Tag: Freereadingstories

  • Hazrat Sulemon A.S. Free PDF Islamic stories for children in Urdu.


     حضرت سلیمان الہسلا م کی کہانی 

    حضرت سلیمانؑ ایک اللہ کے ایک طاقت ور, عقلمند اور بہت زیادہ علم والے نبی تھے

    free Urdu stories for children

    . ان کے باباحضرت دائودؑ بھی بھی اللہ کے نبی اور بادشاہ تھے


    . اور وہ جانوروں کی بولی بھی سمجھتے تھے
    حضرت سلیمانؑ نے بھی جانوروں کی بولیاں سیکھی ہوئی تھیں.
    انہوں نے اللہ سے دعا کی کہ اے اللہ مجھے ایسی حکومت عطا فرما. جو پہلے کسی کو نا دی ہو اور نا میرے بعد کسی کو ملے.
    اللہ نے ان کی دعا قبول کی. اور ان کو ہوائوں , جنوں اور تمام مخلوقات کا بادشاہ بنا دیا.
    اب جن ان کے پاس ہر وقت حاضر رہتے اور ان کی ہر بات مانتے. جب وہ کسی کام کا حکم دیتے تو جن کہتے
    “جو حکم میرے آقا”
    حضرت سلیمانؑ ان کو حکم دیتے, تو وہ زمین کے اندر سے ان کے لیے لوہا نکال کر لاتے اور اس سے اونچی اونچی عمارتیں بناتے.
     ہوائیں  ہوائی جہاز سے بھی تیز چلتیں اور  ان کو
     اڑا کر لے جاتیں. پرندے اور جانور ان سے باتیں کرتےتھے

    حضرت سلیمانؑ اور چونٹی!

    ایک دفعہ حضرت سلیمانؑ اپنی فوج کے ساتھ گھوڑوں پر بیٹھ کر کہیں جا رہے تھے.
    راستے میں ایک جگہ چونٹیوں کی بستی تھی.وہاں بہت ساری چونٹیاں رہتی تھیں.
    چونٹیوں کو گھوڑوں کے چلنے کی آواز آئی.
    تو چونٹیوں کی ملکہ بل سے باہر نکلی, اس نے دیکھا کہ,  حضرت سلیمانؑ ایک بہت بڑی فوج کے ساتھ آ رہے ہیں.
    اس نے اعلان کیا کہ سب چونٹیاں اپنی بلوں کے اندر چلی جائو. ایسا نا ہو کہ, سلیمانؑ کی فوج تمہیں پائوں میں روند کر چلی جائے.
    حضرت سلیمانؑ نے اللہ کی دی ہوئی طاقت سے, دور سے ہی چنٹیوں کی یہ گفتگو سن لی تھی. وہ مسکرانے لگے. انہوں اپنی فوج کو حکم دیا کہ راستہ بدل لو. آگے چونٹیاں رہتی ہیں.
    ساری فوج نے اپنا راستہ بدل لیا اور اس طرح چنٹیوں کی بستی بچ گئی.


    حضرت سلیمانؑ اور مچھلی.

    حضرت سلیمانؑ اللہ کی نعمتوں پر بہت خوش تھے. اور اللہ کے شکر گزار بھی تھے.
    ایک دفعی حضرت سلیمانؑ نے اللی سے کہا کہ,
    “اے اللہ تم نے مجھے بےشمار نعمتیں دی ہیں . میں چاہتا ہوں کہ ان نعمتوں سے میں ایک دن کے لیے تیری ساری مخلوق کی دعوت کروں”.
    اللہ نے ان سے کہا کہ,
    “سلیمان ساری مخلوق کو صرف میں ہی رزق دیتا ہوں. تم ایسا نہیں کر سکو گے” .
    پھر ان کے اصرار پر اللہ نے ان کو اجازات دے دی.
    حضرت سلیمانؑ کی دعوت کھانے سب سے پہلے ایک مچھلی آئی.
    حضرت سلیمانؑ نے اس کو کھانا ڈالا. وہ سب کھا گئی. اس نے اور مانگا.حضرت سلیمان نے اس کو پہلے سے بھی زیادہ کھانا ڈالا.  مچھلی وہ سب  بھی  کھا گئی.
    مچھلی نے اور کھانا مانگا. اسطرح وہ بہت سارا کھانا کھا گئی.
    حضرت سلیمانؑ یہ دیکھ کر بہت حیران ہوئے. اور مچھلی سے کہنے لگے کہ,
    ” اے مچھلی! تو ایک دن میں کتنا کھاتی ہے?”
    مچھلی کہنے لگی کہ,
    “اللہ کے نبی, میرا اللہ تو روز مجھے کھلاتا ہے. اس نے تو آج  تک مجھ سے حساب نہیں کیا. اور تم نے ایک دن کھلا کر ہی حساب لینا شروع کر دیا”?
    .       حضرت سلیمانؑ کو اب اللہ کی عظمت اورشان پہلے سے بھی زیادہ بڑی نظرآئی.
    اور اللہ سے فرمایا,
    “اے اللہ تو نے سچ کہا تھا. یہ صرف تو ہے جو ساری مخلوق کو کھلاتا ہے. اور 
    حساب بھی نہیں کرتا..

    حضرت سلیمانؑ اور ملکہ بلقیس

    حضرت سلیمانؑ تمام مخلوقات کے بادشاہ اور اللہ کے نبی تھے.
    ایک دن حضرت سلیمانؑ نے سب انسانوں,جنوں اور مخلوقات کو حکم دیا کہ وہ میرے پاس حاضر ہوں. تو سب ان کے پاس جمع ہو گئے.حضرت سلیمانؑ نے دیکھا کہ ہدہد نہیں آیا.
    حضرت سلیمانؑ نے پوچھا کہ ہدہد کیوں نہیں آیا.
    کوا چونکہ ہدہد کو پسند نہیں کرتا تھا. اس لئے اس نے شکایت لگائی کہ, ہد ہد کو پیغام دیا تھا لیکن اس نے نا فرمانی کی ہے.
    حضرت سلیمانؑ نےحکم دیا کہ ہدہد کو بلایا جائے. اگر وہ بغیر کسی ٹھیک وجہ سے غیر حاضر ہے تو اس کو سخت سزا دی جائے.
    جب ہدہد آ گیا تو اس نے بتایا,کہ میں نے دیکھا کہ ایک ملک سباء کی ملکہ اور اس کے تمام لوگ بتوں کہ عبادت کر رہے تھے. اس لئے میں وہاں رک گیا تاکہ میں اس کہ خبر لا سکوں.
    حضرت سلیمانؑ ا س سے اب ناراض نہیں تھے.
    انہوں نے ایک خط لکھ کر ملکہ کو بیجھا. ملکہ نے وہ خط پڑھا تو اس میں بسم اللہ الرحمٰن الرحیم کے بعد لکھا تھا کہ تم بتوں کی عبادت چھوڑ کر صرف  ایک اللہ کی عبادت کرو نہیں تو ہم سے جنگ کے لئے تیار ہو جائو.
    ملکہ نےاس سے پہلے اللہ کا نام اور بسم اللہ  کبھی نہیں سنی تھی.
    اس نے اپنے وزیروں سے مشورہ کیا تو انہوں نے کہا کہ, اگر تو یہ بادشاہ سچ کہ رہا ہے تو واقعے ہی یہ ہمیں برباد کر دے گا.
     ملکہ بلقیس نے حضرات سلیمانؑ سے ملنے کا اراداہ کیا. وہ اپنے ملک سے نکلی تو حضرت سلیمانؑ کو اس کے آنے کی خبر مل گئی. انہوں نےسب جنوں اور انسانوں سے پوچھا کہ کون ہے جوملکہ کے یہاں پہنچنےسے پہلے اس کا تخت یہاں لا دے. ایک جن بولا میں ایک منٹ میں وہ تخت یہاں لا سکتا ہوں. اسی محفل میں ایک انساں جس کو اللہ نے علم اور نیکی کی وجہ سے بہت طاقت دی ہوئی تھی. وہ بولا کہ میں آپ کی آنکھ جپھکنے سے پہلےاللہ کےحکم سے اس تخت کو یہاں لا سکتا ہوں. پھر وہ شخص اس تخت اس کو لے آیا.
    اس تخت کو جہاں رکھا گیا اس کے راستے میں پانی کا ایک تالاب بنا دیا گیا.جس -کے اوپر شیشے کا خوبصورت رستہ بنا دیا گیا.
    پھر جب ملکہ بلقیس وہاں پہنچی تو اس کو پانی کے اس تالاب کےاوپر سے گزر کر تخت تک جانا تھا.اس نے اپنے پہنچے اٹھا لئے. جاب اس نےپائوں آگے رکھا تو شیشے کےراستے پر پائوں  پڑا وہ بہت شرمندہ ہوئی.
    اس طرح ملکہ بلقیس اس عجیب و غریب مگر شاندار ریاست دیکھ کر بہت متاثر ہوئی.
    اس نے مان لیا کہ یہ واقعے ہی اللہ کی عطا کردہ طاقت ہے. اور اس نے اسلام قبول 
      کر لیا
    اس طرح حضرت سلیمان کی دو عاقبول ہوئی  ان جیسی سلطنت اور نبوت کسی اور -کو نہیں ملی 

    اس کہانی کی لیے عملی کام ، تخلیقی کا م اور دوسری معلومات کی لیے میری Thefireflies .دوسری سائٹ پر تشریف لے جائیں 
     شکریہ..یا.
  • The story of Hazrat Younas A.S in Urdu with free pdf download. حضرت یونسؑ

     حضرت یونسؑ

    Urdu islami kahania


    ایک دفعہ کا زکر ہے،کہ !ایک جگہ ایک بستی تھی-
     جس کا نام نینوا تھا-
    – اس بستی کے -لوگ ایک اللہ کو بھول گئے تھے

    -اور بہت سے گندے کام کرنے لگ گئے تھے
    اللہ تعالیٰ نے ان کی ہدایت کے لئے ان کے 
    پاس حضرت یونسؑ کو بیجھا-وہ اللہ کے ایک
     نیک بندے تھے- انہوں نے بستی  والوں کو بتایا
     کہ بتوں کی عبادت چھوڑ کر صرف  ایک اللہ کی
    -عبادت کرو-اور گندے کم چھوڑ  کر الله کا حکم مانو
    – نہیں تو اللہ تم سب سے ناراض ہو جائے گا 
    -اور تم پر عذاب بیجھے گا 
    -لیکن ان لوگوں پر کوئی اثر نا ہوا
    -حضرت یونسؑ بہت سال ان کو سمجھاتے رہے
    – لیکن کوئی بھی ان کی بات نا سمجھا
    حضرت یونسؑ نینوا بستی کے لوگوں
     سے بہت ناراض ہو گئے-وہ لوگوں کو 
    -بتوں کے لئے سجدہ کرتے نہیں دیکھ سکتے تھے
    اسی  لئے ایک دن انہوں نے اللہ کی 
    -اجازات کے بغیر وہ بستی چھوڑ دی
    -اور کسی دوسری بستی جانے کا فیصلہ کیا
    -تا کے کسی اور بستی کے لوگوں کوالله کا حکم سنا سکیں  
    -وہ ایک بحری جہاز پر سوار ہو گئے
    -جب وہ جہاز سمندر کے درمیان پہنچا 
    -تو سمندر میں آچانک طوفان آ گیا 
    -اور جہاز زور زور سے ہلنے لگ گیا
    لوگوں نے اچانک طوفان آ جانے کی 
    وجہ سے سوچا ،کہ! ضرور کوئی غلام اپنے
    -مالک سے بھاگ کر آ گیا ہے 
    اسی لیے جہاز اس طرح اچانک بغیر کسی 
    وجہ کے ہلنے لگ گیا ہے-اگر وہ جہاز سے 
    -نکل جائے تو ہم سب بچ سکتے ہیں
    -لیکن وہاں ان کو کوئی بھی غلام نظر نہ آیا 
    انہوں نے یہ معلوم کرنے کے لئے کہ
     وہ غلام کون ہے،سب لوگوں کے نام لکھ کر
     پرچی نکالی-تو حضرت یونسؑ کا 
    نام نکلا- لوگوں نے دیکھا کہ یونسؑ تو غلام 
    -نہیں ہیں-انہوں نے دوبارہ پر چی نکالی
    -پھر حضرت یونس کا نام نکلا 
    -جب تین بار ہی حضرت یونسؑ کا نام نکلا
     -تو لوگوں نے حضرت یونسؑ کو پانی میں پھینک دیا
    پانی میں ایک بڑی سی  مچھلی نے
     حضرت یونسکونگل لیا-حضرت یونسؑ بہت 
    -پریشان ہوئے-مچھلی کے پیٹ میں بہت اندھیرا تھا
    ،حضرت یونسؑ بہت روئے-انہوں نے سوچا 
    کہ مجھے اللہ کے حکم کے بغیر بستی سے 
    -نہیں نکلنا چاہئےتھا-وہ رو رو کر اللہ سے دعا کرتے رہے
    -پھر ایک دن ایک فرشتہ ان کے پاس آیا
    . اس نے حضرت یونسؑ کو ایک دعا سکھائی
    -جو اسطرح  تھی 
    Dua and story of Hazrat younas
    اس دعاکے بار بر پڑھنے، اور بہت  زیادہ رو رو  
     کر الله سے معافی مانگنےکے بعد اللہ نے
     انہیں معاف کر دیا-مچھلی نے اللہ کے 
    حکم سے حضرت یونسؑ کو دریا کے باہر
     کنارے پر پھینک دیا-حضرت یونس بھوک 
    -اور پیاس کی وجہ سے بہت کمزور ہو گئے تھے
    اللہ کے حکم سے وہاں سمندرکے  کنارے 
    ایک درخت اگ آیا -جس سے آپ کو سایہ
    – اور پھل ملے ،اور آپ میں طاقت آ گئی
    -پھر حضرت یونسؑ اپنی بستی واپس چلے گیے 
    ،گئے-وہاں پہنچ کر آپ نے دیکھا 
     -کہ کافی لوگ مسلمان ہو چکے تھے 
    حضرت یونسؑ بہت خوش ہوئے اور اللہ کا شکر ادا کیا
    ادیبہ انور
    اس کہانی سے بچوں کو تین سبق ملے.
    ١. اللہ کے حکم کی کبھی بھی نافرمانی نہیں کرنی چاہی
    ٢. جو کام کرنے لگیں اس میں صبر اور انتظار سا کام لینا چاہینے ایک دن کامیابی ضرور ملتی ہیں
    ٣. جب بھی کسی مصیبت میں ہوں رو رو کر الله سے د عا کرنی چاہی اللہ مدد کرتا ہے.

    بچوں کی کہانی میں دلچسبی پیدا کرنے کے لیےعملی کام

     اس کہانی کے آخر میں بچوں  سےکا غذ کی  ایک کشتی بنوائی گئی  
    جس کا لنک نیچے دیا گیا ہے
    بچوں سے حضرت یونس الہاسلام کی دعوا کی ایک تختی بنوایے گئی 
    بچوں سے ایک مچھلی بھی بنوائی گئی .
    چھو ٹے بچوں سی کاغذ پر اور بڑے بچوں سے کپڑے کی سللائی کی  ہوئی
    مچھلی بنوائی گئ
    بچوں کو دولفینی شو کی سیر کروائیں یا پھر فش ایکویریم دیکھیں تا کو وہ اس سے لطف اندوز ہوں 
    بچوں سے د عا  یاد بھی کروائی جائے

      اگر آپ بچوں کی پڑھائی ور تعلیم و تربیت کے متعلق مزید
    videos
    تخلیقی مواد ور بچوں کو پڑھانے
    کے طریقوں کے متعلق مواد چاھتے ہیں
    تومیری انگلش کی ویب سائٹ پر تشریف لے جائیں.
       

    اس دعاکے بار بر پڑھنے، اور بہت  زیادہ رو رو کر الله سے معافی مانگنےکے بعد اللہ نےانہیں معاف کر دیا.مچھلی نے اللہ کے حکم سے حضرت یونسؑ کو دریا کے باہرکنارے پر پھینک دیا-حضرت یونس بھوک اور پیاس کی وجہ سے بہت کمزور ہو گئے تھے.
    اللہ کے حکم سے وہاں سمندرکے  کنارےایک درخت اگ آیا.جس سے آپ کو سایہ,اور پھل ملے ،اور آپ میں طاقت آ گئی.
    پھر حضرت یونسؑ اپنی بستی واپس چلے گیےگئے-وہاں پہنچ کر آپ نے دیکھا,کہ کافی لوگ مسلمان ہو چکے تھے .حضرت یونسؑ بہت خوش ہوئے اور اللہ کا شکر ادا کیا

  • Cow and a goat; Poetry of Allama Iqbal for children adopted story.

    A cow and a goat

    Adapted for children
    (Free children’s stories)

     Children's story adopted by Allama Iqbal

    Once there was a cow in a verdant pasture filled with the pleasant fragrance of Spring.
    brooks of blue and sweat water flow there with pride. Around was surrounded by countless trees of pomegranate and pipal.
    And the sounds of birds and cool breezes fill the air with love. Then a Goat appeared at the bank of that brook from somewhere who was also browsing.
    She stopped browsing for a while and looked around. She found a cow was also standing there. Just to have some nice talk with the cow little goat paid regards (Salaam) and she started talking in a very tactful tone.
    Goat:- Most respected madam Cow! How are you doing
    Cow:- Not very well.
    Then she began to complain about, many things.
    Cow:- I’m surprised and cursing at the people who are not as good as ALLAH had honoured them.
    We Poor are very helpless and we do not have any power. Misfortune always treats badly poor like us.
    Man is very cruel. One should never do any favors or help to a man. Because no one gets fruits of his help and nice dealing with man.
    Then she said:-  If milk of me decreases’ he mourn me. When I turn into old age or loses me energy he sold me out. It is me who is feeding his children and they get energy and grown up very well because of my milk.
    And in return for my best, I get evil from him. After hearing all these complaints the goad disagreed with the cow.
    She said:- I know the truth is always bitter and no one likes to hear it. But I will say what is right. All these green grasses, trees, shadows are because of a man. It is he because of whom we are living in pleasure and happiness. So Tell me if freedom is better or his bondage?
    You know we have fear of many animals. And we always seek protection from the wilderness. So It is just because of his kindness we are living happily and safely. If you acknowledge the comforts he provides us you will never complain about him.
    The cow was ashamed of his complaints and felt sorry. He reviewed the little talk of goat about good and bad and accepted that hence goat has a small body but her words are very powerful and convincing.
                       Adiba Anwar
    This is a moral and reading children’s story. Share your thoughts about this story. 
    Which kind of stories your children do love and enjoy more? Moral, reading, Prophets stories or stories of heroes?
    The story is adapted from the poetry by Poet of East Allama Iqbal.
    Go here for more poems with English translation.
    Down is the poem.
    For more stories click this link 
    Read About The Great Poet of the east.

    Want to get this story in pdf? Comment below.

    (Bang-e-Dra-008) Aik Gaye Aur Bakri

  • Free reading story for kids in English about plants. Free PDF printable.

    My New Friend 
    A Big Yellow Sunflower 
    By: Adiba Anwar 
    I Love sunflower.

    So, I planted some seeds of sunflower and watered it. And now I was anxiously waiting when a little baby plant of sunflower will grow. 
     
    After 20 days it grew up and I was much happy. 
    I use to go to see and water it daily. It was growing slowly and became much bigger. 
     
    Now it is a tall big plant and I am very happy because it is very beautiful. 
    A big yellow sunflower also blooming on it now. 
    As a sunny day and it is very hot outside. 
    I spread some sheets upon it to escape it from hot weather. 
    But my mom told me that plants do not like plastic sheets or covers upon them. 
    She told me that plants need water and soil to grow well. 
     
    Plants need fresh air and sunlight too. 
    They can’t grow without 
    1.Soil to get energy
    2.Water. 
    3.Sunlight 
    4. Fresh air 
    She gave me a little more information about the sunflower. 
    Sunflower’s scientific name is “Helianthus”  Helia‘ mean ‘sun’ and ‘thus‘ means ‘flower’. 
    Plants are very good friends of ours. They give us foods. They give us fresh atmosphere and oxygen.  
    They also make us happy with beautiful colors and fragrant. 
     At the morning I love to see it spreading its petals. During the day sunflower tracks the sun from east to west. 
    It sleeps when the sun goes down. 
    I’m very happy with my new friend. 
     
    A story for kids by Adiba Anwar. 
    Also, get my other stories for kids in English and Urdu with free printables. here.
    Pdf free printable.