Tag: urdukahania

  • Story of Hz Ibraheem A.S.حضرت ابراہیمؑ… free pdf Stories for children In Urdu.

    حضرت ابراہیمؑ
    حضرت ابراہیمؑ ایک وادی کنان میں پیدا ہوے. کنان کے لوگ بت پرست ائر ستارہ پرست تھے. حضت ابراہیمؑ ان لوگوں کو بتوں کی عبادت کرتے اور ان سے مانگتے دیکھتے تو ان کو بہت برا لگتا

    جب وہ ذرا بڑے ہوے تو انہوں نے اپنے بابا(چاچا) آزر سے کہا کہ یہ سب بت جنہیں تم اپنے ہاتھوں سے بناتے ہو وہ تمہیں کیا دے سکتے ہیں. اس بات پر وہ بہت ناراض ہوئے.
    پھر حضرت ابراہیمؑ نے ان لوگوں کو سمجھانے کے لئے ایک دن ایک چمکتا ہوا ستارہ دیکھا تو کہا یہ میرا رب ہے.  لوگ بہت خوش ہوئے کہ اس نے بھی ہماری طرح کی بات کی ہے. پھر وہ ستارہ ڈوب گیا تو ابراہیمؑ نے کیا کہ ڈوبنے والا میرا رب نہیں ہو سکتا. پر چاند نکل آیا تو ابرہیمؑ نے کہا کہ یہ زیادہ روشن اور چمکدار ہے یہ میرا رب ہے
    پھر چاند بھی ڈوب گیا تو انہوں نے کہا کہ ڈوبنے والا میرا رب نہیں ہو سکتا. پھر سورج نکلا تو آپؑ نے کہا یہ میرا رب ہے. پھر وہ بھی شام کو ڈوب گیا تو حضرت ابراہیمؑ نے کہا کہ یہ بھی ڈوب گیا.  میرا رب تو وہ ہےجو ہمیشہ سے ہے کبھی ڈوب نہیں سکتا. تم سب ان کو چھوڑ کر اس اللہ کی عبادت کرو.
     اس بات پر سب لوگ آپؑ سے بہت ناراض ہوئے اور کہنے لگے کہ آپ کے خاندان کی وجہ سے آپ کو چھوڑ رہے ہیں. آئیندہ ہمارے خداؤں کو برا مت کہنا.
    پھر حضرت ابراہیم نے ان کو سمجھانے کے لئے ایک اور ترکیب سوچی.
    ایک دن جب سب لوگ میلے میں جانے لگے تو حضرت ابراہیمؑ ن کہا کہ میں بیمار  میں نہیں جاؤں گا.  لہٰذا جب سب لوگ چلے گئے تو ابراہیمؑ نے ان کے عبادت خانے میں جا کر ان کے سب بتوں کو کلہاڑی سےتوڑ دیا. اور ایک سب سے بڑے بت کو چھوڑ دیا.اور کلہاڑی اس بڑے بت کےاوپر رکھ دی.
    جب لوگ واپس آئےتو اپنے بتوں کا یہ حال دیکھ کے بہت غصہ میں آئے. انہوں نے حضرت ابراہیمؑ سے پوچھا کہ یہ  سب بت کس نے توڑے ہیں .حضرت ابراہیمؑ نے کہا اس بڑے بت نے توڑےہوں گے اس سے پوچھو. لوگوں نے کہا یہ کیسے بول سکتا ہے
    ابراہیمؑ نے کہا کہ جو نا بول سکتے ہیں نا اپنی حفاظت کر سکتے ہیں تم ان سے کیوں مانگتے ہو
    لوگ سمجھنے کی بجائے اور بھی غصہ میں آ گئے. انہوں نے کہا کہ اب ہم تمیں نہیں چھوڑیں گے.
    وہ سب حضرت ابرہیمؑ کی شکایت لے کر نمرود کے پاس چلے گئے.
    حضرت ابراہیمؑ اور نمرود
    لوگ اپنے ٹوٹے ہوئے بت دیکھ کر شدید غصہ میں تھے. وہ حضرت ابراہیمؑ کو نمرود کے پاس لے گئے.
    نمرود نے ان سے پوچھا اچھا بتا کون ہے تیرا اللہ
    حضرت ابراہیمؑ نے کہا ک میرا رب وہ ہے جو زندگی بھی دیتا ہے اور موت بھی
    نمرود نے کہا کہ وہ تو میں بھی کر سکتا ہوں.
    یہ کہ کر نمرود نے ایک پھانسی کے قیدی کوآزاد کر دیا اور ایک بےگناہ کو مروا دیا.
    پھر حضرت ابراہیمؑ نے کہاکہ میرارب سورج کو مشرق سے نکالتا ہے تو مغرب سے نکال کر دیکھا.
    نمرود لاجواب ہو گیا.
    اس نے حکم دیا کہ ابراہیمؑ کو آگ میں ڈال دیا جائے.
    ایک میدان میں بہت ساری لکڑیاں ڈال کر خوب آگ جلائی گئی. پھر حضرت ابراہیمؑ کو اس آگ میں ڈال دیا گیا.  اللہ نے جلدی سےحضرت جبرائیل کو بیجھا.
    حضرت جبرائیل نے اللہ کے حکم سے آگ کو ٹھنڈا کر دیا.  لوگ دیکھنے آئے کہ ابراہیمؑ  آگ میں جل گئے ہوں گے.لیکن انہوں  نے آ کر دیکھا کہحضرت جبرائیل پھولوں پر بیٹھے ہوئے اللہ کو یاد کر  رہے ہیں.
    یہ دیکھ کر بہت سے لوگ مسلمان ہو گئے. لیکن نمرود اور اس کے بہت سارے ساتھی مسلمان نا ہوئے.
     اللہ نے ان پر مچھروں کا عذاب  بیجھا. یہ بہت موٹے موٹے مچھر تھے جوان کو کاٹ کاٹ کر  ان کا گوشت بھی کھا جاتے تھے.
     ایک مچھر نمرود کے ناک میں گھس کر دماغ میں بیٹھ گیا. جب وہ مچھر اس کو کاٹتا تو وہ چیخیں مارتا. پھر لوگوں سے سر میں جوتے مرواتا.
    اس طرح اللہ نےے اس کو نا فرمانی کی سزا دی.

    حضرت ابراہیمؑ کے بیٹے.
     پھر حضرت ابراہیمؑ ہجرت کر کے فلسطین چلے گئے انہوں نے حضرت ساراہ سے شادی کی. لیکن ان کے بچے نا ہوئے. پھر انہوں نے حضرت ہاجرہ سے شادی کی. لیکن ان کے بھی بچے نا ہوئے.
    ایک دن  حضرت ابراہیمؑ کے پاس دو مہمان آئے. انہوں نے سفید لباس پہنے ہوئے تھے. حضرت ابراہیمؑ نے ان کو نا پہچانا.
    حضرت ابراہیمؑ نے کھانا بنوایا. اور ان کے سامنے رکھا.لیکن انہوں نے کھانا نا کھایا.
    حضرت ابراہیمؑ کوان سے خوف محسوس ہوا.
    ان مہمانوں نے کہا کہ ڈریں نا ہم اللہ کی طرف بیجھے ہوئے فرشتے ہیں.
    حضرت ہاجرہ یہ سن کر ہنس پڑیں . فرشتوں نے ان کی طرف دیکھا اور کہا ہم آپ کو ایک بیٹے کی بشارت دیتے ہیں. یہ سن کر حضرت ہاجرہ شرما گئیں اور کہنے لگیں کہ اب میرا بیٹا کیسے پیدا ہو سکتا ہے. کیوں کہ میرا شوہر اور میں دونوں ہی بوڑھے ہو چکے ہیں.
    فرشتوں نے کہا کہ جب اللہ کسی کام کو کرنے کا ارادہ کر لیتا ہے تو وہ بس اس کام کو کہتا ہے کہ ہو جا اور وہ کام ہو جاتا ہے.
    یہ کہ کر فرشتے حضرت لوطؑ کی قوم کی طرف چلے گئے.
    پھر حضرت ہاجرہ کا بیٹا ہوا جس کا نام انہوں نے اسمائیلؑ رکھا.
    اس کے بعد حضرت سارا کا بھی ایک بیٹا ہوا. جس کا نام اسحاقؑ رکھا گیا.
    اس طرح حضرت ابراہیمؑ کے دونوں بیٹے بھی اللہ کے نبی بنے.
    حضرت اسحاقؑ کے بیٹوں کے بیٹوں اور ان نکی نسل میں بہت سارے اور نبی بھی آئے جیسےحضرت یوسفؑ اور حضرت موسیٰؑ  وغیرہ.
    بنکہ حضرت اسمائیلؑ کی نسل میں سے بعد میں صرف ایک ہی نبی آئے. جو کہ آخری نبی حضرت محمدؐ تھے.
    حضرت اسماعیلؑ اور زم زم
    حضرت ابراہیمؑ اپنے دونوں بیٹوں حضرت اسحاقؑ اور حضرت اسماعیلؑ کے ساتھ فلسطین میں تھے. جب اللہ تعا لیٰ نے ان کو آزمائش میں ڈالا اور ان کو حکم دیا کہ حضرت اسماعیلؑ کو ان کی ماں کےساتھ فلسطین سے دور عرب کے شہر مکہ میں چھوڑ آؤ.
    حضرت ابراہیمؑ دونوں کو لے کر مکہ چلے گئے. مکہ کا یہ علاقہ پہاڑی تھا. دور دور تک پانی نہیں ملتا تھا. اس وجہ سے وہاں کوئی رہتا بھی نہیں تھا. بلکل سنسان  جگہ تھی. حضرت ابراہیمؑ اللہ کے حکم کے مطابق کچھ کھانا اور پانی ان دونوں کو دے کر آنے لگے. تو حضرت ہاجرہ نے ان سے پوچھا ہمیں کس کے آسرے پر یہاں چھوڑ کر جا رہے ہیں. انہوں نے کہا
    اللہ کے آسرے پر. یہ سن کر حضرت ہاجرہ نے کہا پھر ٹھیک ہے. اللہ ہمیں کبھی اکیلا نہیں چھوڑے گا.
    حضرت ابراہیمؑ نے ان ک لئے دعا کی کہ اللہ ان کی حفاظت فرمانا اور پھر چلے گئے.
     حضرت ہاجرہ وہاں بیٹھی اللہ کو یاد کرتی رہیں.کچھ وقت گزر گیا تو ان کے پاس کھانا اور پانی ختم ہو گیا.
    حضرت اسماعیلؑ کو بہت پیاس لگی تو وہ رونے لگے.  جب رو رو کر نڈھال ہونے لگے تو حضرت ہاجرہ ان کو لٹا کر پانی تلاش کرنے لگیں.ان کے دونوں طرف صفا اور مروہ پہاڑیاں تھیں.
    انہوں نے صفا کی پہاڑی پر چڑھ کر ادھر ادھر دیکھا لیکن

       حضرت ابراہیمؑ اور اسمائیلؑ کی قربانی
    حضرت اسمائیلؑ مکہ میں اپنی ماں ہاجرہ کےساتھ رہ رہے تھے. جب وہ تقریبا دس سال کے ہوئے تو ایک دن ان کے بابا حضرت ابراہیمؑ جو کہ اپنے دوسرے بیٹے حضرت اسحاقؑ کے ساتھ فلسطین میں رہتے تھے ان سے ملنے آئے.
    حضرت اسماعیلؑ بہت خوش ہوئے وہ پہلی مرتبہ اپنے بابا کو دیکھ رہے تھے.
    کچھ دیر کے بعد ان کے بابا نے ان سے کہا.
     بیٹا میں نے خواب میں دیکھا کہ میں تمہیں زبح کر رہا ہوں.
    لیکن میں نےاس بات کو حقیقت نا سمجھا.
    پھر اگلی رات بھی میں نے یہی خواب دیکھا. اور اسے اپنا خیال سمجھا.
    لیکن پھر تیسری رات بھی میں نے یہی خواب دیکھا.
    پھر میں یہ سمجھ گیا کہ یہ میرا خیال نہیں بلکہ اللہ کا حکم ہے.
    اب بتا تو کیا کہتا ہے
    حضرت اسماعیلؑ ایک بہادر اور فرماں بردار بیٹے تھے.
    انہوں نے اپنے بابا کو بہت پیار سے کہا کہ
    بابا آپ کو جو حکم اللہ سے ملا ہے آپ اس پر عمل کیجیئے
    انشاءاللہ آپ مجھے ثابت قدم دیکھیں گے.
    اس طرح حضرت ابراہیمؑ اپنے پیارے بیٹے حضرت اسماعیلؑ کو ذبح کرنے کے لئے چل پڑے
    رستے میں شیطان نے ان کو اللہ کا حکم ماننے سے روکنا چاہا
    شیطان آ کر حضرت ابراہیمؑ ک دل یہ وہم ڈالنے لگا کہ یہ سچا خواب نہیں ہے.
    لیکن اسی وقت وہاں پر  ایک فرشتہ جس کا نام  حضرت جبرائیلؑ ہے آگیا
    اس نے حضرت ابراہیمؑ کو بتایا کہ یہ شیطان آپ کو اللہ کا حکم ماننے سے روکنے آیا ہے.
    اس کو سات کنکر ماریں
    جب حضرت ابراہیمؑ نے اسکو سات کنکر مارے تو وہ غائب ہو گیا. لیکن تھوڑی آگے جا کے وہ پھر آ گیا
    پھر حضرت ابراہیمؑ نے اس کو سات کنکر مارے
    تو وہ غائب ہو گیا
    تھوڑا اور آگے گئے تو وہ شیطان مردود پھر آ گیا
    کہنے لگا گھر میں اس کی ماں انتظار کر رہی ہو گی
    آپ واپس جا کر ان کو کیا بتائیں گے.
    لیکن پھر جبرائیل کے کہنے پر حضرت ابراہیمؑ نے شیطان کو سات کنکر مارے
    اب شیطان مایوس ہو کر چلا گیا
    حضرت ابراہیمؑ اپنے بیٹے کو لے کر مینا کے مقام پر پہنچے
    حضرت اسماعیلؑ نے اپنے بابا سے کہا کہ اپنی آنکھوں پر پٹی باندھ لیجئے
    ایسا نا ہو میرا چہرا دیکھ کر آپ کو مجھ پر پیار آ جائے اور آپ کو ذبح کرنے میں مشکل ہو
    حضرت ابراہیمؑ نے آنکھوں پر پٹی باندھ لی
    ابھی وہ چھڑی چلانے ہی لگے تھے کہ آواز آئی
    کہ اے ابراہیمؑ تم سچے ہو اور تم نے اپنا خواب بھی سچا کر دیا.
    یہ آپ کی آزمائش تھی آپ اس آزمائش پر پورے اترے ہو.
    اب یہ آپ کے پاس ایک دنبہ ہے آپ اس کو ذبح کریں اور کھائیں اور اللہ کا شکر ادا کریں
    حضرت ابراہیمؑ نے دیکھا کہ ان کے پاس جنت سے آیا ہوا دنبہ کھڑا ہے. اور حضرت اسماعیلؑ پاس کھڑے ہنس
    تھےحضرت ابراہیمؑ اور حضرت اسماعیلؑ نے کعبہ تعمیر کیا.
    جب حضرت اسماعیلؑ جوان ہوئے تو اس وقت خانہ کعبہ کی جگہ سے بت ختم کرنے اور وہاں پر اللہ کا گھر تعمیر کرنے کا حکم ملا. دونوں باپ بیٹا اللہ کا گھر تعمیر کرنے لگے. حضرت اسماعیلؑ پتھر اٹھا کر پکڑانے لگ گئے. اور حضرت ابراہیمؑ ان پتھروں کو ٹھیک ٹھیک اندازے سے جوڑ کر خاںہ کعبہ کی دیواریں بنانے لگے.
    وہ دونوں اپنا کام بھی کرتے جاتے اور اللہ سے دعا بھی کرتے جاتے کہ
    اے اللہ ہمارے اس کام کو قبول فرما لے, اور اس گھر کو برکت والا کر دے, اور ہماری اولاد میں ایک ایسا پیغمبر بھیج دے جو ان کو پاک کر دے اور ان کو دانائی اور حکمت کی باتیں سکھائے اللہ نے ان کی دعا قبول فرما لی .
    اس کے بعد آج تک خانہ کعبہ دنیا کا سب سے زیادہ عزت والا گھر ہے. اللہ نےحضرت اسماعیلؑ کی اولاد میں سے ہمارے پیارے نبی حضرت محمدؐ
     بھیجے
    اللہ نے ان کو کتاب قرآن مجید  بھی دی.  جس میں اللہ نے زندگی گزارنے کے سارےاصول بھی بتا دئیے ہیں
    حضرت محمدؐ نےلوگوں کو یہ بھی بتا دیا ک خانہ کعبہ میں جا کر  حج کیسے کرنا ہے.
    اب ہر سال لوگ ذوالحجہ کے مہینے میں خانه کعبہ جاتے ہیں اور حضرت ابراہیمؑ اور حضرت اسماعیلؑ کی سنت پوری کرتے ہیں.
    خانہ کعبہ کا طواف, صفا اور مروا کی سعی, جمرات اور جانوروں کی قربانی سب کچھ حضرت ابراہیمؑ اور حضرت اسماعیلؑ کی یاد میں ادا کئے جانے والے ارکان ہیں

      اگر آپ بچوں کی پڑھائی ور تعلیم و تربیت کے متعلق مزید
    videos
    تخلیقی مواد ور بچوں کو پڑھانے
    کے طریقوں کے متعلق مواد چاھتے ہیں
    تومیری انگلش کی ویب سائٹ پر تشریف لے جائیں.

  • Abraha ki faoj. Free pdf Urdu Islamic stories for children.

    ہاتھی اور ابابیل  
    ابرہہ ایک بہادرلیکن مغرور جنرل تھا. اس کے پاس لڑنے کے لیئے بہادر فوجی اور ہاتھی تھے.جو وہ افریقہ سے لے کر آیا تھا

     

    islami urdu kahania

     

    اس نے یمن پر قبضہ کر کے وہاں ایک بہت بڑا گرجا بنوایا تھا. وہ عربیوں کو مجبور کرتا کہ سب اس کے گرجا گھر میں آ کر عبادت کریں. اور جب بہت سارے لوگ عبادت کرتے تو وہ فخر سے کہتا کہ میرا گرجا دنیاکا سب سے بڑا عبادت خانہ ہے.

    لیکن ایک دن ایک عربی نے اس کو کہا کہ عرب کے شہر مکہ میں اس سے بھی بڑا ایک عبادت خانہ ہے. جہاں ساری دنیا سے لوگ عبادت کرنے آتے ہیں. اس کو بہت غصہ آیا. اس نےکہا کہ اگر میں اس عبادت خانے کو توڑ دوں تو پھر سب لوگ یہاں ہی آئیں گے. اس لئے وہ اپنی ساری فوج اور ہاتھیوں کو لے کر چل پڑا. اس نے سب سے  بڑے ہاتھی محمود کو بھی لے لیا. تا کہ وہ اس کے زور سے عمارت گرا سکے. اور اس عربی کو بھی ساتھ لیا جس نے خانہ کعبہ کے بارے میں بتایا تھا. تا کہ اس سے راستہ پوچھ سکے.
    مکہ کے قریب پہنچ کر اس نے مکہ والوں کو پیغام بیجھا کہ میں تم لوگوں کو کچھ نہیں کہوں گا اگر تم لوگ مجھے خانہ کعبہ ڈھانے دو گے.
    اس وقت عبدالمطلب خانہ کعبہ کے متولی اور سردار تھے. لوگوں نے ان سے کہا کہ ہاتھیوں والی فوج سےلڑنے کی ہم میں طاقت نہیں. حضرت عبدالمطلب نے اس سے کہا کہ تم سب اپنے مال لےکر پہاڑی پر چلےجائو. حضرت عبدالمطلب خود ساری رات خانہ کعبہ کے اندر بیٹھ کر دعا کرتے رہے. کہ اے اللہ یہ تیرا گھر ہے تو ہی اس کی حفاظت فرما. اللہ نے ان کی دعا قبول فرمائی .
     اور ہاتھی والی فوج حال خراب کر دیا.
    سب سے پہلے ابرہہ نےآگے بڑھنے کے فوج کو تیار کیا.جس عربی کو وہ ساتھ لائے تھے اس نے چپکے سے  ہاتھی محمود کےکان میں کیا کہ خبرداریہ تمھارے خالق کا گھر ہے آگے مت بڑھنا.
    فوج نے بہت زور لگایا. مار مار کر لہولہان کر دیا لیکن ہاتھی آگے نا بڑھا.
    ابرہہ اور اس کے ساتھی بہت غصہ میں تھے.
    اسی وقت اللہ نے ان کے پیچھے سے بے شمار ابابیل پرندے بھیج دیئے جنہوں نے اپنی چونچ میں چھوٹے چھوٹے پتھر پکڑے ہوئے تھے.
    وہ پتھر فوج کے اوپر پیھنکےلگے. تھوڑی دیر میں وہ سب فوجی پتھر کھا کھا کے وہ وہیں مر گئے.
    ایک پتھر ابرہہ کے سر میں لگا جس سے وہ بہت زخمی ہو گیا اور ڈر کر وہاں سے بھاگ گیا.
    اور کچھ دنوں بعد راستے میں ہی مر گیا. اس طرح اللہ تعالٰی نے اپنے گھر کی -حفاظت کی.
    ادیبہ انور 
    اس کہانی کے بعد  بچوں سے سوال جواب سے  بچوں کی معلومات بڑھائیں 
    بچوں کو  الفیل یاد کروائی جائیں اور آسان تخلیکی مشق کروائی جیے 
    اس مشاق میں ہاتھی ابابیل اور اس کا گھونسلا اور خانہ کعبہ بنوایا جایے 
    اس کے علاوہ اللہ کا پہلا  اور لوگوں کے  سب سے بڑھے عبادت خانے کے بارے میں بتایا جایے 
    اس کہانی  کو لوگوں کے ساتھ شیر  کریں تا کہ زیادہ لوگ فائدہ اٹھا سکیں
      اگر آپ بچوں کی پڑھائی ور تعلیم و تربیت کے متعلق مزید
    تخلیقی مواد ور بچوں کو پڑھانے
    کے طریقوں کے متعلق مواد چاھتے ہیں
    کمنٹ کریں
    free PDF kay liy click kerin
      

    My Urdu channel for stories and Islamic video

    My English Channel for Islamic crafts, parenting and Stories

    Read more stories in Stories section above. You can join my stories live sessions comment for info.

  • Hazrat Sulemon A.S. Free PDF Islamic stories for children in Urdu.


     حضرت سلیمان الہسلا م کی کہانی 

    حضرت سلیمانؑ ایک اللہ کے ایک طاقت ور, عقلمند اور بہت زیادہ علم والے نبی تھے

    free Urdu stories for children

    . ان کے باباحضرت دائودؑ بھی بھی اللہ کے نبی اور بادشاہ تھے


    . اور وہ جانوروں کی بولی بھی سمجھتے تھے
    حضرت سلیمانؑ نے بھی جانوروں کی بولیاں سیکھی ہوئی تھیں.
    انہوں نے اللہ سے دعا کی کہ اے اللہ مجھے ایسی حکومت عطا فرما. جو پہلے کسی کو نا دی ہو اور نا میرے بعد کسی کو ملے.
    اللہ نے ان کی دعا قبول کی. اور ان کو ہوائوں , جنوں اور تمام مخلوقات کا بادشاہ بنا دیا.
    اب جن ان کے پاس ہر وقت حاضر رہتے اور ان کی ہر بات مانتے. جب وہ کسی کام کا حکم دیتے تو جن کہتے
    “جو حکم میرے آقا”
    حضرت سلیمانؑ ان کو حکم دیتے, تو وہ زمین کے اندر سے ان کے لیے لوہا نکال کر لاتے اور اس سے اونچی اونچی عمارتیں بناتے.
     ہوائیں  ہوائی جہاز سے بھی تیز چلتیں اور  ان کو
     اڑا کر لے جاتیں. پرندے اور جانور ان سے باتیں کرتےتھے

    حضرت سلیمانؑ اور چونٹی!

    ایک دفعہ حضرت سلیمانؑ اپنی فوج کے ساتھ گھوڑوں پر بیٹھ کر کہیں جا رہے تھے.
    راستے میں ایک جگہ چونٹیوں کی بستی تھی.وہاں بہت ساری چونٹیاں رہتی تھیں.
    چونٹیوں کو گھوڑوں کے چلنے کی آواز آئی.
    تو چونٹیوں کی ملکہ بل سے باہر نکلی, اس نے دیکھا کہ,  حضرت سلیمانؑ ایک بہت بڑی فوج کے ساتھ آ رہے ہیں.
    اس نے اعلان کیا کہ سب چونٹیاں اپنی بلوں کے اندر چلی جائو. ایسا نا ہو کہ, سلیمانؑ کی فوج تمہیں پائوں میں روند کر چلی جائے.
    حضرت سلیمانؑ نے اللہ کی دی ہوئی طاقت سے, دور سے ہی چنٹیوں کی یہ گفتگو سن لی تھی. وہ مسکرانے لگے. انہوں اپنی فوج کو حکم دیا کہ راستہ بدل لو. آگے چونٹیاں رہتی ہیں.
    ساری فوج نے اپنا راستہ بدل لیا اور اس طرح چنٹیوں کی بستی بچ گئی.


    حضرت سلیمانؑ اور مچھلی.

    حضرت سلیمانؑ اللہ کی نعمتوں پر بہت خوش تھے. اور اللہ کے شکر گزار بھی تھے.
    ایک دفعی حضرت سلیمانؑ نے اللی سے کہا کہ,
    “اے اللہ تم نے مجھے بےشمار نعمتیں دی ہیں . میں چاہتا ہوں کہ ان نعمتوں سے میں ایک دن کے لیے تیری ساری مخلوق کی دعوت کروں”.
    اللہ نے ان سے کہا کہ,
    “سلیمان ساری مخلوق کو صرف میں ہی رزق دیتا ہوں. تم ایسا نہیں کر سکو گے” .
    پھر ان کے اصرار پر اللہ نے ان کو اجازات دے دی.
    حضرت سلیمانؑ کی دعوت کھانے سب سے پہلے ایک مچھلی آئی.
    حضرت سلیمانؑ نے اس کو کھانا ڈالا. وہ سب کھا گئی. اس نے اور مانگا.حضرت سلیمان نے اس کو پہلے سے بھی زیادہ کھانا ڈالا.  مچھلی وہ سب  بھی  کھا گئی.
    مچھلی نے اور کھانا مانگا. اسطرح وہ بہت سارا کھانا کھا گئی.
    حضرت سلیمانؑ یہ دیکھ کر بہت حیران ہوئے. اور مچھلی سے کہنے لگے کہ,
    ” اے مچھلی! تو ایک دن میں کتنا کھاتی ہے?”
    مچھلی کہنے لگی کہ,
    “اللہ کے نبی, میرا اللہ تو روز مجھے کھلاتا ہے. اس نے تو آج  تک مجھ سے حساب نہیں کیا. اور تم نے ایک دن کھلا کر ہی حساب لینا شروع کر دیا”?
    .       حضرت سلیمانؑ کو اب اللہ کی عظمت اورشان پہلے سے بھی زیادہ بڑی نظرآئی.
    اور اللہ سے فرمایا,
    “اے اللہ تو نے سچ کہا تھا. یہ صرف تو ہے جو ساری مخلوق کو کھلاتا ہے. اور 
    حساب بھی نہیں کرتا..

