-حضرت یونسؑ بہت 
    -پریشان ہوئے-مچھلی کے پیٹ میں بہت اندھیرا تھا
    ،حضرت یونسؑ بہت روئے-انہوں نے سوچا 
    کہ مجھے اللہ کے حکم کے بغیر بستی سے 
    -نہیں نکلنا چاہئےتھا-وہ رو رو کر اللہ سے دعا کرتے رہے
    -پھر ایک دن ایک فرشتہ ان کے پاس آیا
    . اس نے حضرت یونسؑ کو ایک دعا سکھائی
    -جو اسطرح  تھی 
    Dua and story of Hazrat younas
    اس دعاکے بار بر پڑھنے، اور بہت  زیادہ رو رو  
     کر الله سے معافی مانگنےکے بعد اللہ نے
     انہیں معاف کر دیا-مچھلی نے اللہ کے 
    حکم سے حضرت یونسؑ کو دریا کے باہر
     کنارے پر پھینک دیا-حضرت یونس بھوک 
    -اور پیاس کی وجہ سے بہت کمزور ہو گئے تھے
    اللہ کے حکم سے وہاں سمندرکے  کنارے 
    ایک درخت اگ آیا -جس سے آپ کو سایہ
    – اور پھل ملے ،اور آپ میں طاقت آ گئی
    -پھر حضرت یونسؑ اپنی بستی واپس چلے گیے 
    ،گئے-وہاں پہنچ کر آپ نے دیکھا 
     -کہ کافی لوگ مسلمان ہو چکے تھے 
    حضرت یونسؑ بہت خوش ہوئے اور اللہ کا شکر ادا کیا
    ادیبہ انور
    اس کہانی سے بچوں کو تین سبق ملے.
    ١. اللہ کے حکم کی کبھی بھی نافرمانی نہیں کرنی چاہی
    ٢. جو کام کرنے لگیں اس میں صبر اور انتظار سا کام لینا چاہینے ایک دن کامیابی ضرور ملتی ہیں
    ٣. جب بھی کسی مصیبت میں ہوں رو رو کر الله سے د عا کرنی چاہی اللہ مدد کرتا ہے.

    بچوں کی کہانی میں دلچسبی پیدا کرنے کے لیےعملی کام

     اس کہانی کے آخر میں بچوں  سےکا غذ کی  ایک کشتی بنوائی گئی  
    جس کا لنک نیچے دیا گیا ہے
    بچوں سے حضرت یونس الہاسلام کی دعوا کی ایک تختی بنوایے گئی 
    بچوں سے ایک مچھلی بھی بنوائی گئی .
    چھو ٹے بچوں سی کاغذ پر اور بڑے بچوں سے کپڑے کی سللائی کی  ہوئی
    مچھلی بنوائی گئ
    بچوں کو دولفینی شو کی سیر کروائیں یا پھر فش ایکویریم دیکھیں تا کو وہ اس سے لطف اندوز ہوں 
    بچوں سے د عا  یاد بھی کروائی جائے

      اگر آپ بچوں کی پڑھائی ور تعلیم و تربیت کے متعلق مزید
    videos
    تخلیقی مواد ور بچوں کو پڑھانے
    کے طریقوں کے متعلق مواد چاھتے ہیں
    تومیری انگلش کی ویب سائٹ پر تشریف لے جائیں.
       

    اس دعاکے بار بر پڑھنے، اور بہت  زیادہ رو رو کر الله سے معافی مانگنےکے بعد اللہ نےانہیں معاف کر دیا.مچھلی نے اللہ کے حکم سے حضرت یونسؑ کو دریا کے باہرکنارے پر پھینک دیا-حضرت یونس بھوک اور پیاس کی وجہ سے بہت کمزور ہو گئے تھے.
    اللہ کے حکم سے وہاں سمندرکے  کنارےایک درخت اگ آیا.جس سے آپ کو سایہ,اور پھل ملے ،اور آپ میں طاقت آ گئی.
    پھر حضرت یونسؑ اپنی بستی واپس چلے گیےگئے-وہاں پہنچ کر آپ نے دیکھا,کہ کافی لوگ مسلمان ہو چکے تھے .حضرت یونسؑ بہت خوش ہوئے اور اللہ کا شکر ادا کیا

  • Bachon ki taleem o Terbiayt. Parents role in Character buidling urdu.

