Tag: Urdu hadees

  • Story 16 Urdu| With Beautiful hadees about Fighting

    Story 16 Urdu| With Beautiful hadees about Fighting

    Welcome to our Hadees with stories short course for kids and adults in Urdu. This course has been designed for personality development.

    We have 30 short hadees with the best stories to understand the meaning of the hadees and to learn how we can apply the sunnah of Prophet Muhammad S.AW in our daily life.

    All hadiths and stories in English and Urdu are available on our site. You can visit the menu to search for stories with series.

    Hadees no 16

    lesson no 17

    Topic of Hadees fighting in Urdu

    Story of Bilal and Abu Zar in Urdu

    السلام علیکم پیارے پیارے بچو !!!کیسے ہیں آپ سب ٹھیک ہیں خیریت سے ہیں مزے سے ہیں اپنی احادیث اچھے طریقے سے یاد کر رہے ہیں الحمدللہ میں امید کرتی ہوں کہ آپ بہت اچھے طریقے سے یاد کر رہے ہونگے تو چلیے آج ہم ایک اور حدیث پاک پڑھیں اور اس کو اپنی روز مرہ زندگی کا ایک حصہ بنائیں 

    -آج کی حدیث کا ترجمہ دوسروں کو گالی دینا ، برے نام سے پکارنا اور دوسرے مسلمان بھائیوں کے ساتھ لڑنا  ، اسلام میں ،بہت بڑا گناہ اور کفر ہے۔ حدیث

    hadees
    آج ہم محمد صلی اللہ علیہ و سلم کی سیرت سے دو کہانیاں سنیں گے۔

    پہلی کہانی دوسروں کو ڈانٹنے اور بُرے ناموں سے پکارنے کے بارے میں ہے

    hadees

     کہانی 1_ابوزر اور بلال رضی اللہ عنھما کاجھگڑا

    ایک زمانے میں ، ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دو ساتھی ابوذر اور حضرت بلال کا آپس میں جھگڑا ہوا تھا۔ دونوں بحث کر رہے تھے جب ابوذر نے بلال رضی اللہ عنہ کو ‘سیاہ فام عورت کے بیٹے’  ناراضگی سے کہا۔ حضرت بلال ان سے ان الفاظ کی توقع نہیں کر رہے تھے۔

    یہ الفاظ بہت تکلیف دہ تھے۔ وہ ایک بہت ہی پیارے شخص اور اسلام کے پہلے موذن تھے ۔ تو یہ الفاظ انکے رونے کے لئے کافی ہیں۔ لیکن انھوں نے پلٹ کر نہیں ڈانٹا اور نہ ہی کوئی بری بات کہی۔ حضرت بلال نے اس کی شکایت حضرت محمد  سے کی۔ ہمارے پیارے نبی  غصے میں آگئے اور ابوذر سے کہا- کیا آپ ابھی بھی جہالت کے آدمی ہیں؟

     پیارے بچو ،اس دور میں آپس میں لڑائی جھگڑے اور گالم گلوچ ایک معمول کی بات تھی۔ لیکن ہمارے مذہب نے ہمیں ایسا کرنے کی اجازت نہیں دی۔ ہمارے مذہب نے ہر انسان کا درجہ بلند کیا اور ہمیں سکھایا کہ سب برابر ہیں۔ جب اس  غلطی کا احساس ہواتو

    ابوذر روئےاور بلال رضی اللہ عنہ سے ملنے گئے ۔ وہ بلال رضی اللہ عنہ کے سامنے لیٹ گئے اور قسم کھا لی کہ جب تک بلال میرے چہرے پر پیر نہیں ڈالے گا وہ زمین سے اپنا سر نہیں اٹھائیں گے ۔ لیکن دوسری طرف بلال ایسا کرنے کو تیار نہیں تھے ۔

    ان کا بدلہ لینے کا کوئی ارادہ نہیں تھا۔ لیکن ابوذر  نے اصرار کیا۔ لہذا اپنی قسم پوری کرنے کے لئے بلال نے ایسا ہی کیا اور پھر ان دونوں نے ایک دوسرے کو گلے لگا لیا۔ 

    پیارے بچو  یہ ابوذر کا سوری کہنے کا انداز تھا۔ وہ اللہ سے ڈرتے تھے اور اللہ کو خوش کرنے کا سوچا ۔ یہ کہانی ہمیں بتاتی ہے کہ معذرت کہنا شرمناک عمل نہیں ہے۔ اس کی بجائے یہ ہماری غلطی کو مٹائے گا اور اللہ کی بارگاہ میں ہماری حیثیت بلند کرے گا۔

    کہانی 2_یہودیوں کی مسلمانوں کو آپس میں لڑانے کی سازش،

    اس کہانی میں ، ایک یہودی جو درحقیقت منافق تھا  اس نے کچھ مسلمانوں کو کھانے کے لئے مدعو کیا۔ اس ڈنر پارٹی کے دوران ، انہوں نے مسلمانوں کو ایک دوسرے سے لڑانے کرنے کی کوشش کی۔ انہوں نے ان کے پرانے لڑائی جھگڑے اور اس کے بارے میں بات کی جس سے وہ ان کے عداوت کا دور یاد رکھیں گے۔ آخر کار وہ اپنے مشن میں کامیاب ہوگیا۔ دونوں مسلم گروہ پھنس گئے تھے

    لہذا زخموں کو دوبارہ کھولا گیا ، یادیں تازہ ہوگئیں اور مسلح افراد کی طرف متوجہ ہونا شروع ہوا۔ وہ ایک جگہ کا انتخاب کرتے ہیں اور وہ دوبارہ لڑتے ہیں۔ جب نبی کو یہ معلوم ہوا تو آپ صل اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا اے لوگو! آپ جاہل تھے۔ اللہ نے آپ کی رہنمائی کی تھی اور آپ کی عزت کی تھی اور آپ کو جہنم کی آگ سے بچایا تھا اور آپ کو دوبارہ ملایا تھا۔ جب آپ یہاں ہوں تو آپ لڑیں گے؟

    انہیں احساس ہوا کہ وہ پھنسے ہوئے ہیں۔ دونوں اطراف کے لوگوں نے فریاد کی اور معافی کی درخواست کی۔ معافی مانگ لی گئی اور وہ دوبارہ مل گئے۔ اس یہودی کا ڈرامہ ناکام ہوگیا۔

    پیارے بچو آپ دیکھ سکتے ہیں کہ کس طرح کچھ لوگ اور شیطان ہمیشہ ہمیں گمراہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور ہم اپنے بہن بھائیوں اور دوستوں سے بھی لڑنا شروع کردیتے ہیں۔ لیکن ہمیں ہمیشہ یاد رکھنا چاہئے ، ماضی کی یادیں اور برے تجربات ہمارے درمیان کبھی بھی تنازعہ یا لڑائی کا سبب نہیں بنیں۔

    خوشی سے زندہ رہو اور سب کو عزت دو۔ کوئی لڑائی ، کوئی دلیل اور کوئی دھونس نہیں۔ یہاں تک کہ اس کو کوئی جواب نہیں جو آپ کو دھونس مارنے کی کوشش کرتا ہے۔

      آخر میں حدیث کی کتاب میں حدیث لکھنا نہ بھولیں۔ اور اس حدیث کے لئے آپ نے جو حدیث اور دوسری سرگرمیاں کی ہیں ان کی تصویر شیئر کریں۔ . اللہ آپ کے لئے آسانیاں پیدا کرے نوٹ: -اس حدیث کو اپنے گھر والوں اور دوستوں کے ساتھ پھیلائیں تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ اس سے مستفید ہوں۔

    This Hadith and story in Video

    Hadith Worksheet book buy here
    hadees

    This course is also helping Homeschooling mothers in different ways. You can get all resources from my website to teach your child 30 short hadiths at home. We have videos, written stories, worksheets, and a full teaching method. So contact us if you need to get these helpful resources.

    This course could be done online for free with the help of our free hadiths and stories. You can read English stories here and
    . Free hadith book in pdf is available on our homepage and the workbook is available to buy at our courses sign-up page.
    Or you can join our online classes to learn about Islam. List of courses/ Classes we have
    • Online Quran classes for beginners
    • Online Quran recitation and Memorisation classes
    • Islamic education for children
    • Seerah course
    • Ramzan boost course
    • Faith boost course
    • Rights of parents course
    • Prayer for kids course

    How was your experience visiting our site? If this course helped you? Please leave your thoughts. If you have any questions, you can ask them in the Question tab. If you want to connect with us via Email, then email here

  • Story 6 Urdu|How to be a modest Muslim? Learn hadith

    Story 6 Urdu|How to be a modest Muslim? Learn hadith

    Welcome to our Hadees with stories short course for kids and adults. This course has been designed for personality development

    Hadith no 16

    Lesson no 17

    Topic of the hadith Modesty-حیا

    Sahih AL-Bukhari 2564 /Muslim 35

    Story of a robber

    hadees

    ہمارے پیارے نبی کریم صل اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا 

    “حیا ایمان کا حصہ ہے” 

    تو پیارے بچو!  ہمارے آج کی حدیث کا عنوان ہے “حیا” اور آج ہم آپ کو جو کہانی سنانے جا رہے ہیں اس کا عنوان ہے “بچے کی سچائی ” حیا کا موضوع سمجھنا تھوڑا سا مشکل ضرور ہے لیکن کہانی بہت آسان اور دلچسپ ہے. 

    پیارے بچو!!! حیا سے ہم  انکساری، شرم اور عزت نفس مراد لیتے ہیں. اس کے مفہوم میں بڑوں کا کہنا ماننا بھی شامل ہے، دوسروں کے سامنے اپنا جسم ڈھانپنا اور غیر اخلاقی گفتگو سے بچنا بھی. بعض اوقات بچے جھوٹ بولتے ہیں، کسی دوسرے کی چیز پسند آئے تو چُرا لیتے ہیں یا ان سے لڑائی جھگڑا کرنے لگتے ہیں اور پھر معذرت کرنے اور شرمندہ ہونے کی بجائے دوسروں کو مزید تکلیف پہنچاتے ہیں. 

    تو میرے عزیز بچو! یہ ایک انتہائی بری عادت ہے، جو کہ ہماری حیا کی فطرت کو متاثر کرتی ہے اور ہمارے اخلاق کو خراب کرتی ہے. حیادار بننے کے لیے ضروری ہے کہ اگر ہم کچھ برا سوچیں تو اس پہ شرمندہ ہوں اور اگر کسی کے ساتھ برا کریں تو اس سے معذرت کریں. حیا کے تصور کو بہترطور پر سمجھنے کے لیے ایک کہانی سُنیے

    hadees
    ڈاکو کی حیا _The story of a robber

    یہ ایک بچے اور کچھ ڈاکوؤں کی کہانی ہے.کیا آپ جانتے ہیں ڈاکو کون ہوتا ہے؟ جو دوسروں کے پیسے اور چیزیں زبردستی چھین لے، اسے ہم ڈاکو کہتے ہیں. بہت عرصہ پہلے کی بات ہے کسی جگہ پہ ایک بچہ رہا کرتا تھا جو ابتدائی اسلامی تعلیم حاصل کر رہا تھا

    اپنی تعلیم جاری رکھنے کے لیے اسے ایک دوسرے شہر بغداد جانا پڑا. پرانے زمانے میں چونکہ سفر کے جدید ذرائع موجود نہ تھے تو لوگ گھوڑوں اور اونٹوں پر سفر کیا کرتے. راستے میں چوروں کے ڈر سے وہ اکٹھے ہو کر گروہوں اور قافلوں کی صورت میں سفر کرتے

    بچے کی ماں نے بھی اسے ایک قافلے کے ہمراہ بغداد روانہ کر دیا، سفر پہ جانے سے پہلے ماں نے بچے کی قمیض میں چھپا کر کچھ پیسے سلائی کر دیے. اور بچے کو نصیحت کی کہ میرے پیارے بیٹے، جھوٹ کبھی مت بولنا، ہمیشہ سچ بولنا اور خوب دل لگا کر پڑھائی کرنا. 

    سفر بہت لمبا تھا، قافلے کو روانہ ہوئے کئی دن گزر چکے تھے، جنگل کے قریب سے گزرتے ہوئے قافلے نے پڑاؤ ڈالا اور رات اسی جگہ پہ گزارنے کا فیصلہ کیا گیا، جب سارا قافلہ سو رہا تھا تو ڈاکوؤں کے ایک گروہ نے ان پہ حملہ کر دیا، وہ ہر مسافر کے پاس گئے اور اس کے پاس موجود چیزیں اپنے قبضے میں لینے لگے

    ایک ڈاکو بچے کے پاس پہنچا اور اس سے پوچھا کہ تمہارے پاس کیا ہے؟ 

    بچے نے جواب دیا، “چالیس روپے”اس زمانے میں چالیس روپے ایک بہت بڑی رقم ہوا کرتے تھے، چور بچے کی بات سن کر ہنسنے لگا کہ کیا تم میرے ساتھ مذاق کر رہے ہو، اسے محسوس ہوا کہ ایک چھوٹے بچے کے پاس اتنی بڑی رقم موجود نہیں ہو سکتی. اس نے بچے کی تلاشی لی لیکن اسے پیسے نہ ملے. ڈاکو سمجھا کہ بچے نے اس کے ساتھ جھوٹ بولا ہے وہ غصے سے بچے کو پکڑ کر اپنے سردار کے پاس لے گیا اور سردار کو بچے کی ساری بات بتائی. 

    ڈا کوؤں کے سردار نے بچے کو دھمکی دی کہ اگر وہ جھوٹ بول رہا ہے تو اسے سخت سزا دی جائے گی، بچہ کہنے لگا کہ میں نے جھوٹ ہر گز نہیں بولا،میرے پاس واقعی چالیس روپے موجود ہیں. اب سردار نے بچے سے کہا کہ وہ پیسے دکھائے

    بچے نے بتایا کہ اس کی قمیض کے اندر چالیس روپے سِلے ہوئے ہیں، ایک چور نے بچے کی قمیض پھاڑ کر دیکھا، وہاں واقعی چالیس روپے موجود تھے. وہ سب یہ ماجرا دیکھ کر حیران رہ گئے، سردار نے بچے سے پوچھا کہ اے پیارے بچے، تم نے ہمیں سچ کیوں بتایا، اگر تم جھوٹ بولتے تو تمہاری رقم محفوظ رہتی. بچے نے جوب دیا کہ میری ماں نے مجھے نصیحت کی تھی کہ ہمیشہ سچ بولنا، چاہے جو بھی ہو جائے جھوٹ کبھی نہ بولنا. 

    سردار بچے کہ بات سن کر حیران رہ گیا، وہ کہنے لگا کہ اب تمہاری امی تمہارے ساتھ نہیں تھیں، انہیں کیسے پتہ چلتا کہ تم نے جھوٹ بولا ہے، تم اگر چاہتے تو اپنے پیسے بچا بھی سکتے تھے لیکن پیارے بچو، اس چھوٹے بچے نے سردار کو جو جواب دیا، آپ زرا وہ سنیں، وہ کہنے لگااگرچہ میری امی مجھے نہیں دیکھ رہیں لیکن میرا اللہ تو ہر وقت مجھے دیکھ رہا ہے ناں! اور اگر میں جھوٹ بولتا تو اللہ جی مجھ سے بالکل بھی خوش نہ ہوتے. 

    بچے کا جواب سن کر سردار رونے لگا اور روتے روتے بے ہوش ہو گیا. جب وہ ہوش میں آیا تو اپنی حرکتوں پہ شرمندہ ہونے لگا، اس نے سوچا کہ یہ چھوٹا بچہ اتنا سمجھدار ہے کہ اس نے اپنی ماں کی غیر موجودگی میں بھی جھوٹ نہیں بولا کیونکہ اسے اللہ کی حیا اور خوف تھا. لیکن وہ اتنا بڑا ہو کر بھی اللہ سے حیا نہیں کرتا اور غلط کام کرتا ہے.

    وہ بہت شرمندہ ہوا اور دیر تک روتا رہا، اسے خود پہ شرمندگی ہونے لگی، اس نے اپنی گناہوں سے توبہ کی اور قافلے والوں کا لُوٹا ہوا سارا مال واپس کر دیا، بچے کی سچائی نے اسے ایک اچھا انسان بنا دیا،

    کیا آپ جانتے ہیں کہ وہ بچہ کون تھا؟ عبد القادر جیلانی۔ جو بعد میں علم اور نیکی کی وجہ سے بہت مشہور ہوئے۔ تو پیارے بچو، یہ ہوتی ہے حیا. جب کوئی اپنے غلط کاموں پہ شرمندہ ہو اور اللہ سے ڈرے.  ہم سے اگر کبھی کوئی غلط کام ہو جائے تو فوراً اللہ سے معافی مانگ لینی چاہیے، ہمیں اللہ سے حیا آنی چاہیے کہ وہ ہمیشہ ہمیں دیکھ رہا ہوتا ہے. 

    یقیناً آپ کو یہ کہانی پسند آئی ہے، اب اس حدیث کو اپنی نوٹ بک میں خوبصورتی سے لکھیں، دوستوں کو دکھائیں اور انہیں بھی اس کا مطلب سمجھائیں. آپ سب بہت اچھے بچے ہیں، مجھے یقین ہے کہ آیندہ آپ حیا دار بنیں گے تاکہ اللہ جی بھی آپ سے خوش ہوں.

    hadees

    The video of this Story’

    This Story Written In English

    The workbook is available to buy at our courses sign-up page.
    hadees

    This course is also helping Homeschooling mothers in different ways. You can get all resources from my website to teach your child 30 short hadiths at home. We have videos, written stories, worksheets, and a full teaching method. So contact us if you need to get these helpful resources.

    This course could be done online for free with the help of our free hadiths and stories.

    You can read English stories here and

    Or you can join our online classes to learn about Islam. List of courses/ Classes we have

    • Online Quran classes for beginners
    • Online Quran recitation and Memorisation classes
    • Islamic education for children
    • Seerah course
    • Ramzan boost course
    • Faith boost course
    • Rights of parents course
    • Prayer for kids course

    How was your experience visiting our site? If this course helped you? Please leave your thoughts. If you have any questions, you can ask them in the Question tab. If you want to connect with us via Email, then email here

  • Story no 15|How to offer prayer? Learn Sunnah

    Story no 15|How to offer prayer? Learn Sunnah

    Welcome to our Hadees with stories short course for kids and adults. This course has been designed for personality development.

    We have 30 short hadiths with the best stories to understand the meaning of the hadiths and to learn how we can apply the sunnah of Prophet Muhammad S.AW in our daily life.

    All hadiths and stories in English and Urdu are available on our site. You can visit the menu to search for stories with series.

    Lets start learning Today’s Hadees and Story in Urdu

    Hadees no 15

    Lesson no 16

    Topic of the Hadees Importance of Sunnah

    Story- The Qibla was changed

    ہمارےپیارے نبی کریم صل اللہ علیہ و آلہ و سلم کی نماز–Hadees

     یہ حدیث نماز اور آپ صل اللہ علیہ و آلہ و سلم کی سنت پر عمل کرنے کے بارے میں ہے. جیسا کہ ہم سب جانتے ہیں، جب ہم نماز ادا کرتے ہیں تو ہمیں آپ صل اللہ علیہ و آلہ و سلم کی سنت پر، انہی کے طریقے پر عمل کرنا ہوتا ہے.ہم آپ کے بتائے ہوئے مخصوص طریقے میں نہ کچھ اضافہ کر سکتے ہیں اور نہ اس میں کوئی کمی کرنا ممکن ہے.

    hadees
    قبلہ کی تبدیلی کی کہانی —Hadees story
    Hadees

    اس حدیث کی کہانی اس دور کی ہے جب قبلہ اول کی تبدیلی ہوئی، جب مکہ سے مدینہ کی جانب ہجرت ہوئی تو مسلمانوں کا قبلہ تبدیل کر دیا گیا.یہ آپ صل اللہ علیہ و آلہ و سلم اور ان کے ساتھیوں کے لیے ایک بڑی آزمائش تھی. لیکن سچے ایمان والوں نے آپ کی پیروی کی اور اس معاملے میں کبھی کوئی بحث مباحثہ نہیں کیا. جب مکہ میں اسلام کا ظہور ہوا ,تو کعبہ ہی مسلمانوں کا قبلہ تھا جس کی جانب منہ کر کے وہ نماز ادا کرتے.کعبہ کو حضرت ابراہیم علیہ السلام اور ان کے بیٹے نے تعمیر کیا اور یہ اللہ پاک کا  پہلا اور سب سے پرانا گھر ہے. 

    ایک مرتبہ آپ صل اللہ علیہ و آلہ کو اللہ کی طرف سے حکم ہوا کہ نماز کے لیے اپنا رخ بیت المقدس کی جانب پھیر دیا جائے، مسلمانوں نے اس حکم کی پیروی کی، اور آپ کے ساتھیوں نے کبھی اس پر اعتراض نہ کیا. مدینہ میں یہودیوں کی ایک کثیر تعداد آباد تھی. یہودی اپنے مذہبی فرائض بیت المقدس کی جانب منہ کر کے ادا کرتے تھے، بیت المقدس بھی اللہ کا گھر ہے جسے حضرت سلیمان علیہ السلام نے تعمیر کروایا تھا. 

    میرے عزیز طالب علموں !!! ایسا اس لیے تھا تاکہ یہودی یہ بات سمجھ جائیں کہ اسلام کوئی نیا اور انوکھا دین نہیں ہے، بلکہ یہ وہی دین ہے جو موسٰی علیہ السلام اور باقی انبیاء کرام علیہم السلام کا تھا. اور مسلمان تمام انبیاء اور مقدس کتابوں پہ پختہ یقین رکھتے ہیں. آپ صل اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ہر طرح سے یہودیوں کی راہنمائی کی تاکہ وہ اسلام کو سمجھ کر اسے قبول کر لیں، لیکن وہ نہ مانے. صرف چند یہودیوں نے اسلام قبول کیا،

    بلکہ اللہ کے نبی اور اسلام کے دشمن بن گئے. انہوں نے مسلمانوں کے لیے مشکلات پیدا کیں اور خفیہ سازشیں کرنے لگے.سترہ ماہ بعد، اللہ پاک نے مسلمانوں کو سمت کی تبدیلی کا حکم دیا اور اپنا رخ کعبہ کی جانب موڑنے کا کہا

    پیارے بچو!!! یہ عصر کی نماز کا وقت تھا، سب مسلمان آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی پیروی کرتے ہوئے نماز ادا کر رہے تھے، اسی دوران آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو اللہ تعالیٰ کی جانب سے وحی کے ذریعے حکم دیا گیا کہ اپنا رخ کعبہ کی جانب موڑ لیں آپ نے فوراً اپنی پشت پھیری اور رخ تبدیل کر لیا. فوراً ہی آپ کے تمام ساتھیوں نے بھی آپ کی پیروی کرتے ہوئے اپنا رخ تبدیل کر لیا. 

    آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سےکوئی سوال نہ کیا گیا، صحابہ آپ سے نہ تو بحث کیا کرتے تھے اور نہ آپ کی حکم عدولی کرتے تھے. ہمارے لیے بھی اسلام کی یہی تعلیم ہے کہ ہمیں اللہ اور اس کے رسول کے تمام احکامات پر بغیر کسی بحث اور دلیل کے عمل کرنا چاہیے. نہ کوئی شکوہ نہ شکایت، محض قرآن اور سنت کے احکامات پر عمل اور ان کی پیروی کریں. 

    hadees

    اس حدیث کو اپنی نوٹ بک میں لکھنا نہ بھولیے گا، دوسری احادیث کے ساتھ ساتھ اس کی بھی تصویر شئیر کریں تاکہ آپ کے بچوں کے احادیث کی تکمیل کی سند دی جا سکے.اللہ پاک سے دعا ہے کہ وہ اس کام کو آپ کے لیے آسان بنا دے 

    نوٹ:اس حدیث کو اپنے دوستوں اور گھر والوں کے ساتھ شئیر کریں، تاکہ زیادہ لوگ اس سے فائدہ اٹھا سکیں

    This Hadees and story in Video

    Worksheet for this Hadees and story…… You can buy this Book of 35 colouring pages. Comment to get a copy.
    hadees
    This course could be done online for free with the help of our free hadees and stories. You can read English stories here and
    . Free hadees book in pdf is available on our homepage and the workbook is available to buy at our courses sign-up page.

    Or you can join our online classes to learn about Islam. List of courses/ Classes we have

    • Online Quran classes for beginners
    • Online Quran recitation and Memorisation classes
    • Islamic education for children
    • Seerah course
    • Ramzan boost course
    • Faith boost course
    • Rights of parents course
    • Prayer for kids course

    How was your experience visiting our site? If this course helped you? Please leave your thoughts. If you have any questions, you can ask them in the Question tab. If you want to connect with us via Email, then email here

  • Story 13 Urdu| With a beautiful hadith on Gratitude

    Story 13 Urdu| With a beautiful hadith on Gratitude

    Welcome to our Hadees with stories short course for kids and adults. This course has been designed for personality development

    Hadith no 13

    Lesoon no 14

    Hadith topic Gratfulness| Shuker guzari

    Story| A grateful boy Asad

    Hadees|حدیث کا تعارف

    Hadees

    پیارے بچوں، حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: “لوگوں کا شکر ادا کرو، تاکہ تم میں شکر کرنے کی عادت پیدا ہو. دوسروں کا شکر گزار ہونے

    سے ایک دوسرے سے محبت میں اضافہ ہوگا اور اللہ بھی راضی ہوگا

    اب یہ کہانی کا وقت ہے. ہماری آج کی کہانی ایک شکر گزار لڑکے کے بارے میں ہے۔

    Story|کہانی

     اسد اور احمد تقریبا ایک ہی وقت اسکول پہنچے۔ ان کی وینیں ایک دوسرے کے متوازی کھڑی تھیں۔ اسد اپنی وین سے باہر نکل کر زور سے بولا ‘

    hadees

    جزاک اللہ خیر چچا ۔ احمد نے حیرت سے اس کی طرف دیکھا. جب گارڈ نے ان کے لئے گیٹ کھولا تو   پھر ایسا ہی ہوا ۔ احمد توجہ کیے بغیر اسکول میں داخل ہوا جبکہ اسد نے رک کر مسکراہٹ کے ساتھ گیٹ کیپر کو دیکھا اور اس کے بعد اسے ‘شکریہ’ کہا ۔.”

    وہ کلاس روم میں داخل ہوئے. احمد چپکے سے اپنے دوست کی نرم طبیعت اور شکر گزار ی کا معترف تھا۔  وہ اپنے خیالات میں مگن تھا اتنے میں گھنٹی بجی ۔یہ دوپہر کے کھانے کا وقت تھا اور دونوں کھانا کھا رہے تھے کہ اچانک اسد کا کھانے   کا ڈبہ نیچے گر گیا۔ سب پاستا زمین پر تھا۔ خوش قسمتی سے اس نے اس کا زیادہ تر حصہ پہلے ہی کھا لیا تھا لیکن اس  سےزمین گندی ہو گئ ۔

    کلینر نے آکر جلدی سے صفائی کی۔  اسد نے اس کا شکریہ ادا کیا. وہ دوبارہ کلاس روم میں چلےگئے، ان کے استاد آئے اور اسکول کے باقی کام کیا۔  جب وہ وہاں سے گئے تو اسد نے ان کو جزاک اللہ خیر کہا ۔ اور پھر  وہ دونوں چھٹی کے بعد گھر چلے گئے۔   

    اگلے دن جب وہ دوبارہ اسکول آئےتو    اسد نے اسی طرح سب کا شکریہ ادا کیا اور ہر ایک کو جزاک اللہ خیر کہا  ۔ احمد نے دیکھا کہ کھیل کے دوران اسد ہر عمل پر دوستوں کا شکریہ ادا کرتا  ہے ۔  اس کے بعد احمد نے اسد سے پوچھا کہ آپ  ہر بات پر جزاک اللہ خیر اور شکریہ کیوں اداکرتے ہیں ؟

    اسد نے جواب دیا؛ اس کی ادائیگی ضروری ہے کیونکہ اس سے ایک دوسرےکی محبت میں اضافہ ہوتا ہے اور  اللہ بھی اس کا انعام دیتا ہے۔   کیا آپ اپنے آپ کو سوچتے ہیں اگر ہمارے اساتذہ ہماری مدد نہیں کرتے اور ہمیں سمجھاتے نہیں ہیں تو ہم علم کیسے حاصل کر سکتے ہیں؟ تو ان کو جزاک اللہ خیر کہنا ضروری ہے یا نہیں؟ 

    اسی طرح اگر صفائی کرنے والے چچا صفائی نہیں کریں گے تو اسکول کو اتنا صاف کون کرے گا جتنا ہم اسے خراب کریں گے چوکیدار، کینٹین انکل اور ڈرائیور چچا سب ہماری مدد کرتے ہیں، اس لیے ہمیں بھی ان کا شکریہ ادا کرنا چاہیے۔   اس سے وہ خوش ہوں گے۔   

    احمد نے کہا، “تم ٹھیک کہتے ہو۔ میں نے کبھی یہ نہیں سوچا.”   تم میرے ایک اچھے دوست ہو.   تم نے یہ سب کس سے سیکھا ہے؟” . اسد نے کہا کہ؛ میں نے یہ سب کچھ اپنے والد اور والدہ سے سیکھا۔  ان کا کہنا ہے کہ ہمیں ان تمام لوگوں کا شکریہ ادا کرنا چاہئے جو ہمارے لئے کام کرتے ہیں۔  

    جب ہماری امی جان ہمارے لئے کھانا بناتی ہیں تو ہم ایک دوسرے کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔ اور جب ابا جان ہماری ضروریات اورکھانے پینے کی چیزیں خریدتے ہیں تو ہم ان کا بھی شکریہ ادا کرتے ہیں۔  امی جان کہتی ہیں کہ اگر ہم ایسا کرنے کے عادی ہو گئے تو ہم اللہ کا  بھی شکر ادا کریں گے جو ہمیں کہے بغیر ہر نعمت عطا کرتا ہے. 

     احمد نے کہا، “اچھا تو پھر میں بھی آج سے ایسا ہی کروں گا.”    لیکن مجھے ایک اور بات بتائیں؟

    اسد نے کہا، “ہاں، احمد تم کیا پوچھنا چاہتے ہو؟”

    احمد نے کہا ، “آپ نے کبھی جزاک اللہ خیر کہا اور کبھی شکریہ کہتے ہیں ۔  اس کی وجہ کیا ہے؟”

    اسد نے کہا کیونکہ دونوں چچا مسلمان نہیں ہیں اس لیے میں انہیں صرف شکریہ کہتا ہوں اور مسلمانوں کا  صرف شکریہ ادا کرنا کافی نہیں ہے اس لیے میں نے جزاک اللہ خیر کہتا   ہوں جس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ آپ کو اس کااچھا بدلہ دے  ۔  یہ بھی ایک دعا ہے اور اس  کا بہت ثواب ہے. ۔  

     احمد نے کہا، “تم نے مجھے بہت اچھی طرح بتایا ہے۔ مجھے تم پر فخر ہے.”  پھر دونوں گھر روانہ ہو گئے. ۔

     پیارے ببچوں آج کے بعد سے آپ کو اللہ کے ساتھ ساتھ لوگوں کا بھی شکر ادا کرنے کی یہ عادت اپنانا ہوگی۔ اس کہانی کو دوسروں کے ساتھ شیئر کریں تا کہ انہیں اچھی چیزیں سیکھنے اور انعام حاصل کرنے میں مدد مل سکے۔  اس حدیث کو آپ سب کو آگے بڑھانا ہوگا. ہم ان شاء اللہ ایک اور پیاری حدیث اور کہانی کے ساتھ ملیں گے۔

    This story in English

    This Hadith and story in Video

    You can read more English stories here

    You can read more Urdu stories here

    Worksheet

    Hadees

    This course is also helping Homeschooling mothers in different ways. You can get all resources from my website to teach your child 30 short hadiths at home. We have videos, written stories, worksheets, and a full teaching method. So contact us if you need to get these helpful resources.

    This course could be done online for free with the help of our free hadiths and stories.

    Or you can join our online classes to learn about Islam. List of courses/ Classes we have

    Online courses and classes we have

    • Online Quran classes for beginners
    • Online Quran recitation and Memorisation classes
    • Islamic education for children
    • Seerah course
    • Ramzan boost course
    • Faith boost course
    • Rights of parents course
    • Prayer for kids course

    How was your experience visiting our site? If this course helped you? Please leave your thoughts. If you have any questions, you can ask them in the Question tab. If you want to connect with us via Email, then email here

  • Story 10 Urdu| What is real beauty? Beautiful hadith.

    Story 10 Urdu| What is real beauty? Beautiful hadith.

    Welcome to our Hadees with stories short course for kids and adults. This course has been designed for personality development

    Hadees no 10

    Lesson no 11

    Topic of hadithBeauty

    Story. A Princess

    Hadees- حدیث

    hadees

     
    یہ حدیث اللہ کی صفت سکھانے کے ساتھ ساتھ بچوں کو صاف ستھرا رہنا سیکھاتی -اس کے ساتھ ساتھ بچوں  کو ماحول کو صاف رکھنا اور خوبصورتی کا احساس رکھنا پیدا کرے گی -آج لوگ کپڑے بدلنا ور بل بنانا تک دنیاوی کام سمجھتے ہیں.جب کہ اگر اگر ہم سنت کی نیت سے اور الله کو خوش کرنے کی نیت سے سب کچھ کریں گے تو اس پر اجر بھی ملی گا. لہذا آج کی حدیث اور کہانی بچوں کے لیے بہت اہم ہے

    ہمارے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اس حدیث میں فرمایا ہے کہ اللہ خوبصورت ہے اور وہ خوبصورتی کو پسند کرتا ہے۔ یہ حدیث صحیح مسلم 91سے لی گئی ہے.اس حدیث کا موضوع حسن ہے اور کہانی کا نام خوبصورت شہزادی ہے.پیارے بچوں پیارے بچوں یہ حدیث اللہ کے اوصاف میں سے ایک صفت کے  بارے میں ہے.

    اگر ہم فطرت میں دیکھیں تو ہمیں خوبصورت پھول، تتلیاں اور بہت سے کیڑے نظر آئیں گے، آسمان پر ستارے اور چاند، سمندر، پھل، رنگ اور اس دنیا کی ہر چیز بہت خوبصورت ہے۔ بچے اور ہم بھی اللہ کی بہترین اور معصوم مخلوق ہیں۔ اب یہ ہمارا فرض ہے کہ ہم بہت صاف ستھرے رہیں اور اپنے ارد گرد کی چیزوں کو صاف ستھرا رکھیں کیونکہ ہمارے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم بھی ایک صاف ستھرے اور خوش لباس شخص تھے۔ پس سنت پر عمل کرنے سے ہم خوش ہوں گے اور ہمیں اللہ کا شکر ادا کرنے کا بدلہ بھی ملے گا۔

    Story-A Prinsess/ ایک شہزادی

    hadees

    ایک بار ایک شہزادی تھی جو بہت خوبصورت تھی۔ اس کے والدین نے اس کا بہترین خیال رکھا۔ لیکن وہ بہت سست تھی۔ وہ ہمیشہ گندے کپڑوں میں رہتی ہے، وہ اکثر بالوں کی پرواہ نہیں کرتی اور انہیں بغیر کنگھی کے چھوڑ جاتی تھی۔ اس کے دانت پیلے تھے کیونکہ وہ کئی دنوں تک انہیں برش نہیں کرتی تھی۔ اس کے پاس بہت سے نوکراورنوکرانیاں تھیں جو اپنی خدمات پیش کرنے کے لئے تیار رہتے تھے ۔

    وہ ان سے اپنے کمرے، اپنے کپڑے اور الماریاں صاف کرنے کا کہنے کی بجائے ہر وقت اپنی نوکرانیوں کے ساتھ کھیلتی. تو اس کا کمرہ بھی گندا ہو جاتاتھا۔ اس کی والدہ ملکہ نے بھی دیگر سرگرمیوں پر زیادہ وقت صرف کیا۔ لہذا اس کی رہنمائی کرنے والا کوئی نہیں تھا۔

    ایک بار وہ اپنے سب گھر والوں کے ساتھ سیر پر نکلےانہوں نے ایک دریا کے خوبصورت کنارے کے قریب خیمہ لگایا۔ وہ لطف اندوز ہو رہے تھے. نوکر کھانا پکا رہے تھے اور کھانا پیش کر رہے تھے۔  کھانے کے بعد سب ادھر ادھر گھومنے شروع ہو گئے، ہر کوئی اپنی پسندیدہ سرگرمیوں میں مصروف تھا. بادشاہ نے پولو کھیلنا شروع کیا۔

    شہزادی بھی اپنی عمر کی نوکرانیوں کے ساتھ چہل قدمی کے لئے چلی گئ۔ وہ دریا کے کنارے دوڑنے لگی۔ انہوں نے ایک دوسرے پر پانی برسایا۔ اس نے اپنے جوتے اتار دیئے۔ ان کے کپڑے گیلے تھے. پھر وہ اپنی نوکرانیوں کے ساتھ چھپ کر کھیلنے اور تلاش کرنے کا کھیل کھیلنا  شروع کیا ۔ وہ اپنے خیموں سے بہت دور چلی گئی اور کھو گئی۔ وہ اپنے خیموں کو تلاش کرنے کے لئے ادھر ادھر بھٹکتی رہی لیکن کوئی فائدہ نہیں ہوا ۔

    اب وہ پریشان تھی. وہ ادھر ادھر بھاگ رہی تھی. ۔ اس کے کپڑے اب گندے تھے ۔ لیکن اسے اس سے کوئی مسئلہ نہیں تھا . وہ بھوکی بھی تھی. آخر کار وہ ایک گاؤں میں پہنچ گئی۔ اس نے گاؤں کے باہر ایک جھونپڑی دیکھی۔ وہ وہاں گئی. اسے وہاں ایک بوڑھا اور ایک بوڑھی عورت ملے۔ اس نے انہیں بتایا کہ وہ کھو گئی ہے۔

    اس نے انہیں یہ بھی بتایا کہ میں ایک شہزادی ہوں۔ میرے والدین مجھے تلاش کر رہے ہوں گے لیکن رات ہے۔ میں پناہ اور میں  کچھ کھانا چاہتی ہوں۔ براہ مہربانی مجھے آپ اپنے ساتھ رہنے کی اجازت دیں. بوڑھے جوڑے نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا۔ وہ اس کی گندی شکل اور گندے کپڑوں  کی وجہ سے یقین نہیں کرسکتے تھے ۔

    اس کے ناخن لمبے اور گندے تھے۔ ان دونوں کا خیال تھا کہ وہ ضرور جھوٹ بول رہی ہے۔ اور وہ انہیں نقصان پہنچا سکتی ہے۔ لیکن وہ اسے نہیں کہنا چاہتے تھے ۔ کیونکہ اگر وہ شہزادی ہو گی جیسا کہ وہ کہہ رہی ہے تو اس کا باپ بادشاہ اپنی بیٹی کی مدد نہ کرنے پر انہیں نقصان پہنچا سکتا ہے۔ وہ بڑے پریشان تھے۔

    آخر کار، انہوں نے اسے اپنے ساتھ رکھنے کا فیصلہ کیا۔ وہ اس کا فیصلہ کر رہے تھے اور کسی بھی صورتحال کے لئے چوکس تھے۔ وہ خوشی سےکھانا نہیں کھاتی تھی کیونکہ کھانا اس کے شاہی انداز کی طرح نہیں تھا۔ پھر وہ سو گئی. لیکن وہ سو نہیں سکتی تھی. کیونکہ بستر بہت مشکل تھا. وہ اپنے نرم اور آرام دہ بستر سے محروم تھی۔

    بوڑھے لوگ اس کی بے چینی کا مشاہدہ کر رہے تھے۔ اب انہیں یقین ہو گیا کہ وہ واقعی شہزادی ہے۔ تو صبح کے وقت انہوں نے اس سے پوچھا کہ تمہاری رات کیسی گزری۔ اس نے کہا کہ میں رات بھر سو نہیں سکی۔ آپ کے بستر بہت مشکل ہیں. انہوں نے مسکرا کر کہا، اوو غریب لڑکی تم ایک شہزادی ہو۔ ہم جانتے ہیں کہ ہمارا گھر اور سہولیات آپ کی حیثیت کے مطابق نہیں ۔ اب آپ کی مدد کرنے کا وقت ہے.

    آپ کا خاندان جلد ہی یہاں ہوگا، کیونکہ ہم نے پہلے ہی گاؤں سے کچھ لڑکوں کو آپ کے خیموں کی جگہ تلاش کرنے کے لئے بھیجا تھا. لیکن ہم کچھ کہنا چاہتے ہیں.

    اوہ تم کتنے مہربان ہو؟ میں واقعی آپ کی بہت شکر گزار ہوں. ہاں براہ مہربانی آپ کیا کہنا چاہتے ہیں. بوڑھی عورت نے کہا، ”چھوٹی، خوبصورت لڑکی، تم بہت اچھی اور خوبصورت ہو. اللہ نے تمہیں کامل کر دیا. میں یہ ضرور کہوں گی کہ آپ اپنا خیال رکھیں۔ آپ کو ہمیشہ اپنے آپ کو صاف ستھرا رکھنا چاہئے۔ یہ سنت ہے اور ہمارا نصف ا یمان ہے۔

    اللہ تعالیٰ خوبصورت ہے اور وہ خوبصورتی اور صفائی کو پسند کرتا ہے۔ تم ایک شہزادی ہو. آپ کی مدد کے لیے آپ کے پاس بہت سے نوکر اور نوکرانیاں  ہیں ۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ آپ اس طرح اتنےگندے  حال میں رہتے ہیں۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ ہم نے یقین نہیں کیا کہ آپ شہزادی ہیں۔ لڑکی خود پر افسوس کر رہی تھی۔

    اس نے دیکھا کہ بوڑھی عورت غریب ہے لیکن اس کا لباس اتنا صاف تھا، اس کے بال سفید تھے اور اچھی طرح بنائے گئے تھے۔ اس کے گھر کی دیکھ بھال بھی کی گئی تھی۔ اس نے وعدہ کیا کہ وہ ان کے مشورے کو ہمیشہ یاد رکھے گی۔ اسی دوران کچھ گھڑ سوار اپنی گھوڑا گاڑی لے کر وہاں آئے اور وہ اس پر سوار ہو گئی۔ اس نے ہاتھ ہلایا اور بہت اچھا سبق لے کر جھونپڑی سے نکل گئی۔

    پیارے بچوں، آپ سب بھی بہت خوبصورت اور کامل انسان ہیں. لہذا ہمیشہ صاف ستھرے اور اچھی طرح سے انتظام کرنے کی کوشش کریں۔ تاکہ اللہ آپ سے محبت کرے اور آپ کو اس کی سنت پر عمل کرنے کا اجر دے

    This story in English
    Search as Hadith no 10 story in English.

    This Hadith and story in Video

    https://www.youtube.com/watch?v=nJ9CEvtpHgY&t=9s

    Worksheet design for this Hadith and story

    hadees

    Online classes and courses we have

  • Story 8 Urdu|Hadith about How To Teach Eating Manners To Kids?

    Story 8 Urdu|Hadith about How To Teach Eating Manners To Kids?

    Welcome to Our Hadith with stories course for Kids. You are going to Start a short course for your child. After this course, your children would have their own mini -Kitab -UL-Hadess (For a Description of this Free online course scroll down)Here is the “First Hadees and story of Our hadith with stories course for kids

    hadith on Eating manners in Islam in Urdu

    This is a story of a hungry boy who started to eat with his left hand. This story will teach hadith on the Eating manners in Islam and the use of the right hand.

    پیارے بچوں، ہمیشہ کی طرح، میں ایک خوبصورت حدیث اور ایک دلچسپ کہانی آپ سب کے ساتھ شیئر کرنے جا   رہی  ہوں-  آج کے لئے ہماری حدیث مندرجہ ذیل باتوں پر مبنی ہے: ‘تم میں سے کوئی بھی اپنے بائیں ہاتھ سے نہ کھائے۔

     

    hadith on Eating manners in Islam in Urdu

    پیارے بچوں، اس حدیث کو پڑھنے کے بعد آپ کو پتہ چل جائے گا کہ ہمیں اپنے بائیں ہاتھ سے کھانا نہیں کھانا چاہئے۔ آپ کے بائیں ہاتھ سے کھانے کے مضر اثرات کیا ہیں اور ہمیں اس عادت سے کیوں گریز کرنا چاہئے؟ آئیے اس موضوع کے بارے میں مزید جاننے کے لئے ایک کہانی سنتے ہیں۔

    hadith on Eating manners in Islam in Urdu
    Hadith on Eating manners in Islam in Urdu with story

    بھوکا لڑکا

     کہانی ایک لڑکے کے بارے میں ہے جس کا نام علی تھا۔ علی ایک اچھا اور خوش اخلاق بچہ تھا۔ وہ ہمیشہ اچھا برتاؤ کرتا تھا اور دوسروں کا احترام کرتا تھا۔ وہ وقت پر کھیلتا اور تعلیم حاصل کرتا تھا۔ سب اس کی تعریف کرتے   تھے- لیکن پیارے بچوں، کچھ عرصے بعد، علی کی عادات تبدیل ہونے لگیں۔اب ایسا ہوا کہ علی نے کھیل کھیلنے میں زیادہ وقت گزارنا شروع کیا۔ وہ کھانا کھاتے ہوئے بھی اپنے کھلونوں سے کھیلتارہتا تھا۔ اس کے ہاتھ میں ہمیشہ کھیلنے کے لئے کچھ نہ کچھ ہوتا تھا۔  پیارے بچوں، علی جب بھی کھانا کھاتا، یا توموبائل فون اس کے ہاتھ میں  ہوتایا کھانے کے دوران کھیلنے کے لئے اس کے ہاتھ میں کھلونا ہوتا تھا۔اس طرح اس نے اپنے بائیں ہاتھ سے کھانا شروع کردیا تاکہ وہ اپنے دائیں ہاتھ سے کھیل سکے۔ پیارے بچوں، کیا آپ جانتے ہیں کہ شیطان ان لوگوں کے ساتھ کھاتا ہے جو اپنے بائیں ہاتھ سے کھاتے ہیں، اور اگر بائیں ہاتھ کو کھانے کے لئے استعمال کیا جاتا ہے تو کھانے کی برکت شیطان کے پیٹ میں جاتی ہے۔ ایک دن علی کی والدہ نے اسے مشورہ دیا کہ وہ اپنے بائیں ہاتھ سے کھانا نہ کھائے کیونکہ یہ ایک بری عادت تھی، لیکن علی اس پر عمل کرنا بھول جاتا۔ جلد ہی، یہ اس کی عادت بن گئی کہ وہ  ہمیشہ اپنے  بائیں ہاتھ سے کھانا کھاتا- لیکن جب بھی وہ اپنے بائیں ہاتھ سے کھانا کھاتا تو ایک شیطان اس کےکھانے سے برکت چھین لے جاتا اور یہ شیطان کے پیٹ میں چلا جاتا۔جب بھی علی اپنے بائیں ہاتھ سے کھانا کھایا کرتا تو اس کی بھوک مطمئن نہ ہوتی اور وہ خالی محسوس کرتا۔ وہ دن بدن کمزور ہوتا گیا۔ اس نے زیادہ کھانا کھا نا  شروع کیا لیکن یہ کبھی کافی نہیں ہوتا تھا کیونکہ وہ کھانے کے آداب بھول گیا تھا۔

     وہ اپنے ہاتھ نہیں دھوتا تھا۔

    وہ  کھانے سے پہلےبسم اللہ نہیں پڑھتا تھا۔

    وہ اپنے دائیں ہاتھ سے نہیں کھاتا  تھا۔ 

    اور ہمیشہ کھاتے وقت کھیلتا   رہتا  تھا

    اس  پر شیطان واقعی خوش تھا کیونکہ وہ علی کی بری عادات کی تعریف کرتا تھا۔ وہ موٹا ہو رہا تھا کیونکہ وہ علی کے کھانے سے ساری توانائی لے رہا تھا۔علی پہلے کی طرح نہیں کھیل سکتا تھا کیونکہ جب بھی وہ کھیلنے کے لئے باہر جاتا تھا تو اسے بھوک لگتی تھی۔ اسے اپنا پیٹ بھرنے کے لئے گھر واپس جانا پڑتاتھا ۔ لہذا، وہ زیادہ تر اپنی کھڑکی سے کھیلتے ہوئے بچوں کو دیکھتا تھا-پیارے بچوں، اس کے والدین اس کے بارے میں بہت پریشان ہو گئے لیکن علی نے ان کی بات نہیں سنی اور اس کے بجائے جب بھی وہ اس سے بات کرنے کی کوشش کرتے تو ان پر غصہ کرتا تھا۔وہ اب قابو سے باہر ہو گیا تھا. اکثروہ اپنے بھائی اور بہن کا حصہ بھی کھا جاتا تھا- پھر بھی وہ بھوکا رہتا تھا۔ اس کی بھوک کی کہانی ہر طرف پھیل گئی۔ اس کے رشتہ دار اور خاندان کے افراد اسے مطمئن نہیں کر سکے چاہے وہ اسے کتنا کھانا ہی کیوں نہ دیں۔ آخر کار کسی نے اس  کے والدین کو مشورہ دیا کہ وہ کسی اچھے علم والے سے سے ملاقات کر کے مشورہ کریں جو اللہ کا نیک بندہ اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت پر عمل کرنے والا  ہو اور اس کا علاج کرے ۔ علی کے والدین اسے ایک عالم بندے کے پاس لے گئے۔ اس نے ا ن کا مسئلہ سنا اور کہا، ‘فکر نہ کرو، علی کو کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ ان شاء اللہ علی چند دنوں میں ٹھیک ہو جائے گا۔ اس شخص نے علی کو اپنے ساتھ رکھ لیا-اور اس کے لئے کھانے کا انتظام کیا۔ جب علی کھانے لگا، تو اس شخص نے علی سے کہا کہ کھانا کھانے سے پہلے اسے ایک شرائط ماننی ہوگی۔ علی کافی عرصے سے بھوکا تھا لہذا اس نے اس سے کہا کہ وہ اسے شرائط بتائے تاکہ وہ اس پر عمل کرسکے۔اس نیک عالم نے علی کو پہلے ہاتھ دھونے کو کہا۔ علی نے فورا تعمیل کی۔ پھر علی سے بسم اللہ پڑھنے کو کہا۔ علی نے ہدایات پر عمل کیا اور بسم اللہ پڑھی۔ جب وہ کھانے جا رہا تھا تو اس نے اپنا بائیاں ہاتھ استعمال کرنا چاہا۔انہوں نے وضاحت کی کہ ہمیں ہمیشہ کھانے کے لئے اپنے دائیں ہاتھ کا استعمال کرنا چاہئے چاہے اس میں کتنا ہی وقت کیوں نہ لگے۔علی نے بسم اللہ پڑھی .. اور پھر دائیں ہاتھ سے کھانا شروع کیا لیکن اسے مشکل پیش آئی کیونکہ وہ بائیں ہاتھ سے کھانے کا عادی تھا۔ یہ اس کے لئے بہت تکلیف دہ تھا لیکن چونکہ یہ ایک نصیحت تھی جس کے بارے میں دانشمند نے زور دیا تھا، اس لئے وہ آہستہ آہستہ اپنے دائیں ہاتھ سے کھاتا رہا۔  پیارے بچوں، اس بار شیطان کو اس کے کھانے سے حصہ نہیں مل سکا۔ وہ علی کے بائیں ہاتھ سے کھانے کا انتظار کرتا رہا تاکہ اسے علی کے کھانے کا حصہ مل سکے۔ لیکن وہ شخص علی کے ساتھ بیٹھا تھا اور اس نے اس بات کو یقینی بنایا کہ علی بائیں ہاتھ سے کھانا نہ کھائے اور اپنا کھانا ٹھیک سے ختم کرے۔ ہر دفعہ ایسا کرنے سے علی مطمئن اوراپنا  پیٹ بھرا ہوا محسوس کرتا تھا۔ شیطان بھوکا رہتا. پیارے بچوں، جب بھی عقیدت مند شخص علی کو کھانا دیتا، وہ اسے اپنے دائیں ہاتھ سے کھاتا تھا۔ ایک نیک آدمی کی دانش مندی کی وجہ سے شیطان چلا گیا-علی نے اپنی بھوک کے مطابق اور وقت پر کھانا کھانا شروع کر دیا۔  علی کے والدین اس شخص کے شکر گزار تھے۔  علی نے اپنے آپ سے یہ وعدہ بھی کیا تھا کہ وہ دائیں ہاتھ سے کھانے کی اپنی عادت کو کبھی تبدیل نہیں کرے گا۔ پیارے بچوں، آپ دیکھ رہے ہیں کہ علی اپنی بری عادات کی وجہ سے شیطان کے ہاتھوں کیسے پھنس گیا؟ 

    تو پیارے بچوں، ہمیشہ کھانے کے آداب کو یاد رکھیں جیسے: بسم اللہ پڑھتے ہوئے ہاتھ دھوئیں… دائیں ہاتھ سے کھانا کھانا’ کھانے کے دوران بات نہ کرنا (یا صرف اچھی چیزوں کے بارے میں بات کرنا)’ آرام سےبیٹھ کر  کھانا کھانا’کھانا ٹھیک سے ختم کرنا ‘کھاناکھانےکے بعد الحمداللہ کہنا – پیارے بچوں مجھے امید ہے کہ آپ ان اصولوں پر عمل کریں گے۔ اب آپ کو اس حدیث کو یاد رکھنا ہوگا اور یہ معلومات دوسروں تک بھی پھیلانی ہوں گی۔ 

    Eating manners poster

    hadith on Eating manners in Islam in Urdu

    Click the link for the Video of this Story

    Hadith worksheet about hadith on Eating manners in Islam in Urdu

    hadith on Eating manners in Islam in Urdu

    Enrolments Available

    This is a short course of hadith and stories from My 30 short hadith with stories course. My hadith course is very much liked and appreciated by parents and students. Online group classes are available online for all time zones. Recommended age for the class Hadith for kids is 7+. These classes are available in English and Urdu. If you want to enroll your child in our classes contact us via.

    Other courses we have

    • Easy Tafseer for kids with exciting stories you can see that course in my hadith course tab.
    • Prayer for kids course is a short course to teach about taharat, Gusal, wudu, times of prayers, number and names of prayers, pillars and conditions, and prayer method. Search as Prayer for kids course on the search bar.
    • Ramzan boost course we do start 2 weeks before Ramzan.
    • Faith boos course In December to say No To Marry Christmas.
    • Kindness to Parents

    If you want to start this course with me then leave a comment, Email me or enroll your child here.

    Download your free copy of 30 short Hadith book pdf in Urdu/Eng from the Posts tab.

    Worksheet for this Hadith and story. (Buy This worksheet book here)

    A child is telling about eating manners and This story after learning this hadith.

    Students activities

    https://youtu.be/RvXRqIK4NjQ

  • Hadith no 22 | Topic of the Hadith-Morality| Seerah stories of Prophets Muhammad SAW. | 30 short Hadith for children.

    Kitab-Ul-Hadees🌷 

    Day .23…Hadees No 22 👇🏃‍♂️

    🌷Aslam-O-Alaikum Dear members.🌷

    Our today’s Hadees is Down 👇

    The Topic of the Hadees of the Day is Morality.

    For English members:-

    Video of the story in English

     

     

     

    short ahadith for kids Urdu Englsih

    Dear members. Today’s Hadith is about morality. We had already done a hadith about this topic. This is an incident that we have the same topic again.
    But it is a very good incident. We need this topic and practice on it more than any other. Today our manners and our morality is at its lower level. Many of us don’t even smile without any reason. Our faces and our expression are at dead steam. We may good with our friends and strangers outside. But at home, we are at that footstep where Every Muslim must be ashamed. We forget the Sunnah of our prophet. We don’t deal properly with our youngers, with our servants, with our children and family members. And children are the biggest victim of this behaviour.  They misbehave and react poorly as well as they are also losing their temper at minor things. We have no relation bonding with each other. So it is very important that we introduce them with the Seerah of our prophet and the gems of Islam.

    Our today hadith about garbage thrower old women. But I just came to know that It is not from seerah stories. So tell this story to your kids. You can see the previous hadith no 7 To tell more seerah stories about Husn-ul-Khulaq

    In the end, don’t forget to write Hadith in the Hadees book. And share the picture of the Hadith for other activities you did for this Hadith. So that your kids would get the certificate of completing their Ahadith.

     

    May Allah make it easy for you.

    Note: -Spread this Hadees with your family and friend so that more people would get benefit from it.

    For Urdu members.

    short ahadith for kids Urdu Englsihہماری آج کی حدیث حسن اخلاق  متلعق ہے.
     اس موضوع پرہم پہلے بھی حدیث کر چکے ہیں. جس میں  ہم نے نبی محمد کی سیرت کے  تقریباً ٧ واقعیات پڑھے تھے یہ اتفاق ہے کہ آج پھر اسی موضوع پر حدیث ہے مگر یہ بہت اچھا حسن اتفاق ہے کیوں کہ آج ہم لوگ اخلاق کے جس درجے پر کھڑ ے ہیں.اس پر جتنی بھی بات کی جایے کم ہے.
    آج ہم غیروں سے مسکرا کر با ت کر لیتے ہیں. مگر ہمرے گھروں کے اندر ھمارے اخلاق کی گراوٹ کھل کر سامنے آ رہی  ہے-میں  کبھی کبھی اپنے رویے پر غور کروں تو معلوم ہوتا ہے میں بہت کم مسکراتی ہوں.یاد رہے ھمارے  اس رویہ کا شکارسب سے  زیادہ بچےہو  ہیں  وہ جہاں عدم برداشت اور اگتایے ہوۓ  رویے کا شکار ہو رہے ہیں وہاں ان کی جسمانی اور ذہنی نشو نما بھرپورنہیں ہو رہی -ماتھے پر تیورریاں اوربد  مزاجی دن بدن بھرھتی جا رہی ہے آج ضرورت اس بات  کی ہےکہ بچوں کو نبی کے اخلاق  سے متعارف کروایا جایے اور ان کو اسلام کا مزاج بھی بتایا جایے 
    ہماری آج کی کہانی نبی کی سیرت کےنام سے   مشہور ہے. مجھےابھی معلوم  ہوا کہ یہ کہانی سیرت کی نہیں.اس لیے نبی محمد کا نام استعمال نہیں کیا اس لیے بچوں کی یاد دہانی اور اخلاق سنوارنے کے لیے پہلے والی ویڈیو جو حدیث ٧ میں کی تھی وہ  بھی شامل  کر دیں
    اس کے لیے ہم ایک اکٹویٹی بھی کر سکتے ہیں اگر آپ سب چاہو گے 
     
    کہانی اور حدیث کا ترجمہ اور تفسیر نیچے دیا جا رہا ہے.بچوں کو وڈیو دکھائیں اور ساتھ ساتھ ان  کے سوالوں کا جواب بھی دیں. اگر اس واقعہ کو تفصیل سے پڑھنا ہے تو آاپ انگلش والے سیکشن میں موجودلنک میں پڑھ سکتے ہیں
    میں نے بچوں کو سنت سیکھانے کے لیے انفرادی طور پر کچھ مطالعہ کیا ہے اور اپنے بچوں کو سیکھانے کے لیے کچھ چیزیں تیار بھی کر رکھی ہیں اگر کسی کو میری مدد کی ضرورت کو تو مجھے کومنٹ کر سکتے ہیں

    Video of the Urdu Story and Hadith. 

     

     .