Posted on

ہمارےپیارے نبی کریم صل اللہ علیہ و آلہ و سلم کی نماز

 یہ حدیث نماز اور آپ صل اللہ علیہ و آلہ و سلم کی سنت پر عمل کرنے کے بارے میں ہے. جیسا کہ ہم سب جانتے ہیں، جب ہم نماز ادا کرتے ہیں تو ہمیں آپ صل اللہ علیہ و آلہ و سلم کی سنت پر، انہی کے طریقے پر عمل کرنا ہوتا ہے.ہم آپ کے بتائے ہوئے مخصوص طریقے میں نہ کچھ اضافہ کر سکتے ہیں اور نہ اس میں کوئی کمی کرنا ممکن ہے.

قبلہ کی تبدیلی کی کہانی

اس حدیث کی کہانی اس دور کی ہے جب قبلہ اول کی تبدیلی ہوئی، جب مکہ سے مدینہ کی جانب ہجرت ہوئی تو مسلمانوں کا قبلہ تبدیل کر دیا گیا.یہ آپ صل اللہ علیہ و آلہ و سلم اور ان کے ساتھیوں کے لیے ایک بڑی آزمائش تھی.لیکن سچے ایمان والوں نے آپ کی پیروی کی اور اس معاملے میں کبھی کوئی بحث مباحثہ نہیں کیا. جب مکہ میں اسلام کا ظہور ہوا ,تو کعبہ ہی مسلمانوں کا قبلہ تھا جس کی جانب منہ کر کے وہ نماز ادا کرتے.کعبہ کو حضرت ابراہیم علیہ السلام اور ان کے بیٹے نے تعمیر کیا اور یہ اللہ پاک کا  پہلا اور سب سے پرانا گھر ہے. 

ایک مرتبہ آپ صل اللہ علیہ و آلہ کو اللہ کی طرف سے حکم ہوا کہ نماز کے لیے اپنا رخ بیت المقدس کی جانب پھیر دیا جائے، مسلمانوں نے اس حکم کی پیروی کی، اور آپ کے ساتھیوں نے کبھی اس پر اعتراض نہ کیا. مدینہ میں یہودیوں کی ایک کثیر تعداد آباد تھی. یہودی اپنے مذہبی فرائض بیت المقدس کی جانب منہ کر کے ادا کرتے تھے، بیت المقدس بھی اللہ کا گھر ہے جسے حضرت سلیمان علیہ السلام نے تعمیر کروایا تھا. 

میرے عزیز طالب علموں !!! ایسا اس لیے تھا تاکہ یہودی یہ بات سمجھ جائیں کہ اسلام کوئی نیا اور انوکھا دین نہیں ہے، بلکہ یہ وہی دین ہے جو موسٰی علیہ السلام اور باقی انبیاء کرام علیہم السلام کا تھا. اور مسلمان تمام انبیاء اور مقدس کتابوں پہ پختہ یقین رکھتے ہیں. آپ صل اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ہر طرح سے یہودیوں کی راہنمائی کی تاکہ وہ اسلام کو سمجھ کر اسے قبول کر لیں، لیکن وہ نہ مانے. صرف چند یہودیوں نے اسلام قبول کیا، باقی اللی کے نبی اور اسلام کے دشمن بن گئے. انہوں نے مسلمانوں کے لیے مشکلات پیدا کیں اور خفیہ سازشیں کرنے لگے.سترہ ماہ بعد، اللہ پاک نے مسلمانوں کو سمت کی تبدیلی کا حکم دیا اور اپنا رخ کعبہ کی جانب موڑنے کا کہا

پیارے بچو!!! یہ عصر کی نماز کا وقت تھا، سب مسلمان آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی پیروی کرتے ہوئے نماز ادا کر رہے تھے، اسی دوران آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو اللہ تعالیٰ کی جانب سے وحی کے ذریعے حکم دیا گیا کہ اپنا رخ کعبہ کی جانب موڑ لیں آپ نے فوراً اپنی پشت پھیری اور رخ تبدیل کر لیا. فوراً ہی آپ کے تمام ساتھیوں نے بھی آپ کی پیروی کرتے ہوئے اپنا رخ تبدیل کر لیا. 

آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سےکوئی سوال نہ کیا گیا، صحابہ آپ سے نہ تو بحث کیا کرتے تھے اور نہ آپ کی حکم عدولی کرتے تھے. ہمارے لیے بھی اسلام کی یہی تعلیم ہے کہ ہمیں اللہ اور اس کے رسول کے تمام احکامات پر بغیر کسی بحث اور دلیل کے عمل کرنا چاہیے. نہ کوئی شکوہ نہ شکایت، محض قرآن اور سنت کے احکامات پر عمل اور ان کی پیروی کریں. 

اس حدیث کو اپنی نوٹ بک میں لکھنا نہ بھولیے گا، دوسری احادیث کے ساتھ ساتھ اس کی بھی تصویر شئیر کریں تاکہ آپ کے بچوں کے احادیث کی تکمیل کی سند دی جا سکے.اللہ پاک سے دعا ہے کہ وہ اس کام کو آپ کے لیے آسان بنا دے 

نوٹ:اس حدیث کو اپنے دوستوں اور گھر والوں کے ساتھ شئیر کریں، تاکہ زیادہ لوگ اس سے فائدہ اٹھا سکیں

This story is written for our 30 short hadith with stories course for kids. You can join this course. We offer online classes in a very reasonable fee. Visit this Link for our courses.

This course is also helping Home schooling mothers in different ways.. You can get all resources from my website to teach your child 30 short hadiths at home. We have videos, written stories, worksheets and a full teaching method. So contact us if you need to get these helpful resources.

You can watch or read this story in Urdu as well in Stories for children section or Search as Hadith no 15 story in English.

This Hadith and story in Video

Worksheet for this Hadith and story…… You can buy this Book of 35 colouring pages. Comment to get a copy.

(Visited 40 times, 1 visits today)
close

Oh hi there 👋
It’s nice to meet you.

Sign up to receive awesome content in your inbox, every month.

We don’t spam! Read our privacy policy for more info.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *