Tag: Urduwaldain

  • Story of Hz Ibraheem A.S.حضرت ابراہیمؑ… free pdf Stories for children In Urdu.

    حضرت ابراہیمؑ
    حضرت ابراہیمؑ ایک وادی کنان میں پیدا ہوے. کنان کے لوگ بت پرست ائر ستارہ پرست تھے. حضت ابراہیمؑ ان لوگوں کو بتوں کی عبادت کرتے اور ان سے مانگتے دیکھتے تو ان کو بہت برا لگتا

    جب وہ ذرا بڑے ہوے تو انہوں نے اپنے بابا(چاچا) آزر سے کہا کہ یہ سب بت جنہیں تم اپنے ہاتھوں سے بناتے ہو وہ تمہیں کیا دے سکتے ہیں. اس بات پر وہ بہت ناراض ہوئے.
    پھر حضرت ابراہیمؑ نے ان لوگوں کو سمجھانے کے لئے ایک دن ایک چمکتا ہوا ستارہ دیکھا تو کہا یہ میرا رب ہے.  لوگ بہت خوش ہوئے کہ اس نے بھی ہماری طرح کی بات کی ہے. پھر وہ ستارہ ڈوب گیا تو ابراہیمؑ نے کیا کہ ڈوبنے والا میرا رب نہیں ہو سکتا. پر چاند نکل آیا تو ابرہیمؑ نے کہا کہ یہ زیادہ روشن اور چمکدار ہے یہ میرا رب ہے
    پھر چاند بھی ڈوب گیا تو انہوں نے کہا کہ ڈوبنے والا میرا رب نہیں ہو سکتا. پھر سورج نکلا تو آپؑ نے کہا یہ میرا رب ہے. پھر وہ بھی شام کو ڈوب گیا تو حضرت ابراہیمؑ نے کہا کہ یہ بھی ڈوب گیا.  میرا رب تو وہ ہےجو ہمیشہ سے ہے کبھی ڈوب نہیں سکتا. تم سب ان کو چھوڑ کر اس اللہ کی عبادت کرو.
     اس بات پر سب لوگ آپؑ سے بہت ناراض ہوئے اور کہنے لگے کہ آپ کے خاندان کی وجہ سے آپ کو چھوڑ رہے ہیں. آئیندہ ہمارے خداؤں کو برا مت کہنا.
    پھر حضرت ابراہیم نے ان کو سمجھانے کے لئے ایک اور ترکیب سوچی.
    ایک دن جب سب لوگ میلے میں جانے لگے تو حضرت ابراہیمؑ ن کہا کہ میں بیمار  میں نہیں جاؤں گا.  لہٰذا جب سب لوگ چلے گئے تو ابراہیمؑ نے ان کے عبادت خانے میں جا کر ان کے سب بتوں کو کلہاڑی سےتوڑ دیا. اور ایک سب سے بڑے بت کو چھوڑ دیا.اور کلہاڑی اس بڑے بت کےاوپر رکھ دی.
    جب لوگ واپس آئےتو اپنے بتوں کا یہ حال دیکھ کے بہت غصہ میں آئے. انہوں نے حضرت ابراہیمؑ سے پوچھا کہ یہ  سب بت کس نے توڑے ہیں .حضرت ابراہیمؑ نے کہا اس بڑے بت نے توڑےہوں گے اس سے پوچھو. لوگوں نے کہا یہ کیسے بول سکتا ہے
    ابراہیمؑ نے کہا کہ جو نا بول سکتے ہیں نا اپنی حفاظت کر سکتے ہیں تم ان سے کیوں مانگتے ہو
    لوگ سمجھنے کی بجائے اور بھی غصہ میں آ گئے. انہوں نے کہا کہ اب ہم تمیں نہیں چھوڑیں گے.
    وہ سب حضرت ابرہیمؑ کی شکایت لے کر نمرود کے پاس چلے گئے.
    حضرت ابراہیمؑ اور نمرود
    لوگ اپنے ٹوٹے ہوئے بت دیکھ کر شدید غصہ میں تھے. وہ حضرت ابراہیمؑ کو نمرود کے پاس لے گئے.
    نمرود نے ان سے پوچھا اچھا بتا کون ہے تیرا اللہ
    حضرت ابراہیمؑ نے کہا ک میرا رب وہ ہے جو زندگی بھی دیتا ہے اور موت بھی
    نمرود نے کہا کہ وہ تو میں بھی کر سکتا ہوں.
    یہ کہ کر نمرود نے ایک پھانسی کے قیدی کوآزاد کر دیا اور ایک بےگناہ کو مروا دیا.
    پھر حضرت ابراہیمؑ نے کہاکہ میرارب سورج کو مشرق سے نکالتا ہے تو مغرب سے نکال کر دیکھا.
    نمرود لاجواب ہو گیا.
    اس نے حکم دیا کہ ابراہیمؑ کو آگ میں ڈال دیا جائے.
    ایک میدان میں بہت ساری لکڑیاں ڈال کر خوب آگ جلائی گئی. پھر حضرت ابراہیمؑ کو اس آگ میں ڈال دیا گیا.  اللہ نے جلدی سےحضرت جبرائیل کو بیجھا.
    حضرت جبرائیل نے اللہ کے حکم سے آگ کو ٹھنڈا کر دیا.  لوگ دیکھنے آئے کہ ابراہیمؑ  آگ میں جل گئے ہوں گے.لیکن انہوں  نے آ کر دیکھا کہحضرت جبرائیل پھولوں پر بیٹھے ہوئے اللہ کو یاد کر  رہے ہیں.
    یہ دیکھ کر بہت سے لوگ مسلمان ہو گئے. لیکن نمرود اور اس کے بہت سارے ساتھی مسلمان نا ہوئے.
     اللہ نے ان پر مچھروں کا عذاب  بیجھا. یہ بہت موٹے موٹے مچھر تھے جوان کو کاٹ کاٹ کر  ان کا گوشت بھی کھا جاتے تھے.
     ایک مچھر نمرود کے ناک میں گھس کر دماغ میں بیٹھ گیا. جب وہ مچھر اس کو کاٹتا تو وہ چیخیں مارتا. پھر لوگوں سے سر میں جوتے مرواتا.
    اس طرح اللہ نےے اس کو نا فرمانی کی سزا دی.

    حضرت ابراہیمؑ کے بیٹے.
     پھر حضرت ابراہیمؑ ہجرت کر کے فلسطین چلے گئے انہوں نے حضرت ساراہ سے شادی کی. لیکن ان کے بچے نا ہوئے. پھر انہوں نے حضرت ہاجرہ سے شادی کی. لیکن ان کے بھی بچے نا ہوئے.
    ایک دن  حضرت ابراہیمؑ کے پاس دو مہمان آئے. انہوں نے سفید لباس پہنے ہوئے تھے. حضرت ابراہیمؑ نے ان کو نا پہچانا.
    حضرت ابراہیمؑ نے کھانا بنوایا. اور ان کے سامنے رکھا.لیکن انہوں نے کھانا نا کھایا.
    حضرت ابراہیمؑ کوان سے خوف محسوس ہوا.
    ان مہمانوں نے کہا کہ ڈریں نا ہم اللہ کی طرف بیجھے ہوئے فرشتے ہیں.
    حضرت ہاجرہ یہ سن کر ہنس پڑیں . فرشتوں نے ان کی طرف دیکھا اور کہا ہم آپ کو ایک بیٹے کی بشارت دیتے ہیں. یہ سن کر حضرت ہاجرہ شرما گئیں اور کہنے لگیں کہ اب میرا بیٹا کیسے پیدا ہو سکتا ہے. کیوں کہ میرا شوہر اور میں دونوں ہی بوڑھے ہو چکے ہیں.
    فرشتوں نے کہا کہ جب اللہ کسی کام کو کرنے کا ارادہ کر لیتا ہے تو وہ بس اس کام کو کہتا ہے کہ ہو جا اور وہ کام ہو جاتا ہے.
    یہ کہ کر فرشتے حضرت لوطؑ کی قوم کی طرف چلے گئے.
    پھر حضرت ہاجرہ کا بیٹا ہوا جس کا نام انہوں نے اسمائیلؑ رکھا.
    اس کے بعد حضرت سارا کا بھی ایک بیٹا ہوا. جس کا نام اسحاقؑ رکھا گیا.
    اس طرح حضرت ابراہیمؑ کے دونوں بیٹے بھی اللہ کے نبی بنے.
    حضرت اسحاقؑ کے بیٹوں کے بیٹوں اور ان نکی نسل میں بہت سارے اور نبی بھی آئے جیسےحضرت یوسفؑ اور حضرت موسیٰؑ  وغیرہ.
    بنکہ حضرت اسمائیلؑ کی نسل میں سے بعد میں صرف ایک ہی نبی آئے. جو کہ آخری نبی حضرت محمدؐ تھے.
    حضرت اسماعیلؑ اور زم زم
    حضرت ابراہیمؑ اپنے دونوں بیٹوں حضرت اسحاقؑ اور حضرت اسماعیلؑ کے ساتھ فلسطین میں تھے. جب اللہ تعا لیٰ نے ان کو آزمائش میں ڈالا اور ان کو حکم دیا کہ حضرت اسماعیلؑ کو ان کی ماں کےساتھ فلسطین سے دور عرب کے شہر مکہ میں چھوڑ آؤ.
    حضرت ابراہیمؑ دونوں کو لے کر مکہ چلے گئے. مکہ کا یہ علاقہ پہاڑی تھا. دور دور تک پانی نہیں ملتا تھا. اس وجہ سے وہاں کوئی رہتا بھی نہیں تھا. بلکل سنسان  جگہ تھی. حضرت ابراہیمؑ اللہ کے حکم کے مطابق کچھ کھانا اور پانی ان دونوں کو دے کر آنے لگے. تو حضرت ہاجرہ نے ان سے پوچھا ہمیں کس کے آسرے پر یہاں چھوڑ کر جا رہے ہیں. انہوں نے کہا
    اللہ کے آسرے پر. یہ سن کر حضرت ہاجرہ نے کہا پھر ٹھیک ہے. اللہ ہمیں کبھی اکیلا نہیں چھوڑے گا.
    حضرت ابراہیمؑ نے ان ک لئے دعا کی کہ اللہ ان کی حفاظت فرمانا اور پھر چلے گئے.
     حضرت ہاجرہ وہاں بیٹھی اللہ کو یاد کرتی رہیں.کچھ وقت گزر گیا تو ان کے پاس کھانا اور پانی ختم ہو گیا.
    حضرت اسماعیلؑ کو بہت پیاس لگی تو وہ رونے لگے.  جب رو رو کر نڈھال ہونے لگے تو حضرت ہاجرہ ان کو لٹا کر پانی تلاش کرنے لگیں.ان کے دونوں طرف صفا اور مروہ پہاڑیاں تھیں.
    انہوں نے صفا کی پہاڑی پر چڑھ کر ادھر ادھر دیکھا لیکن

       حضرت ابراہیمؑ اور اسمائیلؑ کی قربانی
    حضرت اسمائیلؑ مکہ میں اپنی ماں ہاجرہ کےساتھ رہ رہے تھے. جب وہ تقریبا دس سال کے ہوئے تو ایک دن ان کے بابا حضرت ابراہیمؑ جو کہ اپنے دوسرے بیٹے حضرت اسحاقؑ کے ساتھ فلسطین میں رہتے تھے ان سے ملنے آئے.
    حضرت اسماعیلؑ بہت خوش ہوئے وہ پہلی مرتبہ اپنے بابا کو دیکھ رہے تھے.
    کچھ دیر کے بعد ان کے بابا نے ان سے کہا.
     بیٹا میں نے خواب میں دیکھا کہ میں تمہیں زبح کر رہا ہوں.
    لیکن میں نےاس بات کو حقیقت نا سمجھا.
    پھر اگلی رات بھی میں نے یہی خواب دیکھا. اور اسے اپنا خیال سمجھا.
    لیکن پھر تیسری رات بھی میں نے یہی خواب دیکھا.
    پھر میں یہ سمجھ گیا کہ یہ میرا خیال نہیں بلکہ اللہ کا حکم ہے.
    اب بتا تو کیا کہتا ہے
    حضرت اسماعیلؑ ایک بہادر اور فرماں بردار بیٹے تھے.
    انہوں نے اپنے بابا کو بہت پیار سے کہا کہ
    بابا آپ کو جو حکم اللہ سے ملا ہے آپ اس پر عمل کیجیئے
    انشاءاللہ آپ مجھے ثابت قدم دیکھیں گے.
    اس طرح حضرت ابراہیمؑ اپنے پیارے بیٹے حضرت اسماعیلؑ کو ذبح کرنے کے لئے چل پڑے
    رستے میں شیطان نے ان کو اللہ کا حکم ماننے سے روکنا چاہا
    شیطان آ کر حضرت ابراہیمؑ ک دل یہ وہم ڈالنے لگا کہ یہ سچا خواب نہیں ہے.
    لیکن اسی وقت وہاں پر  ایک فرشتہ جس کا نام  حضرت جبرائیلؑ ہے آگیا
    اس نے حضرت ابراہیمؑ کو بتایا کہ یہ شیطان آپ کو اللہ کا حکم ماننے سے روکنے آیا ہے.
    اس کو سات کنکر ماریں
    جب حضرت ابراہیمؑ نے اسکو سات کنکر مارے تو وہ غائب ہو گیا. لیکن تھوڑی آگے جا کے وہ پھر آ گیا
    پھر حضرت ابراہیمؑ نے اس کو سات کنکر مارے
    تو وہ غائب ہو گیا
    تھوڑا اور آگے گئے تو وہ شیطان مردود پھر آ گیا
    کہنے لگا گھر میں اس کی ماں انتظار کر رہی ہو گی
    آپ واپس جا کر ان کو کیا بتائیں گے.
    لیکن پھر جبرائیل کے کہنے پر حضرت ابراہیمؑ نے شیطان کو سات کنکر مارے
    اب شیطان مایوس ہو کر چلا گیا
    حضرت ابراہیمؑ اپنے بیٹے کو لے کر مینا کے مقام پر پہنچے
    حضرت اسماعیلؑ نے اپنے بابا سے کہا کہ اپنی آنکھوں پر پٹی باندھ لیجئے
    ایسا نا ہو میرا چہرا دیکھ کر آپ کو مجھ پر پیار آ جائے اور آپ کو ذبح کرنے میں مشکل ہو
    حضرت ابراہیمؑ نے آنکھوں پر پٹی باندھ لی
    ابھی وہ چھڑی چلانے ہی لگے تھے کہ آواز آئی
    کہ اے ابراہیمؑ تم سچے ہو اور تم نے اپنا خواب بھی سچا کر دیا.
    یہ آپ کی آزمائش تھی آپ اس آزمائش پر پورے اترے ہو.
    اب یہ آپ کے پاس ایک دنبہ ہے آپ اس کو ذبح کریں اور کھائیں اور اللہ کا شکر ادا کریں
    حضرت ابراہیمؑ نے دیکھا کہ ان کے پاس جنت سے آیا ہوا دنبہ کھڑا ہے. اور حضرت اسماعیلؑ پاس کھڑے ہنس
    تھےحضرت ابراہیمؑ اور حضرت اسماعیلؑ نے کعبہ تعمیر کیا.
    جب حضرت اسماعیلؑ جوان ہوئے تو اس وقت خانہ کعبہ کی جگہ سے بت ختم کرنے اور وہاں پر اللہ کا گھر تعمیر کرنے کا حکم ملا. دونوں باپ بیٹا اللہ کا گھر تعمیر کرنے لگے. حضرت اسماعیلؑ پتھر اٹھا کر پکڑانے لگ گئے. اور حضرت ابراہیمؑ ان پتھروں کو ٹھیک ٹھیک اندازے سے جوڑ کر خاںہ کعبہ کی دیواریں بنانے لگے.
    وہ دونوں اپنا کام بھی کرتے جاتے اور اللہ سے دعا بھی کرتے جاتے کہ
    اے اللہ ہمارے اس کام کو قبول فرما لے, اور اس گھر کو برکت والا کر دے, اور ہماری اولاد میں ایک ایسا پیغمبر بھیج دے جو ان کو پاک کر دے اور ان کو دانائی اور حکمت کی باتیں سکھائے اللہ نے ان کی دعا قبول فرما لی .
    اس کے بعد آج تک خانہ کعبہ دنیا کا سب سے زیادہ عزت والا گھر ہے. اللہ نےحضرت اسماعیلؑ کی اولاد میں سے ہمارے پیارے نبی حضرت محمدؐ
     بھیجے
    اللہ نے ان کو کتاب قرآن مجید  بھی دی.  جس میں اللہ نے زندگی گزارنے کے سارےاصول بھی بتا دئیے ہیں
    حضرت محمدؐ نےلوگوں کو یہ بھی بتا دیا ک خانہ کعبہ میں جا کر  حج کیسے کرنا ہے.
    اب ہر سال لوگ ذوالحجہ کے مہینے میں خانه کعبہ جاتے ہیں اور حضرت ابراہیمؑ اور حضرت اسماعیلؑ کی سنت پوری کرتے ہیں.
    خانہ کعبہ کا طواف, صفا اور مروا کی سعی, جمرات اور جانوروں کی قربانی سب کچھ حضرت ابراہیمؑ اور حضرت اسماعیلؑ کی یاد میں ادا کئے جانے والے ارکان ہیں

      اگر آپ بچوں کی پڑھائی ور تعلیم و تربیت کے متعلق مزید
    videos
    تخلیقی مواد ور بچوں کو پڑھانے
    کے طریقوں کے متعلق مواد چاھتے ہیں
    تومیری انگلش کی ویب سائٹ پر تشریف لے جائیں.

  • Abraha ki faoj. Free pdf Urdu Islamic stories for children.

    ہاتھی اور ابابیل  
    ابرہہ ایک بہادرلیکن مغرور جنرل تھا. اس کے پاس لڑنے کے لیئے بہادر فوجی اور ہاتھی تھے.جو وہ افریقہ سے لے کر آیا تھا

     

    islami urdu kahania

     

    اس نے یمن پر قبضہ کر کے وہاں ایک بہت بڑا گرجا بنوایا تھا. وہ عربیوں کو مجبور کرتا کہ سب اس کے گرجا گھر میں آ کر عبادت کریں. اور جب بہت سارے لوگ عبادت کرتے تو وہ فخر سے کہتا کہ میرا گرجا دنیاکا سب سے بڑا عبادت خانہ ہے.

    لیکن ایک دن ایک عربی نے اس کو کہا کہ عرب کے شہر مکہ میں اس سے بھی بڑا ایک عبادت خانہ ہے. جہاں ساری دنیا سے لوگ عبادت کرنے آتے ہیں. اس کو بہت غصہ آیا. اس نےکہا کہ اگر میں اس عبادت خانے کو توڑ دوں تو پھر سب لوگ یہاں ہی آئیں گے. اس لئے وہ اپنی ساری فوج اور ہاتھیوں کو لے کر چل پڑا. اس نے سب سے  بڑے ہاتھی محمود کو بھی لے لیا. تا کہ وہ اس کے زور سے عمارت گرا سکے. اور اس عربی کو بھی ساتھ لیا جس نے خانہ کعبہ کے بارے میں بتایا تھا. تا کہ اس سے راستہ پوچھ سکے.
    مکہ کے قریب پہنچ کر اس نے مکہ والوں کو پیغام بیجھا کہ میں تم لوگوں کو کچھ نہیں کہوں گا اگر تم لوگ مجھے خانہ کعبہ ڈھانے دو گے.
    اس وقت عبدالمطلب خانہ کعبہ کے متولی اور سردار تھے. لوگوں نے ان سے کہا کہ ہاتھیوں والی فوج سےلڑنے کی ہم میں طاقت نہیں. حضرت عبدالمطلب نے اس سے کہا کہ تم سب اپنے مال لےکر پہاڑی پر چلےجائو. حضرت عبدالمطلب خود ساری رات خانہ کعبہ کے اندر بیٹھ کر دعا کرتے رہے. کہ اے اللہ یہ تیرا گھر ہے تو ہی اس کی حفاظت فرما. اللہ نے ان کی دعا قبول فرمائی .
     اور ہاتھی والی فوج حال خراب کر دیا.
    سب سے پہلے ابرہہ نےآگے بڑھنے کے فوج کو تیار کیا.جس عربی کو وہ ساتھ لائے تھے اس نے چپکے سے  ہاتھی محمود کےکان میں کیا کہ خبرداریہ تمھارے خالق کا گھر ہے آگے مت بڑھنا.
    فوج نے بہت زور لگایا. مار مار کر لہولہان کر دیا لیکن ہاتھی آگے نا بڑھا.
    ابرہہ اور اس کے ساتھی بہت غصہ میں تھے.
    اسی وقت اللہ نے ان کے پیچھے سے بے شمار ابابیل پرندے بھیج دیئے جنہوں نے اپنی چونچ میں چھوٹے چھوٹے پتھر پکڑے ہوئے تھے.
    وہ پتھر فوج کے اوپر پیھنکےلگے. تھوڑی دیر میں وہ سب فوجی پتھر کھا کھا کے وہ وہیں مر گئے.
    ایک پتھر ابرہہ کے سر میں لگا جس سے وہ بہت زخمی ہو گیا اور ڈر کر وہاں سے بھاگ گیا.
    اور کچھ دنوں بعد راستے میں ہی مر گیا. اس طرح اللہ تعالٰی نے اپنے گھر کی -حفاظت کی.
    ادیبہ انور 
    اس کہانی کے بعد  بچوں سے سوال جواب سے  بچوں کی معلومات بڑھائیں 
    بچوں کو  الفیل یاد کروائی جائیں اور آسان تخلیکی مشق کروائی جیے 
    اس مشاق میں ہاتھی ابابیل اور اس کا گھونسلا اور خانہ کعبہ بنوایا جایے 
    اس کے علاوہ اللہ کا پہلا  اور لوگوں کے  سب سے بڑھے عبادت خانے کے بارے میں بتایا جایے 
    اس کہانی  کو لوگوں کے ساتھ شیر  کریں تا کہ زیادہ لوگ فائدہ اٹھا سکیں
      اگر آپ بچوں کی پڑھائی ور تعلیم و تربیت کے متعلق مزید
    تخلیقی مواد ور بچوں کو پڑھانے
    کے طریقوں کے متعلق مواد چاھتے ہیں
    کمنٹ کریں
    free PDF kay liy click kerin
      

    My Urdu channel for stories and Islamic video

    My English Channel for Islamic crafts, parenting and Stories

    Read more stories in Stories section above. You can join my stories live sessions comment for info.

  • Bachon ki taleem o Terbiayt. Parents role in Character buidling urdu.

    کیا ،کیوں، کیسےبچوں کو مطمئن کیسے کریں بچوں کی تربیت اور ہمارا کردار

    انسان کی پیدائش کے ساتھ ہے اس کے سیکھنے کا عمل شروع ہو جاتا ہے
    – بچہ جب پہلی آواز سنتا ہے  توغوروفکر پیدا ہو جاتی ہے
    جب وہ آنکہ کھولتا ہے تو حیران کن نظروں سے اردہ گرد کا جائزہ نا ہے… ایک ایک نقش اسکی آنکہ کے عدسےسے دماغ پر نقش ہو جاتا ہےس کے دماغ میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے


    یہ کیا ہے؟
    پھر ان تصویروں اور آوازو کے ملاپ سے ایک اگلا مرحلہ آتاہے جب وو سوچتا ہے
    یہ کیوں ہے ؟
    اور پھر وو چلتنی پھرنے کے قا بل ہوتا ہے اپنے اس تجسس کی کھوج شرو ع کر دیتا ہے. ہر چیز کو پکر کر چھو کر اور دیکھ  کر سمجھنے کی شروعات کرتا ہے
    اور جونہی اسکی زبان ساتھ دیتی ہے
    اس کے سارے سوال اسکی زبان پر آ جاتےہی-

    ١. یہ کیا ہے
    ٢. ایسا کیوں ہے؟
    ٣. یہ کس نے بنایا ہے؟
    ٤.کہاں ہے
    انسان کی ابتدا سے لے کر آخر تک یہ تجسس ور جا ن لینے کی خواہش ہمیشہ رہتی ہے-
    اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کے بچوں کو ان کے سوالوں کے مناسب جواب کیسے دے جائیں. یاد رکھیں بچے کی ہر ذہنی الجھن ا ور ہر دور کے تجسس کی گرہیں اس کی عمر ور اس کی ذہنی سطح کو مد نظررکھ کر دینا بہت ضروری ہی ورنہ اگر کسی ذہنی الجھن کا اس کو مناسب ا ور درست جواب نہ ملا تو اس کی شخصیت پر بھی اس  کے  برے اثرات مرتب ہوں گےاور بعض دفعہ غلط علم اورغلط معلومات اس کی تربیت اور کردار پر بھی اثر انداز ہوتی ہیں


    ماں اور باپ باغ کے ایسے مالی ہیں جو اپنے ہاتھوں سے پودالگاتے ہیں،اپنےخون اور پسینے سے اس کی آبیاری کرتے ہیں اور صحت تکلیفیں برداشت کر کے اس کو پروان چڑ ھاتے ہیں لکن اس کے ساتھ ہی ساتھ انکو اپنے ہاتھوں سے لگاے ہوۓ پودوں کی کانٹ چھانٹ بھی کرنی پڑتی ہےاور یہ کانت چھانٹ چوٹی عمر میں ضروری ہوتی ہے کیوں ک جب پودا برا ہو جاتا ہے تو اسکی شاخیں سخت ہوجاتیں ہیں اور ذرا سی سختی سے ٹوٹنے لگتی ہیں

    بچے کی تربیت میں ماں کا کردار کردار


    بچہ سب سے زیادہ ماں کی قریب ہوتا ہے ماں کا رویہ اور کردار سب سے زیادہ بچے کی تربیت پر اثر انداز ہوتاہے
    اوربچہ سب سے زیادہ اسی سے سوال پوچھتا ہے
    اس لیے یہ نہایت ضروری ہے کہ ماں بچے کے ہر سوال کا نہایت تحمل اور سمجھداری سے جواب دے.اس کے لیےماں کو خود بھی ایک با علم اور باشعورفرد بن کر  نئی علمی معلومات اور دینی تربیت کا سیکھنا ضروری ہے
    ماں علم و تربیت کا پہلا ستون ہے . ما ں کو رب نے محبت اور برداشت عطاکی ہے اسی قوت برداشت اور محبت سے سے وو اپنے بچے کو ایک اچھا انسان اور باشعور فرد بنا سکتی ہے.

