Posted on

ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “ایک دوسرے سے حسد نہ کرو. ” پیارے بچوں جیسا کہ آپ اس موضوع سے سمجھ سکتے ہیں کہ یہ حدیث حسد کے بارے میں ہے۔ 

حسد کوئی اچھا عمل اور ا چھا احساس نہیں ہے لہذا ہمیں اسے چھوڑ دیا جانا چاہئے ۔ حسد کا مطلب یہ ہے کہ اگر ہم دوسروں میں کوئی اچھی چیز دیکھتے ہیں تو ہمیں اسے دیکھ کر خوشی نہیں ہوتی بلکہ ہماری خواہش ہوتی ہے کہ وہ اس چیز کو کھو دیں۔ اس قسم کی منفی نوعیت کی وجہ سے انسان کبھی بھی کسی بھی حالت میں خوش نہیں ہو سکتا، یہاں تک کہ ان نعمتوں کے لیے بھی جو انہیں پہلے سے حاصل ہیں۔ ایسا شخص ہمیشہ اپنے دل میں حسد محسوس کرتا ہے ۔ پیارے بچوں، اس احساس کو اچھی طرح سمجھنے کے لئے، آئیے ایک مرغی، کتے اور گھوڑے کی کہانی سناتے ہیں۔

  

ایک زمانے میں ایک شخص کے گھر میں ایک مرغی تھی.اس کا   نام کٹو بیگم کا نام تھا. اس گھر کے لوگ اس کا بہت اچھا خیال رکھتے تھے، انہوں نے اس  کے لیے ایک الگ کمرہ بنایا، انہوں نے صبح و شام اسے کھانا کھلایا اور روزانہ تازہ پانی بھی دیا. دن بھر کٹو بیگم خوشی خوشی گھر میں گھومتی رہتی، جہاں اس نے روزانہ ایک انڈا دیا.ایک دن اس کے انڈوں سے بچے(چوزے) نکل  آۓ اور کٹو بیگم کو ان   چھوٹے چوزوں کو  اپنے پروں کو پھیلا کر گھر میں گھومتے ہوئے زیادہ فخر محسوس ہونے لگا۔ چونکہ گھر کے لوگ کٹو بیگم اور اس کے بچوں کا بہت خیال رکھتے تھے اس لیے اسے ان کی پوری توجہ ملی۔

 کچھ دنوں کے بعد گھر کا مالک اپنے ساتھ ایک کتا لے کر آیا جسے پپو کہا جاتا تھا۔ اس شخص نے گیٹ کے قریب پپو باندھا اور اس کے لئے ایک چھوٹا سا کمرہ بھی تیار کیا۔ گھر کے لوگ پپو کی بھی دیکھ بھال کرنے لگ گئے، وہ  اسے کھانا کھلاتے اور وقت پر پانی بھی  پلاتے، لیکن کٹو بیگم کو یہ بات پسند نہ آئی. اسے پپو سے حسد ہونا   شروع ہو گیا۔ اس نے سوچا کہ چونکہ وہ پہلے گھر کی واحد پالتو جانورتھی           اس لئے وہ بے فکر ہو کر گھر میں گھوم سکتی تھی اور گھر کی پوری توجہ حاصل کرتی تھی۔ اب جب پپو آ گیا تھا تو وہ زیادہ کچھ نہیں کر سکتی تھی۔ اس نے پپوسے  حسد کرنا شروع کر دیا     اور ناخوشگوار موڈ میں گھر کے  ایک کونے میں بیٹھی رہتی ۔ کچھ دنوں کے بعد جب مالک رات کو گھر واپس آیا تو اس کے ساتھ گھوڑا تھا۔ گھوڑے کا نام چندو تھا. یہ ایک خوبصورت  گھوڑا تھا مگر  کٹو بیگم کو یہ بھی اچھا     نہیں  لگا – 

اب گھر کا مالک چندو کے لئے بھی کھانا لانے لگا۔ اس نے صبح چندو کی صفائی کی، اسے ریڑھی سے باندھا اور کام پر چلا گیا۔ جب وہ شام کو واپس آیا تو اس نے دوبارہ چندو صاف کیا اور اسے باہر لے گیا تاکہ چندو  ریت  پر آرام کرے ۔کٹو بیگم نے محسوس کیا کہ مالک کی ساری توجہ چندو کی طرف ہٹ گئی ہے۔ اس نے چندو کے ساتھ زیادہ وقت صرف کیا۔ کٹو بیگم اب پپو سےبھی زیادہ  چندو  سے حسد کرتی تھی ۔ وہ  سوچتی  رہتی کہ کیا    پپو ہی  کافی نہیں تھا      کہ چندو کو  بھی لے  آۓ  ۔ وہ زیادہ خاموش رہنے لگی اور خود کو زیادہ تر اپنے کمرے میں رہتی۔ گھر کے لوگ ہمیشہ کی طرح اس کی دیکھ بھال کر رہے تھے جیسا کہ وہ پہلے کر رہے تھے، لیکن کٹو بیگم کو یہ بات پسند نہیں آئی اور ان کی خواہش تھی کہ یہ دونوں گھر سے چلے جائیں۔. 

ایک دن گھر کے تمام لوگ باہر چلے گئے۔ صرف کٹو بیگم اور پپو گھر پر تھے کٹو بیگم اپنے بچوں کو کھانا دے رہی تھی اور اس کے بچے گھر میں ادھر ادھر آزادانہ کھا رہے تھے اور ادھر ادھر بھاگ رہے تھے۔ کٹو بیگم کو معلوم نہیں تھا کہ ایک بلی دیوار پر بیٹھ کر چوزوں کو شکار کر رہی ہے۔ اچانک بلی دیوار سے کود گئی اور ابھی بچوں پر جھپکی ہی تھی کہ دور سے یہ سب کچھ دیکھنے والا پپو ایک دم بھونکنے لگااور بلی کی طرف بھاگا. بلی خوف ذدہ  ہو کر  بھاگ گئی۔ کٹو بیگم نے اپنے تمام بچوں کو جمع کیا اور انہیں اپنے کمرے میں لے گئی۔ وہ باہر رہنے کے لئے بہت خوفزدہ تھی۔ وہ سوچتی رہی کہ اگر پپو نہ ہوتا تو کیا ہوتا۔ بلی میرے تمام بچوں کو کھا گئی ہوتی! بعد میں جب بھی وہ پپو کو دیکھتی تھی تو وہ اس کی تعریف کرتی تھی کہ اس کے آس پاس اس کا حاصل کرنا کتنا مفید ہے۔ اگلے دن جب  کٹو بیگم اپنے کمرے سے باہر آئیں تو ان کے دل میں پپو کے لیے نفرت اور حسد کم تھا لیکن پھر بھی انہیں لگا کہ چندو بیکار ہے ، کٹو بیگم سو چتی کہ مالک چندو کو  با ہر لے کر جاتا ہے مگر مجھے نہیں، ایک دن چندو  بہت بیمار ہو گیا. اس کی وجہ سے مالک کئی دن تک گاڑی کو کام پر نہیں لے جا سکا اور اس طرح وہ پیسے نہیں کما سکا۔ چونکہ اب اس کے پاس پیسے کی کمی تھی اس لیے وہ چندو، کٹو بیگم یا پپو کے لیے کھانا نہیں خرید سکتا تھا. وہ بہت اداس ہو گیا اور اس نے پیسے حاصل کرنے کے لئے چوزوں کو فروخت کرنے کا سوچا۔ کٹو بیگم اپنے بچوں کو کھونے کے خیال سے بہت اداس ہو گئی۔ اس نے چندو کی اہمیت کو محسوس کیا اور اس کی صحت یابی کے لئے دعا کرنا شروع کر دی تاکہ اس کے بچے بچ جائیں۔ اس کی دعائیں اللہ نے قبول کی اور چندو صحت یاب ہو گیا۔ کٹو بیگم کے بچے اب محفوظ تھے. مالک نے دوبارہ کام کرنے کے لئے چندو کو لے جانا  شروع کیا، اور کٹو بیگم اور اس کے بچوں کے لئے کھانا لانا شروع کر دیا۔ اب کٹو بیگم کو اس بات کا بہت  اچھی طرح احساس ہوا کہ اس دنیا میں کوئی چیز بیکار نہیں ہے اور ہر چیز کی اپنی قدر ہے۔ اگر وہ روزانہ ایک انڈا مالک کو دے تو چندو نے بھی محنت کر کے مالک کو پیسے کمانے میں مدد دی اور پپو نے حفاظت فراہم کی۔ اس نے حسد کے اپنے خراب جذبات سے نجات حاصل کی اور اپنے ساتھ وعدہ کیا کہ وہ  اب کسی سے  حسد نہیں کر ۓ گی۔

پیارے بچوں، ہمیں بھی کسی سے حسد نہیں کرنا چاہئے اور اپنے دلوں کو صاف رکھنا چاہئے!

Video of this story

This story is also available in Urdu written and video.

This is a story written for our Hadith course.

You can get information of my Hadith course for kids clicking here.

(Visited 72 times, 1 visits today)
close

Oh hi there 👋
It’s nice to meet you.

Sign up to receive awesome content in your inbox, every month.

We don’t spam! Read our privacy policy for more info.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *