Tag: urdubachoonkikahania

  • Story 6 Urdu|How to be a modest Muslim? Learn hadith

    Story 6 Urdu|How to be a modest Muslim? Learn hadith

    Welcome to our Hadees with stories short course for kids and adults. This course has been designed for personality development

    Hadith no 16

    Lesson no 17

    Topic of the hadith Modesty-حیا

    Sahih AL-Bukhari 2564 /Muslim 35

    Story of a robber

    hadees

    ہمارے پیارے نبی کریم صل اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا 

    “حیا ایمان کا حصہ ہے” 

    تو پیارے بچو!  ہمارے آج کی حدیث کا عنوان ہے “حیا” اور آج ہم آپ کو جو کہانی سنانے جا رہے ہیں اس کا عنوان ہے “بچے کی سچائی ” حیا کا موضوع سمجھنا تھوڑا سا مشکل ضرور ہے لیکن کہانی بہت آسان اور دلچسپ ہے. 

    پیارے بچو!!! حیا سے ہم  انکساری، شرم اور عزت نفس مراد لیتے ہیں. اس کے مفہوم میں بڑوں کا کہنا ماننا بھی شامل ہے، دوسروں کے سامنے اپنا جسم ڈھانپنا اور غیر اخلاقی گفتگو سے بچنا بھی. بعض اوقات بچے جھوٹ بولتے ہیں، کسی دوسرے کی چیز پسند آئے تو چُرا لیتے ہیں یا ان سے لڑائی جھگڑا کرنے لگتے ہیں اور پھر معذرت کرنے اور شرمندہ ہونے کی بجائے دوسروں کو مزید تکلیف پہنچاتے ہیں. 

    تو میرے عزیز بچو! یہ ایک انتہائی بری عادت ہے، جو کہ ہماری حیا کی فطرت کو متاثر کرتی ہے اور ہمارے اخلاق کو خراب کرتی ہے. حیادار بننے کے لیے ضروری ہے کہ اگر ہم کچھ برا سوچیں تو اس پہ شرمندہ ہوں اور اگر کسی کے ساتھ برا کریں تو اس سے معذرت کریں. حیا کے تصور کو بہترطور پر سمجھنے کے لیے ایک کہانی سُنیے

    hadees
    ڈاکو کی حیا _The story of a robber

    یہ ایک بچے اور کچھ ڈاکوؤں کی کہانی ہے.کیا آپ جانتے ہیں ڈاکو کون ہوتا ہے؟ جو دوسروں کے پیسے اور چیزیں زبردستی چھین لے، اسے ہم ڈاکو کہتے ہیں. بہت عرصہ پہلے کی بات ہے کسی جگہ پہ ایک بچہ رہا کرتا تھا جو ابتدائی اسلامی تعلیم حاصل کر رہا تھا

    اپنی تعلیم جاری رکھنے کے لیے اسے ایک دوسرے شہر بغداد جانا پڑا. پرانے زمانے میں چونکہ سفر کے جدید ذرائع موجود نہ تھے تو لوگ گھوڑوں اور اونٹوں پر سفر کیا کرتے. راستے میں چوروں کے ڈر سے وہ اکٹھے ہو کر گروہوں اور قافلوں کی صورت میں سفر کرتے

    بچے کی ماں نے بھی اسے ایک قافلے کے ہمراہ بغداد روانہ کر دیا، سفر پہ جانے سے پہلے ماں نے بچے کی قمیض میں چھپا کر کچھ پیسے سلائی کر دیے. اور بچے کو نصیحت کی کہ میرے پیارے بیٹے، جھوٹ کبھی مت بولنا، ہمیشہ سچ بولنا اور خوب دل لگا کر پڑھائی کرنا. 

    سفر بہت لمبا تھا، قافلے کو روانہ ہوئے کئی دن گزر چکے تھے، جنگل کے قریب سے گزرتے ہوئے قافلے نے پڑاؤ ڈالا اور رات اسی جگہ پہ گزارنے کا فیصلہ کیا گیا، جب سارا قافلہ سو رہا تھا تو ڈاکوؤں کے ایک گروہ نے ان پہ حملہ کر دیا، وہ ہر مسافر کے پاس گئے اور اس کے پاس موجود چیزیں اپنے قبضے میں لینے لگے

    ایک ڈاکو بچے کے پاس پہنچا اور اس سے پوچھا کہ تمہارے پاس کیا ہے؟ 

    بچے نے جواب دیا، “چالیس روپے”اس زمانے میں چالیس روپے ایک بہت بڑی رقم ہوا کرتے تھے، چور بچے کی بات سن کر ہنسنے لگا کہ کیا تم میرے ساتھ مذاق کر رہے ہو، اسے محسوس ہوا کہ ایک چھوٹے بچے کے پاس اتنی بڑی رقم موجود نہیں ہو سکتی. اس نے بچے کی تلاشی لی لیکن اسے پیسے نہ ملے. ڈاکو سمجھا کہ بچے نے اس کے ساتھ جھوٹ بولا ہے وہ غصے سے بچے کو پکڑ کر اپنے سردار کے پاس لے گیا اور سردار کو بچے کی ساری بات بتائی. 

    ڈا کوؤں کے سردار نے بچے کو دھمکی دی کہ اگر وہ جھوٹ بول رہا ہے تو اسے سخت سزا دی جائے گی، بچہ کہنے لگا کہ میں نے جھوٹ ہر گز نہیں بولا،میرے پاس واقعی چالیس روپے موجود ہیں. اب سردار نے بچے سے کہا کہ وہ پیسے دکھائے

    بچے نے بتایا کہ اس کی قمیض کے اندر چالیس روپے سِلے ہوئے ہیں، ایک چور نے بچے کی قمیض پھاڑ کر دیکھا، وہاں واقعی چالیس روپے موجود تھے. وہ سب یہ ماجرا دیکھ کر حیران رہ گئے، سردار نے بچے سے پوچھا کہ اے پیارے بچے، تم نے ہمیں سچ کیوں بتایا، اگر تم جھوٹ بولتے تو تمہاری رقم محفوظ رہتی. بچے نے جوب دیا کہ میری ماں نے مجھے نصیحت کی تھی کہ ہمیشہ سچ بولنا، چاہے جو بھی ہو جائے جھوٹ کبھی نہ بولنا. 

    سردار بچے کہ بات سن کر حیران رہ گیا، وہ کہنے لگا کہ اب تمہاری امی تمہارے ساتھ نہیں تھیں، انہیں کیسے پتہ چلتا کہ تم نے جھوٹ بولا ہے، تم اگر چاہتے تو اپنے پیسے بچا بھی سکتے تھے لیکن پیارے بچو، اس چھوٹے بچے نے سردار کو جو جواب دیا، آپ زرا وہ سنیں، وہ کہنے لگااگرچہ میری امی مجھے نہیں دیکھ رہیں لیکن میرا اللہ تو ہر وقت مجھے دیکھ رہا ہے ناں! اور اگر میں جھوٹ بولتا تو اللہ جی مجھ سے بالکل بھی خوش نہ ہوتے. 

    بچے کا جواب سن کر سردار رونے لگا اور روتے روتے بے ہوش ہو گیا. جب وہ ہوش میں آیا تو اپنی حرکتوں پہ شرمندہ ہونے لگا، اس نے سوچا کہ یہ چھوٹا بچہ اتنا سمجھدار ہے کہ اس نے اپنی ماں کی غیر موجودگی میں بھی جھوٹ نہیں بولا کیونکہ اسے اللہ کی حیا اور خوف تھا. لیکن وہ اتنا بڑا ہو کر بھی اللہ سے حیا نہیں کرتا اور غلط کام کرتا ہے.

    وہ بہت شرمندہ ہوا اور دیر تک روتا رہا، اسے خود پہ شرمندگی ہونے لگی، اس نے اپنی گناہوں سے توبہ کی اور قافلے والوں کا لُوٹا ہوا سارا مال واپس کر دیا، بچے کی سچائی نے اسے ایک اچھا انسان بنا دیا،

    کیا آپ جانتے ہیں کہ وہ بچہ کون تھا؟ عبد القادر جیلانی۔ جو بعد میں علم اور نیکی کی وجہ سے بہت مشہور ہوئے۔ تو پیارے بچو، یہ ہوتی ہے حیا. جب کوئی اپنے غلط کاموں پہ شرمندہ ہو اور اللہ سے ڈرے.  ہم سے اگر کبھی کوئی غلط کام ہو جائے تو فوراً اللہ سے معافی مانگ لینی چاہیے، ہمیں اللہ سے حیا آنی چاہیے کہ وہ ہمیشہ ہمیں دیکھ رہا ہوتا ہے. 

    یقیناً آپ کو یہ کہانی پسند آئی ہے، اب اس حدیث کو اپنی نوٹ بک میں خوبصورتی سے لکھیں، دوستوں کو دکھائیں اور انہیں بھی اس کا مطلب سمجھائیں. آپ سب بہت اچھے بچے ہیں، مجھے یقین ہے کہ آیندہ آپ حیا دار بنیں گے تاکہ اللہ جی بھی آپ سے خوش ہوں.

    hadees

    The video of this Story’

    This Story Written In English

    The workbook is available to buy at our courses sign-up page.
    hadees

    This course is also helping Homeschooling mothers in different ways. You can get all resources from my website to teach your child 30 short hadiths at home. We have videos, written stories, worksheets, and a full teaching method. So contact us if you need to get these helpful resources.

    This course could be done online for free with the help of our free hadiths and stories.

    You can read English stories here and

    Or you can join our online classes to learn about Islam. List of courses/ Classes we have

    • Online Quran classes for beginners
    • Online Quran recitation and Memorisation classes
    • Islamic education for children
    • Seerah course
    • Ramzan boost course
    • Faith boost course
    • Rights of parents course
    • Prayer for kids course

    How was your experience visiting our site? If this course helped you? Please leave your thoughts. If you have any questions, you can ask them in the Question tab. If you want to connect with us via Email, then email here

  • Story no 15|How to offer prayer? Learn Sunnah

    Story no 15|How to offer prayer? Learn Sunnah

    Welcome to our Hadees with stories short course for kids and adults. This course has been designed for personality development.

    We have 30 short hadiths with the best stories to understand the meaning of the hadiths and to learn how we can apply the sunnah of Prophet Muhammad S.AW in our daily life.

    All hadiths and stories in English and Urdu are available on our site. You can visit the menu to search for stories with series.

    Lets start learning Today’s Hadees and Story in Urdu

    Hadees no 15

    Lesson no 16

    Topic of the Hadees Importance of Sunnah

    Story- The Qibla was changed

    ہمارےپیارے نبی کریم صل اللہ علیہ و آلہ و سلم کی نماز–Hadees

     یہ حدیث نماز اور آپ صل اللہ علیہ و آلہ و سلم کی سنت پر عمل کرنے کے بارے میں ہے. جیسا کہ ہم سب جانتے ہیں، جب ہم نماز ادا کرتے ہیں تو ہمیں آپ صل اللہ علیہ و آلہ و سلم کی سنت پر، انہی کے طریقے پر عمل کرنا ہوتا ہے.ہم آپ کے بتائے ہوئے مخصوص طریقے میں نہ کچھ اضافہ کر سکتے ہیں اور نہ اس میں کوئی کمی کرنا ممکن ہے.

    hadees
    قبلہ کی تبدیلی کی کہانی —Hadees story
    Hadees

    اس حدیث کی کہانی اس دور کی ہے جب قبلہ اول کی تبدیلی ہوئی، جب مکہ سے مدینہ کی جانب ہجرت ہوئی تو مسلمانوں کا قبلہ تبدیل کر دیا گیا.یہ آپ صل اللہ علیہ و آلہ و سلم اور ان کے ساتھیوں کے لیے ایک بڑی آزمائش تھی. لیکن سچے ایمان والوں نے آپ کی پیروی کی اور اس معاملے میں کبھی کوئی بحث مباحثہ نہیں کیا. جب مکہ میں اسلام کا ظہور ہوا ,تو کعبہ ہی مسلمانوں کا قبلہ تھا جس کی جانب منہ کر کے وہ نماز ادا کرتے.کعبہ کو حضرت ابراہیم علیہ السلام اور ان کے بیٹے نے تعمیر کیا اور یہ اللہ پاک کا  پہلا اور سب سے پرانا گھر ہے. 

    ایک مرتبہ آپ صل اللہ علیہ و آلہ کو اللہ کی طرف سے حکم ہوا کہ نماز کے لیے اپنا رخ بیت المقدس کی جانب پھیر دیا جائے، مسلمانوں نے اس حکم کی پیروی کی، اور آپ کے ساتھیوں نے کبھی اس پر اعتراض نہ کیا. مدینہ میں یہودیوں کی ایک کثیر تعداد آباد تھی. یہودی اپنے مذہبی فرائض بیت المقدس کی جانب منہ کر کے ادا کرتے تھے، بیت المقدس بھی اللہ کا گھر ہے جسے حضرت سلیمان علیہ السلام نے تعمیر کروایا تھا. 

    میرے عزیز طالب علموں !!! ایسا اس لیے تھا تاکہ یہودی یہ بات سمجھ جائیں کہ اسلام کوئی نیا اور انوکھا دین نہیں ہے، بلکہ یہ وہی دین ہے جو موسٰی علیہ السلام اور باقی انبیاء کرام علیہم السلام کا تھا. اور مسلمان تمام انبیاء اور مقدس کتابوں پہ پختہ یقین رکھتے ہیں. آپ صل اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ہر طرح سے یہودیوں کی راہنمائی کی تاکہ وہ اسلام کو سمجھ کر اسے قبول کر لیں، لیکن وہ نہ مانے. صرف چند یہودیوں نے اسلام قبول کیا،

    بلکہ اللہ کے نبی اور اسلام کے دشمن بن گئے. انہوں نے مسلمانوں کے لیے مشکلات پیدا کیں اور خفیہ سازشیں کرنے لگے.سترہ ماہ بعد، اللہ پاک نے مسلمانوں کو سمت کی تبدیلی کا حکم دیا اور اپنا رخ کعبہ کی جانب موڑنے کا کہا

    پیارے بچو!!! یہ عصر کی نماز کا وقت تھا، سب مسلمان آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی پیروی کرتے ہوئے نماز ادا کر رہے تھے، اسی دوران آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو اللہ تعالیٰ کی جانب سے وحی کے ذریعے حکم دیا گیا کہ اپنا رخ کعبہ کی جانب موڑ لیں آپ نے فوراً اپنی پشت پھیری اور رخ تبدیل کر لیا. فوراً ہی آپ کے تمام ساتھیوں نے بھی آپ کی پیروی کرتے ہوئے اپنا رخ تبدیل کر لیا. 

    آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سےکوئی سوال نہ کیا گیا، صحابہ آپ سے نہ تو بحث کیا کرتے تھے اور نہ آپ کی حکم عدولی کرتے تھے. ہمارے لیے بھی اسلام کی یہی تعلیم ہے کہ ہمیں اللہ اور اس کے رسول کے تمام احکامات پر بغیر کسی بحث اور دلیل کے عمل کرنا چاہیے. نہ کوئی شکوہ نہ شکایت، محض قرآن اور سنت کے احکامات پر عمل اور ان کی پیروی کریں. 

    hadees

    اس حدیث کو اپنی نوٹ بک میں لکھنا نہ بھولیے گا، دوسری احادیث کے ساتھ ساتھ اس کی بھی تصویر شئیر کریں تاکہ آپ کے بچوں کے احادیث کی تکمیل کی سند دی جا سکے.اللہ پاک سے دعا ہے کہ وہ اس کام کو آپ کے لیے آسان بنا دے 

    نوٹ:اس حدیث کو اپنے دوستوں اور گھر والوں کے ساتھ شئیر کریں، تاکہ زیادہ لوگ اس سے فائدہ اٹھا سکیں

    This Hadees and story in Video

    Worksheet for this Hadees and story…… You can buy this Book of 35 colouring pages. Comment to get a copy.
    hadees
    This course could be done online for free with the help of our free hadees and stories. You can read English stories here and
    . Free hadees book in pdf is available on our homepage and the workbook is available to buy at our courses sign-up page.

    Or you can join our online classes to learn about Islam. List of courses/ Classes we have

    • Online Quran classes for beginners
    • Online Quran recitation and Memorisation classes
    • Islamic education for children
    • Seerah course
    • Ramzan boost course
    • Faith boost course
    • Rights of parents course
    • Prayer for kids course

    How was your experience visiting our site? If this course helped you? Please leave your thoughts. If you have any questions, you can ask them in the Question tab. If you want to connect with us via Email, then email here

  • Story 14 Urdu| Hadith and story About Darood Ibraheem

    Story 14 Urdu| Hadith and story About Darood Ibraheem

    Welcome to Our online islamic courses. This is Hadith with stories course for Kids. You are going to Start a short course for your child. After this course, your children would have their own mini -Kitab -UL-Hadess (For a Description of this Free online course scroll down)

    Here is the “14th Hadees and story of Our hadith with stories course for kids.

    online islamic courses

    پیارے بچوں ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب بھی تم میرا نام سنو تو درود پڑھو۔  پیارے بچوں درود دراصل ایک دعا ہے جس میں ہم اپنے پیارے

    نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے دعا کرتے ہیں۔ درود ابراہیمی میں ہم کہتے ہیں کہ اے اللہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کی تمام اولاد پر اسی طرح برکت نازل فرمائے جیسا کہ تو نے ابراہیم علیہ السلام اور ان کی اولاد کو برکت دی ہے

    ۔میرے پیارے بچوں حضرت ابراہیم علیہ السلام بہت فرمانبردار اور پرہیزگار نبی تھے۔ انہیں بہت سے مسائل اور مشکلات کا سامنا کرنا پڑا لیکن انہوں نے ہمیشہ اپنی آزمائشوں کو پورا کیا۔

    online islamic courses

    اللہ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو ایسی قوم کی طرف بھیجا جو بت پرست تھی. حضرت ابراہیم علیہ السلام کے والد بھی بت پرست تھے لیکن حضرت ابراہیم علیہ السلام نے بت پرست ہونے سے انکار کر دیا اور اپنے والد اور دوسرے لوگوں کو قائل کرنے کی کوشش کی۔ ان کے تمام بتوں کو توڑ دیا، اس کی وجہ سے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے والد اور دوسرے لوگوں نے انہیں شہر سے نکال دیا،

    لیکن ابراہیم علیہ السلام اللہ کے شکر گزار بندے تھے- آپ اللہ کے حکم   کی اطاعت کرتے رہے۔ 

    جب حضرت ابراہیم علیہ السلام کی شادی ہوئی تو انہیں کئی سال بعد بیٹے سے نوازا گیا۔ وہ بہت خوش ہوئے – لیکن پھر اللہ نے انہیں حکم دیا کہ وہ اپنی بیوی اور بیٹے اسماعیل کو مکہ مکرمہ کے ویران علاقے میں چھوڑ دیں۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اللہ کے حکم کو پورا کیا اور انہیں کچھ کھانا اور پانی دے کر وہاں چھوڑ دیا۔آپکو اللہ پر یقین تھا کہ اللہ ان کی مدد کرے گا.- کچھ دیر بعد پانی ختم   ہو گیا اور بچہ اسماعیل پیاس کی وجہ سے رونےلگا، ماں کو یہاں سے وہاں پانی تلاش کرنے لگی لیکن  پانی  نہ ملا  

    پھر اللہ نے اپنی مدد بھیجی. حضرت اسماعیل علیہ السلام کی ایڑیاں زمین پر رگڑنے   سے چٹان سے پانی بہنے لگا ۔اس پانی کو آب زم زم کہا جاتا ہے۔ پانی کی سہولت کی وجہ سے لوگ وہاں رہنے شروع ہو گئے اور ویران علاقے میں ایک نیا شہر بن گیا جس کا نام مکہ مکرمہ تھا

    کچھ سال بعد جب حضرت اسماعیل علیہ السلام کی عمر 9 سے 10 سال ہو گئی تو اللہ نے خواب میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کو حکم دیا کہ وہ اپنے بیٹے کو اللہ کی راہ میں قربان کر دیں ۔

    پیارے بچوں ایک باپ کے لئے ایسا کرنا بہت مشکل تھا، لیکن حضرت ابراہیم علیہ السلام جانتے تھے کہ اللہ کبھی کسی کے ساتھ ظلم نہیں کرے گا، یہ اللہ کی طرف سے آزمائش ہو گی، چنانچہ انہوں نے اپنے بیٹے کو اللہ کے حکم کے بارے میں بتایا۔

    ان کا بیٹا بھی ایک فرمانبردار  انسان تھا۔ انہوں نے کہا کہ بابا جان ہم اسی طرح کریں  گے جس طرح   اللہ نے آپ کو حکم دیا ہے ، میں اللہ کی خواہش سے قربان ہو جاوں گا ، پھر اللہ نے ان کی مدد بھیجی حضرت اسماعیل علیہ السلام کی جگہ  اللہ  نے ایک بھیڑ بھیج   دی اور  حضرت اسماعیل علیہ السلام  کی بجائے  بھیڑ کی قربانی کی گئی…

    پیارے بچوں، یہ آزمائش بہت مشکل تھی لیکن اس  کا انعام بہت بڑا تھا۔ اللہ نے انہیں بیت اللہ یعنی اپنا گھر تعمیر کرنے کی وحی نازل کی. بوڑھا باپ (حضرت ابراہیم علیہ السلام ) اینٹیں لگاتے جاتے اور ان  کا جوان بیٹا (حضرت اسماعیل علیہ السلام) اینٹیں اور پتھر لے لے کر آتے   اور ساتھ ساتھ   دعا    کرتے

    ”. اے اللہ ہمارے اعمال قبول فرما، ہماری اولاد کو برکت دے اور اس گھر کو قیامت تک پوری دنیا کے لیے نعمت بنا دے” اللہ  نے  ان  کی  دعا  قبول  کی اور باقی سب نبی حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اولاد میں  سے  تھے –

    پیارے ببچوں آج تمام عیسائی ‘ مسلمان اور یہودی حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اولاد ہیں آج بھی مسلمان حضرت ابراہیم علیہ السلام کی سنت پر عمل پیرا ہیں اور عید الاضحی پر قربانی کرتے ہیں اور خانہ کعبہ  کا      طواف کرتے ہیں اور  یہ سعادت  انہیں قیامت تک حاصل رہے  گی ۔

    ہمیں حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر درود پڑھنا چاہیے اور حدیث نبوی پر عمل کرنا چاہیے تاکہ اللہ پاک نبی اور ان کی اولاد کو بھی برکت دے۔ ۔

     پیارے بچوں ہمیں اسلام اور سنت کی تعلیمات پر عمل کرنا چاہئے۔ پیارے بچوں آپ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود پڑھتے ہیں اور اسے اپنی کتاب الحدیث

    میں لکھیں ، اسے اچھی طرح یاد کریں اور پھر دوسروں کے ساتھ شیئر کریں تاکہ دوسرے لوگ بھی حدیث کی اہمیت سے آگاہ ہو جائیں ۔

    You can watch or read this story in English as well in Stories for children section or Search as Hadith no14 story in English.
    This story is written for our 30-short hadith with stories online Islamic course for kids. You can join this course. We offer online classes for a very reasonable fee.

    This Hadith and story in the Video

    Enrolments Available

    This is a short course of hadith and stories from My 30 short hadith with stories course. Online group classes are available online for all time zones. Recommended age for the class Hadith for kids is 7+. These classes are available in English and Urdu. If you want to enroll your child in our courses contact us via.

    Our online islamic courses

    • Online Quran classes for all ages.
    • Easy Tafseer for kids with exciting stories you can see that course in my hadith course tab.
    • Prayer for kids course is a short course to teach about taharat, Gusal, wudu, times of prayers, number and names of prayers, pillars and conditions of prayer, and method of prayer. Search as Prayer for kids course on the search bar.
    • Ramzan boost course we do start 2 weeks before Ramzan.
    • Faith boos course In December to say No To Marry Christmas.
    • Kindness to Parents
    • Seerah course

    If you want to start this course with me then leave a comment, Email me or enroll your child here.

    Download your free copy of 30 short Hadith book pdfs in Urdu/Eng here

    Work Books designed by Us You can buy here

  • Story 10 Urdu| What is real beauty? Beautiful hadith.

    Story 10 Urdu| What is real beauty? Beautiful hadith.

    Welcome to our Hadees with stories short course for kids and adults. This course has been designed for personality development

    Hadees no 10

    Lesson no 11

    Topic of hadithBeauty

    Story. A Princess

    Hadees- حدیث

    hadees

     
    یہ حدیث اللہ کی صفت سکھانے کے ساتھ ساتھ بچوں کو صاف ستھرا رہنا سیکھاتی -اس کے ساتھ ساتھ بچوں  کو ماحول کو صاف رکھنا اور خوبصورتی کا احساس رکھنا پیدا کرے گی -آج لوگ کپڑے بدلنا ور بل بنانا تک دنیاوی کام سمجھتے ہیں.جب کہ اگر اگر ہم سنت کی نیت سے اور الله کو خوش کرنے کی نیت سے سب کچھ کریں گے تو اس پر اجر بھی ملی گا. لہذا آج کی حدیث اور کہانی بچوں کے لیے بہت اہم ہے

    ہمارے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اس حدیث میں فرمایا ہے کہ اللہ خوبصورت ہے اور وہ خوبصورتی کو پسند کرتا ہے۔ یہ حدیث صحیح مسلم 91سے لی گئی ہے.اس حدیث کا موضوع حسن ہے اور کہانی کا نام خوبصورت شہزادی ہے.پیارے بچوں پیارے بچوں یہ حدیث اللہ کے اوصاف میں سے ایک صفت کے  بارے میں ہے.

    اگر ہم فطرت میں دیکھیں تو ہمیں خوبصورت پھول، تتلیاں اور بہت سے کیڑے نظر آئیں گے، آسمان پر ستارے اور چاند، سمندر، پھل، رنگ اور اس دنیا کی ہر چیز بہت خوبصورت ہے۔ بچے اور ہم بھی اللہ کی بہترین اور معصوم مخلوق ہیں۔ اب یہ ہمارا فرض ہے کہ ہم بہت صاف ستھرے رہیں اور اپنے ارد گرد کی چیزوں کو صاف ستھرا رکھیں کیونکہ ہمارے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم بھی ایک صاف ستھرے اور خوش لباس شخص تھے۔ پس سنت پر عمل کرنے سے ہم خوش ہوں گے اور ہمیں اللہ کا شکر ادا کرنے کا بدلہ بھی ملے گا۔

    Story-A Prinsess/ ایک شہزادی

    hadees

    ایک بار ایک شہزادی تھی جو بہت خوبصورت تھی۔ اس کے والدین نے اس کا بہترین خیال رکھا۔ لیکن وہ بہت سست تھی۔ وہ ہمیشہ گندے کپڑوں میں رہتی ہے، وہ اکثر بالوں کی پرواہ نہیں کرتی اور انہیں بغیر کنگھی کے چھوڑ جاتی تھی۔ اس کے دانت پیلے تھے کیونکہ وہ کئی دنوں تک انہیں برش نہیں کرتی تھی۔ اس کے پاس بہت سے نوکراورنوکرانیاں تھیں جو اپنی خدمات پیش کرنے کے لئے تیار رہتے تھے ۔

    وہ ان سے اپنے کمرے، اپنے کپڑے اور الماریاں صاف کرنے کا کہنے کی بجائے ہر وقت اپنی نوکرانیوں کے ساتھ کھیلتی. تو اس کا کمرہ بھی گندا ہو جاتاتھا۔ اس کی والدہ ملکہ نے بھی دیگر سرگرمیوں پر زیادہ وقت صرف کیا۔ لہذا اس کی رہنمائی کرنے والا کوئی نہیں تھا۔

    ایک بار وہ اپنے سب گھر والوں کے ساتھ سیر پر نکلےانہوں نے ایک دریا کے خوبصورت کنارے کے قریب خیمہ لگایا۔ وہ لطف اندوز ہو رہے تھے. نوکر کھانا پکا رہے تھے اور کھانا پیش کر رہے تھے۔  کھانے کے بعد سب ادھر ادھر گھومنے شروع ہو گئے، ہر کوئی اپنی پسندیدہ سرگرمیوں میں مصروف تھا. بادشاہ نے پولو کھیلنا شروع کیا۔

    شہزادی بھی اپنی عمر کی نوکرانیوں کے ساتھ چہل قدمی کے لئے چلی گئ۔ وہ دریا کے کنارے دوڑنے لگی۔ انہوں نے ایک دوسرے پر پانی برسایا۔ اس نے اپنے جوتے اتار دیئے۔ ان کے کپڑے گیلے تھے. پھر وہ اپنی نوکرانیوں کے ساتھ چھپ کر کھیلنے اور تلاش کرنے کا کھیل کھیلنا  شروع کیا ۔ وہ اپنے خیموں سے بہت دور چلی گئی اور کھو گئی۔ وہ اپنے خیموں کو تلاش کرنے کے لئے ادھر ادھر بھٹکتی رہی لیکن کوئی فائدہ نہیں ہوا ۔

    اب وہ پریشان تھی. وہ ادھر ادھر بھاگ رہی تھی. ۔ اس کے کپڑے اب گندے تھے ۔ لیکن اسے اس سے کوئی مسئلہ نہیں تھا . وہ بھوکی بھی تھی. آخر کار وہ ایک گاؤں میں پہنچ گئی۔ اس نے گاؤں کے باہر ایک جھونپڑی دیکھی۔ وہ وہاں گئی. اسے وہاں ایک بوڑھا اور ایک بوڑھی عورت ملے۔ اس نے انہیں بتایا کہ وہ کھو گئی ہے۔

    اس نے انہیں یہ بھی بتایا کہ میں ایک شہزادی ہوں۔ میرے والدین مجھے تلاش کر رہے ہوں گے لیکن رات ہے۔ میں پناہ اور میں  کچھ کھانا چاہتی ہوں۔ براہ مہربانی مجھے آپ اپنے ساتھ رہنے کی اجازت دیں. بوڑھے جوڑے نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا۔ وہ اس کی گندی شکل اور گندے کپڑوں  کی وجہ سے یقین نہیں کرسکتے تھے ۔

    اس کے ناخن لمبے اور گندے تھے۔ ان دونوں کا خیال تھا کہ وہ ضرور جھوٹ بول رہی ہے۔ اور وہ انہیں نقصان پہنچا سکتی ہے۔ لیکن وہ اسے نہیں کہنا چاہتے تھے ۔ کیونکہ اگر وہ شہزادی ہو گی جیسا کہ وہ کہہ رہی ہے تو اس کا باپ بادشاہ اپنی بیٹی کی مدد نہ کرنے پر انہیں نقصان پہنچا سکتا ہے۔ وہ بڑے پریشان تھے۔

    آخر کار، انہوں نے اسے اپنے ساتھ رکھنے کا فیصلہ کیا۔ وہ اس کا فیصلہ کر رہے تھے اور کسی بھی صورتحال کے لئے چوکس تھے۔ وہ خوشی سےکھانا نہیں کھاتی تھی کیونکہ کھانا اس کے شاہی انداز کی طرح نہیں تھا۔ پھر وہ سو گئی. لیکن وہ سو نہیں سکتی تھی. کیونکہ بستر بہت مشکل تھا. وہ اپنے نرم اور آرام دہ بستر سے محروم تھی۔

    بوڑھے لوگ اس کی بے چینی کا مشاہدہ کر رہے تھے۔ اب انہیں یقین ہو گیا کہ وہ واقعی شہزادی ہے۔ تو صبح کے وقت انہوں نے اس سے پوچھا کہ تمہاری رات کیسی گزری۔ اس نے کہا کہ میں رات بھر سو نہیں سکی۔ آپ کے بستر بہت مشکل ہیں. انہوں نے مسکرا کر کہا، اوو غریب لڑکی تم ایک شہزادی ہو۔ ہم جانتے ہیں کہ ہمارا گھر اور سہولیات آپ کی حیثیت کے مطابق نہیں ۔ اب آپ کی مدد کرنے کا وقت ہے.

    آپ کا خاندان جلد ہی یہاں ہوگا، کیونکہ ہم نے پہلے ہی گاؤں سے کچھ لڑکوں کو آپ کے خیموں کی جگہ تلاش کرنے کے لئے بھیجا تھا. لیکن ہم کچھ کہنا چاہتے ہیں.

    اوہ تم کتنے مہربان ہو؟ میں واقعی آپ کی بہت شکر گزار ہوں. ہاں براہ مہربانی آپ کیا کہنا چاہتے ہیں. بوڑھی عورت نے کہا، ”چھوٹی، خوبصورت لڑکی، تم بہت اچھی اور خوبصورت ہو. اللہ نے تمہیں کامل کر دیا. میں یہ ضرور کہوں گی کہ آپ اپنا خیال رکھیں۔ آپ کو ہمیشہ اپنے آپ کو صاف ستھرا رکھنا چاہئے۔ یہ سنت ہے اور ہمارا نصف ا یمان ہے۔

    اللہ تعالیٰ خوبصورت ہے اور وہ خوبصورتی اور صفائی کو پسند کرتا ہے۔ تم ایک شہزادی ہو. آپ کی مدد کے لیے آپ کے پاس بہت سے نوکر اور نوکرانیاں  ہیں ۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ آپ اس طرح اتنےگندے  حال میں رہتے ہیں۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ ہم نے یقین نہیں کیا کہ آپ شہزادی ہیں۔ لڑکی خود پر افسوس کر رہی تھی۔

    اس نے دیکھا کہ بوڑھی عورت غریب ہے لیکن اس کا لباس اتنا صاف تھا، اس کے بال سفید تھے اور اچھی طرح بنائے گئے تھے۔ اس کے گھر کی دیکھ بھال بھی کی گئی تھی۔ اس نے وعدہ کیا کہ وہ ان کے مشورے کو ہمیشہ یاد رکھے گی۔ اسی دوران کچھ گھڑ سوار اپنی گھوڑا گاڑی لے کر وہاں آئے اور وہ اس پر سوار ہو گئی۔ اس نے ہاتھ ہلایا اور بہت اچھا سبق لے کر جھونپڑی سے نکل گئی۔

    پیارے بچوں، آپ سب بھی بہت خوبصورت اور کامل انسان ہیں. لہذا ہمیشہ صاف ستھرے اور اچھی طرح سے انتظام کرنے کی کوشش کریں۔ تاکہ اللہ آپ سے محبت کرے اور آپ کو اس کی سنت پر عمل کرنے کا اجر دے

    This story in English
    Search as Hadith no 10 story in English.

    This Hadith and story in Video

    https://www.youtube.com/watch?v=nJ9CEvtpHgY&t=9s

    Worksheet design for this Hadith and story

    hadees

    Online classes and courses we have

  • Story 8 Urdu|Hadith about How To Teach Eating Manners To Kids?

    Story 8 Urdu|Hadith about How To Teach Eating Manners To Kids?

    Welcome to Our Hadith with stories course for Kids. You are going to Start a short course for your child. After this course, your children would have their own mini -Kitab -UL-Hadess (For a Description of this Free online course scroll down)Here is the “First Hadees and story of Our hadith with stories course for kids

    hadith on Eating manners in Islam in Urdu

    This is a story of a hungry boy who started to eat with his left hand. This story will teach hadith on the Eating manners in Islam and the use of the right hand.

    پیارے بچوں، ہمیشہ کی طرح، میں ایک خوبصورت حدیث اور ایک دلچسپ کہانی آپ سب کے ساتھ شیئر کرنے جا   رہی  ہوں-  آج کے لئے ہماری حدیث مندرجہ ذیل باتوں پر مبنی ہے: ‘تم میں سے کوئی بھی اپنے بائیں ہاتھ سے نہ کھائے۔

     

    hadith on Eating manners in Islam in Urdu

    پیارے بچوں، اس حدیث کو پڑھنے کے بعد آپ کو پتہ چل جائے گا کہ ہمیں اپنے بائیں ہاتھ سے کھانا نہیں کھانا چاہئے۔ آپ کے بائیں ہاتھ سے کھانے کے مضر اثرات کیا ہیں اور ہمیں اس عادت سے کیوں گریز کرنا چاہئے؟ آئیے اس موضوع کے بارے میں مزید جاننے کے لئے ایک کہانی سنتے ہیں۔

    hadith on Eating manners in Islam in Urdu
    Hadith on Eating manners in Islam in Urdu with story

    بھوکا لڑکا

     کہانی ایک لڑکے کے بارے میں ہے جس کا نام علی تھا۔ علی ایک اچھا اور خوش اخلاق بچہ تھا۔ وہ ہمیشہ اچھا برتاؤ کرتا تھا اور دوسروں کا احترام کرتا تھا۔ وہ وقت پر کھیلتا اور تعلیم حاصل کرتا تھا۔ سب اس کی تعریف کرتے   تھے- لیکن پیارے بچوں، کچھ عرصے بعد، علی کی عادات تبدیل ہونے لگیں۔اب ایسا ہوا کہ علی نے کھیل کھیلنے میں زیادہ وقت گزارنا شروع کیا۔ وہ کھانا کھاتے ہوئے بھی اپنے کھلونوں سے کھیلتارہتا تھا۔ اس کے ہاتھ میں ہمیشہ کھیلنے کے لئے کچھ نہ کچھ ہوتا تھا۔  پیارے بچوں، علی جب بھی کھانا کھاتا، یا توموبائل فون اس کے ہاتھ میں  ہوتایا کھانے کے دوران کھیلنے کے لئے اس کے ہاتھ میں کھلونا ہوتا تھا۔اس طرح اس نے اپنے بائیں ہاتھ سے کھانا شروع کردیا تاکہ وہ اپنے دائیں ہاتھ سے کھیل سکے۔ پیارے بچوں، کیا آپ جانتے ہیں کہ شیطان ان لوگوں کے ساتھ کھاتا ہے جو اپنے بائیں ہاتھ سے کھاتے ہیں، اور اگر بائیں ہاتھ کو کھانے کے لئے استعمال کیا جاتا ہے تو کھانے کی برکت شیطان کے پیٹ میں جاتی ہے۔ ایک دن علی کی والدہ نے اسے مشورہ دیا کہ وہ اپنے بائیں ہاتھ سے کھانا نہ کھائے کیونکہ یہ ایک بری عادت تھی، لیکن علی اس پر عمل کرنا بھول جاتا۔ جلد ہی، یہ اس کی عادت بن گئی کہ وہ  ہمیشہ اپنے  بائیں ہاتھ سے کھانا کھاتا- لیکن جب بھی وہ اپنے بائیں ہاتھ سے کھانا کھاتا تو ایک شیطان اس کےکھانے سے برکت چھین لے جاتا اور یہ شیطان کے پیٹ میں چلا جاتا۔جب بھی علی اپنے بائیں ہاتھ سے کھانا کھایا کرتا تو اس کی بھوک مطمئن نہ ہوتی اور وہ خالی محسوس کرتا۔ وہ دن بدن کمزور ہوتا گیا۔ اس نے زیادہ کھانا کھا نا  شروع کیا لیکن یہ کبھی کافی نہیں ہوتا تھا کیونکہ وہ کھانے کے آداب بھول گیا تھا۔

     وہ اپنے ہاتھ نہیں دھوتا تھا۔

    وہ  کھانے سے پہلےبسم اللہ نہیں پڑھتا تھا۔

    وہ اپنے دائیں ہاتھ سے نہیں کھاتا  تھا۔ 

    اور ہمیشہ کھاتے وقت کھیلتا   رہتا  تھا

    اس  پر شیطان واقعی خوش تھا کیونکہ وہ علی کی بری عادات کی تعریف کرتا تھا۔ وہ موٹا ہو رہا تھا کیونکہ وہ علی کے کھانے سے ساری توانائی لے رہا تھا۔علی پہلے کی طرح نہیں کھیل سکتا تھا کیونکہ جب بھی وہ کھیلنے کے لئے باہر جاتا تھا تو اسے بھوک لگتی تھی۔ اسے اپنا پیٹ بھرنے کے لئے گھر واپس جانا پڑتاتھا ۔ لہذا، وہ زیادہ تر اپنی کھڑکی سے کھیلتے ہوئے بچوں کو دیکھتا تھا-پیارے بچوں، اس کے والدین اس کے بارے میں بہت پریشان ہو گئے لیکن علی نے ان کی بات نہیں سنی اور اس کے بجائے جب بھی وہ اس سے بات کرنے کی کوشش کرتے تو ان پر غصہ کرتا تھا۔وہ اب قابو سے باہر ہو گیا تھا. اکثروہ اپنے بھائی اور بہن کا حصہ بھی کھا جاتا تھا- پھر بھی وہ بھوکا رہتا تھا۔ اس کی بھوک کی کہانی ہر طرف پھیل گئی۔ اس کے رشتہ دار اور خاندان کے افراد اسے مطمئن نہیں کر سکے چاہے وہ اسے کتنا کھانا ہی کیوں نہ دیں۔ آخر کار کسی نے اس  کے والدین کو مشورہ دیا کہ وہ کسی اچھے علم والے سے سے ملاقات کر کے مشورہ کریں جو اللہ کا نیک بندہ اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت پر عمل کرنے والا  ہو اور اس کا علاج کرے ۔ علی کے والدین اسے ایک عالم بندے کے پاس لے گئے۔ اس نے ا ن کا مسئلہ سنا اور کہا، ‘فکر نہ کرو، علی کو کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ ان شاء اللہ علی چند دنوں میں ٹھیک ہو جائے گا۔ اس شخص نے علی کو اپنے ساتھ رکھ لیا-اور اس کے لئے کھانے کا انتظام کیا۔ جب علی کھانے لگا، تو اس شخص نے علی سے کہا کہ کھانا کھانے سے پہلے اسے ایک شرائط ماننی ہوگی۔ علی کافی عرصے سے بھوکا تھا لہذا اس نے اس سے کہا کہ وہ اسے شرائط بتائے تاکہ وہ اس پر عمل کرسکے۔اس نیک عالم نے علی کو پہلے ہاتھ دھونے کو کہا۔ علی نے فورا تعمیل کی۔ پھر علی سے بسم اللہ پڑھنے کو کہا۔ علی نے ہدایات پر عمل کیا اور بسم اللہ پڑھی۔ جب وہ کھانے جا رہا تھا تو اس نے اپنا بائیاں ہاتھ استعمال کرنا چاہا۔انہوں نے وضاحت کی کہ ہمیں ہمیشہ کھانے کے لئے اپنے دائیں ہاتھ کا استعمال کرنا چاہئے چاہے اس میں کتنا ہی وقت کیوں نہ لگے۔علی نے بسم اللہ پڑھی .. اور پھر دائیں ہاتھ سے کھانا شروع کیا لیکن اسے مشکل پیش آئی کیونکہ وہ بائیں ہاتھ سے کھانے کا عادی تھا۔ یہ اس کے لئے بہت تکلیف دہ تھا لیکن چونکہ یہ ایک نصیحت تھی جس کے بارے میں دانشمند نے زور دیا تھا، اس لئے وہ آہستہ آہستہ اپنے دائیں ہاتھ سے کھاتا رہا۔  پیارے بچوں، اس بار شیطان کو اس کے کھانے سے حصہ نہیں مل سکا۔ وہ علی کے بائیں ہاتھ سے کھانے کا انتظار کرتا رہا تاکہ اسے علی کے کھانے کا حصہ مل سکے۔ لیکن وہ شخص علی کے ساتھ بیٹھا تھا اور اس نے اس بات کو یقینی بنایا کہ علی بائیں ہاتھ سے کھانا نہ کھائے اور اپنا کھانا ٹھیک سے ختم کرے۔ ہر دفعہ ایسا کرنے سے علی مطمئن اوراپنا  پیٹ بھرا ہوا محسوس کرتا تھا۔ شیطان بھوکا رہتا. پیارے بچوں، جب بھی عقیدت مند شخص علی کو کھانا دیتا، وہ اسے اپنے دائیں ہاتھ سے کھاتا تھا۔ ایک نیک آدمی کی دانش مندی کی وجہ سے شیطان چلا گیا-علی نے اپنی بھوک کے مطابق اور وقت پر کھانا کھانا شروع کر دیا۔  علی کے والدین اس شخص کے شکر گزار تھے۔  علی نے اپنے آپ سے یہ وعدہ بھی کیا تھا کہ وہ دائیں ہاتھ سے کھانے کی اپنی عادت کو کبھی تبدیل نہیں کرے گا۔ پیارے بچوں، آپ دیکھ رہے ہیں کہ علی اپنی بری عادات کی وجہ سے شیطان کے ہاتھوں کیسے پھنس گیا؟ 

    تو پیارے بچوں، ہمیشہ کھانے کے آداب کو یاد رکھیں جیسے: بسم اللہ پڑھتے ہوئے ہاتھ دھوئیں… دائیں ہاتھ سے کھانا کھانا’ کھانے کے دوران بات نہ کرنا (یا صرف اچھی چیزوں کے بارے میں بات کرنا)’ آرام سےبیٹھ کر  کھانا کھانا’کھانا ٹھیک سے ختم کرنا ‘کھاناکھانےکے بعد الحمداللہ کہنا – پیارے بچوں مجھے امید ہے کہ آپ ان اصولوں پر عمل کریں گے۔ اب آپ کو اس حدیث کو یاد رکھنا ہوگا اور یہ معلومات دوسروں تک بھی پھیلانی ہوں گی۔ 

    Eating manners poster

    hadith on Eating manners in Islam in Urdu

    Click the link for the Video of this Story

    Hadith worksheet about hadith on Eating manners in Islam in Urdu

    hadith on Eating manners in Islam in Urdu

    Enrolments Available

    This is a short course of hadith and stories from My 30 short hadith with stories course. My hadith course is very much liked and appreciated by parents and students. Online group classes are available online for all time zones. Recommended age for the class Hadith for kids is 7+. These classes are available in English and Urdu. If you want to enroll your child in our classes contact us via.

    Other courses we have

    • Easy Tafseer for kids with exciting stories you can see that course in my hadith course tab.
    • Prayer for kids course is a short course to teach about taharat, Gusal, wudu, times of prayers, number and names of prayers, pillars and conditions, and prayer method. Search as Prayer for kids course on the search bar.
    • Ramzan boost course we do start 2 weeks before Ramzan.
    • Faith boos course In December to say No To Marry Christmas.
    • Kindness to Parents

    If you want to start this course with me then leave a comment, Email me or enroll your child here.

    Download your free copy of 30 short Hadith book pdf in Urdu/Eng from the Posts tab.

    Worksheet for this Hadith and story. (Buy This worksheet book here)

    A child is telling about eating manners and This story after learning this hadith.

    Students activities

    https://youtu.be/RvXRqIK4NjQ

  • Story 9Urdu| A New Story|The Kindness Of Subuktigin|سبکیتیگین کی نرم دلی

    Story 9Urdu| A New Story|The Kindness Of Subuktigin|سبکیتیگین کی نرم دلی

    Welcome to our Hadees with stories short course for kids and adults. This course has been designed for personality development.

    Lesson no 10

    Hadees no 9| Sahih Muslim 2593

    Topic of Hadith Kindness|حدیث کا  موضوع نرم دلی

    Story Kindness of Subuktigin|کہانی کا نا م سبکیتیگین کی نرم دلی

    Hadith Introduction|حدیث کا  موضوع

    آج   کی حدیث کا  موضوع نرم دلی ہے  ۔

    اس حدیث کا مفہوم ہے کہ  اللہ نرم دل ہے اور وہ نرم دلی کو پسند کرتا ہے ۔ یہ حدیث صحیح مسلم 2593 کی کتاب سے لی گئی ہے ۔

    hadees

    پیارے بچوں، نرم دلی اللہ کے اوصاف میں سے ایک صفت ہے. اللہ اپنی مخلوق پر بہت مہربان ہے. اور وہ جانوروں اور کیڑوں کے ساتھ بھی حسن سلوک کرتا ہے۔ اللہ کے نبی محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سب سے نرم دلیانسان تھے۔ آپ  صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کبھی کسی کو تکلیف نہیں دی۔ اور ۔ آپ  صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمیں بھی  رحمدلی کا سبق دیا۔ چنانچہ ہم اسلام میں بہت سی کہانیاں دیکھ سکتے ہیں جہاں مسلمان اللہ کی مخلوق کے ساتھ بہت مہربان نظر آیا ہے۔ آج ہم نرم دلی کی ایک بہت آج کی کہانی کا نا م سبکیتیگین کی نرم دلی ہےبڑی کہانی سنیں گے۔

    Story of Subuntigin| سبکیتیگین کی نرم دلی

    hadees

     سبکیتیگن جوانی میں غلام تھا اور بعد میں اس نے اپنے مالک الپتگین کی بیٹی سے شادی کر لی۔ یہ وہ وقت تھا جب وہ غلام تھا۔ ایک بار وہ اپنے مالک کے شکار کے لئے گیا۔ وہ پورے دن شکار ڈھو   نڈتا ہے لیکن شکار نہیں ملتا۔ جب وہ واپس جا رہا تھا تو اسے ایک جھیل کے قریب ایک ہرن کا  بچہ ملا۔ وہ خوش تھا، آخر کار اسے کچھ مل گیا. اس نے دوڑ کر ہرن کے بچے کو پکڑ لیا اور اسے کھینچ لیا ہرن کا  بچہ بہت چھوٹا تھا  اس نے کوئی مزاحمت نہیں کی۔۔۔۔ اس نے ہرن کے بچے کو اپنے گھوڑے کے پیچھے رکھا اور اپنی سواری شروع کی۔

    اندھیرا ہونے والا تھا بہت جلد وہ اپنی منزل تک پہنچنے کے لئے تیزی سے سوار ہوا۔ کچھ دیر بعد جب وہ واپس مڑا   تو اس نے ایک ہرنی کو دیکھا۔ اس نے سوچا یہ ہرن کا  بچہ میرے لئے کافی ہے. مجھے ہرنی کا شکار کرنے کی کوشش نہیں کرنی چاہئے۔ اس نے اپنا سفر جاری رکھا۔ کچھ دیر بعد اس نے دیکھا، ہرنی اب بھی اس کے پیچھے آ رہی ہے ۔

    وہ  سوچنے لگا   ہرنی اس کی کیوں پیروی کر رہی ہے۔ وہ خود کو خطرے میں کیوں ڈال رہی  ہے۔ وہ مجھ سے کیا چاہتی ہے. وہ اپنی گہری سوچ میں تھا، اس کی نظر ہرنی کی آنکھوں پر  پڑی ۔ اس نے دیکھا کہ ہرنی بہت  فکر مند نظر آ رہی ہے۔ اس کی آنکھیں پریشان، بھری اور اسے دل لجا تی نظر آنے لگ رہی ہیں۔

    اس کے دماغ نے فورا ً سوچا کہ کیا یہ ماں ہرن ہے؟ اس نے سوچا. اوہ وہ ہے، ہاں وہ ایک ماں ہی  ہے. صرف ایک ماں ہی خود کو خطرے میں ڈال سکتی ہے۔ میں اتنا ظالم کیسے ہو سکتا ہوں؟ مجھے انہیں الگ نہیں کرنا چاہئے.  اس نے سوچا اور  ہرن کے بچے کو آزاد کر دیا. وہ تیزی سے بھاگا اور اپنی ماں کے پاس پہنچا  ، وہ ایک دوسرے سے مل رہے تھے۔

    ماں مہربان تھی اور ہرن کا  بچہ خوش تھا۔ وہ کچھ دیر وہاں رہا اور محبت کے لمحات کو محسوس کیا۔ پھر وہ سوار ہوتا ہے اور اس جذباتی منظر پر آخری نظر دیکھنے کے لئے گھومتا ہے۔

    اس کا شکریہ ادا کرنے  کے لیے ہرنی کی آنکھیں. اس کی شکر گزار تھیں. وہ مطمئن تھا کہ ہرنی خوش ہے۔ اس دن اس کے پاس کچھ نہیں تھا، لیکن اسے اس کے حسن سلوک پر بہت اطمینان ملا۔  اس رات جب وہ سوتا ہے تو اس نے ایک خواب دیکھا ۔ وہ ہرن اس سے کہہ رہا تھا کہ ”تم ایک نیک آدمی ہو، ایک دن تم بادشاہ بنو گے۔

    کئی سال بعد اس کا خواب پورا ہوا۔ اور وہ کچھ سالوں کے بعد غنسی کا بادشاہ بن گیا۔ اس کی نیکیاں اور شفقتیں اس طرح اس کی طرف لوٹ آئیں۔ 

    میرے پیارے بچوں ، ہمیں بھی ہمیشہ ہر ایک کو خوش اورمطمئن رکھنا چاہیے – ہر ایک کے ساتھ رحمدل ہونا چاہئے۔

      اب آپ کو اس حدیث کو اپنی کتاب میں لکھنا چاہیے اور اسے اچھی طرح سیکھنا چاہیے

    This hadees and story in a video

    https://www.youtube.com/watch?v=qC_6yLCTVyg

    Kids activity after learning this Hadees story

    https://www.youtube.com/watch?v=ddwLyfhVX-E

    The workbook buys on our courses sign-up page.

    This course is also helping Homeschooling mothers in different ways. You can get all resources from my website to teach your child 30 short hadiths at home. We have videos, written stories, worksheets, and a full teaching method. So contact us if you need to get these helpful resources.

    This course could be done online for free with the help of our free hadiths and stories.

    This course could be done online for free with the help of our free hadiths and stories.

    You can read English stories here and

    Or you can join our online classes to learn about Islam. List of courses/ Classes we have

    • Online Quran classes for beginners
    • Online Quran recitation and Memorisation classes
    • Islamic education for children
    • Seerah course
    • Ramzan boost course
    • Faith boost course
    • Rights of parents course
    • Prayer for kids course

    How was your experience visiting our site? If this course help you? Please leave your thoughts. You can ask questions in the Question tab if you have any questions. If you want to connect with us via Email, then email here

  • Hazrat Sulemon A.S. Free PDF Islamic stories for children in Urdu.


     حضرت سلیمان الہسلا م کی کہانی 

    حضرت سلیمانؑ ایک اللہ کے ایک طاقت ور, عقلمند اور بہت زیادہ علم والے نبی تھے

    free Urdu stories for children

    . ان کے باباحضرت دائودؑ بھی بھی اللہ کے نبی اور بادشاہ تھے


    . اور وہ جانوروں کی بولی بھی سمجھتے تھے
    حضرت سلیمانؑ نے بھی جانوروں کی بولیاں سیکھی ہوئی تھیں.
    انہوں نے اللہ سے دعا کی کہ اے اللہ مجھے ایسی حکومت عطا فرما. جو پہلے کسی کو نا دی ہو اور نا میرے بعد کسی کو ملے.
    اللہ نے ان کی دعا قبول کی. اور ان کو ہوائوں , جنوں اور تمام مخلوقات کا بادشاہ بنا دیا.
    اب جن ان کے پاس ہر وقت حاضر رہتے اور ان کی ہر بات مانتے. جب وہ کسی کام کا حکم دیتے تو جن کہتے
    “جو حکم میرے آقا”
    حضرت سلیمانؑ ان کو حکم دیتے, تو وہ زمین کے اندر سے ان کے لیے لوہا نکال کر لاتے اور اس سے اونچی اونچی عمارتیں بناتے.
     ہوائیں  ہوائی جہاز سے بھی تیز چلتیں اور  ان کو
     اڑا کر لے جاتیں. پرندے اور جانور ان سے باتیں کرتےتھے

    حضرت سلیمانؑ اور چونٹی!

    ایک دفعہ حضرت سلیمانؑ اپنی فوج کے ساتھ گھوڑوں پر بیٹھ کر کہیں جا رہے تھے.
    راستے میں ایک جگہ چونٹیوں کی بستی تھی.وہاں بہت ساری چونٹیاں رہتی تھیں.
    چونٹیوں کو گھوڑوں کے چلنے کی آواز آئی.
    تو چونٹیوں کی ملکہ بل سے باہر نکلی, اس نے دیکھا کہ,  حضرت سلیمانؑ ایک بہت بڑی فوج کے ساتھ آ رہے ہیں.
    اس نے اعلان کیا کہ سب چونٹیاں اپنی بلوں کے اندر چلی جائو. ایسا نا ہو کہ, سلیمانؑ کی فوج تمہیں پائوں میں روند کر چلی جائے.
    حضرت سلیمانؑ نے اللہ کی دی ہوئی طاقت سے, دور سے ہی چنٹیوں کی یہ گفتگو سن لی تھی. وہ مسکرانے لگے. انہوں اپنی فوج کو حکم دیا کہ راستہ بدل لو. آگے چونٹیاں رہتی ہیں.
    ساری فوج نے اپنا راستہ بدل لیا اور اس طرح چنٹیوں کی بستی بچ گئی.


    حضرت سلیمانؑ اور مچھلی.

    حضرت سلیمانؑ اللہ کی نعمتوں پر بہت خوش تھے. اور اللہ کے شکر گزار بھی تھے.
    ایک دفعی حضرت سلیمانؑ نے اللی سے کہا کہ,
    “اے اللہ تم نے مجھے بےشمار نعمتیں دی ہیں . میں چاہتا ہوں کہ ان نعمتوں سے میں ایک دن کے لیے تیری ساری مخلوق کی دعوت کروں”.
    اللہ نے ان سے کہا کہ,
    “سلیمان ساری مخلوق کو صرف میں ہی رزق دیتا ہوں. تم ایسا نہیں کر سکو گے” .
    پھر ان کے اصرار پر اللہ نے ان کو اجازات دے دی.
    حضرت سلیمانؑ کی دعوت کھانے سب سے پہلے ایک مچھلی آئی.
    حضرت سلیمانؑ نے اس کو کھانا ڈالا. وہ سب کھا گئی. اس نے اور مانگا.حضرت سلیمان نے اس کو پہلے سے بھی زیادہ کھانا ڈالا.  مچھلی وہ سب  بھی  کھا گئی.
    مچھلی نے اور کھانا مانگا. اسطرح وہ بہت سارا کھانا کھا گئی.
    حضرت سلیمانؑ یہ دیکھ کر بہت حیران ہوئے. اور مچھلی سے کہنے لگے کہ,
    ” اے مچھلی! تو ایک دن میں کتنا کھاتی ہے?”
    مچھلی کہنے لگی کہ,
    “اللہ کے نبی, میرا اللہ تو روز مجھے کھلاتا ہے. اس نے تو آج  تک مجھ سے حساب نہیں کیا. اور تم نے ایک دن کھلا کر ہی حساب لینا شروع کر دیا”?
    .       حضرت سلیمانؑ کو اب اللہ کی عظمت اورشان پہلے سے بھی زیادہ بڑی نظرآئی.
    اور اللہ سے فرمایا,
    “اے اللہ تو نے سچ کہا تھا. یہ صرف تو ہے جو ساری مخلوق کو کھلاتا ہے. اور 
    حساب بھی نہیں کرتا..

    حضرت سلیمانؑ اور ملکہ بلقیس

    حضرت سلیمانؑ تمام مخلوقات کے بادشاہ اور اللہ کے نبی تھے.
    ایک دن حضرت سلیمانؑ نے سب انسانوں,جنوں اور مخلوقات کو حکم دیا کہ وہ میرے پاس حاضر ہوں. تو سب ان کے پاس جمع ہو گئے.حضرت سلیمانؑ نے دیکھا کہ ہدہد نہیں آیا.
    حضرت سلیمانؑ نے پوچھا کہ ہدہد کیوں نہیں آیا.
    کوا چونکہ ہدہد کو پسند نہیں کرتا تھا. اس لئے اس نے شکایت لگائی کہ, ہد ہد کو پیغام دیا تھا لیکن اس نے نا فرمانی کی ہے.
    حضرت سلیمانؑ نےحکم دیا کہ ہدہد کو بلایا جائے. اگر وہ بغیر کسی ٹھیک وجہ سے غیر حاضر ہے تو اس کو سخت سزا دی جائے.
    جب ہدہد آ گیا تو اس نے بتایا,کہ میں نے دیکھا کہ ایک ملک سباء کی ملکہ اور اس کے تمام لوگ بتوں کہ عبادت کر رہے تھے. اس لئے میں وہاں رک گیا تاکہ میں اس کہ خبر لا سکوں.
    حضرت سلیمانؑ ا س سے اب ناراض نہیں تھے.
    انہوں نے ایک خط لکھ کر ملکہ کو بیجھا. ملکہ نے وہ خط پڑھا تو اس میں بسم اللہ الرحمٰن الرحیم کے بعد لکھا تھا کہ تم بتوں کی عبادت چھوڑ کر صرف  ایک اللہ کی عبادت کرو نہیں تو ہم سے جنگ کے لئے تیار ہو جائو.
    ملکہ نےاس سے پہلے اللہ کا نام اور بسم اللہ  کبھی نہیں سنی تھی.
    اس نے اپنے وزیروں سے مشورہ کیا تو انہوں نے کہا کہ, اگر تو یہ بادشاہ سچ کہ رہا ہے تو واقعے ہی یہ ہمیں برباد کر دے گا.
     ملکہ بلقیس نے حضرات سلیمانؑ سے ملنے کا اراداہ کیا. وہ اپنے ملک سے نکلی تو حضرت سلیمانؑ کو اس کے آنے کی خبر مل گئی. انہوں نےسب جنوں اور انسانوں سے پوچھا کہ کون ہے جوملکہ کے یہاں پہنچنےسے پہلے اس کا تخت یہاں لا دے. ایک جن بولا میں ایک منٹ میں وہ تخت یہاں لا سکتا ہوں. اسی محفل میں ایک انساں جس کو اللہ نے علم اور نیکی کی وجہ سے بہت طاقت دی ہوئی تھی. وہ بولا کہ میں آپ کی آنکھ جپھکنے سے پہلےاللہ کےحکم سے اس تخت کو یہاں لا سکتا ہوں. پھر وہ شخص اس تخت اس کو لے آیا.
    اس تخت کو جہاں رکھا گیا اس کے راستے میں پانی کا ایک تالاب بنا دیا گیا.جس -کے اوپر شیشے کا خوبصورت رستہ بنا دیا گیا.
    پھر جب ملکہ بلقیس وہاں پہنچی تو اس کو پانی کے اس تالاب کےاوپر سے گزر کر تخت تک جانا تھا.اس نے اپنے پہنچے اٹھا لئے. جاب اس نےپائوں آگے رکھا تو شیشے کےراستے پر پائوں  پڑا وہ بہت شرمندہ ہوئی.
    اس طرح ملکہ بلقیس اس عجیب و غریب مگر شاندار ریاست دیکھ کر بہت متاثر ہوئی.
    اس نے مان لیا کہ یہ واقعے ہی اللہ کی عطا کردہ طاقت ہے. اور اس نے اسلام قبول 
      کر لیا
    اس طرح حضرت سلیمان کی دو عاقبول ہوئی  ان جیسی سلطنت اور نبوت کسی اور -کو نہیں ملی 

    اس کہانی کی لیے عملی کام ، تخلیقی کا م اور دوسری معلومات کی لیے میری Thefireflies .دوسری سائٹ پر تشریف لے جائیں 
     شکریہ..یا.