    بچے کی تربیت میں باپ کا کردار 

    اکثر بچے اپنے باپ سے بہت زیادہ اثر قبول کرتے ہیں
    کیوں کہ باپ گھر کا سربراہ اور حکمران ہوتا ہےاور اس کا رعب اور دبدبہ بھی زیادہ ہوتا ہے یہی وجہ ہے ک بچے اپنے والد کے جیسا بنے کی کوشش کرتے ہیں اس کے ساتھ ہی مرد کا  کیوں کہ حلقہ احباب اور سرگرمیاں بھی زیادہ ہوتی ہیں. وہ با ہر کے ماحول اور تبدیلیوں سے بھی اگاہ ہوتا ہے یہی وجہ ہے کہ باپ زیادہ اچھے طریقے سے  بچے کی تعمیر و تربیت میں مثبت کردار ادا کر سکتا ہےلیکن عملی طورپر دیکھاگیا ہی کہ باپ ساری ذمہ داری ماں پر ڈال دیتے ہیں اور بعض دفعہ بہت زیادہ سختی سے کام لیتے ہیں  جس کی وجہ سے بچے ذہنی طور پر باپ سے دور ہو جاتے ہیں اور اسی  وجہ سے وو سوال جن کا جواب ایک باپ ہی دیےسکتا ہے اور ایسے مسائل جن کی تربیت صرف والد ہے کر سکتا ہی وہ ادھورے رہ جاتے ہیں اور پھر یہ اس بچے کی شخصیت میں ادھورے پن پیدا کر دیتے ہیں

    بچے کی تربیت میں ماحول کا کردار

    بچے کے تجسس کی کھوج اس کو چوٹی عمر میں ہے کبھی کچن کے دراز کھنگالنے’ کی طرف لے جاتی ہے اور کبھی باپ کے جوتے پہن کر چیزوں کے فرق کو سمجھنے کی کوشش کرتا ہے
    ایسے میں گھر کا ماحول ایسا ہونا چاہے جس میں وہ بآسانی چل پھر کر اپنے سوالوں کا جواب ڈھونڈ سکے اور ساتھ ہی بڑھتی ہوئی عمر میں گھر اور گھر کا ماحول دوست، رشتے دار سب بچے کی تربیت میں اثر انداز ہوتے ہیں
    اسی لیے گھر اور گھر کا ماحول ایسا ہونا چا ہیے جس میں بچے کی شخصیت نکھرے. اس سلسے میں ذرا سی سختی یا بلاوجہ سے روک ٹوک بچے کہ اس تجسس کی رہ میں رکاوٹ بنتی ہے
    جس کی وجہ سے یا تو بچے باغی ہو جاتے ہیں 
    اور یا پھر ان کی ذات میں ایسا خلاپیدا ہو جاتا ہے جس کی وجہ سے وہ معا شرے کے مثبت کردار ادا نہیں کر سکتے
    والدین خود دوست بنیں ان کے لیے گھر کا ماحول اچھا  دوست  بنائیں اور  اس سے پہلے ک وو اپنے سوالوں کا جواب  تلاش کرنے کے لیے غلطانداز اور اور طریقہ اپنائیں اگے بڑھ کر ہر وقت انکی مدد کو تیار رہیں ناں کہنے کی بجایے ہر وقت انکے ساتھ رہیں. مشبت جواب اور حوصلہ افزائی کے ساتھ ان کے ساتھ چلیں.نئےوقت اور  حالات کے تقاضوں کو سمجھیں
    تو بچہ خود کو اپ کے قریب کرے گا اور ہر کیوں کا جواب جاننے کے لیے آپ کے پاس ہی آیے گا
    آخر میں صرف اتنا ہی کہ جب انسان ذرا سی محنت اور پیا ر سے جانوروں کو سدھا سکتا ہے تو ذرا سی محںت  اور پیا ر ا پنے بچوں کے لیے کیوں نہیں

    ادیبہ انور

      اگر آپ بچوں کی پڑھائی ور تعلیم و تربیت کے متعلق مزید
    videos
    تخلیقی مواد ور بچوں کو پڑھانے
    کے طریقوں کے متعلق مواد چاھتے ہیں
    تومیری انگلش کی ویب سائٹ پر تشریف لے جائیں.

  • waldin kay Faraiz, The Duties of Parents in urdu To rais muslim Child. A guide for Parents.

    حقوق العباد 

    والدین کے فرائض

    تعلیم و تربیت والدین کی ذمہداری ہےوہ اس ذمہ داری کو

           کیسے پورا کریں 

    بچوں کی تعلیم ور تربیت والدین پر فرض  ہے .اسلام نے والدین پر اولاد  کے جو حقوق واجب کیے ہیں.  وہ یہ ہیں 

    ١. اچھا نام رکھنا ٢.   اچھی تعلیم و  تربیت دینا ٣. اور اچھی جگہ شادی کرنا   

    تعلیم  کے لیےآج بہت سارے ادارے بن چکے  ہیں جہاں ہم اپنے بچوں کو بھیجتےہیں  تو وہ دنیا کے سآرے علوم و فنون سیکھتا ہے جو اس کو یہ سیکھا دیتے ہیں کہ کس طرح زیادہ سے زیادہ کمایا جا سکتا ہےا ور آسائشیں حاصل کر کے اپنا معاشرتی مقام بلندکیا جا سکتا ہے لکن اس ساری دور بھاگ میں انسان یہ بھول گیا ہے ک تعلیم کے ساتھ تربیت بھی ضروری ہیں   اب وہ چند لوگ جو بچوں کی تربیت کو اہمیت دیتے ہیں ان میں سے بھی بعض ایسے ہیں جوصرف سوری بولنے، شکریہ بھولنےا ور زیادہ سے زیادہ جھوٹ ، چوری، اور تمیز سے بات کرنے کو ہی تربیت کہتے ہیں جب کہ اسلامی نقطہنظر سے تربیت کے معنی ہیں اخلاق اور تہذیب سیکھنا   یہ اس انسان کے والدین اور عزیزوں کی ذمہ داری ہے کہ اس کی اچھی تربیت کرکے اس کو خوش بخت بنائےیا اپنی ذمہ داری کو انجام نہ دیتے ہوئے اس کی بری تربیت کرکے اس کو بد بخت بنائیں۔ تربیت کرنے کے لئے بھی سیرت اور نمونہ عمل کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ اس نمونہ عمل کو سامنے رکھ کر اور اس کی روش وفرامین کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنے بچے کی تربیت کرسکے ۔ خدا کے فضل سے مسلمانوں کے لئے بلکہ پوری انسانیت کے لئے خدا نے نمونہ کی نشاندہی کر دی ہے لقد کان لکم فی رسول اللّٰہ اسوۃ حسنۃ(احزب ٢١) تمہارے لئے رسول اللہؐ بہترین نمونہ عمل ہیں ۔رسولؐ نے جن کی تربیت کی ہے ان شخصیات کو دیکھنے کے بعد ہمیں اندازہ ہو تا ہے کہ آپ نے کتنی بہترین تربیت کی ہے اور ان کی تربیت کی مثا ل دنیامیں نہیں ملتی 
    اس کی ذمہ داری ماں اور باپ دونوں پر آتی ہے مگرآج کے انسسان کو دنیا کی آسایشوں  نے اتنا غافل کر دیا ہے کہ اس نے آسائشیں مہیا کرنے اور دنیاوی تعلیم کو ہی اپنی ذمہداریسمجھ لیا ہے جب کے تربیتکا مطلب ہے بچے کو ایسا انسان بنانا جس میں صبرہو،اخلاص ہوتوکل ہو،قوت برداشت ہوجو دنیا میںرہتے ھوے بھی دنیا کا نہ ہو،جو  بہادربھی ہو اور دردمند بھی جو حق کے لیے لرنے والا بھی ہو اور معاف کرنے والا بھی ،جس میں شرم اور حیا بھی ہو  کوئی بھی والدین یہ نہیں چاہتا کہ اسکی اولاد غلط راستے پر چلے یا اس کو غلط تربیت ملی… لکن افسوس یہ ہے کہ آج والدین خود ہی غلط اور صحیی کا فرق بھول گے ہیں بس دنیا کے بہاؤکے ساتھ چلے جا رہیے ہیں…… نماز، روزہ، حج زکاتہ ادا کر کے دین مکمل نہیں ہوتا دین مکمل ہوتا ہے اسوہ رسول اپنا کر .. اور  امر بالمعروف ونہی عن المنکر اپنا کر 
    یاد رکھیں ہماری اولاد ہمارے لیے صدقہ جاریہ ہے اسے آخرت کے لیےتیار کریں نا کہ دنیا کےلیے والد کی ذمہ داری ماں اور باپ دونوں پر ایک جتنی ہے ماں کی تربیت گود سے شروع ہوتی ہے اور باپ کی انگلی پکڑ کر چلنے سے لے کر با لغ ہونے تک اپنی اپنی ذمہ داری کے بارے میں دونوں ہی اللہ کے سامنے جواب دہ ہوں گے اس کے لیے ضروری ہے کہ اپنا مقام و مرتبہ پہچانیں خود سیکھیں عمل کریں اور اولاد کو سکھائیں کوئی بھی اسکول  یا کالج آپ کے بچے کو ایسی تربیت نہیں دے سکتا جو دنیا اور آخرت دونوں کے لائی کافی ہو… والدین جو سکھاتیں ہیں وہ تا عمریاد رہتا ہے والدین بنننا خوش قسمتی ہے اس سے بھی بری خوش قسمتی ہے کہ اولاد ہماری آخرت میں بہشش کا ذریعہ بن جایے قران میں بیان ہوا ہے کہ  تماری اولاد  ، بیویاںاور مال و دولت تمہارے لیے آزمائش ہیں… اس آزمائشپر پورا اتریں خود علم سیکھیں اور بچوں کوسیکھائیں پوسٹ کو دوسروں کے ساتھ شیرکریں تا کہ زیادہ سے زیادہ لوگ اس سے استفادہ حاصل کر سکیں 

                                (ادیبہ انور)




  • How we could teach to children Rights of a Muslim towards other Muslims?Urdu.

     
       مسلمانوں کے ایک دوسرے پر حقوق کیا ہیں؟  
    بچوں کو ایک کھیل کے ذریعے  سیکھائیں
    How we could teach to children Rights of a Muslim towards other Muslims?


    بچپن میں کی گئی تربیت ساری عمر بچوں کے کام آتی ہے


    اور تربیت میں سب سے ضروری اسلامی شرعیت اور ااقتدار ہیں جہاں ہم دنیا وی تعلیم کو بہت زیادہ دلچپ طریقوں اور مختلف قسم کے کھیل کے ذریعے بچوں  کو سیکھاتے ہیں تا کہ بچوں کو سیکھنے میں مدد ملے اور بچوں  کی دلچسپی بھی بنی رہی اسی طرح تمام دینی علوم اور شرعی مسائل سیکھانے کے لیے بھی ہم کچھ ایسے  طریقےاپنانے چاہیں جس سے بچے زیادہ دلچسبی سے دین سیکھیں
    اور عمل بھی کر سکیں
     
    الله کا فرمان ہے کہ میں اپنے حقوق جو ایک بندے پر رکھتا ہوں ہو سکتا ہے معاف کر دوں لیکن ایک بندے کے جو دوسرے مسلمان پر حققوق ہیں وو کبھی معاف نہیں کروں گا جب تک وہ خود معاف نہ کرے اس کے ساتھ ہے دیکھاگیا ہی کہ کچھ لوگ بچوں کو یہ معملات سیکھانے میں اتنی سختی کرتے ہیں کہ بچے جونہی ذرابارے ہوتے ہیں وو ان باتوں پر عمل کرنا چھوڑ دیتے ہیں
    بچوں کو جتنا زیادہ دلائل دی کر اور آسان طریقےباتیں سمجھی اور سیکھائیجائیں ان کا اثرساری زندگی رہتا ہے
    اسی سلسلہ میں بچوں کو ایک مسلمان کے دوسرے مسلمان پر جو حق حاصل ہیں سیکھانے کے لیے ایک کھیل کا سلسلہ پیش ہے
                                                   
     آئیں دیکھتےہیں کہ ایک مسلمان کے دوسرےمسلمان پر حقوق کون سے  ہیں

    ١. جب وہ ایک دوسرے سے ملیں تو سلام کریں
    ٢. اگر وو کھانے پر بلائے تو  دعوت قبول کریں
    ٣.کوئی مشوره  کرے تو اسکو اچھا مشورہ دے
    ٤.اگر وہ چھینکے تو  اسکی چھینک کا جواب دے
    ٥.اگر وہ بیمار ہو تو اسکی عیادت کرے
    ٦.جب کوئی مسلمان مرےتو اسکی نماز جنازہ پڑے
     
     
     
     
     

    بچوں کو کیسے سیکھائیں

      ١ .    دو یا دو سے زائد بچے اس کھیل میں حصہ لیں اگر  بچہ ایک ہے ہو تو خود اس کھیل میں حصہ لیں

    ٢ .         گھر تیار کیا جا یے

                               
        ان کے لیے اس کھیل کےلیے  بلاک یا کچھ کرسیاں وغیر ہ
     یا بھر کوئی
    کیمپ     tent
    لے کر گھر گھر کهیلنے کا انتظام کریں اور اس طرح سے ایک کھیل کھلیں
     
    .٣ .دعوت کا انتظام

    انکو دعوت کے لیے کچھ پسندیدہ کھانے کی ایشیا مہیا کریں اگر بچے خود سے کچھ کھا نا تیار کرسکیں تو ان کی مدد کریں ورنہ کھانا خود بنا لیں ور بچوں سے ٹیبل سجانے میں مدد لیں

    ٤. میزبان کا تحفہ
    میزبان کو بھی کچھ تحفہ وغیرہ لے کر جانے کے لیے کچھ مناسب سا کھلونا یا کھا’نے کی چہز مہیا کریں اگھر ہو سکے تو بچوں سے خود کوئی کھلونا کارڈ  یا پھولوں کا گلدستہ تیار کروائیں

    مثال کے طور پر اس طرح
    Image may contain: flower
    Image may contain: drink and flower



     
    ٥. کھیل
           ایک یا ایک سے زیادہ بچے مہمان بین گے اور ایک گھر میں  میزبان  


    میزبان فون پر  دوسرے بچے کو گھر میں کھا نے پر دعوت دے اور دوسرے بچے دعوت قبول کریں
     مکالمہ

    اسلام و علیکم  سے شروع کریں 

     دوسرا  بچہ  : وہ علیکم سلام ورحمت الله کہے
    پھر بچے کو اپنی مرضی سے گفتگو کرنیں دیں  
    جتنا زیادہ ہو سکے بچے خود سارا کھیل کھیلیں کیوں کہ بہت زیادہ مدا خلت سے بچہ ججھک 
    محسوس کرتا ہے اور آزادانہ طریقے سے کھیل کا زیادہ مزہ نہیں  لے سکتا ہے
     
     
     
    اسی دوران اگر کسی ایک بچے کو چھینکے یا خود کسی بچے کو چھینک مارنے اور  الحمد للہ پڑھننے کو کہیں اور چھینک کا جواب کیسے (   یر حمک الله)   دیتے ہیں یہ سیکھائیں
    کھانے کے بعدمہمان کھانے کی تعریف کرے اور یہ دعا پڑھے
     
     
     
     
    Αποτέλεσμα εικόνας για ‫میزبان کے لیے دعا‬‎

     


    پھر بچوں کو اپنی مرضی سے جتنا چا ہے اس کھیل کا مزہ لینے دن
    اور اخرمیں بچے ایک دوسرے  الله حافظ کہ کر رخصت ہوں
    مہمان کی عیادت کیسے کریں اس کھیل کو دوسرے حصے میں پیش کیا جا ےگا
        بہت شکریہ 
    د عا  میں یاد رکھیں 
     کھیل پسند آیے تو لا ئق اور شیر کرضرور کریں تا کہ سب اس سے فائدہ اٹھا سکیں

     
    تحریر ادیبہ انور
  • بچہ سست ہے یا بہت زیادہ تخیلاتی؟. ?How to deal lazy kids. Pakistani Parents guide in Urdu.

    کیا آپ کا                          

    بچہ سست ہے یا بہت زیادہ تخیلاتی؟

     ایسے بچوں کے ساتھ کیسا رویہ اپنایا جایے؟  



    Αποτέλεσμα εικόνας για lazy child images free
    اکثردکھا گیا ہے کہ ایک ہی گھر میں بعض بچے بہت زیادہ تیز اور ہوشیار ہوتے ہیں اور بعض بہت ہی سست ہوتے ہیں. تیز اور ہوشیار بچوں کو بہت زیادہ تعریف اور شاباش ملتی ہیں ہر ایک کے سامنے انکی تعریف ہونے سے وہ اور بھی زیادہ محنتی اورلائق ہو جاتے ہیں جب کہ جو بچہ سست یا ذرا کمزور ہوں وہ ایسے ہوشیار بچوں کی تعریف سن کر  اور بھی زیادہ سست ہو جاتا ہے.  اس کے ساتھ ہی یہ بھی بات یاد رکھنی چاہے کہ جس طرح ایک بچے کی تعریف سب کے سامنے کرنے سے وہ اور بھی زیادہ پر اعتماد ہو جاتا ہے بلکل اسی طرح جس بچے کو ہر وقت سست یا نالائق کہا جایے اور سب کے سامنے اس کی برائی کی جایے تو نفسیاتی طور پر اس بچے پر بھی بہت برا اثر پڑتا ہے اور وہ اور بھی زیادہ سست ہو جاتا  بے
    بےاعتمادی اور حساسیت کا شکار ہو کر کام کرنا چھوڑ دیتا ہے
     آئیےدیکھتے ہیں ک ہم عام لفظوں میں کس بچے کو سست یا کمزور ، نالائق وغیرہ کے الفاظ سے پکارتے ہیں؟
    کیا اسے بچے واقعی سست یا کمزور ہوتے ہیں یا بہت زیادہ حساس

     آئیے سست بچے کیکچھ حرکت کا جائزہ لیتے ہیں

    ١.کھانا آہستہ آہستہ کھانا یا نہ کھانا
    ٢.واش روم میں برش کرتے ہوۓ اور نہا تے ھوے پانی سے کھیلنا
    ٣.لکھتے ھوے ادھر ادھردیکھتے رہنا یا فضول لکیریں لگانا
    ٤.رک رک کر پڑھنا یا بہت زیادہ باتیں کرنا
    ٥.بہت زیادہ رونا
    ٦.دوسروں کی شکایت کرنا
    ٧.بہت زیادہ ضد کرنا
    ٨.روز روز کھلونوں کی فرمائش کرنا
    ٩.آواز دینے پر بات نہ سننا یا جواب نہ دینا
    ٠١٠.جلدی تھک جانا یا کسی کام میں دل نہ لگانا
    ١١.ہر وقت کوئی نہ کوئی چیز یا کھلونا ہاتھ میں رکھنا
    ١٢.ہر وقت کچھ سوچتے رہنا
    سر درد یا تھکاوٹ کا اظہار کرنا



    وجوہات

    ١.بچپن میں دوسرے بچوں سے کیا گیا مقابلہ
    ٢.ضرورت سے زیادہ سخت
    ٣.زیادہ حساس سوچ  
        ٤.بچے میں تخیلاتی انداز فکر
     ٥.صحت کا کوئی مسئلہ 
    ٦.بعض دفعہ کوئی جسمانی کمزوری 
    ٧.قوت فیصلہ کی کمی یا خود اعتمادی نہ ہونا
    ٨.کسی چیز کا ڈر یا خوف

    بچے کو پیش آنے والے ان مسائل سے کیسے نپٹا جاے

    سب سے زیادہ ضروری بات جو ہمیشہ یاد رکھنی چا ہے وہ یہ کی ایسے بچے کند ذھن یا نالائق ہرگز نہیں ہوتےبلکہ ایسے بچے دوسرے بچوں کی نسبت زیادہ تخیلاتی اور حساس ہوتے ہیں. بلکہ ایسے بچوں کو اگر باغی بھی کہا جا ے تو بے جا نہ ہو گا.
    اصل میں یہ دوسروں کے بنایے ھوے اصولوں پر چلنے کی بجاے ہر چیز کو اپنی نظر سے دیکھتےہیں اور اسی وجہ سے 
    سامنے موجود چیزوں کو یا تو دیکھتے نہیں ہیں یا دیکھنا نہیں چاھتے.
    ایسے بچوں کی سوچ بہت گہری ہوتی ہیں.   یہ بچے ان چیزوں پر بھی غور کرتے ہیں جن پر ایک عام بچہ نظر بھی نہیں ڈالتا
    .وہ اپنی مرضی سے ہر کام کرنا چاھتے ہیں
    تا ہم ان ساری باتوں کے باوجود ایسے بچوں کو بہت ساری آزمائشوں سے گذرنا پڑتا ہے
    ایسے بچے کو انتہائی توجہ اور پیار کی ضرورت ہوتی ہیں اور والدین کو اور استادکو بھی ایسے بچوں کے ساتھ انتہائی محنت کرنی پڑتی ہے
     بےجا سختی ، ڈانٹ ،تنقید یا تضحیک ایسے بچوں کو بزدل، ضدی، سست ، کند ذہن،  بنا دیتی ہے
    ایسے بچوں کے ساتھ کچھ تدابیر اپنا کر ایسے بچوں کی صلاخیتوں کو اور بھی نکھارا جا سکتا ہے
    ١.ایسے بچوں کا دوسرے بچوں سے مقابلہ نہ کروایا جایے
    ٢.   ایسے بچوں کے سا تھ کچھ وقت کھیلا جا یے
    جہاں تک ہو سکے ہر کھیل میں ان کی پسند کا خاص کھال رکھا جایے

    ٣.  ایسے بچوں سے زیادہ باتیں کریں اور ان کی بات کو زیادہ سے زیادہ سنیں

    ٤.  ان کو پکارتےھوے یا مخاطب ہوتے ھوے دلچپ لہجہ اور الفاظ اپناے جایں
    ٥.  نرمی سے بات کریں اور غلطی ہونے پر انکو ڈانٹںےکی بجایے ان  سے اس کے بارے میں بات کریں اور احساس دلائیں کہ  آپ سے کیا غلطی ہوئی ہے
    ٦.   کھانا دیتے ھوے کھانےاور پلیٹ کو تھوڑا سجھا لیں

    ٧.   انکی دلچپی کے کا م کروائیں
    ٨.   پانی سے کهیلنے کے لیے پودوں کو پانی دلوائیں یا پھر برتن میں پانی دال کر کپ یا چمچ کی مدد سے نکلنے اور گننے کی مشق کروا یں 
    ٩.  گھر سے بھر پارک وغیرہ میں کهیلنے کے لیے لے جائیں اور قدرت کا مشاہدہ کروائیں
    Αποτέλεσμα εικόνας για lazy child images free


    ١٠. ایسے بچوں کے لیے فنی مہارتیں بہت اچھی رہتی ہیں انکو ایسے وسائل مہیا کریں یا  ایسے کھلونے اور اوزار مہیا کریں جس سے وہ نیا سیکھ اور کچھ نیا کر سکیں


    ١١.  ایسے بچوں کو بوریت سے بچانےے لیے نئی نئی جگہوں اور چیزوں کا مشاہدہ کروائیں
    ١٢.  ایسے بچوں کی بہت زیادہ حوصلہ افزائی کریں 
    ١٣.  انکو سست یا کا ہل کہنے کی بجایےانکو بتایا جایے کہ وہ ہر کام بہت دلجمی اور نفاست سے کرتا ہے
    ١٤.  انکی خوراک کا خاص خیال رکھا جا یے اگر ہو سکے تو کچھ اضافی صحت کا  سپلیمنٹسsupplementsلیے  
    بھی دیےجائیں
    ١٥.  چونکہ ایسے بچے بہت زیادہ سوچتے اور کھیلتے ہیں اس لیے جلدی تھک 
    جاتے ہیں لہٰذہ ان کے آرام اور نیند کاخاص خیال رکھا جائے
    ایک جملہ اکثر بولا جاتا ہے کہ عظیم لوگ یا سائنسدن عام باتوں پر غور نہیں کرتے یاشا عر بے ترتیب ہوتے ہیں کسی حد تک یہ بات درست بھی ہے
    اور اس کی وجہ بھی یہی ہے کہ ایسے لوگ معاشرےکے حساس ترین لوگ ہوتے ہیں اور انکی نگاہ وہ  د یکھہ رہی ہوتی ہے جو ہم نہیں دیکھ سکتے 
    ضرورت اس بات کی ہے کہ ان بچوں کو تضحیک کا نشانہ بنانے کی بجا ےان کی مدد کی جایے اور ان کی صلاحیتوں کو برویے کارلا کر نو ع
    انسانی کی مدد کی جایے
      
    اگر آپ کو یہ تحریر پسندآئی ہے تو اسے زیادہ سے زیادہ پھیلائیں تا کہ دوسرے بھی اس سے فائدہ حاصل کر سکیں کریں اور اپنی قیمتی آراسے بھی نوازیں
    اگر کسی ایسے بچے کو جانتے ہیں جو ایسی کسی کیفیت سے دوچار ہے تو اس کے سلسے میں ہر طرح کی مدد ہم سے لے سکتے ہیں
     بہت شکریہ.
    ادیبہ انور
  • Free Islamic Stories for children.. ایک بڑھیا کی کہانی

     ایک بڑھیا کی  کہانی 
    حضرت محمد  صلو علیہ ) کی سیرت کے واقعیات   
         
                          بچو ! آج میں آپ کو ایک اایسی  
    The story about seerah of Muhammad SAW: ایک بڑھیا کی کہانی ...حضرت محمد صل کی سیرت کے واقع...                          






                
              عورت کی  
    کہانی سناؤ گی جو ایک  غیرمسلم تھی 
                    بچوآپ کو پتا  ہے ناغیر مسلم کسےکہتےہیں           
     جی ہاں بلکل ٹھیک بتایا آپ نے  
    اس  کو جو اللہ کو ایک نہیں مانتا 
     اور نماز نہیں پڑھتا   
        توبچوں  وہ عورت ایک  
     نوجوان سے بہت نفرت کرتی تھی  –   
      اس لئےکہ وہ نوجوان  
    لوگوں کو ایکاللہ کی باتیں  بتاتا  تھا  
     اور  بتوں کی عبادت سے روکتا تھا   
    تو پیارے بچو!  اس نوجوان کا گزر روز  
    اس عورت کے گھر کے 
                                                   قریب سےہوتا تھا  
    سے  وہ عورت اپنی نفرت  
    کا اظہار اس طرح کرتی 
     کہ جب بھی وہ نوجوان   
    اس کے گھر کے قریب سے گزرتا 
    وہ عورت اس کے اوپر اپنے گھر کا  
    سارا کچرا پھینک دیتی 
     ایک دن ایسے ہوا کہ  
    اس عورت نے  
    نوجوان پر کچرا نہیں پھینکا ۔ 
    نوجوان کو خیرت ہوئی  
    کہ  آج وہ بڑھیا چھت  پر  
    کیوں نہیں کیوں کہ ایسا پہلے  
      کبھی نہی ہوا تھا  
    اس نوجوان نے اس عورت   
    کے ہمسایوں  سے  
    پوچھا کہ وہ بوڑھی   
     عورت کہاں ہے۔ 
    ہمسائیوں نے بتایا کہ  
    وہ تو بیمار ہے۔ 
    نوجوان نے سوچا  
    کہ مجھے ضرور  
    اس کا حال پوچھنے   
        جانا چاہیے  
    جب اس عورت نے دیکھا  
    – کہ یہ تو وہ وہی لڑکا ہے 
    جس پر میں کچرا پھینکتی  تھی 
             تو پیارے بچو 
    وہ عورت بہت ڈری 
    اس نے سوچا کہ  
    اب میں تو بہت کمزور ہوں  
     اس لیے یہ لڑکا پتا نہیں   
    میرے ساتھ  کیا  
    سلوک کرے 
    لیکن جب اس عورت کو  
    معلوم ہواکہ  
    وہ نوجوان تو میرا  
    حال معلوم کرنے آیا ہے 
     تو وہ عورت بہت شرمندہ ہوئی  
    اور پیارے بچو 
     اس لڑکےنےاتنے اچھے  
    انداز سےبات 
    کی کہ وہ عورت اس کے 
    اچھے اخلاق اور میٹھی گفتگو 
    (بات) 
    سے بہت متاثرہوئی  
    اور اس نے اسلام قبول کر لیا 
    پیارے بچو کیا آپ بتا سکتے ہیں کہ  
    وہ نوجوان کون تھا 
                         جی ہاں جی 
    بچو آپ نے بلکل ٹھیک سوچا 
    اتنے اچھے سلوک اور   
    اخلاق والے نوجوان کا نام  
    حضرت محمد صل اللہعلیہوسلم ہے 
    دیکھا بچواچھی میٹھی گفتگو اورi 
    اچھے اخلاق سے دشمن  بھی 
         دوست بن جاتے ہیں 
    اس لیےبچو ہمیشہ  
    اپنے بہن بھائیوں،دوستوں   
    اور دوسرے سب لوگوں سے  
    اچھے سے بات کرنی چاہیے 
    اور سب کا خیال بھی رکھنا چاہیے 
    خاص طورپر اپنے ماں باپ   
                     اور بہن بھائیوں کا 
    کیوں کہ ہم ساری اچھیعادات گھر 
    سے ہی سیکھ سکتے ہیں               
    اچھا بچو پھر ملیں گےایک اور کہانی کے ساتھ
     تب تک،  الله حافظ      
    ادیبہ انور
      اگر آپ بچوں کی پڑھائی ور تعلیم و تربیت کے متعلق مزید
    videos
    تخلیقی مواد ور بچوں کو پڑھانے
    کے طریقوں کے متعلق مواد چاھتے ہیں
    تومیری انگلش کی ویب سائٹ پر تشریف لے جائیں.
      
                        

    Download and print this story

  • 100 Free stories. A story about love insects.میری پیاری لال بیگ

    100 Free stories. A story about love insects.میری پیاری لال بیگ

    100 Urdu stories for reading series.

    Insects are vanishing from the earth. We can teach children to love them and save them.

         میری پیاری لال بیگ

       بچوں کے لئےایک پیاری سی کہانی -urdu stories for reading 

    urdu stories for reading

     







    بہارکا موسم ہے- ہر طرف  خوب صورت رنگوں اور پیاری پیاری خوشبو والے پھول کھلے ہیں
    اور رنگ برنگی تتلیاں ، لال بیگ، مدومکھیاں،اڑ رہی ہیں
    پرندے چہچہا رہے ہیں
    میں کهیلنے کے لیے باہر نکلا

    اوہ ! یہ لال بیگ کتنی خوبصورت ہے
    میں نے اپنے بھائی سے کہا 
    میں اسے ہمشہ کے لیے اپنے ساتھ رکھنا چاہتا ہوں
    میں نے اپنے بھا ئی کے ساتھ مل کر اسے پکڑ لیا
    ہم نے اسے کمرے میں لا کر ایک بوتل میں بند کر دیا
    اور وہ بوتل ایک میز پر رکھ دی
    اور اس بوتل میں تھوڑی سی گھاس 
    اور پھول بھی رکھ دیے
    دوپہر تک وہ لال بیگ بوتل کے
     اندر چھلانگیں مارتی رہی
    وہ باربار اوپر چڑھتی  اور پھر نیچے گر جا تی
    ہم اسے دیکھ کربہت خوش تھے
    مگر شام کو وہ لال بیگ آرام سے بیٹھ گئی
     اب وہ  بار بار اوپر بھی نہیں چڑھ رہی تھی
    وہ تھوڑی اداس اور تھکی ہوئی لگ رہی تھی
     ایسا لگتا تھا
    وہ اب ھمارے ساتھ خوش نہی ہے
    اور پھر ہم نے غورکیا اس نے صبح سے
    کچھ بھی نہیں کھایا تھا
    ہم اپنی امی جی سے اس کےلیےکھا نا لینےگیا 
    تب ہماری امی نے بتایا
    دیکھو بیٹا 
    وہاں اس کا گھراوردوست
    ہیں وہ سب اس کو یاد آ رہے ہوں گے
    جس طرح آپ کو کوئی پکڑکر کہیں بند کر دے
     تو آپ کو اچھا نہیں لگے گااسی طرح
    وہ بھی بوتل میں بند ہو کے 
     اچھا محسوس نہیں کر رہی ہو گی

     

    آپ اس کو خوش دکھنا چاھتے ہیں 
    تو اسکو واپس با غ میں چھوڑ آئیں
     اس لیے ہم نے بوتل اٹھائی
     اوراسکوپودوں کے پاس جا کر چھوڑ دیا
    ھمارے دیکھتے ہی دیکھتے
     وہ اڑتی ہوئی پودوں میں کہیں گم ہو گئی
    رات کو میں نے خواب دیکھا
    کہ میں اور میرا بھائی ایک خوبصورت باغ میں اڑ
    رہے ہیں
    اور وہاں ہماری پیاری لال بیگ بھی ہمارے ساتھ اڑ 
    رہی ہے 
     اور بہت خوبصورت نغمےگا رہی ہیں
    وہ اب سچ میں  ھمارے ساتھ بہت خوش ہے.
     
    مصنفہ :  ادیبہ انور  
     
     
     
    urdu stories for reading

    Read more stories in Urdu

    Read more stories in English

    Enrolments Available

    This is a short course of hadith and stories from My 30 short hadith with stories course. Online group classes are available online for all time zones. Recommended age for the class Hadith for kids is 7+. These classes are available in English and Urdu. If you want to enroll your child in our classes contact us via.

    Other courses we have

    • Easy Tafseer for kids with interesting stories you can see that course in my hadith course tab.
    • Prayer for kids course is a short course to teach about taharat, Gusal, wudu, times of prayers, number and names of prayers, pillars and conditions of prayer, and method of prayer. Search as Prayer for kids course on the search bar.
    • Ramzan boost course we do start 2 weeks before Ramzan.
    • Faith boos course In December to say No To Marry Christmas.
    • Kindness to Parents

    If you want to start this course with me then leave a comment, Email me or enroll your child here.

    Download your free copy of 30 short Hadith book pdfs in Urdu/Eng from the Posts tab.

  • Free stories for children in Urdu. Mera Helicopter میرا ہیلی کاپٹر

                     

             بچوں کے لیے اردواسلامی  کہانی

      میرا ہیلی کاپٹر

    احمد سویا ہوا تھا کہ اچانک  شور

    Free Islamic stories for children in Urdu کرتا ہوا  اٹھ گیا


    میرا ہیلی کاپٹر
    ، میرا ہیلی کاپٹر
    کہاں ہے? میرا ہیلی کاپٹر

    کہاں ہے میرا ہیلی کاپٹر


    دادا جان مسجد سے نماز پڑھ کر واپس آ رہے تھے 

    انہوں نے احمد کا شورسنا تو احمد کی کمرے کی طرف چلے گے

    اور  احمد سے پوچھنے لگے  بیٹا آپ کون سے ہیلی کاپٹر کی بات کر رہے ہو

    :احمد

    دادا جان میں میرے اپنے ہیلی کاپٹر کی بات کر رہا ہوں جس سے میں

    کھیل رہا تھا

    وہ ایک ریموٹ کنٹرول ہیلی

    کاپٹر تھا اورمیں اس کو ایک بہت پیارے سے باغ میں اڑا رہا تھا

    : دادا جان

    اچھا لیکن آپ کے پاس تو ایسا کوئی ہیلی کاپٹر نہیں تھا

    آپ نے وہ ہیلی کاپٹر کہاں سے لیا

    : احمد

    پتا نہیں دادا جان

    لیکن ابھی تھوڑی دیر پہلے تو وہ میرےپاس تھا

    : داداجان

     مسکراتے ھوے

    اچھا بیٹا اس کا مطلب ہے آپ نے خواب دیکھا  ہے

    : احمد

    خواب لیکن دادا جان وہ تو سچ میں ہیلی کاپٹر تھا اور میں اس کے ساتھ 

    بہت زیادہ  کھیل رہا تھا

    اور مجھے بہت مزہ آیا

    : دادا جان

    احمد بیٹا تم بلکل ٹھیک کہ رہے ہو

    تمہیں واقعی ہی بہت مزہ آیا ہو گا

    لیکن بیٹا وہ سچ میں خواب  ہی تھا 

    اچھا یہ بتائو!  آپ نے الله  تعالیٰ سے ہیلی کاپٹر کے لیے کوئی دعا کی تھی

    : احمد

    جی ہاں  دادا  جی

    مجھے ریموٹ  کنٹرول ہیلی کاپٹر بہت اچھا لگتا ہے

    میں نے ایک ویڈیو میں دیکھا تھا کہ ایک بچہ

    ہیلی کاپٹر اڑا رہا تھا اور

    وہ لڑکا اس ہیلی کاپٹر کو کبھی بہت اونچا  لے کر جاتا

    ا ور کبھی کلا بازیاں لگاتا ہوا نیچے لے آتا

      مجھے بھی ویسا ہی ہیلی کاپٹرچاہیے

     میں نے الله تعالی سے دعا کی کہ

    مجھے بھی ایسا ہی ہیلی کاپٹر چاہیے

     لیکن مجھے  ابھی تک ہیلی کاپٹرنہیں ملا

    میں نے باباجان سے بھی کہا تھا کہ

    مجھے ویسا ہیلی کاپٹر  دلادیں

    لیکن وہ کہتے ہیں کہ ابھی میں بہت چھوٹا ہوں

    دیکھیں نا دادا جان میں کتنا بڑاہو گیا ہوں

    یہ کہتے ہوۓ احمد کرسی پر چڑھ گیا

    اور ہاتھ اور بھی اوپر کر لیے

    یہ دیکھ  کر دادا جان مسکرا نے لگے

    اور پھر دادا جان کہنے لگے

    احمد تم واقعی ہی بڑھے ہو گے

    لیکن احمد بیٹا ابھی آپ کی عمراتنی نہیں ہوئی ہے

    کہ آپ ریموٹ کنٹرول  ہیلی کاپٹر چلا سکو

    دیکھو احمد بیٹا اللہ تعا لی ہمارا مالک ہے

    اللہ بچوں سے بہت پیا ر کرتا ہے

    اور بچوں کی کبھی کوئی د عا نہیں ٹالتا

     صرف اللہ ہی بہترجانتا ہے کہ ھمارے لیے کیا اچھا ہے

    ا ور کیا اچھا  نہیں

    اسی لیے کبھی کبھی کوئی چیز ہم الله سے مانگتے ہیں

    لیکن اللہ ہمیں  وہ چیز نہیں دیتا

    یا پھر جب اس کا ٹھیک وقت آتا ہےتب دیتا ہیں

     بلکل اسی طرح جس طرح آپ کے بابا

    آپ سے بہت پیار کرتے ہیں

    لیکن انہیں پتا ہی کہ ابھی آپ ہیلی کاپٹر نہیں چلا سکتے

    اسی لیے انھوں نے نہیں دلایا

    :احمد

    اچھا دادا جان تو پھر وہ ہیلی کاپٹر جو میں نےخواب

    دیکھا تھا وہ کہاں ہے

    : دادا جان

     دیکھو احمد!  بیٹاالله تعالہ پیارے بچوں کا دل کبھی نہیں توڑتا

    اور جو بچے اللہ سے دعا کرتے ہیں

     اور اچھے اچھے کام کرتے ہیں

     اللہ تعالہ ان بچوں کی ساری چیزیں

     اپنے پاس جنت میں رکھتے جاتے ہیں

    اور جب کسی بچے کا کوئی کام بہت پسند آتاہے

    تو رات کو الله تعالہ وہ چیز دے کر

    ہےفرشتوں کو بیجھتا

    اور اس طرح بچے  اس چیز کو دیکھہ بھی لیتےہیں

    اور اس کے ساتھ خوب کھیل بھی لیتےہیں



    :احمد

    تو دادا جان وہ  ہیلی کاپٹراللہ تعالہ مجھے کب دن گے

    میں نےاتنی زیا دہ اللہ سے دعاکی ہے

    :دادا جان

    بیٹا آپ اللہ سے دعا کرتے رہا کرو

    جب اللہ اسے آپ کے لئےاچھا سمجھے گا

    تو آپ کو مل جایے گااور 
    اور کبھی کبھی اللہ کو آپ پر بہت پیار آ رہا ہوتا ہے 

    اس لئے اللہ چاہتا ہے کہ آپ اس سے بار بار د عاکرو

    پھر آپ کو وہ چیزملے
    اور اگر آپ کو وہ ہیلی کاپٹر نہ ملا تو تو اس کی جگہ اللہ آپ کو کوئی اور پیاری سی چیز بھی  دے گا

    اور بھر  الله تعا لہ جنت میں

     اس دنیا کے سا رے

     ہیلی کاپٹر اور کھلونوں سے

    بھی زیادہ خوب صورت کھلونے اور اچھی اچھی چیزیں 

    سٹور بھی  کر دے گا

    آپ وہاں جتنا چاہو گےان کھلونوں کے ساتھ کھیل سکو گے

    اس لئے اللہ تعالہ سے دعا کرتے رہو ہمیشہ

    تا کہ آپ کو بہت ساری اچھی اچھی جنت کی چیزیں ملیں

    ٹھیک ہے نا کرو گے نا دعا

    :احمد

    جی دادا جان

    مجھے چاہیےجنت کے سارے کھلونے

      ان شا  اللہ

    یہ کہتے ھوے احمد کلا بازیاں لگاتاہوا

     بستر سے اترا اور باہر بھاگ گیا




     مصنفہ: ادیبہ انور
     تصویر کشی اور مشق : محمد محسن
    اس تصویر میں رنگ بھری

    مشق


     اس کہانی کے آخر میں بچوں سے آسان سوال کریں



    ١. دعا کیسے کرتے ہیں 

    ٢.آپ اللہ سے کس کس چیز کی د عا کرتے ہو

         ٣. آپ کو جنت میں کیا کیا چیزیں چاہیں

    ٤. اللہ نے ہمیں کون کون سی چیزیں دی ہیں

    ایک ورق پر تصویریں بنا کر ان کے نام لکھیں  

    ٥. اللہ نے جنت میں ھمارے لیےکون سے پھل اور نعمتیں رکھیں ہیں

     ٦. احمد نے خواب میں کیا دیکھا 

    ہماری جو  د عا ئیں  پوری نہیں ہوتیں وہ کہاں جاتی ہیں



    ہاتھ سے بنا ہوا ایک جنت کا خالی نقشہ جس میں آدم  علیہ سلام اور حوا علیہ سلام کو زمین پر اتارے جانے سے پہلے کا نقشہ ہے