Posted on

پیارے بچوں، حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: “لوگوں کا شکر ادا کرو، تاکہ تم میں شکر کرنے کی عادت پیدا ہو. دوسروں کا شکر گزار ہونے

سے ایک دوسرے سے محبت میں اضافہ ہوگا اور اللہ بھی راضی ہوگا

اب یہ کہانی کا وقت ہے. ہماری آج کی کہانی ایک شکر گزار لڑکے کے بارے میں ہے۔

 اسد اور احمد تقریبا ایک ہی وقت اسکول پہنچے۔ ان کی وینیں ایک دوسرے کے متوازی کھڑی تھیں۔ اسد اپنی وین سے باہر نکل کر زور سے بولا ‘

جزاک اللہ خیر چچا ۔ احمد نے حیرت سے اس کی طرف دیکھا. جب گارڈ نے ان کے لئے گیٹ کھولا تو   پھر ایسا ہی ہوا ۔ احمد توجہ کیے بغیر اسکول میں داخل ہوا جبکہ اسد نے رک کر مسکراہٹ کے ساتھ گیٹ کیپر کو دیکھا اور اس کے بعد اسے ‘شکریہ’ کہا ۔.”

وہ کلاس روم میں داخل ہوئے. احمد چپکے سے اپنے دوست کی نرم طبیعت اور شکر گزار ی کا معترف تھا۔  وہ اپنے خیالات میں مگن تھا اتنے میں گھنٹی بجی ۔یہ دوپہر کے کھانے کا وقت تھا اور دونوں کھانا کھا رہے تھے کہ اچانک اسد کا کھانے   کا ڈبہ نیچے گر گیا۔ سب پاستا زمین پر تھا۔ خوش قسمتی سے اس نے اس کا زیادہ تر حصہ پہلے ہی کھا لیا تھا لیکن اس  سے     زمین گندی ہو گئ ۔ کلینر نے آکر جلدی سے صفائی کی۔  اسد نے اس کا شکریہ ادا کیا. وہ دوبارہ کلاس روم میں چلےگئے، ان کے استاد آئے اور اسکول کے باقی کام کیا۔  جب وہ وہاں سے گئے تو اسد نے ان کو جزاک اللہ خیر کہا ۔ اور پھر  وہ دونوں چھٹی کے بعد گھر چلے گئے۔   

اگلے دن جب وہ دوبارہ اسکول آئےتو    اسد نے اسی طرح سب کا شکریہ ادا کیا اور ہر ایک کو جزاک اللہ خیر کہا  ۔ احمد نے دیکھا کہ کھیل کے دوران اسد ہر عمل پر دوستوں کا شکریہ ادا کرتا  ہے ۔  اس کے بعد احمد نے اسد سے پوچھا کہ آپ  ہر بات پر جزاک اللہ خیر اور شکریہ کیوں اداکرتے ہیں ؟

اسد نے جواب دیا؛ اس کی ادائیگی ضروری ہے کیونکہ اس سے ایک دوسرےکی محبت میں اضافہ ہوتا ہے اور  اللہ بھی اس کا انعام دیتا ہے۔   کیا آپ اپنے آپ کو سوچتے ہیں اگر ہمارے اساتذہ ہماری مدد نہیں کرتے اور ہمیں سمجھاتے نہیں ہیں تو ہم علم کیسے حاصل کر سکتے ہیں؟ تو ان کو جزاک اللہ خیر کہنا ضروری ہے یا نہیں؟  اسی طرح اگر صفائی کرنے والے چچا صفائی نہیں کریں گے تو اسکول کو اتنا صاف کون کرے گا جتنا ہم اسے خراب کریں گے چوکیدار، کینٹین انکل اور ڈرائیور چچا سب ہماری مدد کرتے ہیں، اس لیے ہمیں بھی ان کا شکریہ ادا کرنا چاہیے۔   اس سے وہ خوش ہوں گے۔   

احمد نے کہا، “تم ٹھیک کہتے ہو۔ میں نے کبھی یہ نہیں سوچا.”   تم میرے ایک اچھے دوست ہو.   تم نے یہ سب کس سے سیکھا ہے؟” . اسد نے کہا کہ؛ میں نے یہ سب کچھ اپنے والد اور والدہ سے سیکھا۔  ان کا کہنا ہے کہ ہمیں ان تمام لوگوں کا شکریہ ادا کرنا چاہئے جو ہمارے لئے کام کرتے ہیں۔   جب ہماری امی جان ہمارے لئے کھانا بناتی ہیں تو ہم ایک دوسرے کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔ اور جب ابا جان ہماری ضروریات اورکھانے پینے کی چیزیں خریدتے ہیں تو ہم ان کا بھی شکریہ ادا کرتے ہیں۔  امی جان کہتی ہیں کہ اگر ہم ایسا کرنے کے عادی ہو گئے تو ہم اللہ کا  بھی شکر ادا کریں گے جو ہمیں کہے بغیر ہر نعمت عطا کرتا ہے. 

 احمد نے کہا، “اچھا تو پھر میں بھی آج سے ایسا ہی کروں گا.”    لیکن مجھے ایک اور بات بتائیں؟

اسد نے کہا، “ہاں، احمد تم کیا پوچھنا چاہتے ہو؟”

احمد نے کہا ، “آپ نے کبھی جزاک اللہ خیر کہا اور کبھی شکریہ کہتے ہیں ۔  اس کی وجہ کیا ہے؟”

اسد نے کہا کیونکہ دونوں چچا مسلمان نہیں ہیں اس لیے میں انہیں صرف شکریہ کہتا ہوں اور مسلمانوں کا  صرف شکریہ ادا کرنا کافی نہیں ہے اس لیے میں نے جزاک اللہ خیر کہتا   ہوں جس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ آپ کو اس کااچھا بدلہ دے  ۔  یہ بھی ایک دعا ہے اور اس  کا بہت ثواب ہے. ۔  

 احمد نے کہا، “تم نے مجھے بہت اچھی طرح بتایا ہے۔ مجھے تم پر فخر ہے.”  پھر دونوں گھر روانہ ہو گئے. ۔

 پیارے ببچوں آج کے بعد سے آپ کو اللہ کے ساتھ ساتھ لوگوں کا بھی شکر ادا کرنے کی یہ عادت اپنانا ہوگی۔ اس کہانی کو دوسروں کے ساتھ شیئر کریں تا کہ انہیں اچھی چیزیں سیکھنے اور انعام حاصل کرنے میں مدد مل سکے۔  اس حدیث کو آپ سب کو آگے بڑھانا ہوگا. ہم ان شاء اللہ ایک اور پیاری حدیث اور کہانی کے ساتھ ملیں گے۔

You can watch or read this story in English as well in Stories for children section or Search as Hadith no 13 story in English.
This story is written for our 30 short hadith with stories course for kids. You can join this course. We offer online classes in a very reasonable fee.

This Hadith and story in Video

Worksheet

(Visited 63 times, 1 visits today)
close

Oh hi there 👋
It’s nice to meet you.

Sign up to receive awesome content in your inbox, every month.

We don’t spam! Read our privacy policy for more info.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *