Category: Urdu children stories

  • صلح حدبیہ اورسنتِ نبویﷺ کااتباع|Hadith no 19 with Great seerah story|hudaybiya Treaty

    صلح حدبیہ اورسنتِ نبویﷺ کااتباع|Hadith no 19 with Great seerah story|hudaybiya Treaty

    حدیث کاموضوع

    آج  کی

    کاموضوع ” اتباع سنت نبی صلی اللہ علیہ  وسلم” یے۔اس سلسلے میں آج ہم صلح حدبیہ اورسنتِ نبویﷺ کااتباع کی کہانی پڑ‍ھیں گے۔

    اللہ کے نبیﷺ نے فرمایا۔”جس نے میری سنت سے منہ موڑا، اس کا مجھ سے کوئی تعلق نہیں۔“اس حدیث کی روشنی میں ہم آج صلح حدیبیه کی کہانی پڑھیں گے

    نبی صلی اللہ علیہ  وسلم کے صحابہ نے صلح حدیبیہ کے موقع پر سنت نبوی پرعمل کرنے کے لئے ہم سب کے لئے ایک اچھی مثال قائم کی۔ وہ سنت پر عمل  کرنے میں تھوڑی سی تاخیربھی برداشت نہیں کر تے تھے- چنانچہ یہ کہانی سننے کے بعد ہم بھی ہر کام میں ہمیشہ اپنے اتباع سنت نبی کریں گے۔ان شا ء اللہ

    اتباع سنت نبی اور صلح حدیبیہ کی کہانی

    صلح حدبیہ اورسنتِ نبویﷺ کااتباع

    پیارے بچو، صلح حدبیہ اورسنتِ نبویﷺ کااتباع کی کہانی او طرح ہے کہ جب کعبہ مکہ میں بت پرستوں کی تحویل میں تھا۔ مسلمان خانہ کعبہ کو دیکھنے کے لئے ترس رہے تھے۔کہ ان کے لئے خدا کا گھر دیکھنا بہت حسرت کی بات تھی۔حضرت محمد صلی اللہ علیہ  وسلم نے اعلان کیا کہ وہ  اپنے صحابہ کے ساتھ غیر مسلح  ہو کرعمرہ  کے لیے مکہ مکرمہ جائیں گے

    اس ارادے سے وہ اپنے صحابہ کے ساتھ مدینہ سے روانہ ہوۓ۔ انہوں نے عمرہ کے بعد قربانی کے لئے اونٹ اور دوسرے جانورساتھ لئے تھے۔ جب حجاج کرام کا یہ قافلہ مکہ کے نواح میں پہنچا۔ تو حضور کو اطلاع ملی کہ مشرک انہیں شہر میں داخل نہیں ہونے دیں گے اور وہ انہیں ایسا کرنے سے روکنے کے لیے طاقت کا استعمال کریں گے۔ اس اطلاع نے مسلمانوں میں زبردست تشو یش  پیدا  کی۔ وہ مکہ کے شمال میں حد یبیہ نامی جگہ پر ایک کنویں کے قریب رک گئے۔

    حضرت محمد صلی اللہ علیہ  وسلم نے قریش کو پیغام بھیجا کہ وہ صرف عمرہ کی غرض سے آئے ہیں۔اورخانہ کعبہ کے روایتی سات چکر لگا نا چاہتے ہیں، جانوروں کی قربانی کرنا چاہتے ہیں اور پھر اپنے صحابہ کے ساتھ مدینہ واپس جانا چاہتے ہیں۔ قریش اس سے متفق نہیں تھے۔ اور بھی بہت سے پیغامات بھیجے گئے۔لیکن قریش نے کہا کہ وہ مسلمانوں کو مکہ میں داخل نہیں  ہونے دینگے۔آخر کار انہوں نے مسلمانوں کو ایک معاہدہ پیش کرنے پر رضامندی ظاہر کی۔

    پیارے بچو!یہ معاہدہ مسلمانوں کے بالکل خلاف لگتا تھا۔لیکن ہمارے نبی صلی اللہ علیہ  وسلم نے اسے قبول کر لیا۔ اس معاہدے کے مطابق مسلمان اس سال  واپس جائیں گے اور اگلے سال حج ادا کرنےکے لئے آئیں گے۔ حضرت محمد صلی اللہ علیہ  وسلم نے صحابہ کو حکم دیا کہ وہ اپنے بال کاٹ لیں اور اپنے جانوروں کو حد یبیہ کے اس مقام پر قربان کر دیں۔کیونکہ اللہ نے انکے عمرے کو قبول کر لیا تھا۔ لیکن صحابہ یہ کام کرنے کو تیار نہیں تھے۔ وہ مکہ ہر حال میں جانا چاہتےتھے۔

    چنانچہ جب ہمارے نبی صلی اللہ علیہ  وسلم نے دیکھا کہ یہاں کوئی بھی عمرے کی رسومات ادا کرنے کو تیار نہیں ہے۔تو وہ پریشان ہو گئے ۔  وہ اپنے خیمہ میں چلے گئے۔اور اداس بیٹھ گئے۔لیکن ہمارے نبی صلی اللہ علیہ  وسلم کی بیوی نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم  کومشورہ دیا کہ،

    صحابہ کے دل ٹوٹ گئے ہیں۔وہ ابھی پریشان ہیں۔ اس لئے آپ کی بات نہیں مان رہے۔ لیکن صحابہ آپ سے بہت پیار کرتے ہیں۔ اس لئے آپ جا کر پہلے عمرہ کی\ رسم ادا کریں۔ اپنے بال کاٹ کر پہلے قربانی کرلیں۔ تاکہ صحابہ بھی آپ   صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے چلیں ۔ جیسا کہ کبھی ایسا نہیں ہوا کہ صحابہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سنت کی پیروی نہ کریں۔

    چنانچہ جیسے ہی ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے رسومات ادا کرنا شروع کیں، صحابہ کو محسوس ہوا۔کہ وہ غلطی کر رہے  ہیں۔ انہوں نے جلدی سے سنت کی پیروی کی اور عمرے کےارکان  ادا  کیے ۔تو میرے پیارے بچوں، آپ دیکھ سکتے ہیں۔صحابہ واپس جا نے پر راضی نہیں تھے، لیکن انہوں نے کبھی سنت کی پیروی کرنے سے انکار نہیں کیا تھا۔ اسی لئے انہوں نےصلح حدبیہ اورسنتِ نبویﷺ کااتباع عمل کیا۔

    تو ہمارے لئے بھی سنت ایک طرز زندگی اور صحت مند معاشرے کا نظریہ ہے۔ ہمارے دن اور رات، ہمارے کھانے اور کپڑے، ہماری پارٹیاں اور ہمارا اجتماع سب کچھ سنت نبی کے مطابق ہونا چاہئے۔

    لیکن مجھے یہ کہنے سے ڈر لگتا ہے کہ صرف 50 فیصد لوگوں کو سنت کا اچھا علم ہے لیکن وہ بھی ان پر دل سے عمل نہیں کر رہے ہیں اور باقی 50 فیصد کو یہ بھی معلوم نہیں ہے کہ ہمارے  نبی صلی اللہ علیہ وسلم  نے کیسے زندگی گزاری ۔آئیے یہ  ارادہ کریں کہ ہم بھی سنت سیکھنے کی کوشش کریں گے۔ اور اتباع سنت میں صلح حدیبیہ میں صحابہ کی طرح عمل کریں گے

    ۔دوسروں کے ساتھ حدیث شیئر کریں۔ان شاء اللہ ہم سب سے اللہ قبول کرے گا.

    صلح حدبیہ اورسنتِ نبویﷺ کااتباع کی اردو کہانی وڈیو

    Video of this story in Englishصلح حدبیہ اورسنتِ نبویﷺ کااتباع

    This story with hadith in English

    Sunnah learning Worksheet

    Enrolments Available

    This is one of the hadith and story from My 30 short hadith with stories course. Online group classes are available online for all time zones. Recommended age for the class Hadith for kids is 7+. These classes are available in English and Urdu. If you want to enrol your child in our classes contact us via.

    Other courses we have

    • Easy Tafseer for kids with interesting stories you can see that course in my hadith course tab.
    • Prayer for kids course a short course to teach about taharat, Gusal, wudu, times of prayers, number and names of prayers, pillers and conditions of prayer and method of prayer. Search as Prayer for kids course on search bar.
    • Ramzan boost course we do start 2 weeks before Ramzan.
    • Faith boos course In December to say No To Marry Christmas.
    • Kindness to Parents

    Students home work

  • |ماؤں کی نافرمانی|Free Urdu Story 18. What Happened To Disobedient Son?|

    |ماؤں کی نافرمانی|Free Urdu Story 18. What Happened To Disobedient Son?|

    پیارے بچوآج ہماری حدیث کا موضوع ہے. “ماؤں کی نافرمانی

    Status of mothers.

    آپ صل اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا”اللہ پاک نے نیکی کے کاموں میں اپنی ماؤں کی نافرمانی تم پر حرام کر دی ہے.” 

    (صحیح بخاری)

    ماؤں کی نافرمانی

    یہ حدیث ہمیں بتاتی ہے کہ والدین یا اپنی ماؤں کی نافرمانی کرنا حرام ہے. دوسرے حرام کاموں جیسا کہ سور کا گوشت کھانا یا کسی کی غیبت کرنا کی طرح اللہ پاک اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو ماؤں کی نافرمانی کرنا بھی سخت ناپسند ہے 

    پیارے بچو کبھی کبھی ایسا ہوتا ہے ناں کہ ہم اپنی ماؤں کے ساتھ بڑے سخت انداز میں پیش آتے ہیں. بعض اوقات ہم ان سے جھگڑا کرتے ہیں اور بعض اوقات جب وہ ہمیں کوئی کام کرنے یا اس سے رُک جانے کا کہتی ہیں تو ہم ان کی بات نہیں مانتے. لیکن یہ حدیث ہمیں صاف الفاظ میں وضاحت کے ساتھ یہ بتا رہی ہے کہ ایسا کرنا بہت بُری عادت ہے.

    آپ جانتے ہیں ناں کہ اللہ پاک نے قرآن مجید میں کہا ہے کہ اگر ان کی کسی ناپسندیدہ بات پر تم “اُف” بھی کہتے ہو تو اللہ کو یہ بھی پسند نہیں آتا  پچھلی حدیث میں ہم پہلے ہی پڑھ چکے ہیں کہ اپنے ماں باپ کو مسکرا کر دیکھنا بھی صدقہ ہے. اس لیے اب میں امید کرتی ہوں کہ آپ کبھی ایسا کچھ نہیں کریں گے جس سے آپ کی والدہ ناراض یا پریشان ہوں. ورنہ ہو سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ سے بھی ایسے ہی ناراض ہو جائیں جیسے اس شخص سے ہوئے. 

    ماؤں کی نافرمانی

    وہ ایک صحابی رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم تھا- وہ بہت اچھا لڑکا تھا، لیکن وہ اپنی جوانی میں بیمار ہو گیا. جب وہ مرنے کے قریب تھا تو لوگوں نے اسے کہا کہ وہ کلمہ شہادت پڑھے. تاکہ وہ اچھا محسوس کر سکے. لیکن حیرت انگیز طور پر وہ کلمہ نہیں پڑھ رہا تھا. اس نے بار بار کوشش کی کہ پڑھ سکے لیکن ناکام ہو گیا. وہ بہت تکلیف میں مبتلا تھا. لیکن کوئی اس کے لیے کچھ نہ کر سکتا تھا.

    پھر ایک صحابی رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے پاس تشریف لائے اور کہا کہ ‘اے اللہ کے رسول، ایک لڑکا ہے جو کہ قریب المرگ ہے لیکن اس سے کلمہ شہادت نہیں پڑھاجا رہا’. آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے پوچھا کہ کیا وہ اپنی زندگی میں نماز ادا کرتا تھا؟

    جواب ملا کہ جی ہاں. پھر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اس لڑکے کو دیکھنے گئے، آپ نے بھی اسے کلمہ پڑھنے کا کہا -لیکن وہ کہنے لگا کہ میں نہیں پڑھ سکتا کیونکہ الفاظ میری زبان سے ادا ہی نہیں ہو رہے. 

    پھر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اس کی والدہ کو بلایا جو کہ اس نوجوان سے ناراض تھیں.آپ نے اسے کہا کہ وہ اپنے مرتے ہوئے بیٹے کو معاف کر دے. لیکن عورت نے کہا کہ نہیں، وہ کبھی معاف نہیں کرے گی.کیونکہ وہ ایک مسلمان شخص ہے اور دوسروں کے ساتھ بڑی نرمی سے پیش آتا ہے لیکن میرے ساتھ نہیں. اس نے ہمیشہ میری نافرمانی کی اور میرے ساتھ سخت لہجے میں بات کرتا تھا

    آپ صل اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا کہ اے مہربان خاتون، اسے معاف کر دو. کیا تم یہ برداشت کرو گی کہ کوئی اسے آگ میں پھینک دے، عورت کہنے لگی کہ ہر گز نہیں. یہ میرا عزیز بیٹا ہے، میں ایسا ہوتا ہوا نہیں دیکھ سکتی –

    پھر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا کہ اگر تم اسے معاف نہیں کرو گی تو اللہ پاک اسے یقیناً آگ میں پھینک دیں گے، پھر اس نے فوراً اپنے بیٹے کو معاف کر دیا. اب اس آدمی نے کلمہ ادا کیا اور وہ مر گیا-

    میرے عزیز طلبہ ہر ماں اپنے بچوں کی پرورش کرنے کے لیے سخت محنت کرتی ہے. وہ ہمارے لیے دعا کرتی ہیں اور جب ہم بیمار ہو جاتے ہیں تو وہ سوتی بھی نہیں، تو پھر بدلے میں ہمیں ان کی عزت کرنی چاہیے.آئیں ہم دعا کرتے ہیں کہ ہم کبھی اپنی والدہ کی نافرمانی نہ کریں اور ہمیشہ ان کی بات مان کر چلیں. آئیں اپنے والدین کے لیے بھی دعا کریں

    رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا 

    کہ اے اللہ ان پہ ایسے رحم فرما جیسے انہوں نے ہم پہ بچپن میں کیا-

    اس حدیث کو لکھیں اور اس پہ عمل کرنا اور دوسروں تک پہنچانا مت بھولیں.

    والسلام

    ادیبہ  انور!

    Video of the hadith( ماؤں کی نافرمانی) in Urdu

    Video of Hadith and story Mother statuts in English

    The written story is available in English as well.

    Comment to get pdf of 30 short hadiths with Graphics
    Enrol your child in this online course zoom class
    Worksheets for this Hadith and story
    You can buy This worksheet Book from our courses sign up 
    Buy this activity book

    Other courses we have

    Hadith with stories course consists of 30 short hadith for children with interesting stories you can see that course in my hadith course tab.
    Prayer for kids courses a short course to teach about taharat, Gusal, wudu, times of prayers, number and names of prayers, pillars and conditions of prayer, and method of prayer. Search as Prayer for kids course on the search bar.
    Kindness to Parents
    Ramzan Boost course
    Faith boost course in December to say NO MARYY CRISTMAS

    Enrolments Available

    Tafseer for kids’ group class is available online for all time zones. Recommended age for the class tafseer for kids is 9+. These classes are available in English and Urdu. If you want to enroll your child in our courses contact us via.
    email: bhallitaha@gmail.com

    Facebook.

    You tube Urdu Channel

    You tube English Channel

    or leave a comment.

    Video Of Lectures in Urdu

    https://www.youtube.com/watch?v=9lManMMTxJg

    My Students Activities

    https://www.youtube.com/watch?v=wl3NXMSm8gA
    https://www.youtube.com/watch?v=_gTXDpv9m60
    https://www.youtube.com/watch?v=SQMu5jU2htQ
  • Story 17|Talha R.S and his guest with Beautiful hadith about Charity

    Story 17|Talha R.S and his guest with Beautiful hadith about Charity

    Aik hadees aik kahani no 17. charity in islam Abu Talha aor un k mehmaan ka waqiya.

    Welcome to our Hadith with stories short course for kids and adults. This course has been designed for personality development.

    We have 30 short hadees with the best stories to understand the meaning of the hadees and to learn how we can apply the sunnah of Prophet Muhammad S.AW in our daily life.

    All hadiths and stories in English and Urdu are available on our site. You can visit the menu to search for stories with series.

    Topic of Hadees sadqa Al-Bukhari 1417

    Story Abu Talha R.A

    Hadees charity in Islam-حدیث

    charity in islam

    ماری آج کی حدیث صدقہ کی اہمیت کے بارے میں ہے.صدقہ کا موضوع قرآن اور حدیث میں متعدد بار آیا ہے

    صدقہ ہماری نیکیوں میں اضافہ کرتا ہے اور گناہوں کو مٹاتا ہے-اس حدیث میں بھی  یہی بتایا جا رہا ہے کہ چھوٹے  سے چھوٹا صدقہ بھی ہماری لیے جہنم کی آگ سے بچاؤ کا ذریعہ بن سکتا ہے

    آج کی حدیث کے ساتھ جو کہانی پیش کی جا رہی ہے وہ  بھی اسی موضوع پر ہے

    قابل عمل بات یہ ہے کہ صرف کہانی سنا دینا اور حدیث یاد کر لینا ہے مقصد نہیں بلکہ عملی زندگی میں بچوں کو زیادہ سے زیادہ صدقہ کرنے کی عادت ڈالیں

    بچوں کے ہاتھ سے رقم دلوانے کی بجایے کھانا تقسیم کروائیں، ان کے پسندیدہ کھلونوں میں سے کچھ کھلونے دوسروں کو دینے کی ترغیب دیں . اور اس کے علاوه  بچوں کو اپنی چیزیں دوسروں کے ساتھ مل کر استعمال کرنے کی عادت ڈالیں

    مثلا اپنا لنچ دوستوں کے ساتھ مل کر کھانا اور بہن بھائیوں کے ساتھ مل کر کھیلیں. وغیرہ

    یاد رکھیں ھمارے بچے ہماری جنت بھی ہیں اور جہنم  بھی- ہمیں ان کی تربیت کو معاشرے کے ہاتھوں میں نہیں دینا  

    charity in islam

    صدقہ

    Story about hadees – حضرت ابو طلحہ  کا واقعہ

    یہ ایک بہت اہم موضوع ہے اور اس کا ذکر قرآن کی بہت سی آیات اور احادیث میں کئی بار ہوا ہے۔ اس حدیث نے ہمیں صدقہ کرنے کے لئے بتایا تاکہ ہم جہنم کی آگ سے محفوظ رہ سکیں۔ روزمرہ زندگی میں ہم جانتے بوجھتے یا نادانستہ بہت سی غلطیوں اور گنا ہوں کا ارتکاب کر تے ہیں ۔ اور ہمارا صدقہ ہماری ان  غلطیوں  اور گنا ہوں  کو دھو   ڈالتا  ھے- خیرات کو صدقہ بھی کہا جاتا ہے۔

    میرے پیارے بچوں ہمیں معلوم ہونا چاہئے کہ بہترین خیرات کیا ہے۔ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم  نے اس معاملے میں ہماری رہنمائی کی تاکہ ہم بہت کم چیزیں دے  کر   بھی صدقہ ادا کر سکیں-ایک اورحدیث میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ فٹ پاتھ سے کانٹا  چننا بھی صدقہ ہے. لہذا اگر ہمارے پاس کچھ نہیں ہے تو ہمیں   ڈرنا نہیں چاہیے – 

    دوسروں کو مسکرا  کر  دیکھنا بھی صدقہ ہے اوراس  کا بہت اجرہے۔ ذاتی چیزوں کو دوسروں کے ساتھ شیئر کرنا ایک مشکل کام ہے لیکن اگر آپ مشق کریں اور اپنی لالچ اور خود غرضی پر قابو پا لیں تو آپ اللہ کی رضا کے لئے کسی بھی وقت کچھ بھی عطیہ کر سکتے ہیں۔

    ایک مرتبہ ہمارے نبی نے فرمایا’ سب سے بہتر صدقہ کھانا کھلا نا  ہے. لہٰذا ہمیں اپنے دوپہر کے کھانے کا ڈبہ اور روزانہ کھانے کی چیزیں بھی شیئر کرنی چاہیے اور اگر کبھی   شیطان کسی وقت آپ کو غلط راہ دکھانے اور آپ کا لالچ بڑھانے کی کوشش کرے تو حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ایک صحابہ حضرت ابو طلحہ  کا واقعہ یاد رکھیں۔ وہ بہت نیک انسان تھے ۔

    بار رات میں ایک مہمان ان کے گھر گیا – اان کے گھر میں کھانا بہت کم تھا۔ حضرت ابو طلحہ  نے اپنی بیوی سے کہا کہ جب وہ کھانا کھا رہے ہوں تو وہ موم بتی بجھا دیں تاکہ مہمان کو لگے کہ وہ بھی کھا رہے ہیں۔ اس طرح وہ اس رات بھوکے سوگئے ۔ اور اللہ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو وحی کے ذریعے اس واقعہ کے بارے میں بتایا.-

    یہ دو انصاریوں  (مدینہ کے مسلمانوں) ابو طلحہٰ اور ان کی بیوی کی طرف سے ایک مہمان کو پیش کی جانے والی مہمان نوازی اور اخلاقیات کی ایک خوبصورت مثال ہے – 

    ایک مرتبہ ایک بھوکا شخص حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس گیا ۔ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنی بیویوں سے پوچھا کہ کیا ان کے پاس بھوکے مہمان کو کھانا کھلانے کے لیے کچھ ہے؟  ہر ایک نے جواب دیا کہ ان کے پاس پانی کے علاوہ  کچھ نہیں ہے۔ اس کے بعد حضور  صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے ساتھی ابو طلحہٰ سے پوچھا

    اور ابو طلحہٰ نے مہمان کو اپنے گھر خوش آمدید کہا۔ جب ابو طلحہٰ  نے اپنی بیوی سے پوچھا کہ کیا ان کے پاس مہمان کے لئے کچھ ہے تو بیوی نے جواب دیا کہ ان کے پاس صرف بچوں کے لئے تھوڑاسا کھانا ہے۔

    ابو طلحہٰ نے اپنی بیوی کو ہدایت کی کہ وہ کھانا لائے، چراغ بجھا  دے اور بچوں کو سلا   دے۔ جب وہ رات کے کھانے پر بیٹھ گئے تو ام سلیمان اٹھ کر چراغ ٹھیک کرنے کا بہانہ کر رہی تھیں- آپ نے  اسے بجھا دیا. مہمان نے اپنا کھانا کھایا تو جوڑے نے بہانہ کیا کہ وہ بھی کھا رہے ہیں۔ تاہم انہوں نے کھانے کو ہاتھ نہیں لگایا تھاکیونکہ یہ کافی نہیں تھا۔

    اگلے دن حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں یہ بڑی خبر دی کہ اللہ نے ان کے بارے میں اور ان کی سخاوت کے   بارے میں ایک آیت نازل کی ہے-

     پیارے بچوں، مجھے امید ہے کہ اب آپ اپنے دوپہر کے کھانے یا اپنے کھلونے اپنے دوستوں اور یہاں تک کہ دوسرے بچوں کے ساتھ بھی شیئر کرنے میں کبھی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کریں گے۔

    اللہ تمام مسلمانوں کو جہنم کی   آگ سے دور فرمائے. 

    ایک بار پڑھتے ہیں.

    للَّهُمَّ أَجِرْنِي مِنَ النَّارِ

    اب براہ کرم اس حدیث کو اپنی حدیث کی کتاب میں لکھیں اور مجھے تصویر بھیجیں. اس حدیث اور قصوں کو اپنے دادا دادی اور اپنے دوستوں کے ساتھ شیئر کریں۔ 

    Video of the story

    Full hadees course click here

    Download your free copy of 30 short Hadith book pdfs in Urdu/Eng from the here

    Youtube Urdu Channel
    Youtube English Channel

    English stories

    Urdu stories

    Enrolments Available

    Online Urdu Classes are Available for all ages. comment below or Email

    Urdu tutor’s Profile

    We are offering Online Urdu learning classes to students from All time zones. Urdu for beginners, Urdu from Grades 1 to 10, And o Level/A level/GSCE online tuition are available.

    This is a short course of hadith and stories from My 30 short hadith with stories course. Online group classes are available online for all time zones. Recommended age for the class Hadith for kids is 7+. These classes are available in English and Urdu. If you want to enroll your child in our courses contact us via.

    Other courses we have

    • Urdu classes for kids and beginners
    • Urdu Tutions for Matric and 0 levels/A level
    • Online Quran classes and tutors
    • Online Quran memorization/Hfiz program
    • Seerah course for age 9+ in the Month of Rabilawal started
    • Easy Tafseer for kids with exciting stories you can see that course in my hadith course tab.
    • Prayer for kids course is a short course to teach about taharat, Gusal, wudu, times of prayers, number and names of prayers, pillars and conditions, and prayer methods. Search as Prayer for kids course on the search bar.
    • Ramzan boost course we do start 2 weeks before Ramzan.
    • Faith boos course 1st week of December to say No To Marry Christmas.
    • Kindness to Parents

    If you want to start this course with me then leave a comment, Email me or enroll your child here.

    How’s This story and Course? Do you have any suggestions to improve it? Comment below. Which courses you are looking to be designed more?

    Buy this activity book

    https://youtu.be/j4hqo4jxKAU
    charity in islam

    Students activities

  • Story 12Urdu |Story of Ayoob A.S with beautiful Hadith

    Story 12Urdu |Story of Ayoob A.S with beautiful Hadith

    This story is written for our 30-short hadith with stories course for kids.

    Hadith no 12

    Lesson no 13

    The topic of the hadith Patient

    Story of Ayoob A.S in Urdu

    Hadith
    The Story about this hadith

    ایوب علیہ السلام-Ayoob A.S

    Hadith

    Ayyub (S) ( أيّوب)پیارے پیارے نبی ایوب حضرت یعقوب علیہ السلام کے بھتیجے تھے، وہ فلسطین کے شمال. مشرق میں موجود لوگوں کی ہدایت کے لیے مبعوث کیے گئے. جب ایوب علیہ السلام کو نبوت کے لیے منتخب کیا گیاتو انہوں نے لوگوں کو اللہ اور اپنے دین کے بارے میں سکھانا شروع کر دیا.وہ لوگوں کو. نیکی کرنے کا حکم دیتے اور برائی سے روکتے. ان پہ بہت کم لوگ ایمان لائے لیکن آہستہ آہستہ تعداد زیادہ ہونے لگی.

    The Prophet Ayub was Well Off

    حضرت ایوب علیہ السلام اللہ پہ یقین رکھنے والے ایک خوشحال انسان تھے. ان کے پاس بہت سی زمین، جائیداد اور مال مویشی موجود تھے، لیکن انہوں نے اس سب پہ کبھی غرور نہیں کیا تھا.

    The Prophet Ayub Displays Patience

    حضرت ایوب علیہ السلام عاجزی اور اللہ پر یقین کا پیکر تھے. وہ بڑے صبر والے تھے.. انہوں نے بہت ساری مصیبتوں کا سامنا کیا لیکن کبھی زبان سے شکوے کا ایک لفظ بھی ادا نہ کیا. ایک دن ان کے فارم پہ چوروں نے حملہ کر دیا، انہوں نے بہت سے ملازمین کو. مار دیا اور زبردستی مویشیوں کو اٹھا کر لے گئے،

    لیکن ایوب علیہ السلام افسردہ نہ ہوئے بلکہ اللہ کے شکرگزار رہے. کچھ وقت کے بعد ان کے گھر کی چھت گر گئی، جس کی وجہ سے بہت سے اہل خانہ وفات پا گئے، ایوب علیہ السلام بہت پریشان تھے لیکن انہوں نے اللہ پہ یقین قائم رکھا، نہ تو انہوں نے آہیں بھری اور نہ ہی آنسو بہائے وہ رب کے سامنے جھکےاور کہا کہ

    مال اور اولاد اللہ ہی کا تحفہ ہیں اگر اس نے واپس لے لیے ہیں تو اس پہ اہ و بکا کرنا نہیں بنتا.

    پھر کچھ عرصے بعد آپ کو ایک جلدی بیماری آن لگی، ان کے سارے جسم. پہ ناسور پھو ٹ پڑا، ہاتھ اور چہرہ بد نما داغوں سے بھر گئے، پھوڑوں میں کیڑے پڑ گئے اور یہ بیان کیا جاتا ہے کہ زخموں سے جو کیڑے گرتے آپ وہ اٹھا لیتے کہ اللہ کریم نے ہی انہیں بھی پیدا کیا ہے

    ان سب سے بڑھ کر آپ کے جعلی دوستوں نے اسے آپ کے گناہوں کی سزا کہنا شروع کر دیا، وہ آپ کو حقارت سے دیکھتے اور آپ کا مذاق اڑاتے، آپ کی بیوی رحیمہ کہ علاوہ سب آپ کا ساتھ چھوڑ گئے، یہاں تک کہ وہ خاتون بھی تھکنے لگی اور اللہ سے آپ کی دعا یا وفات کی دعا کرنے لگی تاکہ آپ کی آزمائش ختم ہو.

    جب ایوب علیہ السلام انتہائی نازک حالت میں تھے تو انہوں نے اللہ سے دعاکی کہ بے شک تباہی نے مجھے آ لیا ہے، لیکن آپ سب سے زیادہ ڑحم کرنے والے ہیں، مجھ پہ رحم کریں. اللہ کریم نے ان کی دعا قبول کی، قرآن کہتا ہے کہ پھر ہم نے ان کی دعا قبول کی اور مصیبت کو ان سے دور کر دیا، ان کا گھر بار اور مال و دولت بلکہ اس سے بھی بڑھ کر انہیں لوٹا دیا، یہ ہمارے خزانہ رحمت سے یقین کرنے والوں کے لیے یاددہانی ہے.

    The Prophet Ayub Recovers and Prospers

    اللہ اپنی رحمت سے ان کی طرف متوجہ ہوا اور انہیں زمین پہ پاؤں مارنے کا حکم دیا، آپ نے ایسا کیا تو زمین سے ایک پانی کا چشمہ پھوٹا، جس کے پانی سے آپ نے غال کیا تو آپ کو اپنی بیماری سے شفا ملی. اس کے بعد وہ دوبارہ سے خوشحال ہو گئے،

    آپ ہمیشہ اللہ سامنے جھکتے اور اس کی تعریف بیان کرتے رہے. ایوب علیہ السلام پسندیدہ ترین نبیوں میں شمار کیے جاتے ہیں، ان کا نام صبر کرنے والوں میں مثال کے طور پہ پیش کیا جاتا ہے. جو ہمیشہ ہر مصیبت میں ثابت قدم رہے اور بڑے اجر وانعام کے مستحق ٹھہرے.

    قرآن کہتا ہے کہ : بے شک ہم تمہیں خوف اور بھوک سے آزماتے ہیں. اور مال اور فصل کے نقصان سے لیکن بے شک ثابت قدم. رہنے والوں کے لیے بڑا اجر ہے، وہ کہ جن پہ مصیبت آتی ہے تو وہ کہتے ہیں کہ بے شک ہم اللہ ہی کی طرف سے ہیں اور اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے.

    The Afflictions upon Prophet Ayob A.S

    حضرت یعقوب علیہ السلام کا سارا مال و متاع اللہ نے ایک بار واپس لے لیا، آپ کے بچے وفات پا گئے، 18 سال تک آپ کسی جلدی مرض میں مبتلا رہے، قرآن ہمیں اس بیماری کا نام. نہیں بتاتا اور نہ ہی قرآن میں آپ کے جسم. کے گلنے سڑنے اور اس میں کیڑے پڑنے کا ذکر ہے اور نہ ہی بیان کیا گیا ہے کہ سات سال تک آپ کوڑے کےڈھہر پر پڑے رہے،

    جیسا کہ یہودی بیان کرتے ہیں، ایسی بیماری یا آزمائش میں اللہ نے کسی بھی نبی کو مبتلا نہیں کیا. لیکن وہ اتنا لمبا عرصہ اس بیماری میں مبتلا رہے کہ لوگ صبر کی مثال دینے کے لیے آپ کا نام استعمال کرنے لگے.

    The Patient Wife of Ayob A.S

    آپ کی بیوی بھی بہت صبر والی تھی، جب سارے لوگ آپ کو چھوڑ گئے تب بھی اس نے آپ کا ساتھ دیا، یہاں تک کہ ایک دن جب کھانے کو کچھ میسر نہ تھا تو اس نے اپنے بال کاٹ کر بیچ دیے اور آپ کے لیے کھانا خریدا، لیکن جب یعقوب علیہ السلام کو علم. ہوا تو بہت ناراض ہوئے کیونکہ عورت کے لیے تب بھی اپنے بال بیچنا جائز نہ تھا

    جیسا کہ اب آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے دین میں بھی جائز نہیں ہے کہ کوئی عورت اپنے بال کاٹ کر کسی دوسری کو فروخت کرے اور کوئی کای دوسرے کے کٹے ہوئے بال اپنے سر کے بالوں میں گوندھے. کب آپ نے بیماری سے نجات پائی تو دوبارہ اتنے حسین ہو گئے کہ آپ کو سامنے دیکھ کر آپ کہ بیوی بھی آپ کو نہ پہچان سکی. بیان کیا جاتا ہے کہ آپ نے 93 برس کی عمر پائی اور بہترین ایمان کی حالت میں دنیا سے رخصت ہوئے

    This story in Video in Urdu
    You can read or watch story in English here
    How to teach 30 short Hadiths? Interesting stories

    This course is also helping Homeschooling mothers in different ways.. You can get all resources from my website to teach your child at home.

    Hadith Work book to teach 30 short hadith

    https://youtu.be/9wgN8Fl8nn4

    This course could be done online for free with the help of our free hadiths and stories. You can read English stories here and

    . Free hadith book in pdf is available on our homepage and the workbook is available to buy at our courses sign-up page.

    Or you can join our online classes to learn about Islam.

    List of courses/ Classes we have

    • Online Quran classes for beginners
    • Online Quran recitation and Memorisation classes
    • Islamic education for children
    • Seerah course
    • Ramzan boost course
    • Faith boost course
    • Rights of parents course
    • Prayer for kids course

    How was your experience visiting our site? If this course helped you? Please leave your thoughts. If you have any questions, you can ask them in the Question tab. If you want to connect with us via Email, then email here

  • Story 16 Urdu| With Beautiful hadees about Fighting

    Story 16 Urdu| With Beautiful hadees about Fighting

    Welcome to our Hadees with stories short course for kids and adults in Urdu. This course has been designed for personality development.

    We have 30 short hadees with the best stories to understand the meaning of the hadees and to learn how we can apply the sunnah of Prophet Muhammad S.AW in our daily life.

    All hadiths and stories in English and Urdu are available on our site. You can visit the menu to search for stories with series.

    Hadees no 16

    lesson no 17

    Topic of Hadees fighting in Urdu

    Story of Bilal and Abu Zar in Urdu

    السلام علیکم پیارے پیارے بچو !!!کیسے ہیں آپ سب ٹھیک ہیں خیریت سے ہیں مزے سے ہیں اپنی احادیث اچھے طریقے سے یاد کر رہے ہیں الحمدللہ میں امید کرتی ہوں کہ آپ بہت اچھے طریقے سے یاد کر رہے ہونگے تو چلیے آج ہم ایک اور حدیث پاک پڑھیں اور اس کو اپنی روز مرہ زندگی کا ایک حصہ بنائیں 

    -آج کی حدیث کا ترجمہ دوسروں کو گالی دینا ، برے نام سے پکارنا اور دوسرے مسلمان بھائیوں کے ساتھ لڑنا  ، اسلام میں ،بہت بڑا گناہ اور کفر ہے۔ حدیث

    hadees
    آج ہم محمد صلی اللہ علیہ و سلم کی سیرت سے دو کہانیاں سنیں گے۔

    پہلی کہانی دوسروں کو ڈانٹنے اور بُرے ناموں سے پکارنے کے بارے میں ہے

    hadees

     کہانی 1_ابوزر اور بلال رضی اللہ عنھما کاجھگڑا

    ایک زمانے میں ، ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دو ساتھی ابوذر اور حضرت بلال کا آپس میں جھگڑا ہوا تھا۔ دونوں بحث کر رہے تھے جب ابوذر نے بلال رضی اللہ عنہ کو ‘سیاہ فام عورت کے بیٹے’  ناراضگی سے کہا۔ حضرت بلال ان سے ان الفاظ کی توقع نہیں کر رہے تھے۔

    یہ الفاظ بہت تکلیف دہ تھے۔ وہ ایک بہت ہی پیارے شخص اور اسلام کے پہلے موذن تھے ۔ تو یہ الفاظ انکے رونے کے لئے کافی ہیں۔ لیکن انھوں نے پلٹ کر نہیں ڈانٹا اور نہ ہی کوئی بری بات کہی۔ حضرت بلال نے اس کی شکایت حضرت محمد  سے کی۔ ہمارے پیارے نبی  غصے میں آگئے اور ابوذر سے کہا- کیا آپ ابھی بھی جہالت کے آدمی ہیں؟

     پیارے بچو ،اس دور میں آپس میں لڑائی جھگڑے اور گالم گلوچ ایک معمول کی بات تھی۔ لیکن ہمارے مذہب نے ہمیں ایسا کرنے کی اجازت نہیں دی۔ ہمارے مذہب نے ہر انسان کا درجہ بلند کیا اور ہمیں سکھایا کہ سب برابر ہیں۔ جب اس  غلطی کا احساس ہواتو

    ابوذر روئےاور بلال رضی اللہ عنہ سے ملنے گئے ۔ وہ بلال رضی اللہ عنہ کے سامنے لیٹ گئے اور قسم کھا لی کہ جب تک بلال میرے چہرے پر پیر نہیں ڈالے گا وہ زمین سے اپنا سر نہیں اٹھائیں گے ۔ لیکن دوسری طرف بلال ایسا کرنے کو تیار نہیں تھے ۔

    ان کا بدلہ لینے کا کوئی ارادہ نہیں تھا۔ لیکن ابوذر  نے اصرار کیا۔ لہذا اپنی قسم پوری کرنے کے لئے بلال نے ایسا ہی کیا اور پھر ان دونوں نے ایک دوسرے کو گلے لگا لیا۔ 

    پیارے بچو  یہ ابوذر کا سوری کہنے کا انداز تھا۔ وہ اللہ سے ڈرتے تھے اور اللہ کو خوش کرنے کا سوچا ۔ یہ کہانی ہمیں بتاتی ہے کہ معذرت کہنا شرمناک عمل نہیں ہے۔ اس کی بجائے یہ ہماری غلطی کو مٹائے گا اور اللہ کی بارگاہ میں ہماری حیثیت بلند کرے گا۔

    کہانی 2_یہودیوں کی مسلمانوں کو آپس میں لڑانے کی سازش،

    اس کہانی میں ، ایک یہودی جو درحقیقت منافق تھا  اس نے کچھ مسلمانوں کو کھانے کے لئے مدعو کیا۔ اس ڈنر پارٹی کے دوران ، انہوں نے مسلمانوں کو ایک دوسرے سے لڑانے کرنے کی کوشش کی۔ انہوں نے ان کے پرانے لڑائی جھگڑے اور اس کے بارے میں بات کی جس سے وہ ان کے عداوت کا دور یاد رکھیں گے۔ آخر کار وہ اپنے مشن میں کامیاب ہوگیا۔ دونوں مسلم گروہ پھنس گئے تھے

    لہذا زخموں کو دوبارہ کھولا گیا ، یادیں تازہ ہوگئیں اور مسلح افراد کی طرف متوجہ ہونا شروع ہوا۔ وہ ایک جگہ کا انتخاب کرتے ہیں اور وہ دوبارہ لڑتے ہیں۔ جب نبی کو یہ معلوم ہوا تو آپ صل اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا اے لوگو! آپ جاہل تھے۔ اللہ نے آپ کی رہنمائی کی تھی اور آپ کی عزت کی تھی اور آپ کو جہنم کی آگ سے بچایا تھا اور آپ کو دوبارہ ملایا تھا۔ جب آپ یہاں ہوں تو آپ لڑیں گے؟

    انہیں احساس ہوا کہ وہ پھنسے ہوئے ہیں۔ دونوں اطراف کے لوگوں نے فریاد کی اور معافی کی درخواست کی۔ معافی مانگ لی گئی اور وہ دوبارہ مل گئے۔ اس یہودی کا ڈرامہ ناکام ہوگیا۔

    پیارے بچو آپ دیکھ سکتے ہیں کہ کس طرح کچھ لوگ اور شیطان ہمیشہ ہمیں گمراہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور ہم اپنے بہن بھائیوں اور دوستوں سے بھی لڑنا شروع کردیتے ہیں۔ لیکن ہمیں ہمیشہ یاد رکھنا چاہئے ، ماضی کی یادیں اور برے تجربات ہمارے درمیان کبھی بھی تنازعہ یا لڑائی کا سبب نہیں بنیں۔

    خوشی سے زندہ رہو اور سب کو عزت دو۔ کوئی لڑائی ، کوئی دلیل اور کوئی دھونس نہیں۔ یہاں تک کہ اس کو کوئی جواب نہیں جو آپ کو دھونس مارنے کی کوشش کرتا ہے۔

      آخر میں حدیث کی کتاب میں حدیث لکھنا نہ بھولیں۔ اور اس حدیث کے لئے آپ نے جو حدیث اور دوسری سرگرمیاں کی ہیں ان کی تصویر شیئر کریں۔ . اللہ آپ کے لئے آسانیاں پیدا کرے نوٹ: -اس حدیث کو اپنے گھر والوں اور دوستوں کے ساتھ پھیلائیں تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ اس سے مستفید ہوں۔

    This Hadith and story in Video

    Hadith Worksheet book buy here
    hadees

    This course is also helping Homeschooling mothers in different ways. You can get all resources from my website to teach your child 30 short hadiths at home. We have videos, written stories, worksheets, and a full teaching method. So contact us if you need to get these helpful resources.

    This course could be done online for free with the help of our free hadiths and stories. You can read English stories here and
    . Free hadith book in pdf is available on our homepage and the workbook is available to buy at our courses sign-up page.
    Or you can join our online classes to learn about Islam. List of courses/ Classes we have
    • Online Quran classes for beginners
    • Online Quran recitation and Memorisation classes
    • Islamic education for children
    • Seerah course
    • Ramzan boost course
    • Faith boost course
    • Rights of parents course
    • Prayer for kids course

    How was your experience visiting our site? If this course helped you? Please leave your thoughts. If you have any questions, you can ask them in the Question tab. If you want to connect with us via Email, then email here

  • Story 6 Urdu|How to be a modest Muslim? Learn hadith

    Story 6 Urdu|How to be a modest Muslim? Learn hadith

    Welcome to our Hadees with stories short course for kids and adults. This course has been designed for personality development

    Hadith no 16

    Lesson no 17

    Topic of the hadith Modesty-حیا

    Sahih AL-Bukhari 2564 /Muslim 35

    Story of a robber

    hadees

    ہمارے پیارے نبی کریم صل اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا 

    “حیا ایمان کا حصہ ہے” 

    تو پیارے بچو!  ہمارے آج کی حدیث کا عنوان ہے “حیا” اور آج ہم آپ کو جو کہانی سنانے جا رہے ہیں اس کا عنوان ہے “بچے کی سچائی ” حیا کا موضوع سمجھنا تھوڑا سا مشکل ضرور ہے لیکن کہانی بہت آسان اور دلچسپ ہے. 

    پیارے بچو!!! حیا سے ہم  انکساری، شرم اور عزت نفس مراد لیتے ہیں. اس کے مفہوم میں بڑوں کا کہنا ماننا بھی شامل ہے، دوسروں کے سامنے اپنا جسم ڈھانپنا اور غیر اخلاقی گفتگو سے بچنا بھی. بعض اوقات بچے جھوٹ بولتے ہیں، کسی دوسرے کی چیز پسند آئے تو چُرا لیتے ہیں یا ان سے لڑائی جھگڑا کرنے لگتے ہیں اور پھر معذرت کرنے اور شرمندہ ہونے کی بجائے دوسروں کو مزید تکلیف پہنچاتے ہیں. 

    تو میرے عزیز بچو! یہ ایک انتہائی بری عادت ہے، جو کہ ہماری حیا کی فطرت کو متاثر کرتی ہے اور ہمارے اخلاق کو خراب کرتی ہے. حیادار بننے کے لیے ضروری ہے کہ اگر ہم کچھ برا سوچیں تو اس پہ شرمندہ ہوں اور اگر کسی کے ساتھ برا کریں تو اس سے معذرت کریں. حیا کے تصور کو بہترطور پر سمجھنے کے لیے ایک کہانی سُنیے

    hadees
    ڈاکو کی حیا _The story of a robber

    یہ ایک بچے اور کچھ ڈاکوؤں کی کہانی ہے.کیا آپ جانتے ہیں ڈاکو کون ہوتا ہے؟ جو دوسروں کے پیسے اور چیزیں زبردستی چھین لے، اسے ہم ڈاکو کہتے ہیں. بہت عرصہ پہلے کی بات ہے کسی جگہ پہ ایک بچہ رہا کرتا تھا جو ابتدائی اسلامی تعلیم حاصل کر رہا تھا

    اپنی تعلیم جاری رکھنے کے لیے اسے ایک دوسرے شہر بغداد جانا پڑا. پرانے زمانے میں چونکہ سفر کے جدید ذرائع موجود نہ تھے تو لوگ گھوڑوں اور اونٹوں پر سفر کیا کرتے. راستے میں چوروں کے ڈر سے وہ اکٹھے ہو کر گروہوں اور قافلوں کی صورت میں سفر کرتے

    بچے کی ماں نے بھی اسے ایک قافلے کے ہمراہ بغداد روانہ کر دیا، سفر پہ جانے سے پہلے ماں نے بچے کی قمیض میں چھپا کر کچھ پیسے سلائی کر دیے. اور بچے کو نصیحت کی کہ میرے پیارے بیٹے، جھوٹ کبھی مت بولنا، ہمیشہ سچ بولنا اور خوب دل لگا کر پڑھائی کرنا. 

    سفر بہت لمبا تھا، قافلے کو روانہ ہوئے کئی دن گزر چکے تھے، جنگل کے قریب سے گزرتے ہوئے قافلے نے پڑاؤ ڈالا اور رات اسی جگہ پہ گزارنے کا فیصلہ کیا گیا، جب سارا قافلہ سو رہا تھا تو ڈاکوؤں کے ایک گروہ نے ان پہ حملہ کر دیا، وہ ہر مسافر کے پاس گئے اور اس کے پاس موجود چیزیں اپنے قبضے میں لینے لگے

    ایک ڈاکو بچے کے پاس پہنچا اور اس سے پوچھا کہ تمہارے پاس کیا ہے؟ 

    بچے نے جواب دیا، “چالیس روپے”اس زمانے میں چالیس روپے ایک بہت بڑی رقم ہوا کرتے تھے، چور بچے کی بات سن کر ہنسنے لگا کہ کیا تم میرے ساتھ مذاق کر رہے ہو، اسے محسوس ہوا کہ ایک چھوٹے بچے کے پاس اتنی بڑی رقم موجود نہیں ہو سکتی. اس نے بچے کی تلاشی لی لیکن اسے پیسے نہ ملے. ڈاکو سمجھا کہ بچے نے اس کے ساتھ جھوٹ بولا ہے وہ غصے سے بچے کو پکڑ کر اپنے سردار کے پاس لے گیا اور سردار کو بچے کی ساری بات بتائی. 

    ڈا کوؤں کے سردار نے بچے کو دھمکی دی کہ اگر وہ جھوٹ بول رہا ہے تو اسے سخت سزا دی جائے گی، بچہ کہنے لگا کہ میں نے جھوٹ ہر گز نہیں بولا،میرے پاس واقعی چالیس روپے موجود ہیں. اب سردار نے بچے سے کہا کہ وہ پیسے دکھائے

    بچے نے بتایا کہ اس کی قمیض کے اندر چالیس روپے سِلے ہوئے ہیں، ایک چور نے بچے کی قمیض پھاڑ کر دیکھا، وہاں واقعی چالیس روپے موجود تھے. وہ سب یہ ماجرا دیکھ کر حیران رہ گئے، سردار نے بچے سے پوچھا کہ اے پیارے بچے، تم نے ہمیں سچ کیوں بتایا، اگر تم جھوٹ بولتے تو تمہاری رقم محفوظ رہتی. بچے نے جوب دیا کہ میری ماں نے مجھے نصیحت کی تھی کہ ہمیشہ سچ بولنا، چاہے جو بھی ہو جائے جھوٹ کبھی نہ بولنا. 

    سردار بچے کہ بات سن کر حیران رہ گیا، وہ کہنے لگا کہ اب تمہاری امی تمہارے ساتھ نہیں تھیں، انہیں کیسے پتہ چلتا کہ تم نے جھوٹ بولا ہے، تم اگر چاہتے تو اپنے پیسے بچا بھی سکتے تھے لیکن پیارے بچو، اس چھوٹے بچے نے سردار کو جو جواب دیا، آپ زرا وہ سنیں، وہ کہنے لگااگرچہ میری امی مجھے نہیں دیکھ رہیں لیکن میرا اللہ تو ہر وقت مجھے دیکھ رہا ہے ناں! اور اگر میں جھوٹ بولتا تو اللہ جی مجھ سے بالکل بھی خوش نہ ہوتے. 

    بچے کا جواب سن کر سردار رونے لگا اور روتے روتے بے ہوش ہو گیا. جب وہ ہوش میں آیا تو اپنی حرکتوں پہ شرمندہ ہونے لگا، اس نے سوچا کہ یہ چھوٹا بچہ اتنا سمجھدار ہے کہ اس نے اپنی ماں کی غیر موجودگی میں بھی جھوٹ نہیں بولا کیونکہ اسے اللہ کی حیا اور خوف تھا. لیکن وہ اتنا بڑا ہو کر بھی اللہ سے حیا نہیں کرتا اور غلط کام کرتا ہے.

    وہ بہت شرمندہ ہوا اور دیر تک روتا رہا، اسے خود پہ شرمندگی ہونے لگی، اس نے اپنی گناہوں سے توبہ کی اور قافلے والوں کا لُوٹا ہوا سارا مال واپس کر دیا، بچے کی سچائی نے اسے ایک اچھا انسان بنا دیا،

    کیا آپ جانتے ہیں کہ وہ بچہ کون تھا؟ عبد القادر جیلانی۔ جو بعد میں علم اور نیکی کی وجہ سے بہت مشہور ہوئے۔ تو پیارے بچو، یہ ہوتی ہے حیا. جب کوئی اپنے غلط کاموں پہ شرمندہ ہو اور اللہ سے ڈرے.  ہم سے اگر کبھی کوئی غلط کام ہو جائے تو فوراً اللہ سے معافی مانگ لینی چاہیے، ہمیں اللہ سے حیا آنی چاہیے کہ وہ ہمیشہ ہمیں دیکھ رہا ہوتا ہے. 

    یقیناً آپ کو یہ کہانی پسند آئی ہے، اب اس حدیث کو اپنی نوٹ بک میں خوبصورتی سے لکھیں، دوستوں کو دکھائیں اور انہیں بھی اس کا مطلب سمجھائیں. آپ سب بہت اچھے بچے ہیں، مجھے یقین ہے کہ آیندہ آپ حیا دار بنیں گے تاکہ اللہ جی بھی آپ سے خوش ہوں.

    hadees

    The video of this Story’

    This Story Written In English

    The workbook is available to buy at our courses sign-up page.
    hadees

    This course is also helping Homeschooling mothers in different ways. You can get all resources from my website to teach your child 30 short hadiths at home. We have videos, written stories, worksheets, and a full teaching method. So contact us if you need to get these helpful resources.

    This course could be done online for free with the help of our free hadiths and stories.

    You can read English stories here and

    Or you can join our online classes to learn about Islam. List of courses/ Classes we have

    • Online Quran classes for beginners
    • Online Quran recitation and Memorisation classes
    • Islamic education for children
    • Seerah course
    • Ramzan boost course
    • Faith boost course
    • Rights of parents course
    • Prayer for kids course

    How was your experience visiting our site? If this course helped you? Please leave your thoughts. If you have any questions, you can ask them in the Question tab. If you want to connect with us via Email, then email here

  • Story no 15|How to offer prayer? Learn Sunnah

    Story no 15|How to offer prayer? Learn Sunnah

    Welcome to our Hadees with stories short course for kids and adults. This course has been designed for personality development.

    We have 30 short hadiths with the best stories to understand the meaning of the hadiths and to learn how we can apply the sunnah of Prophet Muhammad S.AW in our daily life.

    All hadiths and stories in English and Urdu are available on our site. You can visit the menu to search for stories with series.

    Lets start learning Today’s Hadees and Story in Urdu

    Hadees no 15

    Lesson no 16

    Topic of the Hadees Importance of Sunnah

    Story- The Qibla was changed

    ہمارےپیارے نبی کریم صل اللہ علیہ و آلہ و سلم کی نماز–Hadees

     یہ حدیث نماز اور آپ صل اللہ علیہ و آلہ و سلم کی سنت پر عمل کرنے کے بارے میں ہے. جیسا کہ ہم سب جانتے ہیں، جب ہم نماز ادا کرتے ہیں تو ہمیں آپ صل اللہ علیہ و آلہ و سلم کی سنت پر، انہی کے طریقے پر عمل کرنا ہوتا ہے.ہم آپ کے بتائے ہوئے مخصوص طریقے میں نہ کچھ اضافہ کر سکتے ہیں اور نہ اس میں کوئی کمی کرنا ممکن ہے.

    hadees
    قبلہ کی تبدیلی کی کہانی —Hadees story
    Hadees

    اس حدیث کی کہانی اس دور کی ہے جب قبلہ اول کی تبدیلی ہوئی، جب مکہ سے مدینہ کی جانب ہجرت ہوئی تو مسلمانوں کا قبلہ تبدیل کر دیا گیا.یہ آپ صل اللہ علیہ و آلہ و سلم اور ان کے ساتھیوں کے لیے ایک بڑی آزمائش تھی. لیکن سچے ایمان والوں نے آپ کی پیروی کی اور اس معاملے میں کبھی کوئی بحث مباحثہ نہیں کیا. جب مکہ میں اسلام کا ظہور ہوا ,تو کعبہ ہی مسلمانوں کا قبلہ تھا جس کی جانب منہ کر کے وہ نماز ادا کرتے.کعبہ کو حضرت ابراہیم علیہ السلام اور ان کے بیٹے نے تعمیر کیا اور یہ اللہ پاک کا  پہلا اور سب سے پرانا گھر ہے. 

    ایک مرتبہ آپ صل اللہ علیہ و آلہ کو اللہ کی طرف سے حکم ہوا کہ نماز کے لیے اپنا رخ بیت المقدس کی جانب پھیر دیا جائے، مسلمانوں نے اس حکم کی پیروی کی، اور آپ کے ساتھیوں نے کبھی اس پر اعتراض نہ کیا. مدینہ میں یہودیوں کی ایک کثیر تعداد آباد تھی. یہودی اپنے مذہبی فرائض بیت المقدس کی جانب منہ کر کے ادا کرتے تھے، بیت المقدس بھی اللہ کا گھر ہے جسے حضرت سلیمان علیہ السلام نے تعمیر کروایا تھا. 

    میرے عزیز طالب علموں !!! ایسا اس لیے تھا تاکہ یہودی یہ بات سمجھ جائیں کہ اسلام کوئی نیا اور انوکھا دین نہیں ہے، بلکہ یہ وہی دین ہے جو موسٰی علیہ السلام اور باقی انبیاء کرام علیہم السلام کا تھا. اور مسلمان تمام انبیاء اور مقدس کتابوں پہ پختہ یقین رکھتے ہیں. آپ صل اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ہر طرح سے یہودیوں کی راہنمائی کی تاکہ وہ اسلام کو سمجھ کر اسے قبول کر لیں، لیکن وہ نہ مانے. صرف چند یہودیوں نے اسلام قبول کیا،

    بلکہ اللہ کے نبی اور اسلام کے دشمن بن گئے. انہوں نے مسلمانوں کے لیے مشکلات پیدا کیں اور خفیہ سازشیں کرنے لگے.سترہ ماہ بعد، اللہ پاک نے مسلمانوں کو سمت کی تبدیلی کا حکم دیا اور اپنا رخ کعبہ کی جانب موڑنے کا کہا

    پیارے بچو!!! یہ عصر کی نماز کا وقت تھا، سب مسلمان آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی پیروی کرتے ہوئے نماز ادا کر رہے تھے، اسی دوران آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو اللہ تعالیٰ کی جانب سے وحی کے ذریعے حکم دیا گیا کہ اپنا رخ کعبہ کی جانب موڑ لیں آپ نے فوراً اپنی پشت پھیری اور رخ تبدیل کر لیا. فوراً ہی آپ کے تمام ساتھیوں نے بھی آپ کی پیروی کرتے ہوئے اپنا رخ تبدیل کر لیا. 

    آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سےکوئی سوال نہ کیا گیا، صحابہ آپ سے نہ تو بحث کیا کرتے تھے اور نہ آپ کی حکم عدولی کرتے تھے. ہمارے لیے بھی اسلام کی یہی تعلیم ہے کہ ہمیں اللہ اور اس کے رسول کے تمام احکامات پر بغیر کسی بحث اور دلیل کے عمل کرنا چاہیے. نہ کوئی شکوہ نہ شکایت، محض قرآن اور سنت کے احکامات پر عمل اور ان کی پیروی کریں. 

    hadees

    اس حدیث کو اپنی نوٹ بک میں لکھنا نہ بھولیے گا، دوسری احادیث کے ساتھ ساتھ اس کی بھی تصویر شئیر کریں تاکہ آپ کے بچوں کے احادیث کی تکمیل کی سند دی جا سکے.اللہ پاک سے دعا ہے کہ وہ اس کام کو آپ کے لیے آسان بنا دے 

    نوٹ:اس حدیث کو اپنے دوستوں اور گھر والوں کے ساتھ شئیر کریں، تاکہ زیادہ لوگ اس سے فائدہ اٹھا سکیں

    This Hadees and story in Video

    Worksheet for this Hadees and story…… You can buy this Book of 35 colouring pages. Comment to get a copy.
    hadees
    This course could be done online for free with the help of our free hadees and stories. You can read English stories here and
    . Free hadees book in pdf is available on our homepage and the workbook is available to buy at our courses sign-up page.

    Or you can join our online classes to learn about Islam. List of courses/ Classes we have

    • Online Quran classes for beginners
    • Online Quran recitation and Memorisation classes
    • Islamic education for children
    • Seerah course
    • Ramzan boost course
    • Faith boost course
    • Rights of parents course
    • Prayer for kids course

    How was your experience visiting our site? If this course helped you? Please leave your thoughts. If you have any questions, you can ask them in the Question tab. If you want to connect with us via Email, then email here

  • Story 14 Urdu| Hadith and story About Darood Ibraheem

    Story 14 Urdu| Hadith and story About Darood Ibraheem

    Welcome to Our online islamic courses. This is Hadith with stories course for Kids. You are going to Start a short course for your child. After this course, your children would have their own mini -Kitab -UL-Hadess (For a Description of this Free online course scroll down)

    Here is the “14th Hadees and story of Our hadith with stories course for kids.

    online islamic courses

    پیارے بچوں ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب بھی تم میرا نام سنو تو درود پڑھو۔  پیارے بچوں درود دراصل ایک دعا ہے جس میں ہم اپنے پیارے

    نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے دعا کرتے ہیں۔ درود ابراہیمی میں ہم کہتے ہیں کہ اے اللہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کی تمام اولاد پر اسی طرح برکت نازل فرمائے جیسا کہ تو نے ابراہیم علیہ السلام اور ان کی اولاد کو برکت دی ہے

    ۔میرے پیارے بچوں حضرت ابراہیم علیہ السلام بہت فرمانبردار اور پرہیزگار نبی تھے۔ انہیں بہت سے مسائل اور مشکلات کا سامنا کرنا پڑا لیکن انہوں نے ہمیشہ اپنی آزمائشوں کو پورا کیا۔

    online islamic courses

    اللہ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو ایسی قوم کی طرف بھیجا جو بت پرست تھی. حضرت ابراہیم علیہ السلام کے والد بھی بت پرست تھے لیکن حضرت ابراہیم علیہ السلام نے بت پرست ہونے سے انکار کر دیا اور اپنے والد اور دوسرے لوگوں کو قائل کرنے کی کوشش کی۔ ان کے تمام بتوں کو توڑ دیا، اس کی وجہ سے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے والد اور دوسرے لوگوں نے انہیں شہر سے نکال دیا،

    لیکن ابراہیم علیہ السلام اللہ کے شکر گزار بندے تھے- آپ اللہ کے حکم   کی اطاعت کرتے رہے۔ 

    جب حضرت ابراہیم علیہ السلام کی شادی ہوئی تو انہیں کئی سال بعد بیٹے سے نوازا گیا۔ وہ بہت خوش ہوئے – لیکن پھر اللہ نے انہیں حکم دیا کہ وہ اپنی بیوی اور بیٹے اسماعیل کو مکہ مکرمہ کے ویران علاقے میں چھوڑ دیں۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اللہ کے حکم کو پورا کیا اور انہیں کچھ کھانا اور پانی دے کر وہاں چھوڑ دیا۔آپکو اللہ پر یقین تھا کہ اللہ ان کی مدد کرے گا.- کچھ دیر بعد پانی ختم   ہو گیا اور بچہ اسماعیل پیاس کی وجہ سے رونےلگا، ماں کو یہاں سے وہاں پانی تلاش کرنے لگی لیکن  پانی  نہ ملا  

    پھر اللہ نے اپنی مدد بھیجی. حضرت اسماعیل علیہ السلام کی ایڑیاں زمین پر رگڑنے   سے چٹان سے پانی بہنے لگا ۔اس پانی کو آب زم زم کہا جاتا ہے۔ پانی کی سہولت کی وجہ سے لوگ وہاں رہنے شروع ہو گئے اور ویران علاقے میں ایک نیا شہر بن گیا جس کا نام مکہ مکرمہ تھا

    کچھ سال بعد جب حضرت اسماعیل علیہ السلام کی عمر 9 سے 10 سال ہو گئی تو اللہ نے خواب میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کو حکم دیا کہ وہ اپنے بیٹے کو اللہ کی راہ میں قربان کر دیں ۔

    پیارے بچوں ایک باپ کے لئے ایسا کرنا بہت مشکل تھا، لیکن حضرت ابراہیم علیہ السلام جانتے تھے کہ اللہ کبھی کسی کے ساتھ ظلم نہیں کرے گا، یہ اللہ کی طرف سے آزمائش ہو گی، چنانچہ انہوں نے اپنے بیٹے کو اللہ کے حکم کے بارے میں بتایا۔

    ان کا بیٹا بھی ایک فرمانبردار  انسان تھا۔ انہوں نے کہا کہ بابا جان ہم اسی طرح کریں  گے جس طرح   اللہ نے آپ کو حکم دیا ہے ، میں اللہ کی خواہش سے قربان ہو جاوں گا ، پھر اللہ نے ان کی مدد بھیجی حضرت اسماعیل علیہ السلام کی جگہ  اللہ  نے ایک بھیڑ بھیج   دی اور  حضرت اسماعیل علیہ السلام  کی بجائے  بھیڑ کی قربانی کی گئی…

    پیارے بچوں، یہ آزمائش بہت مشکل تھی لیکن اس  کا انعام بہت بڑا تھا۔ اللہ نے انہیں بیت اللہ یعنی اپنا گھر تعمیر کرنے کی وحی نازل کی. بوڑھا باپ (حضرت ابراہیم علیہ السلام ) اینٹیں لگاتے جاتے اور ان  کا جوان بیٹا (حضرت اسماعیل علیہ السلام) اینٹیں اور پتھر لے لے کر آتے   اور ساتھ ساتھ   دعا    کرتے

    ”. اے اللہ ہمارے اعمال قبول فرما، ہماری اولاد کو برکت دے اور اس گھر کو قیامت تک پوری دنیا کے لیے نعمت بنا دے” اللہ  نے  ان  کی  دعا  قبول  کی اور باقی سب نبی حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اولاد میں  سے  تھے –

    پیارے ببچوں آج تمام عیسائی ‘ مسلمان اور یہودی حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اولاد ہیں آج بھی مسلمان حضرت ابراہیم علیہ السلام کی سنت پر عمل پیرا ہیں اور عید الاضحی پر قربانی کرتے ہیں اور خانہ کعبہ  کا      طواف کرتے ہیں اور  یہ سعادت  انہیں قیامت تک حاصل رہے  گی ۔

    ہمیں حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر درود پڑھنا چاہیے اور حدیث نبوی پر عمل کرنا چاہیے تاکہ اللہ پاک نبی اور ان کی اولاد کو بھی برکت دے۔ ۔

     پیارے بچوں ہمیں اسلام اور سنت کی تعلیمات پر عمل کرنا چاہئے۔ پیارے بچوں آپ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود پڑھتے ہیں اور اسے اپنی کتاب الحدیث

    میں لکھیں ، اسے اچھی طرح یاد کریں اور پھر دوسروں کے ساتھ شیئر کریں تاکہ دوسرے لوگ بھی حدیث کی اہمیت سے آگاہ ہو جائیں ۔

    You can watch or read this story in English as well in Stories for children section or Search as Hadith no14 story in English.
    This story is written for our 30-short hadith with stories online Islamic course for kids. You can join this course. We offer online classes for a very reasonable fee.

    This Hadith and story in the Video

    Enrolments Available

    This is a short course of hadith and stories from My 30 short hadith with stories course. Online group classes are available online for all time zones. Recommended age for the class Hadith for kids is 7+. These classes are available in English and Urdu. If you want to enroll your child in our courses contact us via.

    Our online islamic courses

    • Online Quran classes for all ages.
    • Easy Tafseer for kids with exciting stories you can see that course in my hadith course tab.
    • Prayer for kids course is a short course to teach about taharat, Gusal, wudu, times of prayers, number and names of prayers, pillars and conditions of prayer, and method of prayer. Search as Prayer for kids course on the search bar.
    • Ramzan boost course we do start 2 weeks before Ramzan.
    • Faith boos course In December to say No To Marry Christmas.
    • Kindness to Parents
    • Seerah course

    If you want to start this course with me then leave a comment, Email me or enroll your child here.

    Download your free copy of 30 short Hadith book pdfs in Urdu/Eng here

    Work Books designed by Us You can buy here

  • Story 13 Urdu| With a beautiful hadith on Gratitude

    Story 13 Urdu| With a beautiful hadith on Gratitude

    Welcome to our Hadees with stories short course for kids and adults. This course has been designed for personality development

    Hadith no 13

    Lesoon no 14

    Hadith topic Gratfulness| Shuker guzari

    Story| A grateful boy Asad

    Hadees|حدیث کا تعارف

    Hadees

    پیارے بچوں، حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: “لوگوں کا شکر ادا کرو، تاکہ تم میں شکر کرنے کی عادت پیدا ہو. دوسروں کا شکر گزار ہونے

    سے ایک دوسرے سے محبت میں اضافہ ہوگا اور اللہ بھی راضی ہوگا

    اب یہ کہانی کا وقت ہے. ہماری آج کی کہانی ایک شکر گزار لڑکے کے بارے میں ہے۔

    Story|کہانی

     اسد اور احمد تقریبا ایک ہی وقت اسکول پہنچے۔ ان کی وینیں ایک دوسرے کے متوازی کھڑی تھیں۔ اسد اپنی وین سے باہر نکل کر زور سے بولا ‘

    hadees

    جزاک اللہ خیر چچا ۔ احمد نے حیرت سے اس کی طرف دیکھا. جب گارڈ نے ان کے لئے گیٹ کھولا تو   پھر ایسا ہی ہوا ۔ احمد توجہ کیے بغیر اسکول میں داخل ہوا جبکہ اسد نے رک کر مسکراہٹ کے ساتھ گیٹ کیپر کو دیکھا اور اس کے بعد اسے ‘شکریہ’ کہا ۔.”

    وہ کلاس روم میں داخل ہوئے. احمد چپکے سے اپنے دوست کی نرم طبیعت اور شکر گزار ی کا معترف تھا۔  وہ اپنے خیالات میں مگن تھا اتنے میں گھنٹی بجی ۔یہ دوپہر کے کھانے کا وقت تھا اور دونوں کھانا کھا رہے تھے کہ اچانک اسد کا کھانے   کا ڈبہ نیچے گر گیا۔ سب پاستا زمین پر تھا۔ خوش قسمتی سے اس نے اس کا زیادہ تر حصہ پہلے ہی کھا لیا تھا لیکن اس  سےزمین گندی ہو گئ ۔

    کلینر نے آکر جلدی سے صفائی کی۔  اسد نے اس کا شکریہ ادا کیا. وہ دوبارہ کلاس روم میں چلےگئے، ان کے استاد آئے اور اسکول کے باقی کام کیا۔  جب وہ وہاں سے گئے تو اسد نے ان کو جزاک اللہ خیر کہا ۔ اور پھر  وہ دونوں چھٹی کے بعد گھر چلے گئے۔   

    اگلے دن جب وہ دوبارہ اسکول آئےتو    اسد نے اسی طرح سب کا شکریہ ادا کیا اور ہر ایک کو جزاک اللہ خیر کہا  ۔ احمد نے دیکھا کہ کھیل کے دوران اسد ہر عمل پر دوستوں کا شکریہ ادا کرتا  ہے ۔  اس کے بعد احمد نے اسد سے پوچھا کہ آپ  ہر بات پر جزاک اللہ خیر اور شکریہ کیوں اداکرتے ہیں ؟

    اسد نے جواب دیا؛ اس کی ادائیگی ضروری ہے کیونکہ اس سے ایک دوسرےکی محبت میں اضافہ ہوتا ہے اور  اللہ بھی اس کا انعام دیتا ہے۔   کیا آپ اپنے آپ کو سوچتے ہیں اگر ہمارے اساتذہ ہماری مدد نہیں کرتے اور ہمیں سمجھاتے نہیں ہیں تو ہم علم کیسے حاصل کر سکتے ہیں؟ تو ان کو جزاک اللہ خیر کہنا ضروری ہے یا نہیں؟ 

    اسی طرح اگر صفائی کرنے والے چچا صفائی نہیں کریں گے تو اسکول کو اتنا صاف کون کرے گا جتنا ہم اسے خراب کریں گے چوکیدار، کینٹین انکل اور ڈرائیور چچا سب ہماری مدد کرتے ہیں، اس لیے ہمیں بھی ان کا شکریہ ادا کرنا چاہیے۔   اس سے وہ خوش ہوں گے۔   

    احمد نے کہا، “تم ٹھیک کہتے ہو۔ میں نے کبھی یہ نہیں سوچا.”   تم میرے ایک اچھے دوست ہو.   تم نے یہ سب کس سے سیکھا ہے؟” . اسد نے کہا کہ؛ میں نے یہ سب کچھ اپنے والد اور والدہ سے سیکھا۔  ان کا کہنا ہے کہ ہمیں ان تمام لوگوں کا شکریہ ادا کرنا چاہئے جو ہمارے لئے کام کرتے ہیں۔  

    جب ہماری امی جان ہمارے لئے کھانا بناتی ہیں تو ہم ایک دوسرے کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔ اور جب ابا جان ہماری ضروریات اورکھانے پینے کی چیزیں خریدتے ہیں تو ہم ان کا بھی شکریہ ادا کرتے ہیں۔  امی جان کہتی ہیں کہ اگر ہم ایسا کرنے کے عادی ہو گئے تو ہم اللہ کا  بھی شکر ادا کریں گے جو ہمیں کہے بغیر ہر نعمت عطا کرتا ہے. 

     احمد نے کہا، “اچھا تو پھر میں بھی آج سے ایسا ہی کروں گا.”    لیکن مجھے ایک اور بات بتائیں؟

    اسد نے کہا، “ہاں، احمد تم کیا پوچھنا چاہتے ہو؟”

    احمد نے کہا ، “آپ نے کبھی جزاک اللہ خیر کہا اور کبھی شکریہ کہتے ہیں ۔  اس کی وجہ کیا ہے؟”

    اسد نے کہا کیونکہ دونوں چچا مسلمان نہیں ہیں اس لیے میں انہیں صرف شکریہ کہتا ہوں اور مسلمانوں کا  صرف شکریہ ادا کرنا کافی نہیں ہے اس لیے میں نے جزاک اللہ خیر کہتا   ہوں جس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ آپ کو اس کااچھا بدلہ دے  ۔  یہ بھی ایک دعا ہے اور اس  کا بہت ثواب ہے. ۔  

     احمد نے کہا، “تم نے مجھے بہت اچھی طرح بتایا ہے۔ مجھے تم پر فخر ہے.”  پھر دونوں گھر روانہ ہو گئے. ۔

     پیارے ببچوں آج کے بعد سے آپ کو اللہ کے ساتھ ساتھ لوگوں کا بھی شکر ادا کرنے کی یہ عادت اپنانا ہوگی۔ اس کہانی کو دوسروں کے ساتھ شیئر کریں تا کہ انہیں اچھی چیزیں سیکھنے اور انعام حاصل کرنے میں مدد مل سکے۔  اس حدیث کو آپ سب کو آگے بڑھانا ہوگا. ہم ان شاء اللہ ایک اور پیاری حدیث اور کہانی کے ساتھ ملیں گے۔

    This story in English

    This Hadith and story in Video

    You can read more English stories here

    You can read more Urdu stories here

    Worksheet

    Hadees

    This course is also helping Homeschooling mothers in different ways. You can get all resources from my website to teach your child 30 short hadiths at home. We have videos, written stories, worksheets, and a full teaching method. So contact us if you need to get these helpful resources.

    This course could be done online for free with the help of our free hadiths and stories.

    Or you can join our online classes to learn about Islam. List of courses/ Classes we have

    Online courses and classes we have

    • Online Quran classes for beginners
    • Online Quran recitation and Memorisation classes
    • Islamic education for children
    • Seerah course
    • Ramzan boost course
    • Faith boost course
    • Rights of parents course
    • Prayer for kids course

    How was your experience visiting our site? If this course helped you? Please leave your thoughts. If you have any questions, you can ask them in the Question tab. If you want to connect with us via Email, then email here

  • Story 10 Urdu| What is real beauty? Beautiful hadith.

    Story 10 Urdu| What is real beauty? Beautiful hadith.

    Welcome to our Hadees with stories short course for kids and adults. This course has been designed for personality development

    Hadees no 10

    Lesson no 11

    Topic of hadithBeauty

    Story. A Princess

    Hadees- حدیث

    hadees

     
    یہ حدیث اللہ کی صفت سکھانے کے ساتھ ساتھ بچوں کو صاف ستھرا رہنا سیکھاتی -اس کے ساتھ ساتھ بچوں  کو ماحول کو صاف رکھنا اور خوبصورتی کا احساس رکھنا پیدا کرے گی -آج لوگ کپڑے بدلنا ور بل بنانا تک دنیاوی کام سمجھتے ہیں.جب کہ اگر اگر ہم سنت کی نیت سے اور الله کو خوش کرنے کی نیت سے سب کچھ کریں گے تو اس پر اجر بھی ملی گا. لہذا آج کی حدیث اور کہانی بچوں کے لیے بہت اہم ہے

    ہمارے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اس حدیث میں فرمایا ہے کہ اللہ خوبصورت ہے اور وہ خوبصورتی کو پسند کرتا ہے۔ یہ حدیث صحیح مسلم 91سے لی گئی ہے.اس حدیث کا موضوع حسن ہے اور کہانی کا نام خوبصورت شہزادی ہے.پیارے بچوں پیارے بچوں یہ حدیث اللہ کے اوصاف میں سے ایک صفت کے  بارے میں ہے.

    اگر ہم فطرت میں دیکھیں تو ہمیں خوبصورت پھول، تتلیاں اور بہت سے کیڑے نظر آئیں گے، آسمان پر ستارے اور چاند، سمندر، پھل، رنگ اور اس دنیا کی ہر چیز بہت خوبصورت ہے۔ بچے اور ہم بھی اللہ کی بہترین اور معصوم مخلوق ہیں۔ اب یہ ہمارا فرض ہے کہ ہم بہت صاف ستھرے رہیں اور اپنے ارد گرد کی چیزوں کو صاف ستھرا رکھیں کیونکہ ہمارے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم بھی ایک صاف ستھرے اور خوش لباس شخص تھے۔ پس سنت پر عمل کرنے سے ہم خوش ہوں گے اور ہمیں اللہ کا شکر ادا کرنے کا بدلہ بھی ملے گا۔

    Story-A Prinsess/ ایک شہزادی

    hadees

    ایک بار ایک شہزادی تھی جو بہت خوبصورت تھی۔ اس کے والدین نے اس کا بہترین خیال رکھا۔ لیکن وہ بہت سست تھی۔ وہ ہمیشہ گندے کپڑوں میں رہتی ہے، وہ اکثر بالوں کی پرواہ نہیں کرتی اور انہیں بغیر کنگھی کے چھوڑ جاتی تھی۔ اس کے دانت پیلے تھے کیونکہ وہ کئی دنوں تک انہیں برش نہیں کرتی تھی۔ اس کے پاس بہت سے نوکراورنوکرانیاں تھیں جو اپنی خدمات پیش کرنے کے لئے تیار رہتے تھے ۔

    وہ ان سے اپنے کمرے، اپنے کپڑے اور الماریاں صاف کرنے کا کہنے کی بجائے ہر وقت اپنی نوکرانیوں کے ساتھ کھیلتی. تو اس کا کمرہ بھی گندا ہو جاتاتھا۔ اس کی والدہ ملکہ نے بھی دیگر سرگرمیوں پر زیادہ وقت صرف کیا۔ لہذا اس کی رہنمائی کرنے والا کوئی نہیں تھا۔

    ایک بار وہ اپنے سب گھر والوں کے ساتھ سیر پر نکلےانہوں نے ایک دریا کے خوبصورت کنارے کے قریب خیمہ لگایا۔ وہ لطف اندوز ہو رہے تھے. نوکر کھانا پکا رہے تھے اور کھانا پیش کر رہے تھے۔  کھانے کے بعد سب ادھر ادھر گھومنے شروع ہو گئے، ہر کوئی اپنی پسندیدہ سرگرمیوں میں مصروف تھا. بادشاہ نے پولو کھیلنا شروع کیا۔

    شہزادی بھی اپنی عمر کی نوکرانیوں کے ساتھ چہل قدمی کے لئے چلی گئ۔ وہ دریا کے کنارے دوڑنے لگی۔ انہوں نے ایک دوسرے پر پانی برسایا۔ اس نے اپنے جوتے اتار دیئے۔ ان کے کپڑے گیلے تھے. پھر وہ اپنی نوکرانیوں کے ساتھ چھپ کر کھیلنے اور تلاش کرنے کا کھیل کھیلنا  شروع کیا ۔ وہ اپنے خیموں سے بہت دور چلی گئی اور کھو گئی۔ وہ اپنے خیموں کو تلاش کرنے کے لئے ادھر ادھر بھٹکتی رہی لیکن کوئی فائدہ نہیں ہوا ۔

    اب وہ پریشان تھی. وہ ادھر ادھر بھاگ رہی تھی. ۔ اس کے کپڑے اب گندے تھے ۔ لیکن اسے اس سے کوئی مسئلہ نہیں تھا . وہ بھوکی بھی تھی. آخر کار وہ ایک گاؤں میں پہنچ گئی۔ اس نے گاؤں کے باہر ایک جھونپڑی دیکھی۔ وہ وہاں گئی. اسے وہاں ایک بوڑھا اور ایک بوڑھی عورت ملے۔ اس نے انہیں بتایا کہ وہ کھو گئی ہے۔

    اس نے انہیں یہ بھی بتایا کہ میں ایک شہزادی ہوں۔ میرے والدین مجھے تلاش کر رہے ہوں گے لیکن رات ہے۔ میں پناہ اور میں  کچھ کھانا چاہتی ہوں۔ براہ مہربانی مجھے آپ اپنے ساتھ رہنے کی اجازت دیں. بوڑھے جوڑے نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا۔ وہ اس کی گندی شکل اور گندے کپڑوں  کی وجہ سے یقین نہیں کرسکتے تھے ۔

    اس کے ناخن لمبے اور گندے تھے۔ ان دونوں کا خیال تھا کہ وہ ضرور جھوٹ بول رہی ہے۔ اور وہ انہیں نقصان پہنچا سکتی ہے۔ لیکن وہ اسے نہیں کہنا چاہتے تھے ۔ کیونکہ اگر وہ شہزادی ہو گی جیسا کہ وہ کہہ رہی ہے تو اس کا باپ بادشاہ اپنی بیٹی کی مدد نہ کرنے پر انہیں نقصان پہنچا سکتا ہے۔ وہ بڑے پریشان تھے۔

    آخر کار، انہوں نے اسے اپنے ساتھ رکھنے کا فیصلہ کیا۔ وہ اس کا فیصلہ کر رہے تھے اور کسی بھی صورتحال کے لئے چوکس تھے۔ وہ خوشی سےکھانا نہیں کھاتی تھی کیونکہ کھانا اس کے شاہی انداز کی طرح نہیں تھا۔ پھر وہ سو گئی. لیکن وہ سو نہیں سکتی تھی. کیونکہ بستر بہت مشکل تھا. وہ اپنے نرم اور آرام دہ بستر سے محروم تھی۔

    بوڑھے لوگ اس کی بے چینی کا مشاہدہ کر رہے تھے۔ اب انہیں یقین ہو گیا کہ وہ واقعی شہزادی ہے۔ تو صبح کے وقت انہوں نے اس سے پوچھا کہ تمہاری رات کیسی گزری۔ اس نے کہا کہ میں رات بھر سو نہیں سکی۔ آپ کے بستر بہت مشکل ہیں. انہوں نے مسکرا کر کہا، اوو غریب لڑکی تم ایک شہزادی ہو۔ ہم جانتے ہیں کہ ہمارا گھر اور سہولیات آپ کی حیثیت کے مطابق نہیں ۔ اب آپ کی مدد کرنے کا وقت ہے.

    آپ کا خاندان جلد ہی یہاں ہوگا، کیونکہ ہم نے پہلے ہی گاؤں سے کچھ لڑکوں کو آپ کے خیموں کی جگہ تلاش کرنے کے لئے بھیجا تھا. لیکن ہم کچھ کہنا چاہتے ہیں.

    اوہ تم کتنے مہربان ہو؟ میں واقعی آپ کی بہت شکر گزار ہوں. ہاں براہ مہربانی آپ کیا کہنا چاہتے ہیں. بوڑھی عورت نے کہا، ”چھوٹی، خوبصورت لڑکی، تم بہت اچھی اور خوبصورت ہو. اللہ نے تمہیں کامل کر دیا. میں یہ ضرور کہوں گی کہ آپ اپنا خیال رکھیں۔ آپ کو ہمیشہ اپنے آپ کو صاف ستھرا رکھنا چاہئے۔ یہ سنت ہے اور ہمارا نصف ا یمان ہے۔

    اللہ تعالیٰ خوبصورت ہے اور وہ خوبصورتی اور صفائی کو پسند کرتا ہے۔ تم ایک شہزادی ہو. آپ کی مدد کے لیے آپ کے پاس بہت سے نوکر اور نوکرانیاں  ہیں ۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ آپ اس طرح اتنےگندے  حال میں رہتے ہیں۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ ہم نے یقین نہیں کیا کہ آپ شہزادی ہیں۔ لڑکی خود پر افسوس کر رہی تھی۔

    اس نے دیکھا کہ بوڑھی عورت غریب ہے لیکن اس کا لباس اتنا صاف تھا، اس کے بال سفید تھے اور اچھی طرح بنائے گئے تھے۔ اس کے گھر کی دیکھ بھال بھی کی گئی تھی۔ اس نے وعدہ کیا کہ وہ ان کے مشورے کو ہمیشہ یاد رکھے گی۔ اسی دوران کچھ گھڑ سوار اپنی گھوڑا گاڑی لے کر وہاں آئے اور وہ اس پر سوار ہو گئی۔ اس نے ہاتھ ہلایا اور بہت اچھا سبق لے کر جھونپڑی سے نکل گئی۔

    پیارے بچوں، آپ سب بھی بہت خوبصورت اور کامل انسان ہیں. لہذا ہمیشہ صاف ستھرے اور اچھی طرح سے انتظام کرنے کی کوشش کریں۔ تاکہ اللہ آپ سے محبت کرے اور آپ کو اس کی سنت پر عمل کرنے کا اجر دے

    This story in English
    Search as Hadith no 10 story in English.

    This Hadith and story in Video

    https://www.youtube.com/watch?v=nJ9CEvtpHgY&t=9s

    Worksheet design for this Hadith and story

    hadees

    Online classes and courses we have