Posted on

Ayyub (S) ( أيّوب)پیارے پیارے نبی ایوب حضرت یعقوب علیہ السلام کے بھتیجے تھے، وہ فلسطین کے شمال. مشرق میں موجود لوگوں کی ہدایت کے لیے مبعوث کیے گئے. جب ایوب علیہ السلام کو نبوت کے لیے منتخب کیا گیاتو انہوں نے لوگوں کو اللہ اور اپنے دین کے بارے میں سکھانا شروع کر دیا.وہ لوگوں کو. نیکی کرنے کا حکم دیتے اور برائی سے روکتے. ان پہ بہت کم لوگ ایمان لائے لیکن آہستہ آہستہ تعداد زیادہ ہونے لگی.

The Prophet Ayub was Well Off

حضرت یعقوب علیہ السلام اللہ پہ یقین رکھنے والے ایک خوشحال انسان تھے. ان کے پاس بہت سی زمین، جائیداد اور مال مویشی موجود تھے، لیکن انہوں نے اس سب پہ کبھی غرور نہیں کیا تھا.

The Prophet Ayub Displays Patience

حضرت یعقوب علیہ السلام عاجزی اور اللہ پر یقین کا پیکر تھے. وہ بڑے صبر والے تھے.. انہوں نے بہت ساری مصیبتوں کا سامنا کیا لیکن کبھی زبان سے شکوے کا ایک لفظ بھی ادا نہ کیا. ایک دن ان کے فارم پہ چوروں نے حملہ کر دیا، انہوں نے بہت سے ملازمین کو. مار دیا اور زبردستی مویشیوں کو اٹھا کر لے گئے، لیکن ایوب علیہ السلام افسردہ نہ ہوئے بلکہ اللہ کے شکرگزار رہے. کچھ وقت کے بعد ان کے گھر کی چھت گر گئی، جس کی وجہ سے بہت سے اہل خانہ وفات پا گئے، ایوب علیہ السلام بہت پریشان تھے لیکن انہوں نے اللہ پہ یقین قائم رکھا، نہ تو انہوں نے آہیں بھری اور نہ ہی آنسو بہائے وہ رب کے سامنے جھکےاور کہا کہ مال اور اولاد اللہ ہی کا تحفہ ہیں اگر اس نے واپس لے لیے ہیں تو اس پہ اہ و بکا کرنا نہیں بنتا. پھر کچھ عرصے بعد آپ کو ایک جلدی بیماری آن لگی، ان کے سارے جسم. پہ ناسور پھو ٹ پڑا، ہاتھ اور چہرہ بد نما داغوں سے بھر گئے، پھوڑوں میں کیڑے پڑ گئے اور یہ بیان کیا جاتا ہے کہ زخموں سے جو کیڑے گرتے آپ وہ اٹھا لیتے کہ اللہ کریم نے ہی انہیں بھی پیدا کیا ہے. ان سب سے بڑھ کر آپ کے جعلی دوستوں نے اسے آپ کے گناہوں کی سزا کہنا شروع کر دیا، وہ آپ کو حقارت سے دیکھتے اور آپ کا مذاق اڑاتے، آپ کی بیوی رحیمہ کہ علاوہ سب آپ کا ساتھ چھوڑ گئے، یہاں تک کہ وہ خاتون بھی تھکنے لگی اور اللہ سے آپ کی دعا یا وفات کی دعا کرنے لگی تاکہ آپ کی آزمائش ختم ہو. جب ایوب علیہ السلام انتہائی نازک حالت میں تھے تو انہوں نے اللہ سے دعاکی کہ بے شک تباہی نے مجھے آ لیا ہے، لیکن آپ سب سے زیادہ ڑحم کرنے والے ہیں، مجھ پہ رحم کریں. اللہ کریم نے ان کی دعا قبول کی، قرآن کہتا ہے کہ پھر ہم نے ان کی دعا قبول کی اور مصیبت کو ان سے دور کر دیا، ان کا گھر بار اور مال و دولت بلکہ اس سے بھی بڑھ کر انہیں لوٹا دیا، یہ ہمارے خزانہ رحمت سے یقین کرنے والوں کے لیے یاددہانی ہے.

The Prophet Ayub Recovers and Prospers

اللہ اپنی رحمت سے ان کی طرف متوجہ ہوا اور انہیں زمین پہ پاؤں مارنے کا حکم دیا، آپ نے ایسا کیا تو زمین سے ایک پانی کا چشمہ پھوٹا، جس کے پانی سے آپ نے غال کیا تو آپ کو اپنی بیماری سے شفا ملی. اس کے بعد وہ دوبارہ سے خوشحال ہو گئے، آپ ہمیشہ اللہ سامنے جھکتے اور اس کی تعریف بیان کرتے رہے. ایوب علیہ السلام پسندیدہ ترین نبیوں میں شمار کیے جاتے ہیں، ان کا نام صبر کرنے والوں میں مثال کے طور پہ پیش کیا جاتا ہے. جو ہمیشہ ہر مصیبت میں ثابت قدم رہے اور بڑے اجر وانعام کے مستحق ٹھہرے. قرآن کہتا ہے کہ : بے شک ہم تمہیں خوف اور بھوک سے آزماتے ہیں. اور مال اور فصل کے نقصان سے لیکن بے شک ثابت قدم. رہنے والوں کے لیے بڑا اجر ہے، وہ کہ جن پہ مصیبت آتی ہے تو وہ کہتے ہیں کہ بے شک ہم اللہ ہی کی طرف سے ہیں اور اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے.

The Afflictions upon Prophet Job

حضرت یعقوب علیہ السلام کا سارا مال و متاع اللہ نے ایک بار واپس لے لیا، آپ کے بچت وفات پا گئے، 18 سال تک آپ کسی جلدی مرض میں مبتلا رہے، قرآن ہمیں اس بیماری کا نام. نہیں بتاتا اور نہ ہی قرآن میں آپ کے جسم. کے گلنے سڑنے اور اس میں کیڑے پڑنے کا ذکر ہے اور نہ ہی بیان کیا گیا ہے کہ سات سال تک آپ کوڑے کء ڈھہر پر پڑے رہے، جیسا کہ یہودی بیان کرتے ہیں، ایسی بیماری یا آزمائش میں اللہ نے کسی بھی نبی کو مبتلا نہیں کیا. لیکن وہ اتنا لمبا عرصہ اس بیماری میں مبتلا رہے کہ لوگ صبر کی مثال دینے کے لیے آپ کا نام استعمال کرنے لگے.

The Patient Wife of Job

آپ کی بیوی بھی بہت صبر والی تھی، جب سارے لوگ آپ کو چھوڑ گئے تب بھی اس نے آپ کا ساتھ دیا، یہاں تک کہ ایک دن جب کھانے کو کچھ میسر نہ تھا تو اس نے اپنے بال کاٹ کر بیچ دیے اور آپ کے لیے کھانا خریدا، لیکن جب یعقوب علیہ السلام کو علم. ہوا تو بہت ناراض ہوئے کیونکہ عورت کے لیے تب بھی اپنے بال بیچنا جائز نہ تھا جیسا کہ اب آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے دین میں بھی جائز نہیں ہے کہ کوئی عورت اپنے بال کاٹ کر کسی دوسری کو فروخت کرے اور کوئی کای دوسرے کے کٹے ہوئے بال اپنے سر کے بالوں میں گوندھے. کب آپ نے بیماری سے نجات پائی تو دوبارہ اتنے حسین ہو گئے کہ آپ کو سامنے دیکھ کر آپ کہ بیوی بھی آپ کو نہ پہچان سکی. بیان کیا جاتا ہے کہ آپ نے 93 برس کی عمر پائی اور بہترین ایمان کی حالت میں دنیا سے رخصت ہوئے

This story in Video

The Hadith about this hadith

This story is written for our 30 short hadith with stories course for kids. You can join this course. We offer online classes in a very reasonable fee.

This course is also helping Home schooling mothers in different ways.. You can get all resources from my website to teach your child 30 short hadiths at home. We have videos, written stories, worksheets and a full teaching method. So contact us if you need to get these helpful resources.

You can watch or read this story in English as well in Stories for children section or Search as Hadith no 12 story in English.
(Visited 70 times, 1 visits today)
close

Oh hi there 👋
It’s nice to meet you.

Sign up to receive awesome content in your inbox, every month.

We don’t spam! Read our privacy policy for more info.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *