Tag: aik hadees aik kahani

  • صلح حدبیہ اورسنتِ نبویﷺ کااتباع|Hadith no 19 with Great seerah story|hudaybiya Treaty

    صلح حدبیہ اورسنتِ نبویﷺ کااتباع|Hadith no 19 with Great seerah story|hudaybiya Treaty

    حدیث کاموضوع

    آج  کی

    کاموضوع ” اتباع سنت نبی صلی اللہ علیہ  وسلم” یے۔اس سلسلے میں آج ہم صلح حدبیہ اورسنتِ نبویﷺ کااتباع کی کہانی پڑ‍ھیں گے۔

    اللہ کے نبیﷺ نے فرمایا۔”جس نے میری سنت سے منہ موڑا، اس کا مجھ سے کوئی تعلق نہیں۔“اس حدیث کی روشنی میں ہم آج صلح حدیبیه کی کہانی پڑھیں گے

    نبی صلی اللہ علیہ  وسلم کے صحابہ نے صلح حدیبیہ کے موقع پر سنت نبوی پرعمل کرنے کے لئے ہم سب کے لئے ایک اچھی مثال قائم کی۔ وہ سنت پر عمل  کرنے میں تھوڑی سی تاخیربھی برداشت نہیں کر تے تھے- چنانچہ یہ کہانی سننے کے بعد ہم بھی ہر کام میں ہمیشہ اپنے اتباع سنت نبی کریں گے۔ان شا ء اللہ

    اتباع سنت نبی اور صلح حدیبیہ کی کہانی

    صلح حدبیہ اورسنتِ نبویﷺ کااتباع

    پیارے بچو، صلح حدبیہ اورسنتِ نبویﷺ کااتباع کی کہانی او طرح ہے کہ جب کعبہ مکہ میں بت پرستوں کی تحویل میں تھا۔ مسلمان خانہ کعبہ کو دیکھنے کے لئے ترس رہے تھے۔کہ ان کے لئے خدا کا گھر دیکھنا بہت حسرت کی بات تھی۔حضرت محمد صلی اللہ علیہ  وسلم نے اعلان کیا کہ وہ  اپنے صحابہ کے ساتھ غیر مسلح  ہو کرعمرہ  کے لیے مکہ مکرمہ جائیں گے

    اس ارادے سے وہ اپنے صحابہ کے ساتھ مدینہ سے روانہ ہوۓ۔ انہوں نے عمرہ کے بعد قربانی کے لئے اونٹ اور دوسرے جانورساتھ لئے تھے۔ جب حجاج کرام کا یہ قافلہ مکہ کے نواح میں پہنچا۔ تو حضور کو اطلاع ملی کہ مشرک انہیں شہر میں داخل نہیں ہونے دیں گے اور وہ انہیں ایسا کرنے سے روکنے کے لیے طاقت کا استعمال کریں گے۔ اس اطلاع نے مسلمانوں میں زبردست تشو یش  پیدا  کی۔ وہ مکہ کے شمال میں حد یبیہ نامی جگہ پر ایک کنویں کے قریب رک گئے۔

    حضرت محمد صلی اللہ علیہ  وسلم نے قریش کو پیغام بھیجا کہ وہ صرف عمرہ کی غرض سے آئے ہیں۔اورخانہ کعبہ کے روایتی سات چکر لگا نا چاہتے ہیں، جانوروں کی قربانی کرنا چاہتے ہیں اور پھر اپنے صحابہ کے ساتھ مدینہ واپس جانا چاہتے ہیں۔ قریش اس سے متفق نہیں تھے۔ اور بھی بہت سے پیغامات بھیجے گئے۔لیکن قریش نے کہا کہ وہ مسلمانوں کو مکہ میں داخل نہیں  ہونے دینگے۔آخر کار انہوں نے مسلمانوں کو ایک معاہدہ پیش کرنے پر رضامندی ظاہر کی۔

    پیارے بچو!یہ معاہدہ مسلمانوں کے بالکل خلاف لگتا تھا۔لیکن ہمارے نبی صلی اللہ علیہ  وسلم نے اسے قبول کر لیا۔ اس معاہدے کے مطابق مسلمان اس سال  واپس جائیں گے اور اگلے سال حج ادا کرنےکے لئے آئیں گے۔ حضرت محمد صلی اللہ علیہ  وسلم نے صحابہ کو حکم دیا کہ وہ اپنے بال کاٹ لیں اور اپنے جانوروں کو حد یبیہ کے اس مقام پر قربان کر دیں۔کیونکہ اللہ نے انکے عمرے کو قبول کر لیا تھا۔ لیکن صحابہ یہ کام کرنے کو تیار نہیں تھے۔ وہ مکہ ہر حال میں جانا چاہتےتھے۔

    چنانچہ جب ہمارے نبی صلی اللہ علیہ  وسلم نے دیکھا کہ یہاں کوئی بھی عمرے کی رسومات ادا کرنے کو تیار نہیں ہے۔تو وہ پریشان ہو گئے ۔  وہ اپنے خیمہ میں چلے گئے۔اور اداس بیٹھ گئے۔لیکن ہمارے نبی صلی اللہ علیہ  وسلم کی بیوی نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم  کومشورہ دیا کہ،

    صحابہ کے دل ٹوٹ گئے ہیں۔وہ ابھی پریشان ہیں۔ اس لئے آپ کی بات نہیں مان رہے۔ لیکن صحابہ آپ سے بہت پیار کرتے ہیں۔ اس لئے آپ جا کر پہلے عمرہ کی\ رسم ادا کریں۔ اپنے بال کاٹ کر پہلے قربانی کرلیں۔ تاکہ صحابہ بھی آپ   صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے چلیں ۔ جیسا کہ کبھی ایسا نہیں ہوا کہ صحابہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سنت کی پیروی نہ کریں۔

    چنانچہ جیسے ہی ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے رسومات ادا کرنا شروع کیں، صحابہ کو محسوس ہوا۔کہ وہ غلطی کر رہے  ہیں۔ انہوں نے جلدی سے سنت کی پیروی کی اور عمرے کےارکان  ادا  کیے ۔تو میرے پیارے بچوں، آپ دیکھ سکتے ہیں۔صحابہ واپس جا نے پر راضی نہیں تھے، لیکن انہوں نے کبھی سنت کی پیروی کرنے سے انکار نہیں کیا تھا۔ اسی لئے انہوں نےصلح حدبیہ اورسنتِ نبویﷺ کااتباع عمل کیا۔

    تو ہمارے لئے بھی سنت ایک طرز زندگی اور صحت مند معاشرے کا نظریہ ہے۔ ہمارے دن اور رات، ہمارے کھانے اور کپڑے، ہماری پارٹیاں اور ہمارا اجتماع سب کچھ سنت نبی کے مطابق ہونا چاہئے۔

    لیکن مجھے یہ کہنے سے ڈر لگتا ہے کہ صرف 50 فیصد لوگوں کو سنت کا اچھا علم ہے لیکن وہ بھی ان پر دل سے عمل نہیں کر رہے ہیں اور باقی 50 فیصد کو یہ بھی معلوم نہیں ہے کہ ہمارے  نبی صلی اللہ علیہ وسلم  نے کیسے زندگی گزاری ۔آئیے یہ  ارادہ کریں کہ ہم بھی سنت سیکھنے کی کوشش کریں گے۔ اور اتباع سنت میں صلح حدیبیہ میں صحابہ کی طرح عمل کریں گے

    ۔دوسروں کے ساتھ حدیث شیئر کریں۔ان شاء اللہ ہم سب سے اللہ قبول کرے گا.

    صلح حدبیہ اورسنتِ نبویﷺ کااتباع کی اردو کہانی وڈیو

    Video of this story in Englishصلح حدبیہ اورسنتِ نبویﷺ کااتباع

    This story with hadith in English

    Sunnah learning Worksheet

    Enrolments Available

    This is one of the hadith and story from My 30 short hadith with stories course. Online group classes are available online for all time zones. Recommended age for the class Hadith for kids is 7+. These classes are available in English and Urdu. If you want to enrol your child in our classes contact us via.

    Other courses we have

    • Easy Tafseer for kids with interesting stories you can see that course in my hadith course tab.
    • Prayer for kids course a short course to teach about taharat, Gusal, wudu, times of prayers, number and names of prayers, pillers and conditions of prayer and method of prayer. Search as Prayer for kids course on search bar.
    • Ramzan boost course we do start 2 weeks before Ramzan.
    • Faith boos course In December to say No To Marry Christmas.
    • Kindness to Parents

    Students home work

  • Story 6 Urdu|How to be a modest Muslim? Learn hadith

    Story 6 Urdu|How to be a modest Muslim? Learn hadith

    Welcome to our Hadees with stories short course for kids and adults. This course has been designed for personality development

    Hadith no 16

    Lesson no 17

    Topic of the hadith Modesty-حیا

    Sahih AL-Bukhari 2564 /Muslim 35

    Story of a robber

    hadees

    ہمارے پیارے نبی کریم صل اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا 

    “حیا ایمان کا حصہ ہے” 

    تو پیارے بچو!  ہمارے آج کی حدیث کا عنوان ہے “حیا” اور آج ہم آپ کو جو کہانی سنانے جا رہے ہیں اس کا عنوان ہے “بچے کی سچائی ” حیا کا موضوع سمجھنا تھوڑا سا مشکل ضرور ہے لیکن کہانی بہت آسان اور دلچسپ ہے. 

    پیارے بچو!!! حیا سے ہم  انکساری، شرم اور عزت نفس مراد لیتے ہیں. اس کے مفہوم میں بڑوں کا کہنا ماننا بھی شامل ہے، دوسروں کے سامنے اپنا جسم ڈھانپنا اور غیر اخلاقی گفتگو سے بچنا بھی. بعض اوقات بچے جھوٹ بولتے ہیں، کسی دوسرے کی چیز پسند آئے تو چُرا لیتے ہیں یا ان سے لڑائی جھگڑا کرنے لگتے ہیں اور پھر معذرت کرنے اور شرمندہ ہونے کی بجائے دوسروں کو مزید تکلیف پہنچاتے ہیں. 

    تو میرے عزیز بچو! یہ ایک انتہائی بری عادت ہے، جو کہ ہماری حیا کی فطرت کو متاثر کرتی ہے اور ہمارے اخلاق کو خراب کرتی ہے. حیادار بننے کے لیے ضروری ہے کہ اگر ہم کچھ برا سوچیں تو اس پہ شرمندہ ہوں اور اگر کسی کے ساتھ برا کریں تو اس سے معذرت کریں. حیا کے تصور کو بہترطور پر سمجھنے کے لیے ایک کہانی سُنیے

    hadees
    ڈاکو کی حیا _The story of a robber

    یہ ایک بچے اور کچھ ڈاکوؤں کی کہانی ہے.کیا آپ جانتے ہیں ڈاکو کون ہوتا ہے؟ جو دوسروں کے پیسے اور چیزیں زبردستی چھین لے، اسے ہم ڈاکو کہتے ہیں. بہت عرصہ پہلے کی بات ہے کسی جگہ پہ ایک بچہ رہا کرتا تھا جو ابتدائی اسلامی تعلیم حاصل کر رہا تھا

    اپنی تعلیم جاری رکھنے کے لیے اسے ایک دوسرے شہر بغداد جانا پڑا. پرانے زمانے میں چونکہ سفر کے جدید ذرائع موجود نہ تھے تو لوگ گھوڑوں اور اونٹوں پر سفر کیا کرتے. راستے میں چوروں کے ڈر سے وہ اکٹھے ہو کر گروہوں اور قافلوں کی صورت میں سفر کرتے

    بچے کی ماں نے بھی اسے ایک قافلے کے ہمراہ بغداد روانہ کر دیا، سفر پہ جانے سے پہلے ماں نے بچے کی قمیض میں چھپا کر کچھ پیسے سلائی کر دیے. اور بچے کو نصیحت کی کہ میرے پیارے بیٹے، جھوٹ کبھی مت بولنا، ہمیشہ سچ بولنا اور خوب دل لگا کر پڑھائی کرنا. 

    سفر بہت لمبا تھا، قافلے کو روانہ ہوئے کئی دن گزر چکے تھے، جنگل کے قریب سے گزرتے ہوئے قافلے نے پڑاؤ ڈالا اور رات اسی جگہ پہ گزارنے کا فیصلہ کیا گیا، جب سارا قافلہ سو رہا تھا تو ڈاکوؤں کے ایک گروہ نے ان پہ حملہ کر دیا، وہ ہر مسافر کے پاس گئے اور اس کے پاس موجود چیزیں اپنے قبضے میں لینے لگے

    ایک ڈاکو بچے کے پاس پہنچا اور اس سے پوچھا کہ تمہارے پاس کیا ہے؟ 

    بچے نے جواب دیا، “چالیس روپے”اس زمانے میں چالیس روپے ایک بہت بڑی رقم ہوا کرتے تھے، چور بچے کی بات سن کر ہنسنے لگا کہ کیا تم میرے ساتھ مذاق کر رہے ہو، اسے محسوس ہوا کہ ایک چھوٹے بچے کے پاس اتنی بڑی رقم موجود نہیں ہو سکتی. اس نے بچے کی تلاشی لی لیکن اسے پیسے نہ ملے. ڈاکو سمجھا کہ بچے نے اس کے ساتھ جھوٹ بولا ہے وہ غصے سے بچے کو پکڑ کر اپنے سردار کے پاس لے گیا اور سردار کو بچے کی ساری بات بتائی. 

    ڈا کوؤں کے سردار نے بچے کو دھمکی دی کہ اگر وہ جھوٹ بول رہا ہے تو اسے سخت سزا دی جائے گی، بچہ کہنے لگا کہ میں نے جھوٹ ہر گز نہیں بولا،میرے پاس واقعی چالیس روپے موجود ہیں. اب سردار نے بچے سے کہا کہ وہ پیسے دکھائے

    بچے نے بتایا کہ اس کی قمیض کے اندر چالیس روپے سِلے ہوئے ہیں، ایک چور نے بچے کی قمیض پھاڑ کر دیکھا، وہاں واقعی چالیس روپے موجود تھے. وہ سب یہ ماجرا دیکھ کر حیران رہ گئے، سردار نے بچے سے پوچھا کہ اے پیارے بچے، تم نے ہمیں سچ کیوں بتایا، اگر تم جھوٹ بولتے تو تمہاری رقم محفوظ رہتی. بچے نے جوب دیا کہ میری ماں نے مجھے نصیحت کی تھی کہ ہمیشہ سچ بولنا، چاہے جو بھی ہو جائے جھوٹ کبھی نہ بولنا. 

    سردار بچے کہ بات سن کر حیران رہ گیا، وہ کہنے لگا کہ اب تمہاری امی تمہارے ساتھ نہیں تھیں، انہیں کیسے پتہ چلتا کہ تم نے جھوٹ بولا ہے، تم اگر چاہتے تو اپنے پیسے بچا بھی سکتے تھے لیکن پیارے بچو، اس چھوٹے بچے نے سردار کو جو جواب دیا، آپ زرا وہ سنیں، وہ کہنے لگااگرچہ میری امی مجھے نہیں دیکھ رہیں لیکن میرا اللہ تو ہر وقت مجھے دیکھ رہا ہے ناں! اور اگر میں جھوٹ بولتا تو اللہ جی مجھ سے بالکل بھی خوش نہ ہوتے. 

    بچے کا جواب سن کر سردار رونے لگا اور روتے روتے بے ہوش ہو گیا. جب وہ ہوش میں آیا تو اپنی حرکتوں پہ شرمندہ ہونے لگا، اس نے سوچا کہ یہ چھوٹا بچہ اتنا سمجھدار ہے کہ اس نے اپنی ماں کی غیر موجودگی میں بھی جھوٹ نہیں بولا کیونکہ اسے اللہ کی حیا اور خوف تھا. لیکن وہ اتنا بڑا ہو کر بھی اللہ سے حیا نہیں کرتا اور غلط کام کرتا ہے.

    وہ بہت شرمندہ ہوا اور دیر تک روتا رہا، اسے خود پہ شرمندگی ہونے لگی، اس نے اپنی گناہوں سے توبہ کی اور قافلے والوں کا لُوٹا ہوا سارا مال واپس کر دیا، بچے کی سچائی نے اسے ایک اچھا انسان بنا دیا،

    کیا آپ جانتے ہیں کہ وہ بچہ کون تھا؟ عبد القادر جیلانی۔ جو بعد میں علم اور نیکی کی وجہ سے بہت مشہور ہوئے۔ تو پیارے بچو، یہ ہوتی ہے حیا. جب کوئی اپنے غلط کاموں پہ شرمندہ ہو اور اللہ سے ڈرے.  ہم سے اگر کبھی کوئی غلط کام ہو جائے تو فوراً اللہ سے معافی مانگ لینی چاہیے، ہمیں اللہ سے حیا آنی چاہیے کہ وہ ہمیشہ ہمیں دیکھ رہا ہوتا ہے. 

    یقیناً آپ کو یہ کہانی پسند آئی ہے، اب اس حدیث کو اپنی نوٹ بک میں خوبصورتی سے لکھیں، دوستوں کو دکھائیں اور انہیں بھی اس کا مطلب سمجھائیں. آپ سب بہت اچھے بچے ہیں، مجھے یقین ہے کہ آیندہ آپ حیا دار بنیں گے تاکہ اللہ جی بھی آپ سے خوش ہوں.

    hadees

    The video of this Story’

    This Story Written In English

    The workbook is available to buy at our courses sign-up page.
    hadees

    This course is also helping Homeschooling mothers in different ways. You can get all resources from my website to teach your child 30 short hadiths at home. We have videos, written stories, worksheets, and a full teaching method. So contact us if you need to get these helpful resources.

    This course could be done online for free with the help of our free hadiths and stories.

    You can read English stories here and

    Or you can join our online classes to learn about Islam. List of courses/ Classes we have

    • Online Quran classes for beginners
    • Online Quran recitation and Memorisation classes
    • Islamic education for children
    • Seerah course
    • Ramzan boost course
    • Faith boost course
    • Rights of parents course
    • Prayer for kids course

    How was your experience visiting our site? If this course helped you? Please leave your thoughts. If you have any questions, you can ask them in the Question tab. If you want to connect with us via Email, then email here