    کیا ،کیوں، کیسےبچوں کو مطمئن کیسے کریں بچوں کی تربیت اور ہمارا کردار

    انسان کی پیدائش کے ساتھ ہے اس کے سیکھنے کا عمل شروع ہو جاتا ہے
    – بچہ جب پہلی آواز سنتا ہے  توغوروفکر پیدا ہو جاتی ہے
    جب وہ آنکہ کھولتا ہے تو حیران کن نظروں سے اردہ گرد کا جائزہ نا ہے… ایک ایک نقش اسکی آنکہ کے عدسےسے دماغ پر نقش ہو جاتا ہےس کے دماغ میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے


    یہ کیا ہے؟
    پھر ان تصویروں اور آوازو کے ملاپ سے ایک اگلا مرحلہ آتاہے جب وو سوچتا ہے
    یہ کیوں ہے ؟
    اور پھر وو چلتنی پھرنے کے قا بل ہوتا ہے اپنے اس تجسس کی کھوج شرو ع کر دیتا ہے. ہر چیز کو پکر کر چھو کر اور دیکھ  کر سمجھنے کی شروعات کرتا ہے
    اور جونہی اسکی زبان ساتھ دیتی ہے
    اس کے سارے سوال اسکی زبان پر آ جاتےہی-

    ١. یہ کیا ہے
    ٢. ایسا کیوں ہے؟
    ٣. یہ کس نے بنایا ہے؟
    ٤.کہاں ہے
    انسان کی ابتدا سے لے کر آخر تک یہ تجسس ور جا ن لینے کی خواہش ہمیشہ رہتی ہے-
    اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کے بچوں کو ان کے سوالوں کے مناسب جواب کیسے دے جائیں. یاد رکھیں بچے کی ہر ذہنی الجھن ا ور ہر دور کے تجسس کی گرہیں اس کی عمر ور اس کی ذہنی سطح کو مد نظررکھ کر دینا بہت ضروری ہی ورنہ اگر کسی ذہنی الجھن کا اس کو مناسب ا ور درست جواب نہ ملا تو اس کی شخصیت پر بھی اس  کے  برے اثرات مرتب ہوں گےاور بعض دفعہ غلط علم اورغلط معلومات اس کی تربیت اور کردار پر بھی اثر انداز ہوتی ہیں


    ماں اور باپ باغ کے ایسے مالی ہیں جو اپنے ہاتھوں سے پودالگاتے ہیں،اپنےخون اور پسینے سے اس کی آبیاری کرتے ہیں اور صحت تکلیفیں برداشت کر کے اس کو پروان چڑ ھاتے ہیں لکن اس کے ساتھ ہی ساتھ انکو اپنے ہاتھوں سے لگاے ہوۓ پودوں کی کانٹ چھانٹ بھی کرنی پڑتی ہےاور یہ کانت چھانٹ چوٹی عمر میں ضروری ہوتی ہے کیوں ک جب پودا برا ہو جاتا ہے تو اسکی شاخیں سخت ہوجاتیں ہیں اور ذرا سی سختی سے ٹوٹنے لگتی ہیں

    بچے کی تربیت میں ماں کا کردار کردار


    بچہ سب سے زیادہ ماں کی قریب ہوتا ہے ماں کا رویہ اور کردار سب سے زیادہ بچے کی تربیت پر اثر انداز ہوتاہے
    اوربچہ سب سے زیادہ اسی سے سوال پوچھتا ہے
    اس لیے یہ نہایت ضروری ہے کہ ماں بچے کے ہر سوال کا نہایت تحمل اور سمجھداری سے جواب دے.اس کے لیےماں کو خود بھی ایک با علم اور باشعورفرد بن کر  نئی علمی معلومات اور دینی تربیت کا سیکھنا ضروری ہے
    ماں علم و تربیت کا پہلا ستون ہے . ما ں کو رب نے محبت اور برداشت عطاکی ہے اسی قوت برداشت اور محبت سے سے وو اپنے بچے کو ایک اچھا انسان اور باشعور فرد بنا سکتی ہے.

    بچے کی تربیت میں باپ کا کردار 

    اکثر بچے اپنے باپ سے بہت زیادہ اثر قبول کرتے ہیں
    کیوں کہ باپ گھر کا سربراہ اور حکمران ہوتا ہےاور اس کا رعب اور دبدبہ بھی زیادہ ہوتا ہے یہی وجہ ہے ک بچے اپنے والد کے جیسا بنے کی کوشش کرتے ہیں اس کے ساتھ ہی مرد کا  کیوں کہ حلقہ احباب اور سرگرمیاں بھی زیادہ ہوتی ہیں. وہ با ہر کے ماحول اور تبدیلیوں سے بھی اگاہ ہوتا ہے یہی وجہ ہے کہ باپ زیادہ اچھے طریقے سے  بچے کی تعمیر و تربیت میں مثبت کردار ادا کر سکتا ہےلیکن عملی طورپر دیکھاگیا ہی کہ باپ ساری ذمہ داری ماں پر ڈال دیتے ہیں اور بعض دفعہ بہت زیادہ سختی سے کام لیتے ہیں  جس کی وجہ سے بچے ذہنی طور پر باپ سے دور ہو جاتے ہیں اور اسی  وجہ سے وو سوال جن کا جواب ایک باپ ہی دیےسکتا ہے اور ایسے مسائل جن کی تربیت صرف والد ہے کر سکتا ہی وہ ادھورے رہ جاتے ہیں اور پھر یہ اس بچے کی شخصیت میں ادھورے پن پیدا کر دیتے ہیں

    بچے کی تربیت میں ماحول کا کردار

    بچے کے تجسس کی کھوج اس کو چوٹی عمر میں ہے کبھی کچن کے دراز کھنگالنے’ کی طرف لے جاتی ہے اور کبھی باپ کے جوتے پہن کر چیزوں کے فرق کو سمجھنے کی کوشش کرتا ہے
    ایسے میں گھر کا ماحول ایسا ہونا چاہے جس میں وہ بآسانی چل پھر کر اپنے سوالوں کا جواب ڈھونڈ سکے اور ساتھ ہی بڑھتی ہوئی عمر میں گھر اور گھر کا ماحول دوست، رشتے دار سب بچے کی تربیت میں اثر انداز ہوتے ہیں
    اسی لیے گھر اور گھر کا ماحول ایسا ہونا چا ہیے جس میں بچے کی شخصیت نکھرے. اس سلسے میں ذرا سی سختی یا بلاوجہ سے روک ٹوک بچے کہ اس تجسس کی رہ میں رکاوٹ بنتی ہے
    جس کی وجہ سے یا تو بچے باغی ہو جاتے ہیں 
    اور یا پھر ان کی ذات میں ایسا خلاپیدا ہو جاتا ہے جس کی وجہ سے وہ معا شرے کے مثبت کردار ادا نہیں کر سکتے
    والدین خود دوست بنیں ان کے لیے گھر کا ماحول اچھا  دوست  بنائیں اور  اس سے پہلے ک وو اپنے سوالوں کا جواب  تلاش کرنے کے لیے غلطانداز اور اور طریقہ اپنائیں اگے بڑھ کر ہر وقت انکی مدد کو تیار رہیں ناں کہنے کی بجایے ہر وقت انکے ساتھ رہیں. مشبت جواب اور حوصلہ افزائی کے ساتھ ان کے ساتھ چلیں.نئےوقت اور  حالات کے تقاضوں کو سمجھیں
    تو بچہ خود کو اپ کے قریب کرے گا اور ہر کیوں کا جواب جاننے کے لیے آپ کے پاس ہی آیے گا
    آخر میں صرف اتنا ہی کہ جب انسان ذرا سی محنت اور پیا ر سے جانوروں کو سدھا سکتا ہے تو ذرا سی محںت  اور پیا ر ا پنے بچوں کے لیے کیوں نہیں

    ادیبہ انور

      اگر آپ بچوں کی پڑھائی ور تعلیم و تربیت کے متعلق مزید
    videos
    تخلیقی مواد ور بچوں کو پڑھانے
    کے طریقوں کے متعلق مواد چاھتے ہیں
    تومیری انگلش کی ویب سائٹ پر تشریف لے جائیں.

  • waldin kay Faraiz, The Duties of Parents in urdu To rais muslim Child. A guide for Parents.

    حقوق العباد 

    والدین کے فرائض

    تعلیم و تربیت والدین کی ذمہداری ہےوہ اس ذمہ داری کو

           کیسے پورا کریں 

    بچوں کی تعلیم ور تربیت والدین پر فرض  ہے .اسلام نے والدین پر اولاد  کے جو حقوق واجب کیے ہیں.  وہ یہ ہیں 

    ١. اچھا نام رکھنا ٢.   اچھی تعلیم و  تربیت دینا ٣. اور اچھی جگہ شادی کرنا   

    تعلیم  کے لیےآج بہت سارے ادارے بن چکے  ہیں جہاں ہم اپنے بچوں کو بھیجتےہیں  تو وہ دنیا کے سآرے علوم و فنون سیکھتا ہے جو اس کو یہ سیکھا دیتے ہیں کہ کس طرح زیادہ سے زیادہ کمایا جا سکتا ہےا ور آسائشیں حاصل کر کے اپنا معاشرتی مقام بلندکیا جا سکتا ہے لکن اس ساری دور بھاگ میں انسان یہ بھول گیا ہے ک تعلیم کے ساتھ تربیت بھی ضروری ہیں   اب وہ چند لوگ جو بچوں کی تربیت کو اہمیت دیتے ہیں ان میں سے بھی بعض ایسے ہیں جوصرف سوری بولنے، شکریہ بھولنےا ور زیادہ سے زیادہ جھوٹ ، چوری، اور تمیز سے بات کرنے کو ہی تربیت کہتے ہیں جب کہ اسلامی نقطہنظر سے تربیت کے معنی ہیں اخلاق اور تہذیب سیکھنا   یہ اس انسان کے والدین اور عزیزوں کی ذمہ داری ہے کہ اس کی اچھی تربیت کرکے اس کو خوش بخت بنائےیا اپنی ذمہ داری کو انجام نہ دیتے ہوئے اس کی بری تربیت کرکے اس کو بد بخت بنائیں۔ تربیت کرنے کے لئے بھی سیرت اور نمونہ عمل کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ اس نمونہ عمل کو سامنے رکھ کر اور اس کی روش وفرامین کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنے بچے کی تربیت کرسکے ۔ خدا کے فضل سے مسلمانوں کے لئے بلکہ پوری انسانیت کے لئے خدا نے نمونہ کی نشاندہی کر دی ہے لقد کان لکم فی رسول اللّٰہ اسوۃ حسنۃ(احزب ٢١) تمہارے لئے رسول اللہؐ بہترین نمونہ عمل ہیں ۔رسولؐ نے جن کی تربیت کی ہے ان شخصیات کو دیکھنے کے بعد ہمیں اندازہ ہو تا ہے کہ آپ نے کتنی بہترین تربیت کی ہے اور ان کی تربیت کی مثا ل دنیامیں نہیں ملتی 
    اس کی ذمہ داری ماں اور باپ دونوں پر آتی ہے مگرآج کے انسسان کو دنیا کی آسایشوں  نے اتنا غافل کر دیا ہے کہ اس نے آسائشیں مہیا کرنے اور دنیاوی تعلیم کو ہی اپنی ذمہداریسمجھ لیا ہے جب کے تربیتکا مطلب ہے بچے کو ایسا انسان بنانا جس میں صبرہو،اخلاص ہوتوکل ہو،قوت برداشت ہوجو دنیا میںرہتے ھوے بھی دنیا کا نہ ہو،جو  بہادربھی ہو اور دردمند بھی جو حق کے لیے لرنے والا بھی ہو اور معاف کرنے والا بھی ،جس میں شرم اور حیا بھی ہو  کوئی بھی والدین یہ نہیں چاہتا کہ اسکی اولاد غلط راستے پر چلے یا اس کو غلط تربیت ملی… لکن افسوس یہ ہے کہ آج والدین خود ہی غلط اور صحیی کا فرق بھول گے ہیں بس دنیا کے بہاؤکے ساتھ چلے جا رہیے ہیں…… نماز، روزہ، حج زکاتہ ادا کر کے دین مکمل نہیں ہوتا دین مکمل ہوتا ہے اسوہ رسول اپنا کر .. اور  امر بالمعروف ونہی عن المنکر اپنا کر 
    یاد رکھیں ہماری اولاد ہمارے لیے صدقہ جاریہ ہے اسے آخرت کے لیےتیار کریں نا کہ دنیا کےلیے والد کی ذمہ داری ماں اور باپ دونوں پر ایک جتنی ہے ماں کی تربیت گود سے شروع ہوتی ہے اور باپ کی انگلی پکڑ کر چلنے سے لے کر با لغ ہونے تک اپنی اپنی ذمہ داری کے بارے میں دونوں ہی اللہ کے سامنے جواب دہ ہوں گے اس کے لیے ضروری ہے کہ اپنا مقام و مرتبہ پہچانیں خود سیکھیں عمل کریں اور اولاد کو سکھائیں کوئی بھی اسکول  یا کالج آپ کے بچے کو ایسی تربیت نہیں دے سکتا جو دنیا اور آخرت دونوں کے لائی کافی ہو… والدین جو سکھاتیں ہیں وہ تا عمریاد رہتا ہے والدین بنننا خوش قسمتی ہے اس سے بھی بری خوش قسمتی ہے کہ اولاد ہماری آخرت میں بہشش کا ذریعہ بن جایے قران میں بیان ہوا ہے کہ  تماری اولاد  ، بیویاںاور مال و دولت تمہارے لیے آزمائش ہیں… اس آزمائشپر پورا اتریں خود علم سیکھیں اور بچوں کوسیکھائیں پوسٹ کو دوسروں کے ساتھ شیرکریں تا کہ زیادہ سے زیادہ لوگ اس سے استفادہ حاصل کر سکیں 

                                (ادیبہ انور)