Category: Urdu children stories

  • Story 8 Urdu|Hadith about How To Teach Eating Manners To Kids?

    Story 8 Urdu|Hadith about How To Teach Eating Manners To Kids?

    Welcome to Our Hadith with stories course for Kids. You are going to Start a short course for your child. After this course, your children would have their own mini -Kitab -UL-Hadess (For a Description of this Free online course scroll down)Here is the “First Hadees and story of Our hadith with stories course for kids

    hadith on Eating manners in Islam in Urdu

    This is a story of a hungry boy who started to eat with his left hand. This story will teach hadith on the Eating manners in Islam and the use of the right hand.

    پیارے بچوں، ہمیشہ کی طرح، میں ایک خوبصورت حدیث اور ایک دلچسپ کہانی آپ سب کے ساتھ شیئر کرنے جا   رہی  ہوں-  آج کے لئے ہماری حدیث مندرجہ ذیل باتوں پر مبنی ہے: ‘تم میں سے کوئی بھی اپنے بائیں ہاتھ سے نہ کھائے۔

     

    hadith on Eating manners in Islam in Urdu

    پیارے بچوں، اس حدیث کو پڑھنے کے بعد آپ کو پتہ چل جائے گا کہ ہمیں اپنے بائیں ہاتھ سے کھانا نہیں کھانا چاہئے۔ آپ کے بائیں ہاتھ سے کھانے کے مضر اثرات کیا ہیں اور ہمیں اس عادت سے کیوں گریز کرنا چاہئے؟ آئیے اس موضوع کے بارے میں مزید جاننے کے لئے ایک کہانی سنتے ہیں۔

    hadith on Eating manners in Islam in Urdu
    Hadith on Eating manners in Islam in Urdu with story

    بھوکا لڑکا

     کہانی ایک لڑکے کے بارے میں ہے جس کا نام علی تھا۔ علی ایک اچھا اور خوش اخلاق بچہ تھا۔ وہ ہمیشہ اچھا برتاؤ کرتا تھا اور دوسروں کا احترام کرتا تھا۔ وہ وقت پر کھیلتا اور تعلیم حاصل کرتا تھا۔ سب اس کی تعریف کرتے   تھے- لیکن پیارے بچوں، کچھ عرصے بعد، علی کی عادات تبدیل ہونے لگیں۔اب ایسا ہوا کہ علی نے کھیل کھیلنے میں زیادہ وقت گزارنا شروع کیا۔ وہ کھانا کھاتے ہوئے بھی اپنے کھلونوں سے کھیلتارہتا تھا۔ اس کے ہاتھ میں ہمیشہ کھیلنے کے لئے کچھ نہ کچھ ہوتا تھا۔  پیارے بچوں، علی جب بھی کھانا کھاتا، یا توموبائل فون اس کے ہاتھ میں  ہوتایا کھانے کے دوران کھیلنے کے لئے اس کے ہاتھ میں کھلونا ہوتا تھا۔اس طرح اس نے اپنے بائیں ہاتھ سے کھانا شروع کردیا تاکہ وہ اپنے دائیں ہاتھ سے کھیل سکے۔ پیارے بچوں، کیا آپ جانتے ہیں کہ شیطان ان لوگوں کے ساتھ کھاتا ہے جو اپنے بائیں ہاتھ سے کھاتے ہیں، اور اگر بائیں ہاتھ کو کھانے کے لئے استعمال کیا جاتا ہے تو کھانے کی برکت شیطان کے پیٹ میں جاتی ہے۔ ایک دن علی کی والدہ نے اسے مشورہ دیا کہ وہ اپنے بائیں ہاتھ سے کھانا نہ کھائے کیونکہ یہ ایک بری عادت تھی، لیکن علی اس پر عمل کرنا بھول جاتا۔ جلد ہی، یہ اس کی عادت بن گئی کہ وہ  ہمیشہ اپنے  بائیں ہاتھ سے کھانا کھاتا- لیکن جب بھی وہ اپنے بائیں ہاتھ سے کھانا کھاتا تو ایک شیطان اس کےکھانے سے برکت چھین لے جاتا اور یہ شیطان کے پیٹ میں چلا جاتا۔جب بھی علی اپنے بائیں ہاتھ سے کھانا کھایا کرتا تو اس کی بھوک مطمئن نہ ہوتی اور وہ خالی محسوس کرتا۔ وہ دن بدن کمزور ہوتا گیا۔ اس نے زیادہ کھانا کھا نا  شروع کیا لیکن یہ کبھی کافی نہیں ہوتا تھا کیونکہ وہ کھانے کے آداب بھول گیا تھا۔

     وہ اپنے ہاتھ نہیں دھوتا تھا۔

    وہ  کھانے سے پہلےبسم اللہ نہیں پڑھتا تھا۔

    وہ اپنے دائیں ہاتھ سے نہیں کھاتا  تھا۔ 

    اور ہمیشہ کھاتے وقت کھیلتا   رہتا  تھا

    اس  پر شیطان واقعی خوش تھا کیونکہ وہ علی کی بری عادات کی تعریف کرتا تھا۔ وہ موٹا ہو رہا تھا کیونکہ وہ علی کے کھانے سے ساری توانائی لے رہا تھا۔علی پہلے کی طرح نہیں کھیل سکتا تھا کیونکہ جب بھی وہ کھیلنے کے لئے باہر جاتا تھا تو اسے بھوک لگتی تھی۔ اسے اپنا پیٹ بھرنے کے لئے گھر واپس جانا پڑتاتھا ۔ لہذا، وہ زیادہ تر اپنی کھڑکی سے کھیلتے ہوئے بچوں کو دیکھتا تھا-پیارے بچوں، اس کے والدین اس کے بارے میں بہت پریشان ہو گئے لیکن علی نے ان کی بات نہیں سنی اور اس کے بجائے جب بھی وہ اس سے بات کرنے کی کوشش کرتے تو ان پر غصہ کرتا تھا۔وہ اب قابو سے باہر ہو گیا تھا. اکثروہ اپنے بھائی اور بہن کا حصہ بھی کھا جاتا تھا- پھر بھی وہ بھوکا رہتا تھا۔ اس کی بھوک کی کہانی ہر طرف پھیل گئی۔ اس کے رشتہ دار اور خاندان کے افراد اسے مطمئن نہیں کر سکے چاہے وہ اسے کتنا کھانا ہی کیوں نہ دیں۔ آخر کار کسی نے اس  کے والدین کو مشورہ دیا کہ وہ کسی اچھے علم والے سے سے ملاقات کر کے مشورہ کریں جو اللہ کا نیک بندہ اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت پر عمل کرنے والا  ہو اور اس کا علاج کرے ۔ علی کے والدین اسے ایک عالم بندے کے پاس لے گئے۔ اس نے ا ن کا مسئلہ سنا اور کہا، ‘فکر نہ کرو، علی کو کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ ان شاء اللہ علی چند دنوں میں ٹھیک ہو جائے گا۔ اس شخص نے علی کو اپنے ساتھ رکھ لیا-اور اس کے لئے کھانے کا انتظام کیا۔ جب علی کھانے لگا، تو اس شخص نے علی سے کہا کہ کھانا کھانے سے پہلے اسے ایک شرائط ماننی ہوگی۔ علی کافی عرصے سے بھوکا تھا لہذا اس نے اس سے کہا کہ وہ اسے شرائط بتائے تاکہ وہ اس پر عمل کرسکے۔اس نیک عالم نے علی کو پہلے ہاتھ دھونے کو کہا۔ علی نے فورا تعمیل کی۔ پھر علی سے بسم اللہ پڑھنے کو کہا۔ علی نے ہدایات پر عمل کیا اور بسم اللہ پڑھی۔ جب وہ کھانے جا رہا تھا تو اس نے اپنا بائیاں ہاتھ استعمال کرنا چاہا۔انہوں نے وضاحت کی کہ ہمیں ہمیشہ کھانے کے لئے اپنے دائیں ہاتھ کا استعمال کرنا چاہئے چاہے اس میں کتنا ہی وقت کیوں نہ لگے۔علی نے بسم اللہ پڑھی .. اور پھر دائیں ہاتھ سے کھانا شروع کیا لیکن اسے مشکل پیش آئی کیونکہ وہ بائیں ہاتھ سے کھانے کا عادی تھا۔ یہ اس کے لئے بہت تکلیف دہ تھا لیکن چونکہ یہ ایک نصیحت تھی جس کے بارے میں دانشمند نے زور دیا تھا، اس لئے وہ آہستہ آہستہ اپنے دائیں ہاتھ سے کھاتا رہا۔  پیارے بچوں، اس بار شیطان کو اس کے کھانے سے حصہ نہیں مل سکا۔ وہ علی کے بائیں ہاتھ سے کھانے کا انتظار کرتا رہا تاکہ اسے علی کے کھانے کا حصہ مل سکے۔ لیکن وہ شخص علی کے ساتھ بیٹھا تھا اور اس نے اس بات کو یقینی بنایا کہ علی بائیں ہاتھ سے کھانا نہ کھائے اور اپنا کھانا ٹھیک سے ختم کرے۔ ہر دفعہ ایسا کرنے سے علی مطمئن اوراپنا  پیٹ بھرا ہوا محسوس کرتا تھا۔ شیطان بھوکا رہتا. پیارے بچوں، جب بھی عقیدت مند شخص علی کو کھانا دیتا، وہ اسے اپنے دائیں ہاتھ سے کھاتا تھا۔ ایک نیک آدمی کی دانش مندی کی وجہ سے شیطان چلا گیا-علی نے اپنی بھوک کے مطابق اور وقت پر کھانا کھانا شروع کر دیا۔  علی کے والدین اس شخص کے شکر گزار تھے۔  علی نے اپنے آپ سے یہ وعدہ بھی کیا تھا کہ وہ دائیں ہاتھ سے کھانے کی اپنی عادت کو کبھی تبدیل نہیں کرے گا۔ پیارے بچوں، آپ دیکھ رہے ہیں کہ علی اپنی بری عادات کی وجہ سے شیطان کے ہاتھوں کیسے پھنس گیا؟ 

    تو پیارے بچوں، ہمیشہ کھانے کے آداب کو یاد رکھیں جیسے: بسم اللہ پڑھتے ہوئے ہاتھ دھوئیں… دائیں ہاتھ سے کھانا کھانا’ کھانے کے دوران بات نہ کرنا (یا صرف اچھی چیزوں کے بارے میں بات کرنا)’ آرام سےبیٹھ کر  کھانا کھانا’کھانا ٹھیک سے ختم کرنا ‘کھاناکھانےکے بعد الحمداللہ کہنا – پیارے بچوں مجھے امید ہے کہ آپ ان اصولوں پر عمل کریں گے۔ اب آپ کو اس حدیث کو یاد رکھنا ہوگا اور یہ معلومات دوسروں تک بھی پھیلانی ہوں گی۔ 

    Eating manners poster

    hadith on Eating manners in Islam in Urdu

    Click the link for the Video of this Story

    Hadith worksheet about hadith on Eating manners in Islam in Urdu

    hadith on Eating manners in Islam in Urdu

    Enrolments Available

    This is a short course of hadith and stories from My 30 short hadith with stories course. My hadith course is very much liked and appreciated by parents and students. Online group classes are available online for all time zones. Recommended age for the class Hadith for kids is 7+. These classes are available in English and Urdu. If you want to enroll your child in our classes contact us via.

    Other courses we have

    • Easy Tafseer for kids with exciting stories you can see that course in my hadith course tab.
    • Prayer for kids course is a short course to teach about taharat, Gusal, wudu, times of prayers, number and names of prayers, pillars and conditions, and prayer method. Search as Prayer for kids course on the search bar.
    • Ramzan boost course we do start 2 weeks before Ramzan.
    • Faith boos course In December to say No To Marry Christmas.
    • Kindness to Parents

    If you want to start this course with me then leave a comment, Email me or enroll your child here.

    Download your free copy of 30 short Hadith book pdf in Urdu/Eng from the Posts tab.

    Worksheet for this Hadith and story. (Buy This worksheet book here)

    A child is telling about eating manners and This story after learning this hadith.

    Students activities

    https://youtu.be/RvXRqIK4NjQ

  • Story 9Urdu| A New Story|The Kindness Of Subuktigin|سبکیتیگین کی نرم دلی

    Story 9Urdu| A New Story|The Kindness Of Subuktigin|سبکیتیگین کی نرم دلی

    Welcome to our Hadees with stories short course for kids and adults. This course has been designed for personality development.

    Lesson no 10

    Hadees no 9| Sahih Muslim 2593

    Topic of Hadith Kindness|حدیث کا  موضوع نرم دلی

    Story Kindness of Subuktigin|کہانی کا نا م سبکیتیگین کی نرم دلی

    Hadith Introduction|حدیث کا  موضوع

    آج   کی حدیث کا  موضوع نرم دلی ہے  ۔

    اس حدیث کا مفہوم ہے کہ  اللہ نرم دل ہے اور وہ نرم دلی کو پسند کرتا ہے ۔ یہ حدیث صحیح مسلم 2593 کی کتاب سے لی گئی ہے ۔

    hadees

    پیارے بچوں، نرم دلی اللہ کے اوصاف میں سے ایک صفت ہے. اللہ اپنی مخلوق پر بہت مہربان ہے. اور وہ جانوروں اور کیڑوں کے ساتھ بھی حسن سلوک کرتا ہے۔ اللہ کے نبی محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سب سے نرم دلیانسان تھے۔ آپ  صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کبھی کسی کو تکلیف نہیں دی۔ اور ۔ آپ  صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمیں بھی  رحمدلی کا سبق دیا۔ چنانچہ ہم اسلام میں بہت سی کہانیاں دیکھ سکتے ہیں جہاں مسلمان اللہ کی مخلوق کے ساتھ بہت مہربان نظر آیا ہے۔ آج ہم نرم دلی کی ایک بہت آج کی کہانی کا نا م سبکیتیگین کی نرم دلی ہےبڑی کہانی سنیں گے۔

    Story of Subuntigin| سبکیتیگین کی نرم دلی

    hadees

     سبکیتیگن جوانی میں غلام تھا اور بعد میں اس نے اپنے مالک الپتگین کی بیٹی سے شادی کر لی۔ یہ وہ وقت تھا جب وہ غلام تھا۔ ایک بار وہ اپنے مالک کے شکار کے لئے گیا۔ وہ پورے دن شکار ڈھو   نڈتا ہے لیکن شکار نہیں ملتا۔ جب وہ واپس جا رہا تھا تو اسے ایک جھیل کے قریب ایک ہرن کا  بچہ ملا۔ وہ خوش تھا، آخر کار اسے کچھ مل گیا. اس نے دوڑ کر ہرن کے بچے کو پکڑ لیا اور اسے کھینچ لیا ہرن کا  بچہ بہت چھوٹا تھا  اس نے کوئی مزاحمت نہیں کی۔۔۔۔ اس نے ہرن کے بچے کو اپنے گھوڑے کے پیچھے رکھا اور اپنی سواری شروع کی۔

    اندھیرا ہونے والا تھا بہت جلد وہ اپنی منزل تک پہنچنے کے لئے تیزی سے سوار ہوا۔ کچھ دیر بعد جب وہ واپس مڑا   تو اس نے ایک ہرنی کو دیکھا۔ اس نے سوچا یہ ہرن کا  بچہ میرے لئے کافی ہے. مجھے ہرنی کا شکار کرنے کی کوشش نہیں کرنی چاہئے۔ اس نے اپنا سفر جاری رکھا۔ کچھ دیر بعد اس نے دیکھا، ہرنی اب بھی اس کے پیچھے آ رہی ہے ۔

    وہ  سوچنے لگا   ہرنی اس کی کیوں پیروی کر رہی ہے۔ وہ خود کو خطرے میں کیوں ڈال رہی  ہے۔ وہ مجھ سے کیا چاہتی ہے. وہ اپنی گہری سوچ میں تھا، اس کی نظر ہرنی کی آنکھوں پر  پڑی ۔ اس نے دیکھا کہ ہرنی بہت  فکر مند نظر آ رہی ہے۔ اس کی آنکھیں پریشان، بھری اور اسے دل لجا تی نظر آنے لگ رہی ہیں۔

    اس کے دماغ نے فورا ً سوچا کہ کیا یہ ماں ہرن ہے؟ اس نے سوچا. اوہ وہ ہے، ہاں وہ ایک ماں ہی  ہے. صرف ایک ماں ہی خود کو خطرے میں ڈال سکتی ہے۔ میں اتنا ظالم کیسے ہو سکتا ہوں؟ مجھے انہیں الگ نہیں کرنا چاہئے.  اس نے سوچا اور  ہرن کے بچے کو آزاد کر دیا. وہ تیزی سے بھاگا اور اپنی ماں کے پاس پہنچا  ، وہ ایک دوسرے سے مل رہے تھے۔

    ماں مہربان تھی اور ہرن کا  بچہ خوش تھا۔ وہ کچھ دیر وہاں رہا اور محبت کے لمحات کو محسوس کیا۔ پھر وہ سوار ہوتا ہے اور اس جذباتی منظر پر آخری نظر دیکھنے کے لئے گھومتا ہے۔

    اس کا شکریہ ادا کرنے  کے لیے ہرنی کی آنکھیں. اس کی شکر گزار تھیں. وہ مطمئن تھا کہ ہرنی خوش ہے۔ اس دن اس کے پاس کچھ نہیں تھا، لیکن اسے اس کے حسن سلوک پر بہت اطمینان ملا۔  اس رات جب وہ سوتا ہے تو اس نے ایک خواب دیکھا ۔ وہ ہرن اس سے کہہ رہا تھا کہ ”تم ایک نیک آدمی ہو، ایک دن تم بادشاہ بنو گے۔

    کئی سال بعد اس کا خواب پورا ہوا۔ اور وہ کچھ سالوں کے بعد غنسی کا بادشاہ بن گیا۔ اس کی نیکیاں اور شفقتیں اس طرح اس کی طرف لوٹ آئیں۔ 

    میرے پیارے بچوں ، ہمیں بھی ہمیشہ ہر ایک کو خوش اورمطمئن رکھنا چاہیے – ہر ایک کے ساتھ رحمدل ہونا چاہئے۔

      اب آپ کو اس حدیث کو اپنی کتاب میں لکھنا چاہیے اور اسے اچھی طرح سیکھنا چاہیے

    This hadees and story in a video

    https://www.youtube.com/watch?v=qC_6yLCTVyg

    Kids activity after learning this Hadees story

    https://www.youtube.com/watch?v=ddwLyfhVX-E

    The workbook buys on our courses sign-up page.

    This course is also helping Homeschooling mothers in different ways. You can get all resources from my website to teach your child 30 short hadiths at home. We have videos, written stories, worksheets, and a full teaching method. So contact us if you need to get these helpful resources.

    This course could be done online for free with the help of our free hadiths and stories.

    This course could be done online for free with the help of our free hadiths and stories.

    You can read English stories here and

    Or you can join our online classes to learn about Islam. List of courses/ Classes we have

    • Online Quran classes for beginners
    • Online Quran recitation and Memorisation classes
    • Islamic education for children
    • Seerah course
    • Ramzan boost course
    • Faith boost course
    • Rights of parents course
    • Prayer for kids course

    How was your experience visiting our site? If this course help you? Please leave your thoughts. You can ask questions in the Question tab if you have any questions. If you want to connect with us via Email, then email here

  • ‎‎‎حسن سلوکHadith With Story No 7|7 Seerastory About Morality|

    ‎‎‎حسن سلوکHadith With Story No 7|7 Seerastory About Morality|

    حسن سلوک

    ہمارے اخلاق ہمارے کردار کیسے ہونے چاہیے اور اسکے ساتھ ساتھ ہمارے معاملات دوسروں کے ساتھ کیسے ہونے تو پیارے بچو اگر ہم حسن سلوک پر بات کریں تو ہمارے پاس جو بہترین مثال نمونہ ہے وہ ہے ہمارے پیارے نبی کریم کی زندگی. جی بچو تو آج ہم اپنے پیارے نبی کی زندگی سے کچھ ایسے واقعات سنیں گے جن سے ہم سبق سیکھ کر اپنے اخلاق بہت ہی اچھے اور پیارے بنا سکیں

    حدیث

    آئیں پہلے اپنی حسن سلوک پر حدیث پڑھ لیتے ہیں

    تو پیارے بچو ہمارے پیارے نبی حضرت محمد صل اللہ علیہ والہ وسلم اپنے معاملات میں دوسروں کے ساتھ بہت اچھے تھے اور آپ نے بول چال میں گفتگو کے طریقے میں بہت اچھے تھے اور اسکے ساتھ ساتھ وہ مذاح بھی کرتے تھے لیکن ان کے مزاح میں نہ کسی کا دل دکھتا اور نہ ہی وہ جھوٹ بولتےتھے  

    تو پیارے بچو! آئیں آج میں آپ کوکچھ واقعات سناتی ہوں

    “یہ غلام کون خریدے گا؟ حسن سلوک-کہانی نمبر

    زیادہ کھجوریں کس نے کھائیں؟ حسن سلوک-کہانی نمبر

    اونٹنی کا بچہ حسن سلوک-کہانی نمبر

    انگور کھٹے حسن سلوک-کہانی نمبر

    حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ دوڑحسن سلوک-کہانی نمبر

    تو پیارے بچو آئیں آج میں آپ کو کچھ واقعات سناتی ہوں!

    حسن سلوک-کہانی نمبر 1 

    ہمارا آج کا پہلا واقعہ ہے ہمارے پیارے نبی اور ایک دیہاتی ک ایک دفعہ ایک دیہاتی ظہر بن حرم تھا جو کہ مدینہ کے بازار میں اپنا مال بیچنے آیا تھا تو پیارے بچو وہ ہمارے پیارے نبی کا دوست بن چکا تھا صحابی بن چکا تھا تو اس نے ایک دن اپنا مال لا کر مدینہ کے بازار میں لگایا اور بیچنے لگا جب ہمارے نبی وہاں  سے گزرے تو انہوں نے اسکو دیکھ کر آرام سے پیچھے سے جا کر اسکو دبوچ لیا اور زور سے پکڑ لیا  آپ چونکہ پیچھے تھے تو وہ ہمارے نبی کو دیکھ نہ سکا لیکن یہ سمجھ کر کہ یہ ہمارے پیارے نبی کے علاوہ کوئی بھی نہیں ہو سکتا

    تو پیارے بچو ان صحابی نے خود کو چھڑانے کی کوشش نہیں کی بلکہ آرام سے کھڑے رہے کیونکہ انھیں اچھا لگ رہا تھا لیکن ہمارے نبی کو اس پر ایک شرارت سوجھی انھوں نے زور سے آواز لگانی شروع کر دی “یہ غلام کون خریدے گا”جب لوگوں نے سنا کہ یہاں پر کوئی غلام بیچنے والا آیا ہے سب لوگ وہاں جمع ہونے لگے اور اس بات پر جو بھی صحابہ وہاں پر موجود تھے لطف اندوز ہونے لگے اور سب مسکرانے لگے

    تب نبی کریم نے ظہر بن حرم کو چھوڑ دیا اور کہنے لگے سناؤ کیسے ہو اب وہ بھی اس مذاح سے. لطف اندوز ہو کر اور مسکرانے لگے تو پیارے بچو دیکھا چھوٹے سے مذاق نے کیسے ماحول بدلا اور سارا بازار اس مذاح سے خوش ہوا

    حسن سلوک-کہانی نمبر 2 

     پیارے بچو یہی نہیں بلکہ ہمارے پیارے نبی جب اپنے ساتھیوں اور صحابہ کرام کے. پاس بیٹھے ہوتےاور محسوس کرتے کہ سب لوگ خاموشی سے بغیر کچھ بولے بیٹھے ہوئے ہیں تو ہمارے پیارے نبی کوشش کرتے کہ. ماحول تھوڑا سا خوشگوار ہوجائے اور اسکے لیے ایک دفعہ ہمارے نبی نے ایک ایسا کام کیا کہ. جس سے سب بہت مسکرائے اور وہ یہ تھا

    ایک مرتبہ حضرت علی رضی اللہ عنہ اور ہمارے پیارے نبی بیٹھے کھجوریں کھا رہے تھے کچھ دوسرے صحابہ کرام بھی پاس بیٹھے ہوئے تھے اور وہ بھی کھجوریں کھا رہے تھے ہمارے نبی نے کھجوریں کھا کھا کر اپنی گٹھلیاں حضرت علی کے آگے رکھنا شروع کر دی حضرت علی رضی اللہ عنہ یہ سب دیکھ رہے تھے لیکن وہ خاموش رہے کیونکہ انکو معلوم نہیں تھا کہ ہمارے نبی کیا کرنے والے ہیں

    لہذا جب سب کھجوریں ختم ہو گئیں تو ہمارے پیارے نبی کہنے لگے علی آپ اتنی کھجوریں کھا گئے ہیں آپ کے آگے تو گٹھلیوں کا ڈھیر لگ چکا ہے جب علی رضی اللہ عنہ نے دیکھا کہ واقعی انکے آگے تو بہت زیادہ گٹھلیاں پڑی ہیں تووہ مسکرانے لگے اور سمجھ گئے کہ آپ صل اللہ علیہ والہ وسلم کیوں میرے سامنے گٹھلیاں رکھ رہے تھے اور جب صحابہ نے اپنی گٹھلیاں دیکھی وہ تھوڑی تھوڑی سی تھی اور حضرت علی کی دیکھی تو وہ بہت زیادہ تھی تو سب صحابہ اس بات پر خوب مسکرائے اور لطف اندوز ہوئے 

    حسن سلوک-کہانی نمبر 3 

    پیارے بچو صرف یہی نہیں بلکہ ہمارے پیارے نبی کی تو پوری زندگی حسن سلوک کا نمونہ ہے 

    جیسا کہ ہمارے نبی نے ایک اور موقع پر ایسی بات کی جس میں مذاح تھا لیکن جھوٹ نہیں تھا آپ کو معلوم ہے وہ کیا مذاح تھا؟ 

    وہ مذاح یہ تھا کہ ایک مرتبہ ایک عربی بدو آپ کے پاس آیا اور کہنے لگا یا رسول اللہ میں بہت غریب ہوں مجھے کچھ دیں ہمارے پیارے نبی نے اس سے کہا اچھا تو میں تمہیں ایک اونٹنی کا بچہ دوں گا وہ عربی بدو بہت حیران ہوا اور کہنے لگا کہ اونٹنی کا بچہ لے کر میں کیا کرونگا نہ تو میں اس پر سواری کر سکوں گا نہ وہ میرے کسی اور کام آسکتا ہے

    اس پر ہمارے پیارے نبی مسکرانے لگے اور کہنے لگے اے بدو کیا تو نہیں جانتا کہ ہر اونٹ اونٹنی کا ہی بچہ ہوتا ہے اب تو اس عربی کو اس بات کی خوب سمجھ آچکی تھی وہ ایک اونٹ اور کچھ اور مال لے کر وہاں سے رخصت ہوگیا

    حسن سلوک-کہانی نمبر 4 

    تو پیارے بچو اس طرح کے ہلکے پھلکے مذاح ہمیں اندر سے خوش رکھتے ہیں اور دوسروں کو بھی خوش کرتے ہیں تو پیارے بچو صرف مذاح نہیں بلکہ ہمیں اپنی عادات,حسن سلوک اور طور طریقوں سے دوسروں کو خوش رکھنا چاہیے جیسا کہ ہمارے نبی اپنے کسی عمل سے کسی کو ناخوش نہیں ہونے دیتے تھے 

    ایک مرتبہ ایک دیہاتی بدو آپکے لئے ایک ٹوکری بھر کہ انگور لےکر آیا اور وہ انگور کھٹے تھے لیکن یہ بات اس دیہاتی کو معلوم نہیں تھی اب ہمارے نبی اس میں سے ایک ایک کر کے سارے انگور کھا گئے جو صحابہ رضی اللہ عنہ آپکے پاس بیٹھے ہوئے تھے وہ حیران ہوکر دیکھتے رہے اور سوچتے رہے کہ ابھی ہمارے نبی ہمیں کہیں گے کہ آپ بھی کھا لیں لیکن ہمارے نبی نے انکو ایک دانہ بھی نہیں دیا اس بات پر وہعربی بہت خوش ہوا کہ میرے لائے ہوئے سارے انگور ہمارے نبی نے کھا لیے. لہذا وہ خوشی خوشی وہاں سے چلا گیا

    اسکے جانے کے بعد صحابہ میں سے کوئی بولا کہ یا رسول اللہ آپ نے پہلے تو کبھی ایسا نہیں کیا آپ تو جب بھی کوئی چیز کھاتے اسکو ہمارے ساتھ تقسیم کرتے آج آپ نے ہمیں انگور نہیں دیے اس پر ہمارے نبی کہنے لگے کہ دیکھیں جب میں نے پہلا انگور کھایا تو وہ کھٹا تھا لہذا میں نے وہ سب انگور خود کھا لیے کہ کہیں ایسا نہ ہو آپ میں سے کوئی انگور کھا کر منہ بنائے یا پھر اس دیہاتی کا مذاق بناۓ

    تو بچو آپ غور کریں کہ کیسے ہمارے نبی دوسروں کا دل رکھتے تھے اور انکو خوش رکھتے تھے

    حسن سلوک-کہانی نمبر 5

    وہ صرف لوگوں کو خوش نہیں رکھتے تھے-بلکہ اپنے گھر والوں کو بھی بہت خوش رکھتے تھے 

    ہمارے پیارے نبی کی بیوی  حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہ کہتی ہیں- کہ ایک دفعہ ہمارے نبی سفر پر ہمارے ساتھ جا رہے تھے راستے میں ہمارا قافلہ تھوڑا آگے نکل گیا اور ہم دونوں پیچھے رہ گئے اور ہمارے نبی فرمانے لگے عائشہ آؤ دوڑ لگاتے ہیں حضرت عائشہ کہنے لگی یارسول اللہ آپ دوڑ لگائیں گے  آپ کہنے لگے ہاں جی میں دوڑ لگاؤں گا آپ لگاؤ گی میرے ساتھ دوڑ حضرت عائشہ کہنے لگی ٹھیک ہے

    لہذا ان دونوں کی دوڑ شروع ہوئی حضرت عائشہ چونکہ دبلی پتلی اور کم عمر تھیں وہ بہت تیز بھاگی اور آگے نکل گئیں اور ہمارے پیارے نبی پیچھے رہ گئے مگر اس بات پر ہمارے پیارے نبی پریشان نہیں ہوئے بلکہ مسکرانے لگے

    کچھ سالوں کے بعد حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ دوبارہ کسی سفر پر جارہی تھیں کہ راستے میں دوبارہ ہمارے نبی کہنے لگے اے عائشہ آو دوڑ لگاتے ہیں حضرت عائشہ نے کہا ٹھیک ہے چنانچہ ان دونوں کی دورڑ شروع ہوئی دوڑتے دوڑتے نبی کریم آگے نکل گئے کیونکہ اس وقت حضرت عائشہ تھوڑی سی فربہ ہو چکی تھیں تو ان سے زیادہ تیز نہ بھاگا گیا

    ہمارے نبی کہنے لگے عائشہ آج میں جیت گیا ہوں یہ اس دن والی ہار کا بدلہ ہے لہذا آج ہمارا کھیل برابر ہوااس پر. حضرت عائشہ بھی بہت خوش ہوئیں اور مسکرانے لگی

    تو پیارے بچو گھر والوں سےحسن سلوک, چھوٹے چھوٹے ہنسی مذاح خوش اخلاقی اور مقابلہ بازی کرنی چاہئے دوڑ بھی لگانی چاہیے کھیلیں بھی کھیلنی چاہیے لیکن اس میں لڑائی جھگڑا نہیں کرنا چاہیے اور دوسروں کی جیت کو خوشی سے قبول کر لینا چاہیے

     جی آپ کو ہمارے نبی کی باتیں اچھی لگ رہی ہیں ناتو کیا خیال ہے آپ کا بس کریں یا مزید کچھ سننا چاہو گے؟ہمم میں جانتی ہوں کہ ابھی آپکا دلنہیں بھرا لیکن پیارے بچو ہمارے نبی کی زندگی میں ایسے بہت سارے واقعات ہیں آپ سن کر تھک جاؤ گے لیکن ہمارے نبی کی زندگی کی خوشگوار باتیں ختم نہیں ہونگی 

    حسن سلوک-کہانی نمبر 6 

    These stories in video

    If you want to teach this hadith in Urdu and English to your child in Home schooling or Islamic education click here

    This is the story taken from My 30 short hadith with stories course. Here is the introduction of this course.

    Enrolments Available

    Hadith for kids group class are available online for all time zones. Recommended age for the class tafseer for kids is 7+. These classes are available in English and Urdu. If you want to enrol your child in our classes contact us via.
    email: bhallitaha@gmail.com

    Facebook.

    You tube Urdu Channel

    You tube English Channel

    or leave a comment.

  • Story 6 Urdu| What is modesty? (Haya) A Robber’s story!

    Welcome to our Hadees with stories short course for kids and adults. This course has been designed for personality development.

    Hadith no 16

    Lesson no 17

    Topic of the hadith Modesty-حیا

    Sahih AL-Bukhari 2564 /Muslim 35

    Story of a robber

    Hadees about modesty-حدیث -حیا”

    hadees

    مارے پیارے نبی کریم صل اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا 

    “حیا ایمان کا حصہ ہے” 

    یہ صحیح مسلم کی حدیث نمبر 37 ہے. 

    تو پیارے بچو 

    ہمارے آج کی حدیث کا عنوان ہے “حیا” اور آج ہم آپ کو جو کہانی سنانے جا رہے ہیں اس کا عنوان ہے “ڈاکو کی حیا

     “حیا کا موضوع سمجھنا تھوڑا سا مشکل ضرور ہے لیکن کہانی بہت آسان اور دلچسپ ہے. 

    پیارے بچو! 

    حیا سے ہم  انکساری، شرم اور عزت نفس مراد لیتے ہیں. اس کے مفہوم میں بڑوں کا کہنا ماننا بھی شامل ہے، دوسروں کے سامنے اپنا جسم ڈھانپنا اور غیر اخلاقی گفتگو سے بچنا بھی. 

    بعض اوقات بچے جھوٹ بولتے ہیں، کسی دوسرے کی چیز پسند آئے تو چُرا لیتے ہیں یا ان سے لڑائی جھگڑا کرنے لگتے ہیں اور پھر معذرت کرنے اور شرمندہ ہونے کی بجائے دوسروں کو مزید تکلیف پہنچاتے ہیں. 

    تو میرے عزیز بچو! 

    یہ ایک انتہائی بری عادت ہے، جو کہ ہماری حیا کی فطرت کو متاثر کرتی ہے اور ہمارے اخلاق کو خراب کرتی ہے. 

    حیادار بننے کے لیے ضروری ہے کہ اگر ہم کچھ برا سوچیں تو اس پہ شرمندہ ہوں اور اگر کسی کے ساتھ برا کریں تو اس سے معذرت کریں. 

    حیا کے تصور کو بہتر طور پر سمجھنے کے لیے ایک کہانی سُنیے.. 

    The story of a robber-ڈاکو کی حیا

    یہ ایک بچے اور کچھ ڈاکوؤں کی کہانی ہے.کیا آپ جانتے ہیں ڈاکو کون ہوتا ہے؟ 

    جو دوسروں کے پیسے اور چیزیں زبردستی چھین لے، اسے ہم ڈاکو کہتے ہیں. 

    بہت عرصہ پہلے کی بات ہے کسی جگہ پہ ایک بچہ رہا کرتا تھا جو ابتدائی اسلامی تعلیم حاصل کر رہا تھا، اپنی تعلیم جاری رکھنے کے لیے اسے ایک دوسرے شہر بغداد جانا پڑا. 

    پرانے زمانے میں چونکہ سفر کے جدید ذرائع موجود نہ تھے تو لوگ گھوڑوں اور اونٹوں پر سفر کیا کرتے. راستے میں چوروں کے ڈر سے وہ اکٹھے ہو کر گروہوں اور قافلوں کی صورت میں سفر کرتے. بچے کی ماں نے بھی اسے ایک قافلے کے ہمراہ بغداد روانہ کر دیا، سفر پہ جانے سے پہلے ماں نے بچے کی قمیض میں چھپا کر کچھ پیسے سلائی کر دیے. اور بچے کو نصیحت کی کہ میرے پیارے بیٹے، جھوٹ کبھی مت بولنا، ہمیشہ سچ بولنا اور خوب دل لگا کر پڑھائی کرنا. 

    سفر بہت لمبا تھا، قافلے کو روانہ ہوئے کئی دن گزر چکے تھے، جنگل کے قریب سے گزرتے ہوئے قافلے نے پڑاؤ ڈالا اور رات اسی جگہ پہ گزارنے کا فیصلہ کیا گیا، جب سارا قافلہ سو رہا تھا تو ڈاکوؤں کے ایک گروہ نے ان پہ حملہ کر دیا، وہ ہر مسافر کے پاس گئے اور اس کے پاس موجود چیزیں اپنے قبضے میں لینے لگے.ایک ڈاکو بچے کے پاس پہنچا اور اس سے پوچھا کہ تمہارے پاس کیا ہے؟ 

    بچے نے جواب دیا، “چالیس روپے”

    اس زمانے میں چالیس روپے ایک بہت بڑی رقم ہوا کرتے تھے، چور بچے کی بات سن کر ہنسنے لگا کہ کیا تم میرے ساتھ مذاق کر رہے ہو، اسے محسوس ہوا کہ ایک چھوٹے بچے کے پاس اتنی بڑی رقم موجود نہیں ہو سکتی. اس نے بچے کی تلاشی لی لیکن اسے پیسے نہ ملے. ڈاکو سمجھا کہ بچے نے اس کے ساتھ جھوٹ بولا ہے وہ غصے سے بچے کو پکڑ کر اپنے سردار کے پاس لے گیا اور سردار کو بچے کی ساری بات بتائی. 

    ڈا کوؤں کے سردار نے بچے کو دھمکی دی کہ اگر وہ جھوٹ بول رہا ہے تو اسے سخت سزا دی جائے گی، بچہ کہنے لگا کہ میں نے جھوٹ ہر گز نہیں بولا، میرے پاس واقعی چالیس روپے موجود ہیں. 

    اب سردار نے بچے سے کہا کہ وہ پیسے دکھائے، بچے نے بتایا کہ اس کی قمیض کے اندر چالیس روپے سِلے ہوئے ہیں، ایک چور نے بچے کی قمیض پھاڑ کر دیکھا، وہاں واقعی چالیس روپے موجود تھے. وہ سب یہ ماجرا دیکھ کر حیران رہ گئے، سردار نے بچے سے پوچھا 

    کہ اے پیارے بچے، تم نے ہمیں سچ کیوں بتایا، اگر تم جھوٹ بولتے تو تمہاری رقم محفوظ رہتی. 

    بچے نے جوب دیا کہ میری ماں نے مجھے نصیحت کی تھی کہ ہمیشہ سچ بولنا، چاہے جو بھی ہو جائے جھوٹ کبھی نہ بولنا. 

    سردار بچے کہ بات سن کر حیران رہ گیا، وہ کہنے لگا کہ اب تمہاری امی تمہارے ساتھ نہیں تھیں، انہیں کیسے پتہ چلتا کہ تم نے جھوٹ بولا ہے، تم اگر چاہتے تو اپنے پیسے بچا بھی سکتے تھے لیکن پیارے بچو، اس چھوٹے بچے نے سردار کو جو جواب دیا، آپ زرا وہ سنیں، وہ کہنے لگا

    اگرچہ میری امی مجھے نہیں دیکھ رہیں لیکن میرا اللہ تو ہر وقت مجھے دیکھ رہا ہے ناں! اور اگر میں جھوٹ بولتا تو اللہ جی مجھ سے بالکل بھی خوش نہ ہوتے. 

    بچے کا جواب سن کر سردار رونے لگا اور روتے روتے بے ہوش ہو گیا. جب وہ ہوش میں آیا تو اپنی حرکتوں پہ شرمندہ ہونے لگا، اس نے سوچا کہ یہ چھوٹا بچہ اتنا سمجھدار ہے کہ اس نے اپنی ماں کی غیر موجودگی میں بھی جھوٹ نہیں بولا کیونکہ اسے اللہ کی حیا اور خوف تھا. لیکن وہ اتنا بڑا ہو کر بھی اللہ سے حیا نہیں کرتا اور غلط کام کرتا ہے. وہ بہت شرمندہ ہوا اور دیر تک روتا رہا، اسے خود پہ شرمندگی ہونے لگی، اس نے اپنی گناہوں سے توبہ کی اور قافلے والوں کا لُوٹا ہوا سارا مال واپس کر دیا، بچے کی سچائی نے اسے ایک اچھا انسان بنا دیا، کیا آپ جانتے ہیں کہ وہ بچہ کون تھا؟ 

    چلیں اس کا جواب آپ تلاش کر کے بتایے گا. 

    تو پیارے بچو، یہ ہوتی ہے حیا. جب کوئی اپنے غلط کاموں پہ شرمندہ ہو اور اللہ سے ڈرے.  ہم سے اگر کبھی کوئی غلط کام ہو جائے تو فوراً اللہ سے معافی مانگ لینی چاہیے، ہمیں اللہ سے حیا آنی چاہیے کہ وہ ہمیشہ ہمیں دیکھ رہا ہوتا ہے. 

    یقیناً آپ کو یہ کہانی پسند آئی ہے، اب اس حدیث کو اپنی نوٹ بک میں خوبصورتی سے لکھیں، دوستوں کو دکھائیں اور انہیں بھی اس کا مطلب سمجھائیں. 

    آپ سب بہت اچھے بچے ہیں، مجھے یقین ہے کہ آیندہ آپ حیا دار بنیں گے تاکہ اللہ جی بھی آپ سے خوش ہوں

    Video of this story in Urdu

    The video of this Story’

    This Story Written In English

    The workbook is available to buy at our courses sign-up page.

    This course is also helping Homeschooling mothers in different ways. You can get all resources from my website to teach your child 30 short hadiths at home. We have videos, written stories, worksheets, and a full teaching method. So contact us if you need to get these helpful resources.

    This course could be done online for free with the help of our free hadiths and stories.

    You can read English stories here and

    Or you can join our online classes to learn about Islam. List of courses/ Classes we have

    • Online Quran classes for beginners
    • Online Quran recitation and Memorisation classes
    • Islamic education for children
    • Seerah course
    • Ramzan boost course
    • Faith boost course
    • Rights of parents course
    • Prayer for kids course

    How was your experience visiting our site? If this course help you? Please leave your thoughts. You can ask questions in the Question tab if you have any questions. If you want to connect with us via Email, then email here

  • Story 5 Eng| An Interesting story  about Grudge

    Story 5 Eng| An Interesting story about Grudge

    Welcome to our Hadith with stories short course for kids and adults. This course has been designed for personality development.

    Lesson no- 6

    Hadith no 5- Sahih Muslim 2564

    Topic- Irritation/Grudge

    Story- Alion and an elephant

    Hadith about Irritation

    hadith story
    hadith
    Dear kids,
    Today our Hadith is about grudges (ill feelings
    of resentment)
    Dear kids, keeping a grudge is also a bad habit just like anger and jealousy. I hope that you try to control it.
    In Sha Allah, today we will learn about grudges and then we will learn how to get rid of them also. 
    Let’s begin with the Hadith first.
    Our Prophet (PBUH) said,
    ‘Don’t keep grudges against each other.’ 
    Dear kids, the story related to our hadith for today is about: 
    An elephant and a lion.
    Dear kids, holding a grudge is a very bad disease, which can harm us greatly. Keeping a grudge not only means that we feel hate and jealousy in our hearts for someone but that we also try to harm them and act on those ill feelings. Sometimes it happens that we do something bad for others but get caught in it ourselves. Consequently, we waste our precious time and energy. The same happens with the elephant in our story. Let us find out how.
    Dear kids,
     once upon a time, there was an elephant and a lion in a forest(jungle).
    The lion was the emperor of the forest. The elephant had a grudge against the lion because the lion gave orders to all the other animals in the forest. The elephant did not like it. He wanted the lion to get out of the forest but he could not do so, as the lion was emperor of the forest and also very powerful.
    One day, the elephant thought of a trick to trap the lion as he had been unable to get rid of him earlier. 
    He started to dig a big hole on the path where the lion used to walk around every day so that the lion would fall in and would not be able to come out.
    The elephant dug a big hole with his long beak and put narrow sticks of wood and leaves on top of the hole so that the lion would not be able to see the hole. After that, the elephant went and sat on one side of that path to wait for the lion to come and fall in his trap.
    But dear kids, that day the lion went away from the forest to do some work so he did not go for his usual daily walk. The same happened for the next few days.
    The elephant got disappointed but after a few days, he forgot about that hole himself.
    Dear kids, later when the elephant passed along that path, he fell down into the hole himself. He started to cry loudly.
    No animal could help a big elephant to come out from such a deep hole. Now he started to regret his decision of digging that hole. If he had not dug it in the first place, he would not have fallen into
    it. But he could not do anything now!
    Then it happened that the lion came that way and saw the elephant trapped. He advised all the animals to get together to fill the hole with mud. He explained that when that hole would be filled completely, the elephant would be able to come out.
    Dear kids, all the animals started to follow the lion’s instructions and soon the elephant found its way out.
    Dear kids, as you can see from the story that keeping a grudge got the elephant trapped into big trouble.
    So we should also try not to keep a grudge against any friend or neighbor or brother or sister, and furthermore, never try to harm anyone.
    Dear kids, Allah teaches us to love all humans.
    Dear kids, always try to protect yourselves from grudges, jealousy, and anger.
    Now you have to learn this lesson well, try to remember it, and also tell this story to your parents or grandparents and other family members.

    The video of this story

    The worksheet of this hadith

    This Story is Written In English
    The workbook is available to buy on our courses sign-up page.

    This course is also helping Homeschooling mothers in different ways. You can get all resources from my website to teach your child 30 short hadiths at home. We have videos, written stories, worksheets, and a full teaching method. So contact us if you need to get these helpful resources.

    This course could be done online for free with the help of our free hadiths and stories.

    You can read English stories here and

    Or you can join our online classes to learn about Islam.

    List of courses/ Classes we have

    • Online Quran classes for beginners
    • Online Quran recitation and Memorisation classes
    • Islamic education for children
    • Seerah course
    • Ramzan boost course
    • Faith boost course
    • Rights of parents course
    • Prayer for kids course

    How was your experience visiting our site? If this course help you? Please leave your thoughts. You can ask questions in the Question tab if you have any questions. If you want to connect with us via Email, then email here

  • Story 5 Urdu| How to over come Irritation? Learn hadees

    Story 5 Urdu| How to over come Irritation? Learn hadees

    Welcome to our Hadees with stories short course for kids and adults. This course has been designed for personality developmen.t

    Lesson no 6

    Topic- Irreitation-حدیث کینہ

    Hadith no 5 –Sahih Muslim 2564

    Story Alion and Elephant-ہاتھی اور شیر

    Hadith about Grudge-حدیث کینہ

    hadees

    پیارے بچو

    ہماری آج کی حدیث کینہ کے بارے میں ہے، یعنی دوسروں کے بارے میں دل میں بُرا چاہنا.غصے اور حسد کی طرح کینہ بھی ایک بہت بُری بیماری ہے، مجھے امید ہے کہ آپ ہمیشہ اس سے دور رہنے کی کوشش کریں گے. 

    آج ہم کینہ کے بارے میں جاننے کی کوشش کریں گے کہ یہ ہوتا کیا ہے اور ہم اس سے کیسے بچ سکتے ہیں؟ 

    چلیے سب سے پہلے ہم پیارے نبی صل اللہ علیہ و آلہ و سلم کا قول پڑھتے ہیں، ہمارے پیارے آقا نے فرمایا کہ 

    “ایک دوسرے کے خلاف کینہ مت رکھو” 

    تو پیارے بچو، آج کی حدیث کو سمجھنے کے لیے ہم ایک ہاتھی اور شیر کی کہانی سنیں گے.

    پیارے بچو، دل میں کینہ رکھنے کی بیماری ہمیں سخت نقصان پہنچاتی ہے، دل میں کینہ رکھنے سے نہ صرف ہم دوسرے کے خلاف حسد رکھتے ہیں بلکہ ساتھ یہ بھی چاہتے ہیں کہ کسی طرح اسے پریشان کیا جائے اور نقصان پہنچایا جائے . لیکن جب ہم دوسرے کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرتے ہیں تو اکثر ہم خود کو مصیبت میں پھنسا لیتے ہیں. . اس طرح ہم اپنا قیمتی وقت اور صلاحیتیں ضائع کر دیتے ہیں. جو کہانی ہم آپ کو سنانے جا رہے ہیں اس میں ہاتھی کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا. 

    A Lion and Elephant- ہاتھی اور شیر

    میرے پیارے بچو! 

    hadees

    کسی جنگل میں ایک ہاتھی اور شیر رہا کرتے تھے، شیر تو آپ جانتے ہیں کہ جنگل کا بادشاہ ہوتا ہے لیکن ہاتھی کو یہ بات پسند نہ تھی. وہ شیر کے خلاف اپنے دل میں کینہ رکھتا تھا کہ یہ سارے جانوروں پہ حکومت کرتا ہے اور سبھی جانور اس کی بات مانتے ہیں. 

    وہ چاہتا تھا کہ کسی طرح شیر کو جنگل سے باہر نکال کر خود جنگل کا بادشاہ بن جائے اور سارے جانور بس اس کی بات مانا کریں. لیکن شیر تو بہت بہادر تھا، اس لیے ہاتھی اسے زبردستی باہر بھی نہیں نکال سکتا تھا، پھر ایک دن اس نے ایک بُرا منصوبہ بنایا.

    شیر کو روزانہ سویرے جنگل میں چہل قدمی کرنے کی عادت تھی، ہاتھی نے ایک رات اس کے راستے میں اپنی مضبوط سونڈ کے ذریعے ایک بڑا گڑھا کھودا اور اسے اوپر سے لکڑیوں اور گھانس پھونس سے ڈھانپ دیا، تاکی جب شیر صبح اس راستے سے گزرے تو وہ اس گڑھے میں جا گرے، اس طرح ہاتھی نے سوچا کہ اس کی شیر سے جان چھوٹ جائے گی. 

    لیکن ہوا کیا، شیر کو اسی رات کسی کام سے جنگل سے باہر جانا پڑا اور وہ کئی دن تک واپس نہ آ سکا، ہاتھی اس کا انتظار کرتا رہا اور پھر بھول گیا کہ اس نے گڑھا کس جگہ کھودا تھا. 

    ایک روز وہ اسی راستے سے گزر کر کسی دوست کو ملنے جا رہا تھا کہ اچانک اس کا پاؤں اسی گڑھے کی گھاس پھونس پر آگیا اور وہ دھڑام سے اپنے کھودے ہوئے گڑھے میں جا گرا. 

    اب ہاتھی چیخ و پکار کرنے لگا کہ مدد.. مدد.. مجھے یہاں سے باہر نکالو، لیکن بھلا جنگل کے ننھے منے جانور اتنے بڑے ہاتھی کو کیسے باہر نکال سکتے تھے. ہاتھی سخت پریشان ہوا کہ وہ تو ایسے بھوک پیاس سے نڈھال کر اپنے ہی کھودے ہوئے گڑھے میں مر جائے گا. ہاتھی زور زور سے رونےلگا. 

    خرگوش کو اس پہ ترس آ گیا اور وہ بھاگ کر جنگل سے باہر گیا اور جلدی سے شیر کو بلا لایا. 

    پیارے بچو، جب شیر نے ہاتھی کو گڑھے میں گرے ہوئے دیکھا تو سب جانوروں کو حکم دیا کہ جلدی سے گڑھے میں مٹی پھینکو تاکہ گڑھا مٹی سے بھر جائے اور ہاتھی اس مٹی پہ چڑھ کر گڑھے سے واپس نکل سکے، سب نےمل کر ہاتھی کی مدد کی اور وہ باہر نکلنے میں کامیاب ہو گیا. 

    پیارے بچو آپ یقیناً سمجھ گئے ہوں گے کہ کس طرح ہاتھی کے کینہ پالنے کی عادت نے خود اسی کو مشکل میں گرفتار کر دیا. اور اسے شیر کے سامنے شرمندہ ہونا پڑا. 

    اسی لیے ہمیں چاہیے کہ ہم کبھی بھی کسی دوست، کزن، ہمسائے یا بہن بھائی کے لیے اپنے دل میں کینہ نہ رکھیں. اللہ پاک کو وہ بچے پیارے لگتے ہیں جو دوسروں سے محبت کرتے ہیں اسی لیے اس نے ہمیں سب انسانوں سے محبت کرنے کا درس دیا ہے. 

    اس لیے آپ کو چاہیے کہ آپ ہمیشہ خود کو کینہ اور حسد جیسی گندی عادات سے دور رکھیں. 

    اب آپ نے یہ سبق یاد رکھنا ہے، بلکہ اپنے دوستوں کو بھی بتانا ہے اور دادی امی اور نانا ابو کو بھی یہ کہانی سنانی ہے تاکہ وہ آپ کو بار بار یاد دلاتے رہیں کہ اچھے بچے بری باتوں سے دور رہتے ہیں..

    Video of this story and hadith in Urdu

    This Story is Written In English
    The workbook is available to buy on our courses sign-up page.

    This course is also helping Homeschooling mothers in different ways. You can get all resources from my website to teach your child 30 short hadiths at home. We have videos, written stories, worksheets, and a full teaching method. So contact us if you need to get these helpful resources.

    This course could be done online for free with the help of our free hadiths and stories.

    You can read English stories here and

    Or you can join our online classes to learn about Islam. List of courses/ Classes we have

    • Online Quran classes for beginners
    • Online Quran recitation and Memorisation classes
    • Islamic education for children
    • Seerah course
    • Ramzan boost course
    • Faith boost course
    • Rights of parents course
    • Prayer for kids course

    How was your experience visiting our site? If this course help you? Please leave your thoughts. You can ask questions in the Question tab if you have any questions. If you want to connect with us via Email, then email here

  • Story 4 Urdu| How To Stop Jealousy?Hadees Classes Online

    Story 4 Urdu| How To Stop Jealousy?Hadees Classes Online

    Welcome to our Hadees Classes Online. You can get information on my Hadith course for kids by clicking here.

    We will provide you free 30-short Hadiths course with the introduction, stories, videos tips to teach, and worksheets.

    Lets start learning about the hadith of the days with story.

    Lesson 5

    Hadith no 4| Sahih Muslim 2564

    Topic of hadith| Jealousy/Envey

    Story| A hen Kato Beghum

    Introduction Term Jealousy| حسد کا مطلب

    hadees

    ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “ایک دوسرے سے حسد نہ کرو. ” پیارے بچوں جیسا کہ آپ اس موضوع سے سمجھ سکتے ہیں کہ یہ حدیث حسد کے بارے میں ہے۔ 

    حسد کوئی اچھا عمل اور ا چھا احساس نہیں ہے لہذا ہمیں اسے چھوڑ دیا جانا چاہئے ۔ حسد کا مطلب یہ ہے کہ اگر ہم دوسروں میں کوئی اچھی چیز دیکھتے ہیں تو ہمیں اسے دیکھ کر خوشی نہیں ہوتی بلکہ ہماری خواہش ہوتی ہے کہ وہ اس چیز کو کھو دیں۔ اس قسم کی منفی نوعیت کی وجہ سے انسان کبھی بھی کسی بھی حالت میں خوش نہیں ہو سکتا، یہاں تک کہ ان نعمتوں کے لیے بھی جو انہیں پہلے سے حاصل ہیں۔ ایسا شخص ہمیشہ اپنے دل میں حسد محسوس کرتا ہے ۔ پیارے بچوں، اس احساس کو اچھی طرح سمجھنے کے لئے، آئیے ایک مرغی، کتے اور گھوڑے کی کہانی سناتے ہیں۔

      

    Story of a hen| Kato Beghum

    hadees

    ایک زمانے میں ایک شخص کے گھر میں ایک مرغی تھی.اس کا   نام کٹو بیگم کا نام تھا. اس گھر کے لوگ اس کا بہت اچھا خیال رکھتے تھے، انہوں نے اس  کے لیے ایک الگ کمرہ بنایا،

    انہوں نے صبح و شام اسے کھانا کھلایا اور روزانہ تازہ پانی بھی دیا. دن بھر کٹو بیگم خوشی خوشی گھر میں گھومتی رہتی، جہاں اس نے روزانہ ایک انڈا دیا.ایک دن اس کے انڈوں سے بچے(چوزے) نکل  آۓ اور کٹو بیگم کو ان   چھوٹے چوزوں کو  اپنے پروں کو پھیلا کر گھر میں گھومتے ہوئے زیادہ فخر محسوس ہونے لگا۔ چونکہ گھر کے لوگ کٹو بیگم اور اس کے بچوں کا بہت خیال رکھتے تھے اس لیے اسے ان کی پوری توجہ ملی۔

     کچھ دنوں کے بعد گھر کا مالک اپنے ساتھ ایک کتا لے کر آیا جسے پپو کہا جاتا تھا۔ اس شخص نے گیٹ کے قریب پپو باندھا اور اس کے لئے ایک چھوٹا سا کمرہ بھی تیار کیا۔ گھر کے لوگ پپو کی بھی دیکھ بھال کرنے لگ گئے، وہ اسے کھانا کھلاتے اوروقت پر پانی بھی  پلاتے، لیکن کٹو بیگم کو یہ بات پسند نہ آئی. اسے پپو سے حسد ہونا   شروع ہو گیا۔ اس نے سوچا کہ چونکہ وہ پہلے گھر کی واحد پالتو جانورتھی

    اس لئے وہ بے فکر ہو کر گھر میں گھوم سکتی تھی اور گھر کی پوری توجہ حاصل کرتی تھی۔ اب جب پپو آ گیا تھا تو وہ زیادہ کچھ نہیں کر سکتی تھی۔ اس نے پپوسے  حسد کرنا شروع کر دیا  

    اور ناخوشگوار موڈ میں گھر کے  ایک کونے میں بیٹھی رہتی ۔ کچھ دنوں کے بعد جب مالک رات کو گھر واپس آیا تو اس کے ساتھ گھوڑا تھا۔ گھوڑے کا نام چندو تھا. یہ ایک خوبصورت  گھوڑا تھا مگر  کٹو بیگم کو یہ بھی اچھا

    نہیں  لگا – 

    اب گھر کا مالک چندو کے لئے بھی کھانا لانے لگا۔ اس نے صبح چندو کی صفائی کی، اسے ریڑھی سے باندھا اور کام پر چلا گیا۔ جب وہ شام کو واپس آیا تو اس نے دوبارہ چندو صاف کیا اور اسے باہر لے گیا تاکہ چندو  ریت  پر آرام کرے ۔

    کٹو بیگم نے محسوس کیا کہ مالک کی ساری توجہ چندو کی طرف ہٹ گئی ہے۔ اس نے چندو کے ساتھ زیادہ وقت صرف کیا۔ کٹو بیگم اب پپو سےبھی زیادہ  چندو  سے حسد کرتی تھی ۔ وہ  سوچتی  رہتی کہ کیا    پپو ہی  کافی نہیں تھا – کہ چندو کو  بھی لے  آۓ ۔ وہ زیادہ خاموش رہنے لگی اور خود کو زیادہ تر اپنے کمرے میں رہتی۔ گھر کے لوگ ہمیشہ کی طرح اس کی دیکھ بھال کر رہے تھے جیسا کہ وہ پہلے کر رہے تھے، لیکن کٹو بیگم کو یہ بات پسند نہیں آئی اور ان کی خواہش تھی کہ یہ دونوں گھر سے چلے جائیں۔. 

    ایک دن گھر کے تمام لوگ باہر چلے گئے۔ صرف کٹو بیگم اور پپو گھر پر تھے کٹو بیگم اپنے بچوں کو کھانا دے رہی تھی اور اس کے بچے گھر میں ادھر ادھر آزادانہ کھا رہے تھے اور ادھر ادھر بھاگ رہے تھے۔ کٹو بیگم کو معلوم نہیں تھا کہ ایک بلی دیوار پر بیٹھ کر چوزوں کو شکار کر رہی ہے۔

    اچانک بلی دیوار سے کود گئی اور ابھی بچوں پر جھپکی ہی تھی کہ دور سے یہ سب کچھ دیکھنے والا پپو ایک دم بھونکنے لگااور بلی کی طرف بھاگا. بلی خوف ذدہ  ہو کر  بھاگ گئی۔ کٹو بیگم نے اپنے تمام بچوں کو جمع کیا اور انہیں اپنے کمرے میں لے گئی۔ وہ باہر رہنے کے لئے بہت خوفزدہ تھی۔

    وہ سوچتی رہی کہ اگر پپو نہ ہوتا تو کیا ہوتا۔ بلی میرے تمام بچوں کو کھا گئی ہوتی! بعد میں جب بھی وہ پپو کو دیکھتی تھی تو وہ اس کی تعریف کرتی تھی کہ اس کے آس پاس اس کا حاصل کرنا کتنا مفید ہے۔ اگلے دن جب  کٹو بیگم اپنے کمرے سے باہر آئیں تو ان کے دل میں پپو کے لیے نفرت اور حسد کم تھا لیکن پھر بھی انہیں لگا کہ چندو بیکار ہے ،

    کٹو بیگم سو چتی کہ مالک چندو کو  با ہر لے کر جاتا ہے مگر مجھے نہیں، ایک دن چندو  بہت بیمار ہو گیا. اس کی وجہ سے مالک کئی دن تک گاڑی کو کام پر نہیں لے جا سکا اور اس طرح وہ پیسے نہیں کما سکا۔ چونکہ اب اس کے پاس پیسے کی کمی تھی اس لیے وہ چندو، کٹو بیگم یا پپو کے لیے کھانا نہیں خرید سکتا تھا. وہ بہت اداس ہو گیا اور اس نے پیسے حاصل کرنے کے لئے چوزوں کو فروخت کرنے کا سوچا۔

    کٹو بیگم اپنے بچوں کو کھونے کے خیال سے بہت اداس ہو گئی۔ اس نے چندو کی اہمیت کو محسوس کیا اور اس کی صحت یابی کے لئے دعا کرنا شروع کر دی تاکہ اس کے بچے بچ جائیں۔ اس کی دعائیں اللہ نے قبول کی اور چندو صحت یاب ہو گیا۔ کٹو بیگم کے بچے اب محفوظ تھے. مالک نے دوبارہ کام کرنے کے لئے چندو کو لے جانا  شروع کیا، اور کٹو بیگم اور اس کے بچوں کے لئے کھانا لانا شروع کر دیا۔

    اب کٹو بیگم کو اس بات کا بہت  اچھی طرح احساس ہوا کہ اس دنیا میں کوئی چیز بیکار نہیں ہے اور ہر چیز کی اپنی قدر ہے۔ اگر وہ روزانہ ایک انڈا مالک کو دے تو چندو نے بھی محنت کر کے مالک کو پیسے کمانے میں مدد دی اور پپو نے حفاظت فراہم کی۔ اس نے حسد کے اپنے خراب جذبات سے نجات حاصل کی اور اپنے ساتھ وعدہ کیا کہ وہ  اب کسی سے  حسد نہیں کر ۓ گی۔

    پیارے بچوں، ہمیں بھی کسی سے حسد نہیں کرنا چاہئے اور اپنے دلوں کو صاف رکھنا چاہئے!

    Video of this story

    Worksheet for this Hadith and story.

    (Buy This worksheet book here)

    (Buy This worksheet book here)

    Enrolments Available

    This is a short course of hadith and stories from My 30 short hadith with stories course. My hadith course is very much liked and appreciated by parents and students. Online group classes are available online for all time zones. Recommended age for the class Hadith for kids is 7+. These classes are available in English and Urdu. If you want to enroll your child in our classes contact us via.

    Other courses we have

    • Online Quran classes
    • Online Hifz Programme(Quran Memorization)
    • Easy Tafseer for kids with interesting stories you can see that course in my hadith course tab.
    • Prayer for kids course is a short course to teach about taharat, Gusal, wudu, times of prayers, number and names of prayers, pillars and conditions of prayer, and method of prayer. Search as Prayer for kids course on the search bar.
    • Ramzan boost course we do start 2 weeks before Ramzan.
    • Faith boos course In December to say No To Marry Christmas.
    • Kindness to Parents

    If you want to start this course with me then leave a comment, Email me or enroll your child here.

    Download your free copy of 30 short Hadith book pdf in Urdu/Eng from the Posts tab.

  • Story 1 Urdu| What Is The Reward Of Good Intentions?

    Story 1 Urdu| What Is The Reward Of Good Intentions?

    Welcome to Our Hadees with stories course for Kids. You are going to Start a short course for your child. After this course, your children would have their own mini -Kitab -UL-Hadess (For a Description of this Free online course scroll down)

    Here is the “First Hadees and story of Our hadith with stories course for kids.

    Lesson No 2

    Hadith|Sahih al-Bukhari no 1

    Topic of Hadith| Intentions. نیک نیت

    Story | A good woman

    Hadith on Intention| نیک نیت

    حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بے شک اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے “۔

    Our Actions depend on Good intentions

     نیک نیت

    A story on Intentions ( نیت Niyat) کہانی

     نیک نیت

    ایک بار ایک شخص نے اپنا نیا مکان تعمیر کیا ، وہ ماضی میں ایک چھوٹے سے مکان میں رہتا تھا ، اس کا گھر بہت خوبصورت نہیں تھا۔ اب اللہ کے فضل و کرم سے وہ ایک بڑا مکان بنانے کے قابل تھا۔ اس میں کوئی شک نہیں ، اس نے ایک خوبصورت دروازہ کے ساتھ ایک اچھا مکان تعمیر کیا اور اس نے گھر میں کھڑکی رکھی ، ہر ایک نے اسے پسند کیا۔ وہ بہت پرجوش تھا۔

    ایک دن اس نے حضور اکرم صل صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے گھر آنے کی دعوت دی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم  اس کے گھر تشریف لائے۔ اس نے دیکھا کہ گھر میں ایک خوبصورت کھڑکی ہے جو باہر سے کھلتی ہے۔ آپ نے اس کے گھر کی تعریف کی اور مالک سے عاجزی سے پوچھا ،

    آپ نے یہ کھڑکی اپنے گھر کے باہر کیوں رکھی؟

    آپ کی نیت کیا ہے؟

    مالک نے پرجوش جواب دیا ، میں اپنے گھر کو کامل بنانا چاہتا ہوں۔ میں نے یہ کھڑکی بنائی تاکہ تازہ ہوا اور سورج کی روشنی میرے گھر میں داخل ہوسکے۔

    حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ اچھی بات ہے لیکن اگر تم کھڑکی سے اذان کی آواز سننے کا ارادہ کرتے ہو تو اپنی نیک نیت کا بدلہ پائو گے۔ اور سورج کی روشنی اور تازہ ہوا بھی اندر آجائے گی ،

    اگر تم سورج کی روشنی اور تازہ ہوا حاصل کرنے کا ارادہ نہیں رکھتے تو بھی تم انہیں حاصل کرسکتے ہو ، لیکن اذان کی آواز سننے کی اپنے نیک نیتی  پر تم دونوں چیزیں  حاصل کرسکتے ہو۔ وہ چونک گیا۔ اس نے خود سے وعدہ کیا کہ آئندہ وہ کوئی بھی عمل کرنے سے پہلے ہمیشہ نیک نیت کرے گا۔

    تو عزیز بچو اس کہانی میں یہ درس ملتا ھے کہ

    اپنےنیتوں کو ہمیشہ اچھا رکھیں۔ آئیے یہ نیت کریں کہ ہم اللہ سے اجر حاصل کرنے کے لئے یہ احادیث کہانیوں کے ساتھ سیکھ رہے ہیں۔ اور تاکہ ہم اپنے پیارے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم  کی سیرت سیکھ سکیں۔ ہم اسے یاد رکھیں گے’ اور ان شاء اللہ ان پر عمل کریں گے۔

    مجھے امید ہے کہ آپ نے اس کہانی سے اچھا سبق سیکھا ہوگا ..

    Video of this story

    https://youtu.be/LAQW83q0rcc

    Worksheet for this Hadith Buy thi sbook here

     نیک نیت
     نیک نیت
    Good intention in urdu

    Click here to learn how to teach this hadith.

    The Written story of this Hadit here In English

    Enrolments Available

    This is a short course of hadith and stories from My 30 short hadith with stories course. Online group classes are available online for all time zones. Recommended age for the class Hadith for kids is 7+. These classes are available in English and Urdu. If you want to enroll your child in our classes contact us via.

    Other courses we have

    • Easy Tafseer for kids with interesting stories you can see that course in my hadith course tab.
    • Prayer for kids course is a short course to teach about taharat, Gusal, wudu, times of prayers, number and names of prayers, pillars and conditions of prayer, and method of prayer. Search as Prayer for kids course on the search bar.
    • Ramzan boost course we do start 2 weeks before Ramzan.
    • Faith boos course In December to say No To Marry Christmas.
    • Kindness to Parents

    If you want to start this course with me then leave a comment, Email me or enroll your child here.

    Download your free copy of 30 short Hadith book pdfs in Urdu/Eng from the Posts tab.

    Students activities

    Full curse Videos in English

    Full curse Videos in Urdu

    https://www.youtube.com/watch?v=LAQW83q0rcc&list=PLIWc_d03ngLtrHKDLe7Ib3YiDO8CslaaK&index=32
  • Story 3Urdu| How to overcome anger? Hades and worksheet

    Story 3Urdu| How to overcome anger? Hades and worksheet

    Welcome to Our Hadees with stories course for Kids. You are going to Start a short course for your child. After this course, your children would have their own mini -Kitab -UL-Hadess .

    Let’s start today’s Hadith with the story.

    Lesson no| 4

    Hadees no 3| Sahih AlBhuhari 6116

    Topic of the hadees | Anger غصہ

    Story| ہابیل اور قابیل

    Introduction of Hadith about Anger

    Hadees

    پیارے بچو ، کیا آپ جانتے ہیں کہ اس حدیث مبارکہ میں حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم

    جی ہاں! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا غصہ نہ کرو۔ کیوں نہیں؟ کیونلم نے کیا فرمایا؟    

    ، جیسا کہ آپ سبھی جانتے ہیں ، غصہ کرنا ایک بہت بری عادت

                                                                                     ہے۔

    اسلام میں غصہ حرام سمجھا جاتا ہے کیونکہ غصہ شیطان کی طرف سے

                                                                                   آتا ہے۔

    شیطان ہمیں غصہ دلاتا ہے تاکہ ہم برا کام کریں جو اللہ کو پسند نہیں  اور

                                                        ہم جنت میں داخل نہ ہوسکیں۔

    پیارے بچو ، آج میں آپ کو غصے پر مبنی ایک کہانی سناتی ہوں ، جو

                          حضرت آدم علیہ السلام کے بیٹوں کے بارے میں ہے۔

     کہانی ہابیل اور قابیل۔

    Hadees with story

    حضرت آدم علیہ السلام کے دو بیٹے تھے جن کے نام تھے  ہابیل اور قابیل۔

    بچپن میں ، وہ ایک دوسرے کے ساتھ اچھے طریقے سے رہتے تھے۔ تاہم

             جیسے جیسے وہ بڑے ہوئے وہ دونوں ایک دوسرے سے مختلف  شخصیات ثابت ہوئے۔

    ھابیل کو اللہ کی راہ میں قربانی دینا پسند تھا۔ اس کی طبیعت  شفیق اور شائستہ تھی۔

    دوسری طرف قابیل سست ، حسد اور اپنی زندگی سے عدم اطمینان کا شکار

         تھا۔ اس نے کبھی بھی اللہ کا شکر ادا کرنے کا وقت نہیں نکالا۔ اس نے

                         ہمیشہ دوسروں کو مورد الزام ٹھہرایا مگر خود کو نہیں۔

    یہ اس لئے تھا کہ شیطان اسے اپنے بھائی اور دوسرے لوگوں سے نفرت  کرنے پر اکسا رہا تھا۔ قابیل نے سوچا کہ اس کے والد حضرت آدم (ع) اس سے پیار نہیں کرتے ، بلکہ ہابیل سے زیادہ پیار کرتے ہیں لہذا قابیل کو

                                                  ہابیل سے حسد محسوس ہونے لگا۔

    ایک بار ، دونوں بھائی ایک بڑے پہاڑ  کے کنارے پر کام کر رہے تھے۔ اچانک ، قابیل پتھر سے پھسل گیا لیکن ہابیل نے نیچے گرنے سے پہلے ہی اس کو پکڑ لیا اور اپنے بھائی کی جان بچالی۔

    اس واقعے کے بعد ، ہابیل کے لئے قابیل کی نفرت اور غصہ کچھ حد تک کم ہوا۔

    لیکن جلد ہی ، شیطان نے اسے دوبارہ اپنے بھائی پر غصہ دلا دیا اور اس نے دوبارہ حسد کرنا شروع کردیا۔ اب ، قابیل زیادہ ناراض ہوا اور غیر منصفانہ چیزوں کا مطالبہ کرنا شروع کردیا۔

    پھر ، خلیفہ کا انتخاب کرنے کا وقت آگیا۔ حضرت آدم علیہ السلام نے اللہ کے حکم سے خلیفہ بننے کے لئے ہابیل کا انتخاب کیا ، لیکن قابیل ناراض ہوا اور مطالبہ کیا کہ اسے خلیفہ بنایا جائے۔  اس لڑائی کو ختم کرنےکے لئےاللہ سبحانہ وتعالی نے ان سے اللہ کی راہ میں اپنی پسندیدہ چیز قربان کرنے کو کہا اور فرمایا  بہترین قربانی والا خلیفہ بن جائے گا۔

    چونکہ ہابیل جانوروں کا نگراں تھا لہذا اس نے ایک بہت ہی خوبصورت ، صحتمند گائے کی قربانی دی۔

    قابیل ایک کاشتکار تھا ، لیکن وہ قربانی کے لئے بوسیدہ فصلوں اور پھلوں کی ایک ٹوکری  لے آیا۔

    دونوں نے اپنی قربانی کھلے علاقے میں رکھ دی اور واپس آگئے۔ آسمان سے ایک بجلی آئی اور ہابیل کی قربانی لے گئی جس کا مطلب تھا کہ اس کی قربانی قبول ہوگئی۔ دوسری طرف ، قابیل کی قربانی وہاں باقی رہی کیونکہ اللہ سبحانہ وتعالی نے اسے پسند نہیں کیا۔

    یہ اللہ کا فیصلہ تھا لیکن قابیل نے اسے قبول نہیں کیا اور ہابیل سے اس کی نفرت میں مزید اضافہ ہوا۔ اس نے اسے اور زیادہ تنگ کرنا شروع کردیا۔ ایک دن ، اس نے اپنے والد سے کہا کہ وہ اس لڑکی سے قابیل کو شادی کرنے دیں جس کے ساتھ ہابیل شادی کرنے جارہا ہے۔ اس کے والد نے انکار کر دیا اور کہا کہ ‘کیوں کہ وہ آپ کی بہن ہیں آپ اس سے شادی نہیں کرسکتے ہیں۔‘

    قابیل غصے میں آیا اور اس نے اپنے بھائی ہابیل کو مار ڈالا۔

    پیارے بچو ، چونکہ یہ زمین پر کسی بھی انسان کا پہلا قتل تھا ، لہذا قابیل کو یہ معلوم نہیں تھا کہ اپنے بھائی کو کہاں چھپانا ہے۔ پھر اس نے دیکھا کہ ایک کوا ایک دوسرے کوے کو دفن کرنے کے لئے زمین کو کھود رہا ہے۔

    تو اس نے اپنے بھائی کو بھی زمین میں دفن کردیا۔

    اس کے بعد ، قابیل نے اس پر پچھتاوا کیا اور سوچا کہ کوا اس سے بہتر ہے۔ وہ اپنے بھائی سے زیادہ پیار کرتا تھا کہ وہ مرنے کے بعد اسے دفنا رہا تھا، لیکن اب اس پر افسوس کرنا بیکار تھا – وہ خلیفہ نہیں بن سکتا تھا اور نہ ہی اس لڑکی سے شادی کرسکتا ہے۔

    پیارے بچو ، جب ہم قابیل کی طرح شدید غصے میں ہوں تو ہم اپنے پیاروں کو کھو سکتے ہیں۔

    تو آئیے ایک وعدہ کریں کہ ہم آج کی حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم پر عمل کریں گے ، اور کبھی غصہ نہیں کریں گے ۔

    Video of this story

    Worksheet ( Buy book here)

    Read this story in English

    Full hadees course click here

    Download your free copy of 30 short Hadith book pdfs in Urdu/Eng from the here

    Youtube Urdu Channel
    Youtube English Channel

    English stories

    Urdu stories

    Enrolments Available

    Online Urdu Classes are Available for all ages. comment below or Email

    Urdu tutor’s Profile

    We are offering Online Urdu learning classes to students from All time zones. Urdu for beginners, Urdu from Grades 1 to 10, And o Level/A level/GSCE online tuition are available.

    This is a short course of hadith and stories from My 30 short hadith with stories course. Online group classes are available online for all time zones. Recommended age for the class Hadith for kids is 7+. These classes are available in English and Urdu. If you want to enroll your child in our courses contact us via.

    Other courses we have

    • Urdu classes for kids and beginners
    • Urdu Tutions for Matric and 0 levels/A level
    • Online Quran classes and tutors
    • Online Quran memorization/Hfiz program
    • Seerah course for age 9+ in the Month of Rabilawal started
    • Easy Tafseer for kids with exciting stories you can see that course in my hadith course tab.
    • Prayer for kids course is a short course to teach about taharat, Gusal, wudu, times of prayers, number and names of prayers, pillars and conditions, and prayer methods. Search as Prayer for kids course on the search bar.
    • Ramzan boost course we do start 2 weeks before Ramzan.
    • Faith boos course 1st week of December to say No To Marry Christmas.
    • Kindness to Parents

    If you want to start this course with me then leave a comment, Email me or enroll your child here.

    How’s This story and Course? Do you have any suggestions to improve it? Comment below. Which courses you are looking to be designed more?

  • Story 2 Urdu| Importance of Prayer| Is Dua Ibada?

    Story 2 Urdu| Importance of Prayer| Is Dua Ibada?

    Welcome to our Hadees with stories short course for kids and adults. This course has been designed for personality development—information on this course is in a table of content.

    Let’s start lesson 3, Hadith no 2 About the power of Dua, Jamia Al-Tirmidhi 2929.

    Urdu Hadith Intoroduction- حدیث

    بسم اللہ الرحمن الرحیم – پیارے بچوا السلام علیکم!امید ہےاللہ کے فضل سے آپ سب ٹھیک ہونگے-آپ سب نے ایک حدیث ایک کہا نی سلسلہ ,پہلی حدیث سیکھی اور اس پر عمل بھی کیا ہوگا-تین آدمی غار میں-آج ہم اپنی دوسری حدیث ایک خوبصورت کہانی کے ساتھ شروع کرتے ہیں-آج کی حدیث کا عنوان ہے “دعا”  اور ہماری کہانی “تین آدمی غار میں” ان تین آدمیوں کے بارے میں ہے جو غار میں پھنس گئے تھے

    بچوں-کے-لئے،ایک-حدیث-ایک-کہانی-hadith-story

    پیارے بچو اس حدیث میں ہمارے نبی کریم صل اللہ علیہ والہ وسلم نے ہمیں بتایا کہ دعا مانگنا بھی ایک عبادت ہے-حوالہ حدیث :جامعہ ترمزی2929,

    جب ہم اللہ تعالیٰ سے دعا مانگتے ہیں کہ اے اللہ ہماری مدد فرما.تب نہ صرف ہماری نماز مکمل ہوتی ہے بلکہ ہمیں نیکیاں ملتی ہیں .ہمیں ہمیشہ اللہ کی مدد کی ضرورت ہوتی ہے. اللہ نے ہمارے مانگ بغیر ہی ہمیں بے شمار نعمتوں سے نوازا ہے-اسکے باوجود ہم ہمیشہ اللہ سے مدد مانگتے ہیں ,  جب ہم بیمار ہوں، کسی مشکل میں ہوں یا ہم اپنی کسی خواہش کی خاطر خاص مدد کے طلبگار ہوں .اس لیے ہمیں یہ سیکھنا ہے.کہ اللہ کو کیسے پکارا جائے. آج کی کہانی ہمیں سکھائے گی کہ دعا کیسے مانگی جائے . 

     

    کہا نی -Urdu story

    Urdu Hadith with story|ایک حدیث، ایک کہا نی

    تین آدمی غار میں

    ایک دفعہ تین دوست سفر پر نکلے

    . وہ ایک طوفان میں پھنس گئے اور ایک پہاڑ کے اندر غار میں پناہ لی . جلد ہی ایک چٹان گری اور غار کا منہ بند ہوگیا اور وہ باہر نہ نکل سکے

    وہ بہت پریشان ہوئے . 

    انہوں نے چٹان ہٹانے کی کوشش کی مگر بےسود 

    ان میں سے ایک شخص نے کہا کہ اپنے اچھے اعمال کو یاد کرکے اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں ہو سکتا ہے وہ ہمیں اس مشکل سے بچائے.

    ایک دوست بولا “اے اللہ میں اپنے بوڑھے ماں باپ، بیوی اور چھوٹے چھوٹے بچوں کی دیکھ بھال کرتا ہوں

    میں سارا دن اپنے ریوڑ کی دیکھ بھال کرتا ہوں

    جب شام کو گھر آتا ہوں تو بھیڑ بکریوں کا دودھ نکالتا ہوں  اور پہلے ماں باپ کو دودھ دیتا ہوں

    ایک دن مجھے چارے کی تلاش میں دور جانا پڑا.

    میں شام سے پہلے لوٹ نہ سکا واپسی پر ماں باپ کو سوتے پایا

    اور میں انکےسرہانے خاموشی سے کھڑا رہا کہ انکے آرام میں خلل پیدا نہ ہو

    مجھے یہ مناسب نہ لگا کہ میں والدین سے پہلے اپنے بچوں کو دودھ پلا دوں. میرے بچے میرے قدموں میں روتے رہے. میں اسی حالت میں والدین کے پاس کھڑا رہا یہاں تک کہ صبح ہو گئی . اے اللہ اگر میرا یہ عمل آپکو پسند آیا ہو تو ہمیں اس مصیبت سے نجات عطا فرمائیں. وہ چٹان تھوڑی سی سرکی یہاں تک کے وہ تھوڑا سا آسمان دیکھ سکے

    دوسرا دوست بولا”اے میرے اللہ میری ایک چچازاد تھی جس سے میں شادی کرنا چاہتا تھا لیکن اس نے انکار کر دیا کیونکہ میں اسکا سو دینار قرض نہیں ادا کر سکا.میں نے بڑی مشکل سے سو دینار اکٹھے کیے اسکے گھر گیا اور اسکو مجبور کیا کہ مجھ سے نکاح کرے-

    وہ کہنے لگی” اے اللہ کے بندے اللہ سے ڈر اور اسکی حد کو نہ توڑ اس لیے میں نے اس کو چھوڑ دیا اور وہاں سے واپس آگیا”

    اے اللہ آپ جانتے ہیں کہ یہ میں نے صرف آپ کے ڈر سے کیا. اگر آپ کو میرا یہ عمل پسند آیا تو ہماری مشکل آسان کر دیں     وہ پتھر تھوڑا سا سرکا کہ کچھ رستہ بنا مگر وہ. ان تینوں کے نکلنے کے لیے ناکافی تھا

    تیسرا بولا “اے للہ مین نے ایک ملازم چاول ماپنے کے لیے رکھا جب اس نے اپنا کام ختم کو لیا تو میں نے اسکو چاولوں کی شکل میں معاوضہ ادا کیا  مگر اس نے قبول نہ کیا اور چلا گیا- تو میں نے ان چاولوں کو بیج بو دیا. میری فصل بہت اچھی ہوئی کے میں امیر ہو گیا میرے پاس گائے اور بھیڑ بکریوں کے ریوڑ تھے. 

    ایک دن وہ ملازم آیا اور کہنے لگا اللہ سے ڈرو اور میرے مال میں کوئی ظلم مت کرنا. میں نے اس کو کہا “یہ گائے اور بھیڑ بکریاں لے جاو.” وہ. کہنے لگا اللہ سے ڈرو اعر میرا مذاق مت اڑاو’

    میں نے کہا میں تمسخر نہیں کر رہا بلکہ تم یہ مال لے جاو اور وہ لے کر چلا گیا

    “اے اللہ! آپ جانتے ہیں یہ عمل میں نے آپکی رضا کے لیے کیا. اگر میرا یہ عمل آپکو پسند آیا تو ہماری مشکل آسان کر دیں”

      وہ پتھر سرکا یہاں تک کہ غار کا منہ کھل گیا. 

    آپ نے دیکھا کیسے ان کے اچھے اعمال اور دعا مانگتے کے طریقے سے انکی مشکل آسان ہوئی

    پیارے بچو ہمارے لیے سبق یہ ہے کہ ہمیں ہمیشہ اچھے اور نیک اعمال کرنے چاہیے اور اخلاص سے عبادت کرنی چاہیے اللہ ہماری دعائیں قبول فرمائیں گے. 

    اگر ہم اپنے اچھے اعمال کو یاد کریں اور اللہ سے دعا کریں تو اللہ ہماری دعائیں قبول کریں گے

    دعا مانگنے کا بہترین وقت اذان کے بعد، فرض نماز ادا کرنے کے بعد، جب بارش ہو رہی ہو یا. جب کوئی شخص بیمار ہو. یب آپ اس پیاری حدیث کو لکھیں اسکو یاد کریں اور اسکو اپنے دوستوں کواور دادا دادی کو ضرور سنائیں

    The video of this story

    Worksheet (Buy worksheet courses sign-up)

    Full hadees course click here

    Youtube Urdu Channel
    Youtube English Channel

    English stories

    Urdu stories

    Surah Kauther easy tafseer

    Enrolments Available

    This is a short course of hadith and stories from My 30 short hadith with stories course. Online group classes are available online for all time zones. Recommended age for the class Hadith for kids is 7+. These classes are available in English and Urdu. If you want to enroll your child in our classes contact us via.

    Other courses we have

    • Online Quran classes and tutors
    • Online Quran memorization/Hfiz program
    • Easy Tafseer for kids with interesting stories you can see that course in my hadith course tab.
    • Prayer for kids course is a short course to teach about taharat, Gusal, wudu, times of prayers, number and names of prayers, pillars and conditions of prayer, and method of prayer. Search as Prayer for kids course on the search bar.
    • Ramzan boost course we do start 2 weeks before Ramzan.
    • Faith boos course In December to say No To Marry Christmas.
    • Kindness to Parents
    • Urdu classes for kids and beginners
    • Urdu Tutions for Matric and 0 levels/A leve

    If you want to start this course with me then leave a comment, Email me or enroll your child here.

    Download your free copy of 30 short Hadith book pdf in Urdu/Eng here

    How’s This story and Course? Do you have any suggestions to improve it? Comment below. Which courses you are looking to be designed more?