    حضرت سلیمانؑ اور ملکہ بلقیس

    حضرت سلیمانؑ تمام مخلوقات کے بادشاہ اور اللہ کے نبی تھے.
    ایک دن حضرت سلیمانؑ نے سب انسانوں,جنوں اور مخلوقات کو حکم دیا کہ وہ میرے پاس حاضر ہوں. تو سب ان کے پاس جمع ہو گئے.حضرت سلیمانؑ نے دیکھا کہ ہدہد نہیں آیا.
    حضرت سلیمانؑ نے پوچھا کہ ہدہد کیوں نہیں آیا.
    کوا چونکہ ہدہد کو پسند نہیں کرتا تھا. اس لئے اس نے شکایت لگائی کہ, ہد ہد کو پیغام دیا تھا لیکن اس نے نا فرمانی کی ہے.
    حضرت سلیمانؑ نےحکم دیا کہ ہدہد کو بلایا جائے. اگر وہ بغیر کسی ٹھیک وجہ سے غیر حاضر ہے تو اس کو سخت سزا دی جائے.
    جب ہدہد آ گیا تو اس نے بتایا,کہ میں نے دیکھا کہ ایک ملک سباء کی ملکہ اور اس کے تمام لوگ بتوں کہ عبادت کر رہے تھے. اس لئے میں وہاں رک گیا تاکہ میں اس کہ خبر لا سکوں.
    حضرت سلیمانؑ ا س سے اب ناراض نہیں تھے.
    انہوں نے ایک خط لکھ کر ملکہ کو بیجھا. ملکہ نے وہ خط پڑھا تو اس میں بسم اللہ الرحمٰن الرحیم کے بعد لکھا تھا کہ تم بتوں کی عبادت چھوڑ کر صرف  ایک اللہ کی عبادت کرو نہیں تو ہم سے جنگ کے لئے تیار ہو جائو.
    ملکہ نےاس سے پہلے اللہ کا نام اور بسم اللہ  کبھی نہیں سنی تھی.
    اس نے اپنے وزیروں سے مشورہ کیا تو انہوں نے کہا کہ, اگر تو یہ بادشاہ سچ کہ رہا ہے تو واقعے ہی یہ ہمیں برباد کر دے گا.
     ملکہ بلقیس نے حضرات سلیمانؑ سے ملنے کا اراداہ کیا. وہ اپنے ملک سے نکلی تو حضرت سلیمانؑ کو اس کے آنے کی خبر مل گئی. انہوں نےسب جنوں اور انسانوں سے پوچھا کہ کون ہے جوملکہ کے یہاں پہنچنےسے پہلے اس کا تخت یہاں لا دے. ایک جن بولا میں ایک منٹ میں وہ تخت یہاں لا سکتا ہوں. اسی محفل میں ایک انساں جس کو اللہ نے علم اور نیکی کی وجہ سے بہت طاقت دی ہوئی تھی. وہ بولا کہ میں آپ کی آنکھ جپھکنے سے پہلےاللہ کےحکم سے اس تخت کو یہاں لا سکتا ہوں. پھر وہ شخص اس تخت اس کو لے آیا.
    اس تخت کو جہاں رکھا گیا اس کے راستے میں پانی کا ایک تالاب بنا دیا گیا.جس -کے اوپر شیشے کا خوبصورت رستہ بنا دیا گیا.
    پھر جب ملکہ بلقیس وہاں پہنچی تو اس کو پانی کے اس تالاب کےاوپر سے گزر کر تخت تک جانا تھا.اس نے اپنے پہنچے اٹھا لئے. جاب اس نےپائوں آگے رکھا تو شیشے کےراستے پر پائوں  پڑا وہ بہت شرمندہ ہوئی.
    اس طرح ملکہ بلقیس اس عجیب و غریب مگر شاندار ریاست دیکھ کر بہت متاثر ہوئی.
    اس نے مان لیا کہ یہ واقعے ہی اللہ کی عطا کردہ طاقت ہے. اور اس نے اسلام قبول 
      کر لیا
    اس طرح حضرت سلیمان کی دو عاقبول ہوئی  ان جیسی سلطنت اور نبوت کسی اور -کو نہیں ملی 

    اس کہانی کی لیے عملی کام ، تخلیقی کا م اور دوسری معلومات کی لیے میری Thefireflies .دوسری سائٹ پر تشریف لے جائیں 
     شکریہ..یا.
  • The story of Hazrat Younas A.S in Urdu with free pdf download. حضرت یونسؑ

     حضرت یونسؑ

    Urdu islami kahania


    ایک دفعہ کا زکر ہے،کہ !ایک جگہ ایک بستی تھی-
     جس کا نام نینوا تھا-
    – اس بستی کے -لوگ ایک اللہ کو بھول گئے تھے

    -اور بہت سے گندے کام کرنے لگ گئے تھے
    اللہ تعالیٰ نے ان کی ہدایت کے لئے ان کے 
    پاس حضرت یونسؑ کو بیجھا-وہ اللہ کے ایک
     نیک بندے تھے- انہوں نے بستی  والوں کو بتایا
     کہ بتوں کی عبادت چھوڑ کر صرف  ایک اللہ کی
    -عبادت کرو-اور گندے کم چھوڑ  کر الله کا حکم مانو
    – نہیں تو اللہ تم سب سے ناراض ہو جائے گا 
    -اور تم پر عذاب بیجھے گا 
    -لیکن ان لوگوں پر کوئی اثر نا ہوا
    -حضرت یونسؑ بہت سال ان کو سمجھاتے رہے
    – لیکن کوئی بھی ان کی بات نا سمجھا
    حضرت یونسؑ نینوا بستی کے لوگوں
     سے بہت ناراض ہو گئے-وہ لوگوں کو 
    -بتوں کے لئے سجدہ کرتے نہیں دیکھ سکتے تھے
    اسی  لئے ایک دن انہوں نے اللہ کی 
    -اجازات کے بغیر وہ بستی چھوڑ دی
    -اور کسی دوسری بستی جانے کا فیصلہ کیا
    -تا کے کسی اور بستی کے لوگوں کوالله کا حکم سنا سکیں  
    -وہ ایک بحری جہاز پر سوار ہو گئے
    -جب وہ جہاز سمندر کے درمیان پہنچا 
    -تو سمندر میں آچانک طوفان آ گیا 
    -اور جہاز زور زور سے ہلنے لگ گیا
    لوگوں نے اچانک طوفان آ جانے کی 
    وجہ سے سوچا ،کہ! ضرور کوئی غلام اپنے
    -مالک سے بھاگ کر آ گیا ہے 
    اسی لیے جہاز اس طرح اچانک بغیر کسی 
    وجہ کے ہلنے لگ گیا ہے-اگر وہ جہاز سے 
    -نکل جائے تو ہم سب بچ سکتے ہیں
    -لیکن وہاں ان کو کوئی بھی غلام نظر نہ آیا 
    انہوں نے یہ معلوم کرنے کے لئے کہ
     وہ غلام کون ہے،سب لوگوں کے نام لکھ کر
     پرچی نکالی-تو حضرت یونسؑ کا 
    نام نکلا- لوگوں نے دیکھا کہ یونسؑ تو غلام 
    -نہیں ہیں-انہوں نے دوبارہ پر چی نکالی
    -پھر حضرت یونس کا نام نکلا 
    -جب تین بار ہی حضرت یونسؑ کا نام نکلا
     -تو لوگوں نے حضرت یونسؑ کو پانی میں پھینک دیا
    پانی میں ایک بڑی سی  مچھلی نے
     حضرت یونسکونگل لیا-حضرت یونسؑ بہت 
    -پریشان ہوئے-مچھلی کے پیٹ میں بہت اندھیرا تھا
    ،حضرت یونسؑ بہت روئے-انہوں نے سوچا 
    کہ مجھے اللہ کے حکم کے بغیر بستی سے 
    -نہیں نکلنا چاہئےتھا-وہ رو رو کر اللہ سے دعا کرتے رہے
    -پھر ایک دن ایک فرشتہ ان کے پاس آیا
    . اس نے حضرت یونسؑ کو ایک دعا سکھائی
    -جو اسطرح  تھی 
    Dua and story of Hazrat younas
    اس دعاکے بار بر پڑھنے، اور بہت  زیادہ رو رو  
     کر الله سے معافی مانگنےکے بعد اللہ نے
     انہیں معاف کر دیا-مچھلی نے اللہ کے 
    حکم سے حضرت یونسؑ کو دریا کے باہر
     کنارے پر پھینک دیا-حضرت یونس بھوک 
    -اور پیاس کی وجہ سے بہت کمزور ہو گئے تھے
    اللہ کے حکم سے وہاں سمندرکے  کنارے 
    ایک درخت اگ آیا -جس سے آپ کو سایہ
    – اور پھل ملے ،اور آپ میں طاقت آ گئی
    -پھر حضرت یونسؑ اپنی بستی واپس چلے گیے 
    ،گئے-وہاں پہنچ کر آپ نے دیکھا 
     -کہ کافی لوگ مسلمان ہو چکے تھے 
    حضرت یونسؑ بہت خوش ہوئے اور اللہ کا شکر ادا کیا
    ادیبہ انور
    اس کہانی سے بچوں کو تین سبق ملے.
    ١. اللہ کے حکم کی کبھی بھی نافرمانی نہیں کرنی چاہی
    ٢. جو کام کرنے لگیں اس میں صبر اور انتظار سا کام لینا چاہینے ایک دن کامیابی ضرور ملتی ہیں
    ٣. جب بھی کسی مصیبت میں ہوں رو رو کر الله سے د عا کرنی چاہی اللہ مدد کرتا ہے.

    بچوں کی کہانی میں دلچسبی پیدا کرنے کے لیےعملی کام

     اس کہانی کے آخر میں بچوں  سےکا غذ کی  ایک کشتی بنوائی گئی  
    جس کا لنک نیچے دیا گیا ہے
    بچوں سے حضرت یونس الہاسلام کی دعوا کی ایک تختی بنوایے گئی 
    بچوں سے ایک مچھلی بھی بنوائی گئی .
    چھو ٹے بچوں سی کاغذ پر اور بڑے بچوں سے کپڑے کی سللائی کی  ہوئی
    مچھلی بنوائی گئ
    بچوں کو دولفینی شو کی سیر کروائیں یا پھر فش ایکویریم دیکھیں تا کو وہ اس سے لطف اندوز ہوں 
    بچوں سے د عا  یاد بھی کروائی جائے

      اگر آپ بچوں کی پڑھائی ور تعلیم و تربیت کے متعلق مزید
    videos
    تخلیقی مواد ور بچوں کو پڑھانے
    کے طریقوں کے متعلق مواد چاھتے ہیں
    تومیری انگلش کی ویب سائٹ پر تشریف لے جائیں.
       

    اس دعاکے بار بر پڑھنے، اور بہت  زیادہ رو رو کر الله سے معافی مانگنےکے بعد اللہ نےانہیں معاف کر دیا.مچھلی نے اللہ کے حکم سے حضرت یونسؑ کو دریا کے باہرکنارے پر پھینک دیا-حضرت یونس بھوک اور پیاس کی وجہ سے بہت کمزور ہو گئے تھے.
    اللہ کے حکم سے وہاں سمندرکے  کنارےایک درخت اگ آیا.جس سے آپ کو سایہ,اور پھل ملے ،اور آپ میں طاقت آ گئی.
    پھر حضرت یونسؑ اپنی بستی واپس چلے گیےگئے-وہاں پہنچ کر آپ نے دیکھا,کہ کافی لوگ مسلمان ہو چکے تھے .حضرت یونسؑ بہت خوش ہوئے اور اللہ کا شکر ادا کیا

  • Free Islamic Stories for children.. ایک بڑھیا کی کہانی

     ایک بڑھیا کی  کہانی 
    حضرت محمد  صلو علیہ ) کی سیرت کے واقعیات   
         
                          بچو ! آج میں آپ کو ایک اایسی  
    The story about seerah of Muhammad SAW: ایک بڑھیا کی کہانی ...حضرت محمد صل کی سیرت کے واقع...                          






                
              عورت کی  
    کہانی سناؤ گی جو ایک  غیرمسلم تھی 
                    بچوآپ کو پتا  ہے ناغیر مسلم کسےکہتےہیں           
     جی ہاں بلکل ٹھیک بتایا آپ نے  
    اس  کو جو اللہ کو ایک نہیں مانتا 
     اور نماز نہیں پڑھتا   
        توبچوں  وہ عورت ایک  
     نوجوان سے بہت نفرت کرتی تھی  –   
      اس لئےکہ وہ نوجوان  
    لوگوں کو ایکاللہ کی باتیں  بتاتا  تھا  
     اور  بتوں کی عبادت سے روکتا تھا   
    تو پیارے بچو!  اس نوجوان کا گزر روز  
    اس عورت کے گھر کے 
                                                   قریب سےہوتا تھا  
    سے  وہ عورت اپنی نفرت  
    کا اظہار اس طرح کرتی 
     کہ جب بھی وہ نوجوان   
    اس کے گھر کے قریب سے گزرتا 
    وہ عورت اس کے اوپر اپنے گھر کا  
    سارا کچرا پھینک دیتی 
     ایک دن ایسے ہوا کہ  
    اس عورت نے  
    نوجوان پر کچرا نہیں پھینکا ۔ 
    نوجوان کو خیرت ہوئی  
    کہ  آج وہ بڑھیا چھت  پر  
    کیوں نہیں کیوں کہ ایسا پہلے  
      کبھی نہی ہوا تھا  
    اس نوجوان نے اس عورت   
    کے ہمسایوں  سے  
    پوچھا کہ وہ بوڑھی   
     عورت کہاں ہے۔ 
    ہمسائیوں نے بتایا کہ  
    وہ تو بیمار ہے۔ 
    نوجوان نے سوچا  
    کہ مجھے ضرور  
    اس کا حال پوچھنے   
        جانا چاہیے  
    جب اس عورت نے دیکھا  
    – کہ یہ تو وہ وہی لڑکا ہے 
    جس پر میں کچرا پھینکتی  تھی 
             تو پیارے بچو 
    وہ عورت بہت ڈری 
    اس نے سوچا کہ  
    اب میں تو بہت کمزور ہوں  
     اس لیے یہ لڑکا پتا نہیں   
    میرے ساتھ  کیا  
    سلوک کرے 
    لیکن جب اس عورت کو  
    معلوم ہواکہ  
    وہ نوجوان تو میرا  
    حال معلوم کرنے آیا ہے 
     تو وہ عورت بہت شرمندہ ہوئی  
    اور پیارے بچو 
     اس لڑکےنےاتنے اچھے  
    انداز سےبات 
    کی کہ وہ عورت اس کے 
    اچھے اخلاق اور میٹھی گفتگو 
    (بات) 
    سے بہت متاثرہوئی  
    اور اس نے اسلام قبول کر لیا 
    پیارے بچو کیا آپ بتا سکتے ہیں کہ  
    وہ نوجوان کون تھا 
                         جی ہاں جی 
    بچو آپ نے بلکل ٹھیک سوچا 
    اتنے اچھے سلوک اور   
    اخلاق والے نوجوان کا نام  
    حضرت محمد صل اللہعلیہوسلم ہے 
    دیکھا بچواچھی میٹھی گفتگو اورi 
    اچھے اخلاق سے دشمن  بھی 
         دوست بن جاتے ہیں 
    اس لیےبچو ہمیشہ  
    اپنے بہن بھائیوں،دوستوں   
    اور دوسرے سب لوگوں سے  
    اچھے سے بات کرنی چاہیے 
    اور سب کا خیال بھی رکھنا چاہیے 
    خاص طورپر اپنے ماں باپ   
                     اور بہن بھائیوں کا 
    کیوں کہ ہم ساری اچھیعادات گھر 
    سے ہی سیکھ سکتے ہیں               
    اچھا بچو پھر ملیں گےایک اور کہانی کے ساتھ
     تب تک،  الله حافظ      
    ادیبہ انور
      اگر آپ بچوں کی پڑھائی ور تعلیم و تربیت کے متعلق مزید
    videos
    تخلیقی مواد ور بچوں کو پڑھانے
    کے طریقوں کے متعلق مواد چاھتے ہیں
    تومیری انگلش کی ویب سائٹ پر تشریف لے جائیں.
      
                        

    Download and print this story

  • 100 Free stories. A story about love insects.میری پیاری لال بیگ

    100 Free stories. A story about love insects.میری پیاری لال بیگ

    100 Urdu stories for reading series.

    Insects are vanishing from the earth. We can teach children to love them and save them.

         میری پیاری لال بیگ

       بچوں کے لئےایک پیاری سی کہانی -urdu stories for reading 

    urdu stories for reading

     







    بہارکا موسم ہے- ہر طرف  خوب صورت رنگوں اور پیاری پیاری خوشبو والے پھول کھلے ہیں
    اور رنگ برنگی تتلیاں ، لال بیگ، مدومکھیاں،اڑ رہی ہیں
    پرندے چہچہا رہے ہیں
    میں کهیلنے کے لیے باہر نکلا

    اوہ ! یہ لال بیگ کتنی خوبصورت ہے
    میں نے اپنے بھائی سے کہا 
    میں اسے ہمشہ کے لیے اپنے ساتھ رکھنا چاہتا ہوں
    میں نے اپنے بھا ئی کے ساتھ مل کر اسے پکڑ لیا
    ہم نے اسے کمرے میں لا کر ایک بوتل میں بند کر دیا
    اور وہ بوتل ایک میز پر رکھ دی
    اور اس بوتل میں تھوڑی سی گھاس 
    اور پھول بھی رکھ دیے
    دوپہر تک وہ لال بیگ بوتل کے
     اندر چھلانگیں مارتی رہی
    وہ باربار اوپر چڑھتی  اور پھر نیچے گر جا تی
    ہم اسے دیکھ کربہت خوش تھے
    مگر شام کو وہ لال بیگ آرام سے بیٹھ گئی
     اب وہ  بار بار اوپر بھی نہیں چڑھ رہی تھی
    وہ تھوڑی اداس اور تھکی ہوئی لگ رہی تھی
     ایسا لگتا تھا
    وہ اب ھمارے ساتھ خوش نہی ہے
    اور پھر ہم نے غورکیا اس نے صبح سے
    کچھ بھی نہیں کھایا تھا
    ہم اپنی امی جی سے اس کےلیےکھا نا لینےگیا 
    تب ہماری امی نے بتایا
    دیکھو بیٹا 
    وہاں اس کا گھراوردوست
    ہیں وہ سب اس کو یاد آ رہے ہوں گے
    جس طرح آپ کو کوئی پکڑکر کہیں بند کر دے
     تو آپ کو اچھا نہیں لگے گااسی طرح
    وہ بھی بوتل میں بند ہو کے 
     اچھا محسوس نہیں کر رہی ہو گی

     

    آپ اس کو خوش دکھنا چاھتے ہیں 
    تو اسکو واپس با غ میں چھوڑ آئیں
     اس لیے ہم نے بوتل اٹھائی
     اوراسکوپودوں کے پاس جا کر چھوڑ دیا
    ھمارے دیکھتے ہی دیکھتے
     وہ اڑتی ہوئی پودوں میں کہیں گم ہو گئی
    رات کو میں نے خواب دیکھا
    کہ میں اور میرا بھائی ایک خوبصورت باغ میں اڑ
    رہے ہیں
    اور وہاں ہماری پیاری لال بیگ بھی ہمارے ساتھ اڑ 
    رہی ہے 
     اور بہت خوبصورت نغمےگا رہی ہیں
    وہ اب سچ میں  ھمارے ساتھ بہت خوش ہے.
     
    مصنفہ :  ادیبہ انور  
     
     
     
    urdu stories for reading

    Read more stories in Urdu

    Read more stories in English

    Enrolments Available

    This is a short course of hadith and stories from My 30 short hadith with stories course. Online group classes are available online for all time zones. Recommended age for the class Hadith for kids is 7+. These classes are available in English and Urdu. If you want to enroll your child in our classes contact us via.

    Other courses we have

    • Easy Tafseer for kids with interesting stories you can see that course in my hadith course tab.
    • Prayer for kids course is a short course to teach about taharat, Gusal, wudu, times of prayers, number and names of prayers, pillars and conditions of prayer, and method of prayer. Search as Prayer for kids course on the search bar.
    • Ramzan boost course we do start 2 weeks before Ramzan.
    • Faith boos course In December to say No To Marry Christmas.
    • Kindness to Parents

    If you want to start this course with me then leave a comment, Email me or enroll your child here.

    Download your free copy of 30 short Hadith book pdfs in Urdu/Eng from the Posts tab.

  • Free stories for children in Urdu. Mera Helicopter میرا ہیلی کاپٹر

                     

             بچوں کے لیے اردواسلامی  کہانی

      میرا ہیلی کاپٹر

    احمد سویا ہوا تھا کہ اچانک  شور

    Free Islamic stories for children in Urdu کرتا ہوا  اٹھ گیا


    میرا ہیلی کاپٹر
    ، میرا ہیلی کاپٹر
    کہاں ہے? میرا ہیلی کاپٹر

    کہاں ہے میرا ہیلی کاپٹر


    دادا جان مسجد سے نماز پڑھ کر واپس آ رہے تھے 

    انہوں نے احمد کا شورسنا تو احمد کی کمرے کی طرف چلے گے

    اور  احمد سے پوچھنے لگے  بیٹا آپ کون سے ہیلی کاپٹر کی بات کر رہے ہو

    :احمد

    دادا جان میں میرے اپنے ہیلی کاپٹر کی بات کر رہا ہوں جس سے میں

    کھیل رہا تھا

    وہ ایک ریموٹ کنٹرول ہیلی

    کاپٹر تھا اورمیں اس کو ایک بہت پیارے سے باغ میں اڑا رہا تھا

    : دادا جان

    اچھا لیکن آپ کے پاس تو ایسا کوئی ہیلی کاپٹر نہیں تھا

    آپ نے وہ ہیلی کاپٹر کہاں سے لیا

    : احمد

    پتا نہیں دادا جان

    لیکن ابھی تھوڑی دیر پہلے تو وہ میرےپاس تھا

    : داداجان

     مسکراتے ھوے

    اچھا بیٹا اس کا مطلب ہے آپ نے خواب دیکھا  ہے

    : احمد

    خواب لیکن دادا جان وہ تو سچ میں ہیلی کاپٹر تھا اور میں اس کے ساتھ 

    بہت زیادہ  کھیل رہا تھا

    اور مجھے بہت مزہ آیا

    : دادا جان

    احمد بیٹا تم بلکل ٹھیک کہ رہے ہو

    تمہیں واقعی ہی بہت مزہ آیا ہو گا

    لیکن بیٹا وہ سچ میں خواب  ہی تھا 

    اچھا یہ بتائو!  آپ نے الله  تعالیٰ سے ہیلی کاپٹر کے لیے کوئی دعا کی تھی

    : احمد

    جی ہاں  دادا  جی

    مجھے ریموٹ  کنٹرول ہیلی کاپٹر بہت اچھا لگتا ہے

    میں نے ایک ویڈیو میں دیکھا تھا کہ ایک بچہ

    ہیلی کاپٹر اڑا رہا تھا اور

    وہ لڑکا اس ہیلی کاپٹر کو کبھی بہت اونچا  لے کر جاتا

    ا ور کبھی کلا بازیاں لگاتا ہوا نیچے لے آتا

      مجھے بھی ویسا ہی ہیلی کاپٹرچاہیے

     میں نے الله تعالی سے دعا کی کہ

    مجھے بھی ایسا ہی ہیلی کاپٹر چاہیے

     لیکن مجھے  ابھی تک ہیلی کاپٹرنہیں ملا

    میں نے باباجان سے بھی کہا تھا کہ

    مجھے ویسا ہیلی کاپٹر  دلادیں

    لیکن وہ کہتے ہیں کہ ابھی میں بہت چھوٹا ہوں

    دیکھیں نا دادا جان میں کتنا بڑاہو گیا ہوں

    یہ کہتے ہوۓ احمد کرسی پر چڑھ گیا

    اور ہاتھ اور بھی اوپر کر لیے

    یہ دیکھ  کر دادا جان مسکرا نے لگے

    اور پھر دادا جان کہنے لگے

    احمد تم واقعی ہی بڑھے ہو گے

    لیکن احمد بیٹا ابھی آپ کی عمراتنی نہیں ہوئی ہے

    کہ آپ ریموٹ کنٹرول  ہیلی کاپٹر چلا سکو

    دیکھو احمد بیٹا اللہ تعا لی ہمارا مالک ہے

    اللہ بچوں سے بہت پیا ر کرتا ہے

    اور بچوں کی کبھی کوئی د عا نہیں ٹالتا

     صرف اللہ ہی بہترجانتا ہے کہ ھمارے لیے کیا اچھا ہے

    ا ور کیا اچھا  نہیں

    اسی لیے کبھی کبھی کوئی چیز ہم الله سے مانگتے ہیں

    لیکن اللہ ہمیں  وہ چیز نہیں دیتا

    یا پھر جب اس کا ٹھیک وقت آتا ہےتب دیتا ہیں

     بلکل اسی طرح جس طرح آپ کے بابا

    آپ سے بہت پیار کرتے ہیں

    لیکن انہیں پتا ہی کہ ابھی آپ ہیلی کاپٹر نہیں چلا سکتے

    اسی لیے انھوں نے نہیں دلایا

    :احمد

    اچھا دادا جان تو پھر وہ ہیلی کاپٹر جو میں نےخواب

    دیکھا تھا وہ کہاں ہے

    : دادا جان

     دیکھو احمد!  بیٹاالله تعالہ پیارے بچوں کا دل کبھی نہیں توڑتا

    اور جو بچے اللہ سے دعا کرتے ہیں

     اور اچھے اچھے کام کرتے ہیں

     اللہ تعالہ ان بچوں کی ساری چیزیں

     اپنے پاس جنت میں رکھتے جاتے ہیں

    اور جب کسی بچے کا کوئی کام بہت پسند آتاہے

    تو رات کو الله تعالہ وہ چیز دے کر

    ہےفرشتوں کو بیجھتا

    اور اس طرح بچے  اس چیز کو دیکھہ بھی لیتےہیں

    اور اس کے ساتھ خوب کھیل بھی لیتےہیں



    :احمد

    تو دادا جان وہ  ہیلی کاپٹراللہ تعالہ مجھے کب دن گے

    میں نےاتنی زیا دہ اللہ سے دعاکی ہے

    :دادا جان

    بیٹا آپ اللہ سے دعا کرتے رہا کرو

    جب اللہ اسے آپ کے لئےاچھا سمجھے گا

    تو آپ کو مل جایے گااور 
    اور کبھی کبھی اللہ کو آپ پر بہت پیار آ رہا ہوتا ہے 

    اس لئے اللہ چاہتا ہے کہ آپ اس سے بار بار د عاکرو

    پھر آپ کو وہ چیزملے
    اور اگر آپ کو وہ ہیلی کاپٹر نہ ملا تو تو اس کی جگہ اللہ آپ کو کوئی اور پیاری سی چیز بھی  دے گا

    اور بھر  الله تعا لہ جنت میں

     اس دنیا کے سا رے

     ہیلی کاپٹر اور کھلونوں سے

    بھی زیادہ خوب صورت کھلونے اور اچھی اچھی چیزیں 

    سٹور بھی  کر دے گا

    آپ وہاں جتنا چاہو گےان کھلونوں کے ساتھ کھیل سکو گے

    اس لئے اللہ تعالہ سے دعا کرتے رہو ہمیشہ

    تا کہ آپ کو بہت ساری اچھی اچھی جنت کی چیزیں ملیں

    ٹھیک ہے نا کرو گے نا دعا

    :احمد

    جی دادا جان

    مجھے چاہیےجنت کے سارے کھلونے

      ان شا  اللہ

    یہ کہتے ھوے احمد کلا بازیاں لگاتاہوا

     بستر سے اترا اور باہر بھاگ گیا




     مصنفہ: ادیبہ انور
     تصویر کشی اور مشق : محمد محسن
    اس تصویر میں رنگ بھری

    مشق


     اس کہانی کے آخر میں بچوں سے آسان سوال کریں



    ١. دعا کیسے کرتے ہیں 

    ٢.آپ اللہ سے کس کس چیز کی د عا کرتے ہو

         ٣. آپ کو جنت میں کیا کیا چیزیں چاہیں

    ٤. اللہ نے ہمیں کون کون سی چیزیں دی ہیں

    ایک ورق پر تصویریں بنا کر ان کے نام لکھیں  

    ٥. اللہ نے جنت میں ھمارے لیےکون سے پھل اور نعمتیں رکھیں ہیں

     ٦. احمد نے خواب میں کیا دیکھا 

    ہماری جو  د عا ئیں  پوری نہیں ہوتیں وہ کہاں جاتی ہیں



    ہاتھ سے بنا ہوا ایک جنت کا خالی نقشہ جس میں آدم  علیہ سلام اور حوا علیہ سلام کو زمین پر اتارے جانے سے پہلے کا نقشہ ہے