Posted on

السلام علیکم پیارے بچو! 

آئیں پہلے اپنی حدیث پڑھ لیتے ہیں

پیارے بچو آپ سب ٹھیک ہیں  خیریت سے ہیں مزے سے ہیں اپنی احادیث اچھے طریقے سے یاد کر رہے ہیں الحمدللہ. میں امید کرتی ہوں کہ آپ بہت اچھے پیارے بچو حدیث سن کر آپکو سمجھ آہی گئی ہوگی کہ آج ہم حسن سلوک پر بات کریں گے یعنی کہ ہم. نے جب دوسروں کے ساتھ ملنا ہے انکے ساتھ کیسی گفتگو کونی ہے کیسے حسن سلوک رکھنا ہے ہمارے اخلاق ہمارے کردار کیسے ہونے چاہیے اور اسکے ساتھ ساتھ ہمارے معاملات دوسروں کے ساتھ کیسے ہونے تو پیارے بچو اگر ہم حسن سلوک پر بات کریں تو ہمارے پاس جو بہترین مثال نمونہ ہے وہ ہے ہمارے پیارے نبی کریم کی زندگی. جی بچو تو آج ہم اپنے پیارے نبی کی زندگی سے کچھ ایسے واقعات سنیں گے جن سے ہم سبق سیکھ کر اپنے اخلاق بہت ہی اچھے اور پیارے بنا سکیں تو پیارے بچو ہمارے پیارے نبی حضرت محمد صل اللہ علیہ والہ وسلم اپنے معاملات میں دوسروں کے ساتھ بہت اچھے تھے اور آپ نے بول چال میں گفتگو کے طریقے میں بہت اچھے تھے اور اسکے ساتھ ساتھ وہ مذاح بھی کرتے تھے لیکن ان کے مزاح میں نہ کسی کا دل دکھتا اور نہ ہی وہ جھوٹ بولتے. چاہیےطریقے سے اپنی احادیث کو یاد کر رہے ہونگے 

تو پیارے بچو آئیں آج میں آپ کو کچھ واقعات سناتی ہوں! 

ہمارا آج کا پہلا واقعہ ہے ہمارے پیارے نبی اور ایک دیہاتی ک ایک دفعہ ایک دیہاتی ظہر بن حرم تھا جو کہ مدینہ کے بازار میں اپنا مال بیچنے آیا تھا تو پیارے بچو وہ ہمارے پیارے نبی کا دوست بن چکا تھا صحابی بن چکا تھا تو اس نے ایک دن اپنا مال لا کر مدینہ کے بازار میں لگایا اور بیچنے لگا جب ہمارے نبی وہاں  سے گزرے تو انہوں نے اسکو دیکھ کر آرام سے پیچھے سے جا کر اسکو دبوچ لیا اور زور سے پکڑ لیا  آپ چونکہ پیچھے تھے تو وہ ہمارے نبی کو دیکھ نہ سکا لیکن یہ سمجھ کر کہ یہ ہمارے پیارے نبی کے علاوہ کوئی بھی نہیں ہو سکتا تو پیارے بچو ان صحابی نے خود کو چھڑانے کی کوشش نہیں کی بلکہ آرام سے کھڑے رہے کیونکہ انھیں اچھا لگ رہا تھا لیکن ہمارے نبی کو اس پر ایک شرارت سوجھی انھوں نے زور سے آواز لگانی شروع کر دی “یہ غلام کون خریدے گا”جب لوگوں نے سنا کہ یہاں پر کوئی غلام بیچنے والا آیا ہے سب لوگ وہاں جمع ہونے لگے اور اس بات پر جو بھی صحابہ وہاں پر موجود تھے لطف اندوز ہونے لگے اور سب مسکرانے لگےتب نبی کریم نے ظہر بن حرم کو چھوڑ دیا اور کہنے لگے سناؤ کیسے ہو اب وہ بھی اس مذاح سے. لطف اندوز ہو کر اور مسکرانے لگے تو پیارے بچو دیکھا چھوٹے سے مذاق نے کیسے ماحول بدلا اور سارا بازار اس مذاح سے خوش ہوا. پیارے بچو یہی نہیں بلکہ ہمارے پیارے نبی جب اپنے ساتھیوں اور صحابہ کرام کے. پاس بیٹھے ہوتےاور محسوس کرتے کہ سب لوگ خاموشی سے بغیر کچھ بولے بیٹھے ہوئے ہیں تو ہمارے پیارے نبی کوشش کرتے کہ. ماحول تھوڑا سا خوشگوار ہوجائے اور اسکے لیے ایک دفعہ ہمارے نبی نے ایک ایسا کام کیا کہ. جس سے سب بہت مسکرائے اور وہ یہ تھا

ایک مرتبہ حضرت علی رضی اللہ عنہ اور ہمارے پیارے نبی بیٹھے کھجوریں کھا رہے تھے کچھ دوسرے صحابہ کرام بھی پاس بیٹھے ہوئے تھے اور وہ بھی کھجوریں کھا رہے تھے ہمارے نبی نے کھجوریں کھا کھا کر اپنی گٹھلیاں حضرت علی کے آگے رکھنا شروع کر دی حضرت علی رضی اللہ عنہ یہ سب دیکھ رہے تھے لیکن وہ خاموش رہے کیونکہ انکو معلوم نہیں تھا کہ ہمارے نبی کیا کرنے والے ہیں لہذا جب سب کھجوریں ختم ہو گئیں تو ہمارے پیارے نبی کہنے لگے علی آپ اتنی کھجوریں کھا گئے ہیں آپ کے آگے تو گٹھلیوں کا ڈھیر لگ چکا ہے جب علی رضی اللہ عنہ نے دیکھا کہ واقعی انکے آگے تو بہت زیادہ گٹھلیاں پڑی ہیں تووہ مسکرانے لگے اور سمجھ گئے کہ آپ صل اللہ علیہ والہ وسلم کیوں میرے سامنے گٹھلیاں رکھ رہے تھے اور جب صحابہ نے اپنی گٹھلیاں دیکھی وہ تھوڑی تھوڑی سی تھی اور حضرت علی کی دیکھی تو وہ بہت زیادہ تھی تو سب صحابہ اس بات پر خوب مسکرائے اور لطف اندوز ہوئے 

پیارے بچو صرف یہی نہیں بلکہ ہمارے پیارے نبی کی تو پوری زندگی حسن اخلاق کا نمونہ ہے 

جیسا کہ ہمارے نبی نے ایک اور موقع پر ایسی بات کی جس میں مذاح تھا لیکن جھوٹ نہیں تھا آپ کو معلوم ہے وہ کیا مذاح تھا؟ 

وہ مذاق یہ تھا کہ ایک مرتبہ ایک عربی بدو آپ کے پاس آیا اور کہنے لگا یا رسول اللہ میں بہت غریب ہوں مجھے کچھ دیں ہمارے پیارے نبی نے اس سے کہا اچھا تو میں تمہیں ایک اونٹنی کا بچہ دوں گا وہ عربی بدو بہت حیران ہوا اور کہنے لگا کہ اونٹنی کا بچہ لے کر میں کیا کرونگا نہ تو میں اس پر سواری کر سکوں گا نہ وہ میرے کسی اور کام آسکتا ہے اس پر ہمارے پیارے نبی مسکرانے لگے اور کہنے لگے اے بدو کیا تو نہیں جانتا کہ ہر اونٹ اونٹنی کا ہی بچہ ہوتا ہے اب تو اس عربی کو اس بات کی خوب سمجھ آچکی تھی وہ ایک اونٹ اور کچھ اور مال لے کر وہاں سے رخصت ہوگیا

تو پیارے بچو اس طرح کے ہلکے پھلکے مذاق ہمیں اندر سے خوش رکھتے ہیں اور دوسروں کو بھی خوش کرتے ہیں تو پیارے بچو صرف مذاق نہیں بلکہ ہمیں اپنی عادات اور طور طریقوں سے دوسروں کو خوش رکھنا چاہیے جیسا کہ ہمارے نبی اپنے کسی عمل سے کسی کو ناخوش نہیں ہونے دیتے تھے 

ایک مرتبہ ایک دیہاتی بدو آپکے لئے ایک ٹوکری بھر کہ انگور لےکر آیا اور وہ انگور کھٹے تھے لیکن یہ بات اس دیہاتی کو معلوم نہیں تھی اب ہمارے نبی اس میں سے ایک ایک کر کے سارے انگور کھا گئے جو صحابہ رضی اللہ عنہ آپکے پاس بیٹھے ہوئے تھے وہ حیران ہوکر دیکھتے رہے اور سوچتے رہے کہ ابھی ہمارے نبی ہمیں کہیں گے کہ آپ بھی کھا لیں لیکن ہمارے نبی نے انکو ایک دانہ بھی نہیں دیا اس بات پر وہ. عربی بہت خوش ہوا کہ میرے لائے ہوئے سارے انگور ہمارے نبی نے کھا لیے. لہذا وہ خوشی خوشی وہاں سے چلا گیا. اسکے جانے کے بعد صحابہ میں سے کوئی بولا کہ یا رسول اللہ آپ نے پہلے تو کبھی ایسا نہیں کیا آپ تو جب بھی کوئی چیز کھاتے اسکو ہمارے ساتھ تقسیم کرتے آج آپ نے ہمیں انگور نہیں دیے اس پر ہمارے نبی کہنے لگے کہ دیکھیں جب میں نے پہلا انگور کھایا تو وہ کھٹا تھا لہذا میں نے وہ سب انگور خود کھا لیے کہ کہیں ایسا نہ ہو آپ میں سے کوئی انگور کھا کر منہ بنائے یا پھر اس دیہاتی کا مذاق

تو بچو آپ غور کریں کہ کیسے ہمارے نبی دوسروں کا دل رکھتے تھے اور انکو خوش رکھتے تھے. 

وہ. صرف لوگوں کو خوش نہیں رکھتے تھے بلکہ اپنے گھر والوں کو بھی بہت خوش رکھتے تھے 

ہمارے پیارے نبی کی بیوی  حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہ کہتی ہیں کہ ایک دفعہ ہمارے نبی سفر پر ہمارے ساتھ جا رہے تھے راستے میں ہمارا قافلہ تھوڑا آگے نکل گیا اور ہم دونوں پیچھے رہ گئے اور ہمارے نبی فرمانے لگے عائشہ آؤ دوڑ لگاتے ہیں حضرت عائشہ کہنے لگی یارسول اللہ آپ دوڑ لگائیں گے  آپ کہنے لگے ہاں جی میں دوڑ لگاؤں گا آپ لگاؤ گی میرے ساتھ دوڑ حضرت عائشہ کہنے لگی ٹھیک ہے لہذا ان دونوں کی دوڑ شروع ہوئی حضرت عائشہ چونکہ دبلی پتلی اور کم عمر تھیں وہ بہت تیز بھاگی اور آگے نکل گئیں اور ہمارے پیارے نبی پیچھے رہ گئے مگر اس بات پر ہمارے پیارے نبی پریشان نہیں ہوئے بلکہ مسکرانے لگےکچھ سالوں کے بعد حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ دوبارہ کسی سفر پر جارہی تھیں کہ راستے میں دوبارہ ہمارے نبی کہنے لگے اے عائشہ آو دوڑ لگاتے ہیں حضرت عائشہ نے کہا ٹھیک ہے چنانچہ ان دونوں کی دورڑ شروع ہوئی دوڑتے دوڑتے نبی کریم آگے نکل گئے کیونکہ اس وقت حضرت عائشہ تھوڑی سی فربہ ہو چکی تھیں تو ان سے زیادہ تیز نہ بھاگا گیا ہمارے نبی کہنے لگے عائشہ آج میں جیت گیا ہوں یہ اس دن والی ہار کا بدلہ ہے لہذا آج ہمارا کھیل برابر ہوااس پر. حضرت عائشہ بھی بہت خوش ہوئیں اور مسکرانے لگی

تو پیارے بچو گھر والوں سے چھوٹے چھوٹے ہنسی مذاح خوش اخلاقی اور مقابلہ بازی کرنی چاہئے دوڑ بھی لگانی چاہیے کھیلیں بھی کھیلنی چاہیے لیکن اس میں لڑائی جھگڑا نہیں کرنا چاہیے اور دوسروں کی جیت کو خوشی سے قبول کر لینا چاہیے جی آپ کو ہمارے نبی کی باتیں اچھی لگ رہی ہیں ناتو کیا خیال ہے آپ کا بس کریں یا مزید کچھ سننا چاہو گے ہمم میں جانتی ہوں کہ ابھی آپکا دل. نہیں بھرا لیکن پیارے بچو ہمارے نبی کی زندگی میں ایسے بہت سارے واقعات ہیں آپ سن کر تھک جاؤ گے لیکن ہمارے نبی کی زندگی کی خوشگوار باتیں ختم نہیں ہونگی

 

These stories in video

You can watch or read this story in English as well in Stories for children section or Search as Hadith no 5 story in English

This is written for our 30 short hadith with stories course for kids. You can join this course. We offer free and paid course.

(Visited 141 times, 1 visits today)
close

Oh hi there 👋
It’s nice to meet you.

Sign up to receive awesome content in your inbox, every month.

We don’t spam! Read our privacy policy for more info.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *