Tag: storiesforkidsurdu

  • Story no 15|How to offer prayer? Learn Sunnah

    Story no 15|How to offer prayer? Learn Sunnah

    Welcome to our Hadees with stories short course for kids and adults. This course has been designed for personality development.

    We have 30 short hadiths with the best stories to understand the meaning of the hadiths and to learn how we can apply the sunnah of Prophet Muhammad S.AW in our daily life.

    All hadiths and stories in English and Urdu are available on our site. You can visit the menu to search for stories with series.

    Lets start learning Today’s Hadees and Story in Urdu

    Hadees no 15

    Lesson no 16

    Topic of the Hadees Importance of Sunnah

    Story- The Qibla was changed

    ہمارےپیارے نبی کریم صل اللہ علیہ و آلہ و سلم کی نماز–Hadees

     یہ حدیث نماز اور آپ صل اللہ علیہ و آلہ و سلم کی سنت پر عمل کرنے کے بارے میں ہے. جیسا کہ ہم سب جانتے ہیں، جب ہم نماز ادا کرتے ہیں تو ہمیں آپ صل اللہ علیہ و آلہ و سلم کی سنت پر، انہی کے طریقے پر عمل کرنا ہوتا ہے.ہم آپ کے بتائے ہوئے مخصوص طریقے میں نہ کچھ اضافہ کر سکتے ہیں اور نہ اس میں کوئی کمی کرنا ممکن ہے.

    hadees
    قبلہ کی تبدیلی کی کہانی —Hadees story
    Hadees

    اس حدیث کی کہانی اس دور کی ہے جب قبلہ اول کی تبدیلی ہوئی، جب مکہ سے مدینہ کی جانب ہجرت ہوئی تو مسلمانوں کا قبلہ تبدیل کر دیا گیا.یہ آپ صل اللہ علیہ و آلہ و سلم اور ان کے ساتھیوں کے لیے ایک بڑی آزمائش تھی. لیکن سچے ایمان والوں نے آپ کی پیروی کی اور اس معاملے میں کبھی کوئی بحث مباحثہ نہیں کیا. جب مکہ میں اسلام کا ظہور ہوا ,تو کعبہ ہی مسلمانوں کا قبلہ تھا جس کی جانب منہ کر کے وہ نماز ادا کرتے.کعبہ کو حضرت ابراہیم علیہ السلام اور ان کے بیٹے نے تعمیر کیا اور یہ اللہ پاک کا  پہلا اور سب سے پرانا گھر ہے. 

    ایک مرتبہ آپ صل اللہ علیہ و آلہ کو اللہ کی طرف سے حکم ہوا کہ نماز کے لیے اپنا رخ بیت المقدس کی جانب پھیر دیا جائے، مسلمانوں نے اس حکم کی پیروی کی، اور آپ کے ساتھیوں نے کبھی اس پر اعتراض نہ کیا. مدینہ میں یہودیوں کی ایک کثیر تعداد آباد تھی. یہودی اپنے مذہبی فرائض بیت المقدس کی جانب منہ کر کے ادا کرتے تھے، بیت المقدس بھی اللہ کا گھر ہے جسے حضرت سلیمان علیہ السلام نے تعمیر کروایا تھا. 

    میرے عزیز طالب علموں !!! ایسا اس لیے تھا تاکہ یہودی یہ بات سمجھ جائیں کہ اسلام کوئی نیا اور انوکھا دین نہیں ہے، بلکہ یہ وہی دین ہے جو موسٰی علیہ السلام اور باقی انبیاء کرام علیہم السلام کا تھا. اور مسلمان تمام انبیاء اور مقدس کتابوں پہ پختہ یقین رکھتے ہیں. آپ صل اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ہر طرح سے یہودیوں کی راہنمائی کی تاکہ وہ اسلام کو سمجھ کر اسے قبول کر لیں، لیکن وہ نہ مانے. صرف چند یہودیوں نے اسلام قبول کیا،

    بلکہ اللہ کے نبی اور اسلام کے دشمن بن گئے. انہوں نے مسلمانوں کے لیے مشکلات پیدا کیں اور خفیہ سازشیں کرنے لگے.سترہ ماہ بعد، اللہ پاک نے مسلمانوں کو سمت کی تبدیلی کا حکم دیا اور اپنا رخ کعبہ کی جانب موڑنے کا کہا

    پیارے بچو!!! یہ عصر کی نماز کا وقت تھا، سب مسلمان آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی پیروی کرتے ہوئے نماز ادا کر رہے تھے، اسی دوران آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو اللہ تعالیٰ کی جانب سے وحی کے ذریعے حکم دیا گیا کہ اپنا رخ کعبہ کی جانب موڑ لیں آپ نے فوراً اپنی پشت پھیری اور رخ تبدیل کر لیا. فوراً ہی آپ کے تمام ساتھیوں نے بھی آپ کی پیروی کرتے ہوئے اپنا رخ تبدیل کر لیا. 

    آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سےکوئی سوال نہ کیا گیا، صحابہ آپ سے نہ تو بحث کیا کرتے تھے اور نہ آپ کی حکم عدولی کرتے تھے. ہمارے لیے بھی اسلام کی یہی تعلیم ہے کہ ہمیں اللہ اور اس کے رسول کے تمام احکامات پر بغیر کسی بحث اور دلیل کے عمل کرنا چاہیے. نہ کوئی شکوہ نہ شکایت، محض قرآن اور سنت کے احکامات پر عمل اور ان کی پیروی کریں. 

    hadees

    اس حدیث کو اپنی نوٹ بک میں لکھنا نہ بھولیے گا، دوسری احادیث کے ساتھ ساتھ اس کی بھی تصویر شئیر کریں تاکہ آپ کے بچوں کے احادیث کی تکمیل کی سند دی جا سکے.اللہ پاک سے دعا ہے کہ وہ اس کام کو آپ کے لیے آسان بنا دے 

    نوٹ:اس حدیث کو اپنے دوستوں اور گھر والوں کے ساتھ شئیر کریں، تاکہ زیادہ لوگ اس سے فائدہ اٹھا سکیں

    This Hadees and story in Video

    Worksheet for this Hadees and story…… You can buy this Book of 35 colouring pages. Comment to get a copy.
    hadees
    This course could be done online for free with the help of our free hadees and stories. You can read English stories here and
    . Free hadees book in pdf is available on our homepage and the workbook is available to buy at our courses sign-up page.

    Or you can join our online classes to learn about Islam. List of courses/ Classes we have

    • Online Quran classes for beginners
    • Online Quran recitation and Memorisation classes
    • Islamic education for children
    • Seerah course
    • Ramzan boost course
    • Faith boost course
    • Rights of parents course
    • Prayer for kids course

    How was your experience visiting our site? If this course helped you? Please leave your thoughts. If you have any questions, you can ask them in the Question tab. If you want to connect with us via Email, then email here

  • Story 10 Urdu| What is real beauty? Beautiful hadith.

    Story 10 Urdu| What is real beauty? Beautiful hadith.

    Welcome to our Hadees with stories short course for kids and adults. This course has been designed for personality development

    Hadees no 10

    Lesson no 11

    Topic of hadithBeauty

    Story. A Princess

    Hadees- حدیث

    hadees

     
    یہ حدیث اللہ کی صفت سکھانے کے ساتھ ساتھ بچوں کو صاف ستھرا رہنا سیکھاتی -اس کے ساتھ ساتھ بچوں  کو ماحول کو صاف رکھنا اور خوبصورتی کا احساس رکھنا پیدا کرے گی -آج لوگ کپڑے بدلنا ور بل بنانا تک دنیاوی کام سمجھتے ہیں.جب کہ اگر اگر ہم سنت کی نیت سے اور الله کو خوش کرنے کی نیت سے سب کچھ کریں گے تو اس پر اجر بھی ملی گا. لہذا آج کی حدیث اور کہانی بچوں کے لیے بہت اہم ہے

    ہمارے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اس حدیث میں فرمایا ہے کہ اللہ خوبصورت ہے اور وہ خوبصورتی کو پسند کرتا ہے۔ یہ حدیث صحیح مسلم 91سے لی گئی ہے.اس حدیث کا موضوع حسن ہے اور کہانی کا نام خوبصورت شہزادی ہے.پیارے بچوں پیارے بچوں یہ حدیث اللہ کے اوصاف میں سے ایک صفت کے  بارے میں ہے.

    اگر ہم فطرت میں دیکھیں تو ہمیں خوبصورت پھول، تتلیاں اور بہت سے کیڑے نظر آئیں گے، آسمان پر ستارے اور چاند، سمندر، پھل، رنگ اور اس دنیا کی ہر چیز بہت خوبصورت ہے۔ بچے اور ہم بھی اللہ کی بہترین اور معصوم مخلوق ہیں۔ اب یہ ہمارا فرض ہے کہ ہم بہت صاف ستھرے رہیں اور اپنے ارد گرد کی چیزوں کو صاف ستھرا رکھیں کیونکہ ہمارے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم بھی ایک صاف ستھرے اور خوش لباس شخص تھے۔ پس سنت پر عمل کرنے سے ہم خوش ہوں گے اور ہمیں اللہ کا شکر ادا کرنے کا بدلہ بھی ملے گا۔

    Story-A Prinsess/ ایک شہزادی

    hadees

    ایک بار ایک شہزادی تھی جو بہت خوبصورت تھی۔ اس کے والدین نے اس کا بہترین خیال رکھا۔ لیکن وہ بہت سست تھی۔ وہ ہمیشہ گندے کپڑوں میں رہتی ہے، وہ اکثر بالوں کی پرواہ نہیں کرتی اور انہیں بغیر کنگھی کے چھوڑ جاتی تھی۔ اس کے دانت پیلے تھے کیونکہ وہ کئی دنوں تک انہیں برش نہیں کرتی تھی۔ اس کے پاس بہت سے نوکراورنوکرانیاں تھیں جو اپنی خدمات پیش کرنے کے لئے تیار رہتے تھے ۔

    وہ ان سے اپنے کمرے، اپنے کپڑے اور الماریاں صاف کرنے کا کہنے کی بجائے ہر وقت اپنی نوکرانیوں کے ساتھ کھیلتی. تو اس کا کمرہ بھی گندا ہو جاتاتھا۔ اس کی والدہ ملکہ نے بھی دیگر سرگرمیوں پر زیادہ وقت صرف کیا۔ لہذا اس کی رہنمائی کرنے والا کوئی نہیں تھا۔

    ایک بار وہ اپنے سب گھر والوں کے ساتھ سیر پر نکلےانہوں نے ایک دریا کے خوبصورت کنارے کے قریب خیمہ لگایا۔ وہ لطف اندوز ہو رہے تھے. نوکر کھانا پکا رہے تھے اور کھانا پیش کر رہے تھے۔  کھانے کے بعد سب ادھر ادھر گھومنے شروع ہو گئے، ہر کوئی اپنی پسندیدہ سرگرمیوں میں مصروف تھا. بادشاہ نے پولو کھیلنا شروع کیا۔

    شہزادی بھی اپنی عمر کی نوکرانیوں کے ساتھ چہل قدمی کے لئے چلی گئ۔ وہ دریا کے کنارے دوڑنے لگی۔ انہوں نے ایک دوسرے پر پانی برسایا۔ اس نے اپنے جوتے اتار دیئے۔ ان کے کپڑے گیلے تھے. پھر وہ اپنی نوکرانیوں کے ساتھ چھپ کر کھیلنے اور تلاش کرنے کا کھیل کھیلنا  شروع کیا ۔ وہ اپنے خیموں سے بہت دور چلی گئی اور کھو گئی۔ وہ اپنے خیموں کو تلاش کرنے کے لئے ادھر ادھر بھٹکتی رہی لیکن کوئی فائدہ نہیں ہوا ۔

    اب وہ پریشان تھی. وہ ادھر ادھر بھاگ رہی تھی. ۔ اس کے کپڑے اب گندے تھے ۔ لیکن اسے اس سے کوئی مسئلہ نہیں تھا . وہ بھوکی بھی تھی. آخر کار وہ ایک گاؤں میں پہنچ گئی۔ اس نے گاؤں کے باہر ایک جھونپڑی دیکھی۔ وہ وہاں گئی. اسے وہاں ایک بوڑھا اور ایک بوڑھی عورت ملے۔ اس نے انہیں بتایا کہ وہ کھو گئی ہے۔

    اس نے انہیں یہ بھی بتایا کہ میں ایک شہزادی ہوں۔ میرے والدین مجھے تلاش کر رہے ہوں گے لیکن رات ہے۔ میں پناہ اور میں  کچھ کھانا چاہتی ہوں۔ براہ مہربانی مجھے آپ اپنے ساتھ رہنے کی اجازت دیں. بوڑھے جوڑے نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا۔ وہ اس کی گندی شکل اور گندے کپڑوں  کی وجہ سے یقین نہیں کرسکتے تھے ۔

    اس کے ناخن لمبے اور گندے تھے۔ ان دونوں کا خیال تھا کہ وہ ضرور جھوٹ بول رہی ہے۔ اور وہ انہیں نقصان پہنچا سکتی ہے۔ لیکن وہ اسے نہیں کہنا چاہتے تھے ۔ کیونکہ اگر وہ شہزادی ہو گی جیسا کہ وہ کہہ رہی ہے تو اس کا باپ بادشاہ اپنی بیٹی کی مدد نہ کرنے پر انہیں نقصان پہنچا سکتا ہے۔ وہ بڑے پریشان تھے۔

    آخر کار، انہوں نے اسے اپنے ساتھ رکھنے کا فیصلہ کیا۔ وہ اس کا فیصلہ کر رہے تھے اور کسی بھی صورتحال کے لئے چوکس تھے۔ وہ خوشی سےکھانا نہیں کھاتی تھی کیونکہ کھانا اس کے شاہی انداز کی طرح نہیں تھا۔ پھر وہ سو گئی. لیکن وہ سو نہیں سکتی تھی. کیونکہ بستر بہت مشکل تھا. وہ اپنے نرم اور آرام دہ بستر سے محروم تھی۔

    بوڑھے لوگ اس کی بے چینی کا مشاہدہ کر رہے تھے۔ اب انہیں یقین ہو گیا کہ وہ واقعی شہزادی ہے۔ تو صبح کے وقت انہوں نے اس سے پوچھا کہ تمہاری رات کیسی گزری۔ اس نے کہا کہ میں رات بھر سو نہیں سکی۔ آپ کے بستر بہت مشکل ہیں. انہوں نے مسکرا کر کہا، اوو غریب لڑکی تم ایک شہزادی ہو۔ ہم جانتے ہیں کہ ہمارا گھر اور سہولیات آپ کی حیثیت کے مطابق نہیں ۔ اب آپ کی مدد کرنے کا وقت ہے.

    آپ کا خاندان جلد ہی یہاں ہوگا، کیونکہ ہم نے پہلے ہی گاؤں سے کچھ لڑکوں کو آپ کے خیموں کی جگہ تلاش کرنے کے لئے بھیجا تھا. لیکن ہم کچھ کہنا چاہتے ہیں.

    اوہ تم کتنے مہربان ہو؟ میں واقعی آپ کی بہت شکر گزار ہوں. ہاں براہ مہربانی آپ کیا کہنا چاہتے ہیں. بوڑھی عورت نے کہا، ”چھوٹی، خوبصورت لڑکی، تم بہت اچھی اور خوبصورت ہو. اللہ نے تمہیں کامل کر دیا. میں یہ ضرور کہوں گی کہ آپ اپنا خیال رکھیں۔ آپ کو ہمیشہ اپنے آپ کو صاف ستھرا رکھنا چاہئے۔ یہ سنت ہے اور ہمارا نصف ا یمان ہے۔

    اللہ تعالیٰ خوبصورت ہے اور وہ خوبصورتی اور صفائی کو پسند کرتا ہے۔ تم ایک شہزادی ہو. آپ کی مدد کے لیے آپ کے پاس بہت سے نوکر اور نوکرانیاں  ہیں ۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ آپ اس طرح اتنےگندے  حال میں رہتے ہیں۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ ہم نے یقین نہیں کیا کہ آپ شہزادی ہیں۔ لڑکی خود پر افسوس کر رہی تھی۔

    اس نے دیکھا کہ بوڑھی عورت غریب ہے لیکن اس کا لباس اتنا صاف تھا، اس کے بال سفید تھے اور اچھی طرح بنائے گئے تھے۔ اس کے گھر کی دیکھ بھال بھی کی گئی تھی۔ اس نے وعدہ کیا کہ وہ ان کے مشورے کو ہمیشہ یاد رکھے گی۔ اسی دوران کچھ گھڑ سوار اپنی گھوڑا گاڑی لے کر وہاں آئے اور وہ اس پر سوار ہو گئی۔ اس نے ہاتھ ہلایا اور بہت اچھا سبق لے کر جھونپڑی سے نکل گئی۔

    پیارے بچوں، آپ سب بھی بہت خوبصورت اور کامل انسان ہیں. لہذا ہمیشہ صاف ستھرے اور اچھی طرح سے انتظام کرنے کی کوشش کریں۔ تاکہ اللہ آپ سے محبت کرے اور آپ کو اس کی سنت پر عمل کرنے کا اجر دے

    This story in English
    Search as Hadith no 10 story in English.

    This Hadith and story in Video

    https://www.youtube.com/watch?v=nJ9CEvtpHgY&t=9s

    Worksheet design for this Hadith and story

    hadees

    Online classes and courses we have

  • Story 8 Urdu|Hadith about How To Teach Eating Manners To Kids?

    Story 8 Urdu|Hadith about How To Teach Eating Manners To Kids?

    Welcome to Our Hadith with stories course for Kids. You are going to Start a short course for your child. After this course, your children would have their own mini -Kitab -UL-Hadess (For a Description of this Free online course scroll down)Here is the “First Hadees and story of Our hadith with stories course for kids

    hadith on Eating manners in Islam in Urdu

    This is a story of a hungry boy who started to eat with his left hand. This story will teach hadith on the Eating manners in Islam and the use of the right hand.

    پیارے بچوں، ہمیشہ کی طرح، میں ایک خوبصورت حدیث اور ایک دلچسپ کہانی آپ سب کے ساتھ شیئر کرنے جا   رہی  ہوں-  آج کے لئے ہماری حدیث مندرجہ ذیل باتوں پر مبنی ہے: ‘تم میں سے کوئی بھی اپنے بائیں ہاتھ سے نہ کھائے۔

     

    hadith on Eating manners in Islam in Urdu

    پیارے بچوں، اس حدیث کو پڑھنے کے بعد آپ کو پتہ چل جائے گا کہ ہمیں اپنے بائیں ہاتھ سے کھانا نہیں کھانا چاہئے۔ آپ کے بائیں ہاتھ سے کھانے کے مضر اثرات کیا ہیں اور ہمیں اس عادت سے کیوں گریز کرنا چاہئے؟ آئیے اس موضوع کے بارے میں مزید جاننے کے لئے ایک کہانی سنتے ہیں۔

    hadith on Eating manners in Islam in Urdu
    Hadith on Eating manners in Islam in Urdu with story

    بھوکا لڑکا

     کہانی ایک لڑکے کے بارے میں ہے جس کا نام علی تھا۔ علی ایک اچھا اور خوش اخلاق بچہ تھا۔ وہ ہمیشہ اچھا برتاؤ کرتا تھا اور دوسروں کا احترام کرتا تھا۔ وہ وقت پر کھیلتا اور تعلیم حاصل کرتا تھا۔ سب اس کی تعریف کرتے   تھے- لیکن پیارے بچوں، کچھ عرصے بعد، علی کی عادات تبدیل ہونے لگیں۔اب ایسا ہوا کہ علی نے کھیل کھیلنے میں زیادہ وقت گزارنا شروع کیا۔ وہ کھانا کھاتے ہوئے بھی اپنے کھلونوں سے کھیلتارہتا تھا۔ اس کے ہاتھ میں ہمیشہ کھیلنے کے لئے کچھ نہ کچھ ہوتا تھا۔  پیارے بچوں، علی جب بھی کھانا کھاتا، یا توموبائل فون اس کے ہاتھ میں  ہوتایا کھانے کے دوران کھیلنے کے لئے اس کے ہاتھ میں کھلونا ہوتا تھا۔اس طرح اس نے اپنے بائیں ہاتھ سے کھانا شروع کردیا تاکہ وہ اپنے دائیں ہاتھ سے کھیل سکے۔ پیارے بچوں، کیا آپ جانتے ہیں کہ شیطان ان لوگوں کے ساتھ کھاتا ہے جو اپنے بائیں ہاتھ سے کھاتے ہیں، اور اگر بائیں ہاتھ کو کھانے کے لئے استعمال کیا جاتا ہے تو کھانے کی برکت شیطان کے پیٹ میں جاتی ہے۔ ایک دن علی کی والدہ نے اسے مشورہ دیا کہ وہ اپنے بائیں ہاتھ سے کھانا نہ کھائے کیونکہ یہ ایک بری عادت تھی، لیکن علی اس پر عمل کرنا بھول جاتا۔ جلد ہی، یہ اس کی عادت بن گئی کہ وہ  ہمیشہ اپنے  بائیں ہاتھ سے کھانا کھاتا- لیکن جب بھی وہ اپنے بائیں ہاتھ سے کھانا کھاتا تو ایک شیطان اس کےکھانے سے برکت چھین لے جاتا اور یہ شیطان کے پیٹ میں چلا جاتا۔جب بھی علی اپنے بائیں ہاتھ سے کھانا کھایا کرتا تو اس کی بھوک مطمئن نہ ہوتی اور وہ خالی محسوس کرتا۔ وہ دن بدن کمزور ہوتا گیا۔ اس نے زیادہ کھانا کھا نا  شروع کیا لیکن یہ کبھی کافی نہیں ہوتا تھا کیونکہ وہ کھانے کے آداب بھول گیا تھا۔

     وہ اپنے ہاتھ نہیں دھوتا تھا۔

    وہ  کھانے سے پہلےبسم اللہ نہیں پڑھتا تھا۔

    وہ اپنے دائیں ہاتھ سے نہیں کھاتا  تھا۔ 

    اور ہمیشہ کھاتے وقت کھیلتا   رہتا  تھا

    اس  پر شیطان واقعی خوش تھا کیونکہ وہ علی کی بری عادات کی تعریف کرتا تھا۔ وہ موٹا ہو رہا تھا کیونکہ وہ علی کے کھانے سے ساری توانائی لے رہا تھا۔علی پہلے کی طرح نہیں کھیل سکتا تھا کیونکہ جب بھی وہ کھیلنے کے لئے باہر جاتا تھا تو اسے بھوک لگتی تھی۔ اسے اپنا پیٹ بھرنے کے لئے گھر واپس جانا پڑتاتھا ۔ لہذا، وہ زیادہ تر اپنی کھڑکی سے کھیلتے ہوئے بچوں کو دیکھتا تھا-پیارے بچوں، اس کے والدین اس کے بارے میں بہت پریشان ہو گئے لیکن علی نے ان کی بات نہیں سنی اور اس کے بجائے جب بھی وہ اس سے بات کرنے کی کوشش کرتے تو ان پر غصہ کرتا تھا۔وہ اب قابو سے باہر ہو گیا تھا. اکثروہ اپنے بھائی اور بہن کا حصہ بھی کھا جاتا تھا- پھر بھی وہ بھوکا رہتا تھا۔ اس کی بھوک کی کہانی ہر طرف پھیل گئی۔ اس کے رشتہ دار اور خاندان کے افراد اسے مطمئن نہیں کر سکے چاہے وہ اسے کتنا کھانا ہی کیوں نہ دیں۔ آخر کار کسی نے اس  کے والدین کو مشورہ دیا کہ وہ کسی اچھے علم والے سے سے ملاقات کر کے مشورہ کریں جو اللہ کا نیک بندہ اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت پر عمل کرنے والا  ہو اور اس کا علاج کرے ۔ علی کے والدین اسے ایک عالم بندے کے پاس لے گئے۔ اس نے ا ن کا مسئلہ سنا اور کہا، ‘فکر نہ کرو، علی کو کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ ان شاء اللہ علی چند دنوں میں ٹھیک ہو جائے گا۔ اس شخص نے علی کو اپنے ساتھ رکھ لیا-اور اس کے لئے کھانے کا انتظام کیا۔ جب علی کھانے لگا، تو اس شخص نے علی سے کہا کہ کھانا کھانے سے پہلے اسے ایک شرائط ماننی ہوگی۔ علی کافی عرصے سے بھوکا تھا لہذا اس نے اس سے کہا کہ وہ اسے شرائط بتائے تاکہ وہ اس پر عمل کرسکے۔اس نیک عالم نے علی کو پہلے ہاتھ دھونے کو کہا۔ علی نے فورا تعمیل کی۔ پھر علی سے بسم اللہ پڑھنے کو کہا۔ علی نے ہدایات پر عمل کیا اور بسم اللہ پڑھی۔ جب وہ کھانے جا رہا تھا تو اس نے اپنا بائیاں ہاتھ استعمال کرنا چاہا۔انہوں نے وضاحت کی کہ ہمیں ہمیشہ کھانے کے لئے اپنے دائیں ہاتھ کا استعمال کرنا چاہئے چاہے اس میں کتنا ہی وقت کیوں نہ لگے۔علی نے بسم اللہ پڑھی .. اور پھر دائیں ہاتھ سے کھانا شروع کیا لیکن اسے مشکل پیش آئی کیونکہ وہ بائیں ہاتھ سے کھانے کا عادی تھا۔ یہ اس کے لئے بہت تکلیف دہ تھا لیکن چونکہ یہ ایک نصیحت تھی جس کے بارے میں دانشمند نے زور دیا تھا، اس لئے وہ آہستہ آہستہ اپنے دائیں ہاتھ سے کھاتا رہا۔  پیارے بچوں، اس بار شیطان کو اس کے کھانے سے حصہ نہیں مل سکا۔ وہ علی کے بائیں ہاتھ سے کھانے کا انتظار کرتا رہا تاکہ اسے علی کے کھانے کا حصہ مل سکے۔ لیکن وہ شخص علی کے ساتھ بیٹھا تھا اور اس نے اس بات کو یقینی بنایا کہ علی بائیں ہاتھ سے کھانا نہ کھائے اور اپنا کھانا ٹھیک سے ختم کرے۔ ہر دفعہ ایسا کرنے سے علی مطمئن اوراپنا  پیٹ بھرا ہوا محسوس کرتا تھا۔ شیطان بھوکا رہتا. پیارے بچوں، جب بھی عقیدت مند شخص علی کو کھانا دیتا، وہ اسے اپنے دائیں ہاتھ سے کھاتا تھا۔ ایک نیک آدمی کی دانش مندی کی وجہ سے شیطان چلا گیا-علی نے اپنی بھوک کے مطابق اور وقت پر کھانا کھانا شروع کر دیا۔  علی کے والدین اس شخص کے شکر گزار تھے۔  علی نے اپنے آپ سے یہ وعدہ بھی کیا تھا کہ وہ دائیں ہاتھ سے کھانے کی اپنی عادت کو کبھی تبدیل نہیں کرے گا۔ پیارے بچوں، آپ دیکھ رہے ہیں کہ علی اپنی بری عادات کی وجہ سے شیطان کے ہاتھوں کیسے پھنس گیا؟ 

    تو پیارے بچوں، ہمیشہ کھانے کے آداب کو یاد رکھیں جیسے: بسم اللہ پڑھتے ہوئے ہاتھ دھوئیں… دائیں ہاتھ سے کھانا کھانا’ کھانے کے دوران بات نہ کرنا (یا صرف اچھی چیزوں کے بارے میں بات کرنا)’ آرام سےبیٹھ کر  کھانا کھانا’کھانا ٹھیک سے ختم کرنا ‘کھاناکھانےکے بعد الحمداللہ کہنا – پیارے بچوں مجھے امید ہے کہ آپ ان اصولوں پر عمل کریں گے۔ اب آپ کو اس حدیث کو یاد رکھنا ہوگا اور یہ معلومات دوسروں تک بھی پھیلانی ہوں گی۔ 

    Eating manners poster

    hadith on Eating manners in Islam in Urdu

    Click the link for the Video of this Story

    Hadith worksheet about hadith on Eating manners in Islam in Urdu

    hadith on Eating manners in Islam in Urdu

    Enrolments Available

    This is a short course of hadith and stories from My 30 short hadith with stories course. My hadith course is very much liked and appreciated by parents and students. Online group classes are available online for all time zones. Recommended age for the class Hadith for kids is 7+. These classes are available in English and Urdu. If you want to enroll your child in our classes contact us via.

    Other courses we have

    • Easy Tafseer for kids with exciting stories you can see that course in my hadith course tab.
    • Prayer for kids course is a short course to teach about taharat, Gusal, wudu, times of prayers, number and names of prayers, pillars and conditions, and prayer method. Search as Prayer for kids course on the search bar.
    • Ramzan boost course we do start 2 weeks before Ramzan.
    • Faith boos course In December to say No To Marry Christmas.
    • Kindness to Parents

    If you want to start this course with me then leave a comment, Email me or enroll your child here.

    Download your free copy of 30 short Hadith book pdf in Urdu/Eng from the Posts tab.

    Worksheet for this Hadith and story. (Buy This worksheet book here)

    A child is telling about eating manners and This story after learning this hadith.

    Students activities

    https://youtu.be/RvXRqIK4NjQ

  • Gaiy aor bakri Allama Iqbal Story in urdu    گا ۓ اور بکری  علا مہ اقبال کی نظم سی ماخوذ

    Gaiy aor bakri Allama Iqbal Story in urdu گا ۓ اور بکری علا مہ اقبال کی نظم سی ماخوذ

     

     

     

     

    گا ۓ اور بکری 

    علا مہ اقبال کی نظم سی ماخوذ

    گا ۓ اور بکری  علا مہ اقبال کی نظم سی ماخوذ

    وہ ایک خوبصورت سا  پہاڑی علاقہ تھا  

    اس میں ایک ہری بھری چرا ہ گاہ تھی

    یہ چراہ گاہ بہار خوشبو سے بھری تھی 

    اس چراہ گاہ کے پاس سے ایک ندی بھی گزرتی تھی

    جس کا پانی بہت ٹھنڈا اور میٹھا تھا 

     پیپل اور انار کےبے شمار درخت قطا روں میں لگے تھے 

    جن پر پرندے بیٹھ کرخوبصورت آوازوں میں چہچہاتےتھے  

    ٹھنڈی ہوا اس ماحول کو اور بھی پیارا کر دیتی  تھی
     اس خوبصورت  چرا گاہ میں ایک گا ۓ رہتی تھی 
    جو یہاں خوش نہیں تھی   

     ایک دن ایک بکری گھاس چڑ تے چڑ تےاس طرف  آ نکلی

    بکری نے ادھر ادھر نظر گھما کر دیکھا 

    تو اس کووہ  گاۓ نظر آئی  

    بکری نے گا ۓ کو جھک کر بڑ ے ادب سے سلام کیا

    اور پھربڑ ے اچھے انداز سے گا ۓ سے اسطرح بات کرنے لگی 

          : بکری

    کیا حا ل ہے بڑ ی بی 

    :  گا ۓ 

    خیر اچھے ہیں.(ساتھ ہی ایک ٹھنڈی آہ بھر ی

    (اور گلے کرنے لگی 
    کہنے لگی میں بہت پریشان ہوں
    میری زندگی مصیبت  میں پڑی ہوئی  ہے


      ایسے لگتا ہے
      میری قسمت ہی  خراب ہے 
     یہ انسان میرے ساتھ برا سلوک کرتا ہے

    میرا دودھ نکالنے  کے لیے بڑی چالیں چلتا ہے  

    جس دن میں دودھ کم دیتی ہوں یہ بڑبڑاتا ہے 

    اوراگر میں کمزور ہو جا ؤں تو یہ مجھے بیچ دیتا ہے

    اس نے  میری اس نیکی کا مجھے یہ صلہ دیا ہے

    کہ یہاں با ند ھ دیا ہے

    میں کمزور ہوں میرا ان انسانوں  پر ذورنہیں چلتا

    لیکن میں یہی دعا کرتی ہوں  

     کہ کسی کا پالا ان انسانوں سے پڑ ے  

     غرض یہ کہ 

    یہ انسان بہت ظالم ہے 

    بکری گا ۓ کی یہ سا ری کہانی سن کے بولی 

    :بکری  

     دیکھو بڑی بی
    سچ بات کڑوی ہوتی ہے لیکن میں تو پھر بھی سچ کہوں گے 
    کہ انسان کا گلہ کرنا ٹھیک نہیں ہے 
     ہم غریب کمزور جانور ہیں
     آج اگر یہ انسان نہ ہوتا تو 

     ہمیں یہ ساری 

    خوشیاں کہاں نصیب ہونی تھیں 

    یہ سا رے لطف اور مزے ہمیں انسان کی 

     وجہ سے ہی  ملے  ہوے ہیں

    اسی انسان کی وجہ  سے آج ہم زندہ ہیں 

    ورنہ جنگل کے خطرناک بھیڑیوں سے ہمیں کون بچاتا.

     یہی انسان ہمیں سردی گرمی سے
     بچانے کے لیے  گھر بنا کر دیتا ہے

    انسان کے ہم پر اتنے احسان ہیں 

    تو پھر تم بتاؤ کہ ھمارے لیے انسان کی قید اچھی ہے یا آزادی 

    ہمیں اس کا گلہ کرنا زیبا نہیں دیتا

    یہ سن کر گا ۓ نے دل میں سوچا

    کہ بکری تو بلکل ٹھیک کہہ رہی ہے 

    پھر بولی 

    :گا ۓ   

    ویسے بکری ہے تو چھوٹی سی

    لیکن بہت عقل مند ہے 

    اس کی بات میرے دل کو بہت پسند آئی ہے
    آج کے بعد میں کبھی کسی کا گلہ نہیں کروں گی  

    ادیبہ انور 

     

  • حضرت موسی علیہ السلام کی قومThe story of Hazrat Moosa A.S in Urdu.

    حضرت موسی علیہ السلام کی قومThe story of Hazrat Moosa A.S in Urdu.

    حضرت موسی علیہ السلام 


    ١.حضرت موسی علیہ السلام کی پیدائش اور شادی 

    فرعون بہت ظالم بادشاہ تھا- وہ بنی اسرائیل کے  تمام لڑکوں
    کو قتل کروا دیتا تھا- جب حضرت موسیٰ علیہ السلام پیدا

    ہوئے, تو ان کی ماں اس بات پرڈر گئ کہ فرعون ان کے بیٹے
    کو قتل کروادے  گا -لیکن اللہ نے آپ کی ماں کو بتایا کہ! آپ
    اپنے بیٹے کو دریا میں رکھ آئیں- اور ہم موسیٰ کو بچا لیں
    گے- حضرت موسی علیہ السلام کی ماں نے آپ کو ایک
    ٹوکری میں رکھا اور دریا میں رکھ آئیں وہ ٹوکری بہتی ہوئی
    فرعون کے دربار کی طرف گئی تو فرعون کے سپاہیوں نے
    اس کو اٹھا لیا اور محل میں لے گئے- وہاں پر اس بچے کو
    فرعون  کی بیوی نے لے لیا-اس نے  کہا کے بچہ میں پالوں
    گی- پھر بچے کو دودھ پلانے کے لئے ایک عورت کو بلایا
    گیا- وہ حضرت موسی کی اپنی ماں تھی-لیکن یہ بات کسی کو معلوم نہیں تھی –
    انہوں نے بچے کو دودھ پلایا- اور ان کی دیکھ بھال میں لگ
    گئیں- اور اس طرح حضرت موسی علیہ السلام فرعون کے
    دربار میں ہی رہنے لگے- کچھ عرصہ کے بعد جب حضرت
    موسی علیہ السلام ذرا بڑے ہو گئے- تو فرعون کو معلوم ہوا
    کہ یہ بچہ بنی اسرائیل کا ہے-
    حضرت موسی علیہ السلام بنی اسرائیل کے پاس واپس آ گئے- موسی علیہ السلام بکریاں چراتے تھے- ایک دن ان کے ایک ساتھی سے فرعون کے
    ایک سپاہی کا جھگڑا ہو گیا- موسی علیہ السلام مدد کے لئے
    گئے- تو ان کے ہاتھ سے وہ سپاہی قتل ہو گیا- حضرت موسی
    علیہ السلام گھبرا گئے- اور وہاں سے بھاگ کرمدین شہر چلےگئے-
    وہاں ان کو دو لڑکیاں ملی جو ایک کنویں پر پانی
    بھرنے کے لیے کھڑی تھیں -لیکن دوسرے لوگ ان کی باری
    نہیں آنے دے رہےتھے- حضرت موسی علیہ السلام نے ان کی
    مدد کی اور ان کو پانی بھر دیا- لڑکیوں نے ان سے کہا کہ
    آپ ہمارے گھر ہمارے والد صاحب سے ملنےآئیں-
    حضرت موسی علیہ السلام ان کے گھر پر پہنچے، تو وہاں
    جن سے ملے- وہ ایک نبی حضرت شیعب الہی سلام تھے -انہوں نے
    حضرت موسیٰ علیہ السلام کی اچھائی اور حیا دیکھی- تو کہا
    کہ! اگر آپ میرے گھر آٹھ سال تک رہیں گے، اورہماری  دیکھ
    بھال کریں گے -تو میں اپنی بیٹی کی شادی آپ سے کردوں گا-
    حضرت موسی علیہ السلام راضی ہوگئے -اور اس طرح
    حضرت موسی علیہ السلام تقریبا دس سال وہیں پر رہے اور
    ان کی شادی ہوگئی- 

    ٢.حضرت موسی علیہ السلام اور فرعون 


    دس سالوں کے بعد حضرت موسیٰ علیہ

    السلام نے سوچا کہ اب مجھے واپس اپنے شہر جانا چاہیے-
    وہ اپنی بیوی کو لے کر واپس چل پڑے – راستےمیں  ایک جگہ پر
    جب رات کے وقت وہ رکے ،تو انہوں نے ایک پہاڑ طور
    کے پاس کچھ روشنی دیکھی- انہوں نے اپنی بیوی سے کہا،
    کہ! آپ یہاں ٹھہرو میں نے روشنی دیکھی ہے- میں آپ کے
    لیے وہاں سے آگ لے کر آتا ہوں- جب حضرت موسی علیہ
    السلام اس پہاڑ کے پاس پہنچے تو ان کو ایک آوازآئی – اے
    موسی! حضرت موسیٰ علیہ السلام ڈر گئے -پھر  آواز آئی اےموسیٰ  ڈرو
    نہیں میں تمہارا رب ہوں- اللہ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام
    سےپوچھا ، یہ تمہارے ہاتھ میں کیا ہے؟ حضرت موسی علیہ
    السلام نے کہا یہ میرا عصا ہے- اس سے میں بکریاں
    چراتا ہوں اور اپنا راستہ تلاش کرتا ہوں- اللہ نے آپ سے کہا
    اس کو زمین پر پھینکیں-  جب انہوں نے عصا زمین پر
    پھینکا -تووہ سانپ بن گیا- حضرت موسی علیہ السلام کو اللہ نے حکم دیا
    کہ اپنا ہاتھ اپنی بغل میں ڈالیں-  جب انہوں نے ہاتھ ڈالااور  ڈال کر
    باہر نکالا تو وہ چمکنے لگا- حضرت موسی علیہ السلام کو
    اللہ نے کہا، کہ! آپ میرے نبی ہیں-  آپ فرعون کے پاس جائیں اور
    اس کو مجھ سے ڈرائیں اور کہیں کہ اللہ  کی عبادت کرو اور بنی
    اسرائیل کو چھوڑ دو- حضرت موسیٰ علیہ السلام اپنے گھر
    والوں کو لے کر آگئے-
    حضرت علیہ السلام نےاللہ سے دعا کی کہ! اے اللہ! زبان میں لکنت ہے-
    یہ  صاف نہیں ہے- آپ میرے بھائی
    کو بھی میرے ساتھ دعوت کے کام میں لگا دیں- تاکہ وہ میری
    مدد کرے- اللہ تعالی نے حضرت ہارون علیہ السلام جو
    حضرت موسی علیہ السلام کے بھائی تھے- ان کو بھی آپ کے ساتھ
    بھیجا-

    پھر انہوں نے

    فرعون کو اللہ کی دعوت دی- انہوں نے فرعون کو کہا کہ!
    اللہ سے ڈرو ،اس کی عبادت کرو اور اور بنی اسرائیل پر ظلم
    کرنا چھوڑ دو- اورانہیں میرے  ساتھ بھیج دو-لیکن فرعون نا مانا-

    موسی علیہ السلام نے فرعون کوپھر دعوت دی- تو فرعون

    نے پوچھا- آپ ہمیں کوئی نشانی دکھائیں- موسی علیہ السلام نے
    اپنا ہاتھ اپنی بغل میں ڈالا تو وہ چمکنے لگا- اپنا عصا پھینکا
    تو وہ بھی سانپ بن گیا-فرعون  اور اس کے درباریوں نے کہا
    کہ یہ تو جادو ہے- فرعون منے  اعلان کروایاکہ ساری دنیا کے
    جادوگر آئیں-  اور حضرت موسی علیہ سلام سے مقابلہ کریں-
    لہٰذہ سب  لوگ اور  فرعون  اپنے وقت اور جگہ کے مطابق
    جمع ہوگئے-سری دنیا کے بہت بڑے بڑے جادوگر وہاں آئے-
    جادوگروں نےفرعون سے پوچھا کہ اگر ہم نے حضرت موسی علیہ السلام
    کو ہرا دیا تو ہمیں کیا انعام ملے گا فرعون نے کہا کہ
    جو حضرت موسی علیہ السلام کو ہرا دے گا-
    میں اس کو بہت
    سارے انعام بھی دوں گا-ا اور اپنے دربار میں اپنے ساتھ بھی
    بٹھاؤں گا-
    مقابلہ شروع ہوا- جادوگروں نے حضرت موسی علیہ
    السلام سے پوچھا ،کہ کون اپنا جادو پہلے دکھائے گا- حضرت
    موسی علیہ السلام نے کہا، آپ شروع کرو- توجادوگروں  نے بہت
    ساری رسیاں  پھینکیں جو سانپ بن کے دوڑنے  لگیں –
    اللہ تعالی نے حضرت موسی علیہ
    السلام کو پکارا اور کہا اے موسیٰ! ڈرو نہیں- اور اپنا عصا
    زمین پر پھینکو- حضرت موسی علیہ السلام نےاپنا عصا
    زمیں پر پھینکا وہ بڑا سا اژدہا بن کر سارے سانپوں کو نگل گیا-
    تمام جادوگر سجدے میں گر گئے-اور کہنے لگے کہ ہم
    موسی علیہ السلام کے رب پر ایمان لے آئے- کیونکہ وہ پہچان
    گئے تھے- کہ یہ کوئی جادو نہیں ہے- بلکہ یہ کوئی اور طاقت ہے- فرعون کو بہت غصہ
    آیا-اس نے جادوگروں سے کہا کہ میں تم لوگوں کو سزا دوں
    گا-اور تمہارے ہاتھ ایک طرف سے کاٹ کر دوسری طرف
    سے پاؤں کاٹ دونگا-انہوں نے کہا کہ آپ جو مرضی سزا دیں
    ہم سچ کی روشنی کو پا چکے ہیں- اس طرح  فرعون کو اپنی
    شکست بہت بری لگی- وہ حضرت موسی علیہ السلام اور
    ان کے ساتھیوں کا بہت دشمن ہو گیا- حضرت موسی علیہ
    السلام نے بہت کوشش کی- فرعون اللہ کو رب مان کر بنی
    اسرائیل کو آزاد کر دے لیکن فرعون نہ مانا آخر ایک دن موسیٰ
    علیہ السلام نے اللہ کے حکم سے اپنے سارے ساتھیوں کو جمع کیا
    اور رات کو بستی چھوڑ دینے کا فیصلہ کیا-حضرت موسی علیہ السلام رات کو
    جب سب ساتھیوں کو لے کر بستی چھوڑ کر نکل آئے -تو فرعون
    کو معلوم ہو گیا کہ بنی اسرائیل بھاگ رہے ہیں- اس نے اپنے
    سپاہیوں کو لے کر پیچھا کرنا شروع کردیا- حضرت موسی علیہ السلام اور ان کے
    ساتھی ایک دریا کے کنارے پہنچ گئ- ان کے ساتھیوں نے
    کہا کہ اب تو ہم پکڑے جائیں گے- فرعون اور اس کے سپاہی
    ہمیں مار دیں گے- لیکن حضرت موسی علیہ السلام نے کہا، کہ
    ڈ رونہیں اللہ ہمارے ساتھ ہے- موسی علیہ السلام نے اللہ کے
    حکم سے اپنا عصا پانی پر مارا تو پانی پھٹ گیا- اور بارہ
    راستے بن گئے –حضرت موسی علیہ السلام کے سارے ساتھی آسانی سی
    دریا پار کرگیے- پیچھے فرعون جب اس جگہ پہنچا- تو اس نے
    بھی اپنے سپاہیوں کو لے کر اسی راستے پر چلنا شروع کر
    دیا- لیکن جب تمام سپاہی اور فرعون دریا کے درمیان میں پہنچے تو
    پانی ساتھ مل گیا – اس طرح فرعون اور اس کا سارا لشکر پانی
    میں ڈوب کر غرق ہو گیا-دوسری طرف حضرت موسی علیہ
    السلام اور بنی اسرائیل دریا کے دوسری طرف پہنچ گتے –
    ٣.حضرت موسی علیہ السلام اور بنی اسرائیل دریا کی دوسری طرف صحرا ہی صحرا تھا –حضرت موسی علیہ السلام کی تمام قوم تھک چکی تھی- انہوں نے حضرت موسی علیہ السلام سے پوچھا
    کہ اب ہم کیا کریں گے-حضرت موسی علیہ السلام نے ان سے کہا کہ اب ہم مصر واپس جا کر اپنا ملک آزاد کروائیں گے-لیکن وہ نہ مانے انہوں کہا کہ ہم میں لڑ نے کی طاقت نہیں ہے- پھر چالیس سال تک وہ لوگ اسی صحرا میں بھٹکتے – اور وہی پر اپنی بستی بسا لی- ٤.بنی اسرائیل پر اللہ کی نعمتیں وہ لوگ سینا صحرا کے کنارے ہی رهنے لگے-وہاں پھر انہوں نے طرح طرح کی فرمائشیں کرنی شروع کر دیں –پہلے کہا کہ ہم کہاں سے کھائیں گے – انہوں نے حضرت موسی علیہ
    السلام سے کہا کہ آپ اپنے رب سے دعا کریں- کہ ہمارے
    لیے آسمان سے کھانانازل فرمائیں . اس پر حضرت موسی علیہ
    السلام نے دعا کی تو ان پر اللہ تعالی نے ان پر اپنی نعمت بیجھی.اور آسمان سے من وسلویٰ بھیجنا شروع کر دیا- جو کہ چالیس سال تک آتا رہا – پھر
    ایک د ن ان کی قوم نے کہا- کہ اے موسیٰ ہم ایک جیسا کھانا کھا کھا کر
    تھک چکے ہیں- ہمیں کوئی اور کھانا چاہیے- اس پر اللہ
    ناراض ہو گیا اور ان کا سارا کھانا آ نا بند ہو گیا – ان پر الله کی دوسری نعمت یہ تھی کہ اللہ تعالیٰ نے
    ایک بادل کو ان کےاوپر بھیج
    رکھا تھا – جو ہر وقت ان کے اوپرسایہ رکھتا تھا- اور پھر اللہ تعالی نے ان کے لئے ایک پتھر سے
    بھی پانی نکالا تھا- جس کے 12 چشمے تھے جن سے
    ان کے بارہ قبیلے پانی پیتے تھے- لیکن یہ قوم پھر بھی اللہ کا
    شکر ادا نہ کر تی -اور ہر وقت شکوے کرتی رہتی-اسی لیے ایک ایک کر کے اللّہ نے ان سے تمام نعمتیں چھین لیں – ٥.حضرت موسی علیہ السلام کوہ طور پر 
    ایک دن حضرت موسی علیہ السلام نے اپنے بھائی ہارون کو کہا کہ
    ایے میرے بھائی میں تیس دن کے لیے کوہ طور پر جا رہا ہوں – میرے
    پیچھے قوم کا خیال رکھنا- اور ان کو سیدھے راستے پر
    جمائے رکھنا- حضرت موسی علیہ السلام پہاڑ پر چلے گئے-
    حضرت موسی علیہ السلام نے وہاں اللہ کی بہت ہی عبادت کی- ایک دن حضرت موسی علیہ السلام نے اللہ سے کہا- کہ ایے اللہ
    میں آپ کو دیکھنا چاہتا ہوں- اللہ نے کہا کہ آپ مجھے نہیں دیکھ سکو گے – حضرت موسی علیہ السلام نے بہت اصرار کیا – تو اللہ نےکہا کہ آپ اس پہاڑ پر نظر ڈالیں- اگر آپ کی نظر جمی رہےگی-تو آپ مجھے دیکھ لیں گے- موسی علیہ السلام نے پہاڑ کو دیکھا تو
    وہ بہت زیادہ چمک رہا تھا-حضرت موسی علیہ السلام سے
    اس طرف نہ دیکھا گیا اور بیہوش ہو گئے- پھر جب ان کو
    ہوش آیا -توانہوں نے کہا- کہ اے اللہ ! واقعی میں آپ کو نہیں
    دیکھ سکتا ہوں- پھر اللہ تعالی نے ان کو کتاب تورات دی اور
    اور زندگی گزارنے کی تمام اچھی باتیں بتا دیں- حضرت
    موسی علیہ السلام چالیس دن وہاں رہے – اور تورات لیکر واپس آ گیے –
    ٦بنی اسرائیل اور بچھڑے کی پوجا-
    بنی اسرائیل کے پاس آئے تو انہوں نے دیکھا کہ ان کی قوم
    ایک سونے کے بنے ہوئے بچھڑے کی پوجا کر رہی تھی- موسی علیہ السلام بہت غصہ آیا-
    بھائی ہارون علیہ السلام سے پوچھا -کہ یہ کیا ہے تم نے ان
    کو منع کیوں نہیں کیا- حضرت ہارون علیہ السلام نے اپنے
    بھائی موسی علیہ السلام سے کہا- کہ اے میرے بھائی مجھے
    نہ پکڑو- میں نے ان کو بہت منع کیا تھا- لیکن سامری جادوگر
    نے ان کو دھوکے میں ڈال دیا تھا- اور کہا تھا کہ تمہارا رب
    نظر نہیں آتا ہے- اس لئےمیں تم کو عبادت کے لئے بچھڑا بنا دیتا ہوں –
    بنی اسرائیل نے سوچا کہ حضرت موسی علیہ السلام
    تیس دن کے لئے کوہ طور پر گے تھے –وہ واپس نہیں آئے تو شایدفوت ہوچکے ہیں
    سامری جادوگر نے ان کو دھوکا دے کر ان کو ایک بچھڑا بنا
    دیا- اور کہا کہ یہ تمہارا خدا ہے – اب تو اس کی عبادت کیا کرو-
    حضرت موسی علیہ السلام نے وہ بچھڑا اٹھایا- اور اس کو توڑ کر دریا میں
    پھینک دیا-جب غصہ ذرا ٹھنڈا ہوا- تو موسی علیہ السلام نے ان لوگوں کو بتایا- کہ اللہ نے مجھےیہ کتاب تورات
    دی ہے-اور اس نے تمام حکم بتا دیے ہیں- کہ اللہ کی عبادت کیسے کرنی ہے – اور کون کون سے کام حرام ہیں – لیکن وہ نا شکرے لوگ کہنے لگے- کہ موسی ہمیں کیا پتا ہے یہ کتاب تمہیں اللہ نے دی ہے- یا تو خود لکھ کرلے آئے ہو-جب ہم خود اللہ کو اپنی آنکھوں سے
    دیکھیں گے -پھر ہمیں یقین آئے گا- حضرت موسی اپنے قبیلوں
    کے 70 افراد کو لے کر کوہ طور پر چلے گئے- وہاں پر اللہ
    نے ان ستر لوگوں سے بات کی- تو وہ لوگ کہنے لگے یہ تو
    صرف آواز ہے- ہمیں تو اپنی آنکھوں سے اللہ کو دیکھنا ہے- اس پر اللہ تعالی بہت ناراض ہوگئے- اور وہ ستر کے ستر لوگ مر گئے-
    موسی علیہ السلام  پریشان ہو گۓ –
    موسی علیہ السلام نے اللہ سے دعا کی-کہ اے اللہ جب میں اپنے قبیلے
    کے پاس واپس جاؤں گا- تو ان کو کیا جواب دوں گا- اے اللہ مجھ پر اوران لوگوں پر رحم کر- تو اللہ ان ستر لوگوں کو دوبارہ زندہ
    کر دیا- اوروہ اپنے قبیلے کے پاس واپس آ گئے-

    ٧.بنی اسرئیل کی نافرمانیاں اور سزائیں 

    حضرت موسیٰ علیہ سلام کو الله نے شریعت دی. اور عبادت
    کا طریقے بھی  بتا دیۓ-ان کو روزہ رکھنے  اور نماز
    پڑھنے کا طریقہ بھی سکھایا گیا- لیکن بہت کم لوگ اللہ کی عبادت کرتے تھے.

    حضرت موسی علیہ السلام کی قوم بنی اسرائیل بار بار اللہ ک

    فرمانی کرتی رہی-

    اس لیے اللہ نے ان کو بہت سا ری سزائیں اور ان پر عذاب بھجھے –

    ایک دفعہ الله نے ان کی  نافرمانیوں کی وجہ  سنے  ان پر جوؤں ،ٹیٹدیو ں اور مینڈکو ں کا عذاب بھیجا- 
    وہ لوگ مچھلی کا شکار کر
    کے  اپنی روزی کماتے تھے -الله تعا لّی نے ان کو حکم دیا کہ
    وہ ہفتہ کے دن مچھلی کا شکار نہ کریں- اور سب کام چھوڑ
    کرصرف الله کی عبادت کیا کریں- الله نے ان کی آزمائش کی- کہ جب ہفتہ کا دن ہوتا تو بہت
    ساری مچھلیاں اچھل اچھل کر باہر آتیں-لیکن باقی دنوں میں مچھلیاں پانی کےنیچے چلی جاتیں-اور کوئی مچھلی نہ پکڑی جاتی – ان لوگوں نے ایک ترکیب
    سوچی- اور دریا سے پانی کا راستہ بنا کر چھوٹے چھوٹے  گڑھے کھود لیے —
    اس طرح ہفتہ کے دن مچھلیاں  وہاں آ کر بند ہو جاتیں- اور اگلے دن وہ لوگ مچھلیاں
    پکڑ لیتے-کچھ لوگ جوالله سے ڈرتے تھے- انھوں نے ان لوگوں کو روکا لیکن وہ لوگ نہ مانے-وہ کہتے کہ ہم ہفتہ کے دن تو مچھلی کا شکار نہیں کرتے- اسطرح انھوں نے الله کو دھوکہ دینے کی کوشش کی-اللہ نے ان تمام لوگوں کوجنہوں نے مچھلیاں پکڑی تھیں-اور ان کے ساتھی جنہوں نےان کو نہیں روکا تھا-
    سب کو بندر بنا دیا-اور کچھ دنوں کے بعد وہ سب بندر بن کر مر گے-
    ان کی نافرمانیوں میں ایک اور نا فرمانی یہ تھی- کہ  جب اللہ تعالی نے اس قوم کو کہا-کہ آپ ایک گائے ذبح کرکے میری راہ میں  قربان کریں-
    تو ان لوگوں کادل اس گائے اور بچھڑے کی محبت میں ڈوبا ہوا تھا – انہوں نے بہانے بنانا شروع کر دیے- اور کہا کہ ہمیں بتائیں وہ گائے
    کیسی ہو، اس کا رنگ کیسا ہو ، اس کی عمر کتنی ہو اور اس طرح
    کے بہت سارے سوال کیے – حضرت موسی علیہ السلام کو اللہ نے
    بتایا کہ وہ گائے سرخ رنگ کیا ا یک جوان اور خوبصورت سی،
    بے داغ گائے ہونی چاہیے -اس طرح کی گائے دو یتیم
    بچوں سے مل گئی-
    ان لوگوں نے مجبوری سے وہ گایے خریدی اور ذبح کر دی-
    ان دنوں ایک اور واقعہ ہوا – ایک بھائی نے دوسرے بھائی کو دولت کے لالچ میں
    قتل کرکے کسی کےگھر کے آگے پھینک دیا تھا- حضرت موسی علیہ اسلام نے
    گائے ذبح کروائی- اور اس کا ایک ٹکڑا اس مرے ہوئے آدمی
    کی لاش کے اوپر مارا- جس پر وہ اٹھ کر بیٹھ گیا اور ا سنے
    بتادیا کہ مجھے کس نےقتل کیا ہے -اس طرح اللہ کے حکم سے اس قتل کا پول کھل گیا –
    بچو! یہ بنی اسرائیل وہی ہیں جن کو آج ہم یہود کے نام سے جانتے ہیں-.یہ لوگ اللہ کے بڑ ے نافرمان تھے – اور اللہ کا شکر نہیں کرتے تھے –اس لیے الله نے ان سے اپنی سا ری نعمتیں بھی چھین لیں. اور یہ لوگ بہت سال صحرا میں بھٹکتے رہے-

    عملی کام :-

    اس کہانی کے آخر میں بچوں سے 
    ١.  حضرت موسی علیہ اسلام کی قوم اور فرعون کے متعلق سوال پوچھیں– ٢. قران پاک سے اس کہانی ک متعلق مختلفواقعیات کا ذکر کریں ٣. تخلیقی کم کروائیں
    یہ کہانی میں  نے اپنے بچوں کو کیسے پڑھائی اور اس کے  لیے کون سے تخلیقی کام کیا – اس کے لئے میری اس ویب سائٹ پر جائیں   

  • Phanto aik Hathi.   Urdu story for children. Urdu kahania.

    Phanto aik Hathi. Urdu story for children. Urdu kahania.

    فانٹو ایک ہاتھی!
    فانٹو ایک ہاتھی تھا جو کے جنگل میں اپنے ماں باپ کے ساتھ رہتا تھا، وہاں جنگل اس کے ا ور بھی بہت سے ہاتھی دوست تھے جن کے ساتھ وہ کھیلتا تھا  
    لیکن ا
    جنگل میں اس کا سب سے اچھا دوست پانی تھا. وہاں جنگل میں اس کے گھر کے قریب ایک  تالاب تھا. جو ٹھنڈے میٹھے پانی سےبھرا ہوا تھا
    bacho ki urdu kahania. urdu stories


    وہ اس پانی کے ساتھ خوب کھیلتا. اس کو پانی میں تیرنا , چھلانگیں لگانا بہت اچھا لگتا تھا
    وہ پانی اپنی سونڈ میں بھرتا اور کبھی اپنے اوپر چھڑکتا اور کبھی اپنے دوستوں پر
    اس کے دوست بھی اپنی اپنی سونڈ میں پانی بھر کر ایک دوسرے پر پھینکتے رہتے
    اس طرح وہ بہت سارا پانی ضائع کر دیتے.لیکن انہوں نے کھبی اس بات پر دھیان نا دیا کہ وہ کتنا پانی ضائع کر رہے ھیں
    کافی عرصہ سے جنگل میں بارش بھی نہیں ہوئی تھی.گرمی بہت شدید تھی.اب تو وہ اور بھی زیادہ وقت پانی میں گزارنے لگے تھے
    تالاب کا پانی آہستہ آہستہ کم ہونے لگا. اس کے ماں باپ اس کو سمجھاتے کہ اپنے سب سےاچھے دوست کو یوں ضائع نہیں کرنا چاہئے
    لیکن وہ پانی سے کھیلنے کے بغیر نہیں رہ سکتے تھے. آخر ایک دن ایسا آیا کہ تالاب بالکل سوکھ گیا. اس  کا پانی بالکل ختم ہو گیا
    سب والدین ہاتھی اس صورت حال سے بہت پریشان تھے. فانٹو بھی اپنے سب سے پیارے دوست کے بغیر خوش نہیں تھا.لیکن اس کو یہ معلوم نہیں تھا کہ پانی کے بغیر زندگی کتنی مشکل ہونے والی ہے
    وہ اپنے دوستوں کے ساتھ دوسرے کھیل کھیلنے میں مصروف ہو گیا.وہ سب اب بھی ادھر ادھر بھاگ رہے تھے اور شور مچا رہے تھے. دوپہر بہت گرم ہو گئی وہ کھیل کھیل کر تھک چکے تھے. اس کو پیاس بھی بہت لگی ہوئی تھی
    وہ پیٹ بھر کر پانی پینا چاہتا تھا. لیکن وہاں تو ایک گھونٹ بھی پینے کےلئے نہیں تھا
    اس نے اداس ہو کر سر جھٹکا اور کیلے کھانے چلا گیا
    اس نے کیلے کھاتے کھاتے سرگوشی کی کہ
    ‘کیلے میری پیاس تو نہیں بجھا سکتے’
    اب تو پانی کے بغیر اس سے کھیلا بھی نہیں جا رہا تھا
    شام ہو گئی تھی سب کا پیاس سے برا حال تھا.وہ سب صرف پانی کے بارےمیں ہی سوچ رہے تھے. والدین ہاتھی بچوں کی پیاس اور پریشانی محسوس کر رہے تھے. لیکن وہ کچھ نہیں کر سکتے تھے. سوا اس کے کہ اللہ سے دعا کریں. وہ سب اللہ سے دعا کر رہے تھے کہ اے اللہ اپنی رحمت سے بارش برسا دے.اور ہم پر رحم فرما.  وہ سب بار بار آسمان کو بھی امید سے دیکھ رہے تھے کہ شاید ابھی کوئی بادل آسمان پر آئے گا اور بہت سارا پانی برسا جائے گا
    رات ہو گئی تو فانٹو وہیں گھاس پر لیٹ گیا
    رات کو اس کو سب چیزیں اور بھی زیادہ بے رنگ لگ رہی تھیں. اس نے ایک دفعہ پھر اپنی ماں ہاتھی سے پانی مانگا. ماں بے بس تھی. اس نے فانٹو کو کہا کہ وہ بھی اللہ سے دعا کرے. پھر اللہ بہت سارا پانی برسائے گا. فانٹو دعا کرنے لگا لیکن پیاس سے اس کے ہونٹ بھی نہیں ہل رہے تھے. پھر اس نے چپکے سے دل ہی دل میں دعا کرنی شروع کر دی. دعا کرتے کرتے وہ سو گیا.
    ابھی وہ تھوری دیر ہی سویا تھا کہ اس کو لگا اس پر پانی کے چھینٹے پڑے ہیں. اس نے سوچا کہ وہ خواب دیکھ رہا ہے
    پھر اس نے ایک آواز سنی. کوئی کہہ رہا تھا کہ بارش آ گئی اس نے آنکھیں کھول دیں. اسی وقت اس کی ماں اس کے پاس جلدی سے آئی اور کہنے لگی
    فانٹو ! میرے بیٹے , دیکھو , بارش ہو رہی ہے. اب تم بہت سارا پی سکو گے. فانٹو جلدی سے اٹھ گیا. بارش بہت تیز ی سے اس کے چہرے اور سارے جسم پر برس رہی تھی. آہستہ آہستہ پانی نرمی اور بہت پیار سے اس کے جسم پر بہنے لگا. ایسا لگ رہا تھا کہ پانی بھی اس کے بغیر اداس ہو گیا تھا.
    فانٹو نے دل ہی دل میں خود سے وعدہ کیا کہ وہ آئندہ کبھی بھی اپنے پیارے دوست کو ضائع نہیں کرے
    لکھاری :- ادیبہ انور
    اردو کہانی چینل  
    انگلش کرافٹ چیننل 
    Print this story here.

  • حضرت آدم علیہ سلام. The story of hz Adam A.S Free/PDF stories for Muslim children in Urdu.

    حضرت آدم علیہ سلام
    حصہ اول
    Urdu islami kahaina.


    پیارے بچو! آپ کو پتا ہے

    کہ سب سے پہلے انسان
    حضرت آدم علیہ سلام تھے. وہ جنت
    میں رہتے تھے.
    ان سے پہلےاللہ نے روشنی سے
    فرشتوں کو پیدا کیا. پھر آگ سے جن پیدا کیے.
    لیکن حضرت آدمؑ کو اللہ نے
    مٹی سے پیدا کیا تھا
    . اور پھر ان سے حضرت حواؑ کو پیدا کیا.
    فرشتے اور جن ہر وقت اللہ کی
    عبادت کرتے رہتے تھے
    اور اللہ کا ہر حکم مانتےتھے
    .سب سے زیادہ عبادت ابلیس جن کرتا تھا
    ابلیس جن کو اللہ نے
    فرشتوں کےساتھ جنت میں رکھا تھا
    اور اس کی عزت بھی کی جاتی تھی.
    جس سے وہ بہت مغرور ہو گیا تھا.
    اللہ تعالٰی نےحضرت آدمؑ کو
    سب چیزوں کے نام
    سکھا دیۓتھے
    . پھر فرشتوں
    اور جنوں کو کہا کہ آدمؑ کو سجدہ کریں.
    سب نے سجدہ کیا.
    لیکن  ابلیس نے نہیں کیا.
    اللہ اس سے ناراض ہو گیا.
    اور اس کو جنت سے نکال دیا.
    اور کہا کہ تم نا فر مان, شیطان ہو.
    شیطان اس طرح انسان کا دشمن بن گیا  
    ،اور اللہ سے کہا
    کہ! میں انسانوں سےگندے کام کرواؤں گا
    حضرت آدمؑ اور حواؑ جنت میں رہنے لگے
    -اللہ نے ان سے کہا کہ جو  مرضی کھائو پیو
    -لیکن ایک پھل نہیں کھانا
    -اور شیطان کا کہنا نا ماننا ،وہ تمھارا دشمن ہے
    ،جنت میں وہ دونوں اللہ کی عبادت کرتے
    ،مزے مزے کی چیزیں کھاتے
    -اور فریشتے ان کی خدمت کرتے تھے
    -شیطان کو یہ سب اچھا نہیں لگتا تھا
    ایک دن شیطان نے آ کر ان دونوں کو دھوکے
    ،سے وہ پھل کھلا دیا
    -جس کو کھانے سے اللہ نے منع کیا تھا
    .جس سے ان کا پردہ اتر گیا
    . اللہ تعالیٰ ان دونوں سے ناراض ہو گیا
    – اور انہیں جنت سےنکال کر زمین پر بھیج دیا
    اور شیطان کو بھی اللہ نے آسمانوں
    – سے ہمیشہ کے لیۓنکال دیا
    -حضرت آدمؑ زمین کے  ایک کونے پر تھے
    – اور حضرت حواؑ دوسرے کونے پر تھیں
    -وہ دونوں بہت شرمندہ تھے
    -اور اللہ سے ہر وقت رو رو کر دعا کرتے رہتے
    -اللہ  نے ان کو معاف کر دیا
    -اور ایک جگہ اکٹھا کردیا.
    اللہ نے ان کو کہا کہ اب تم لوگ
    زمین پر رہو گے- اور
    اگر تم لوگوں نے اچھے کام کیے،تو
    -تمہیں دوبارہ جنت  میں بھیج دوں گا
    -اب جنت کے لیۓتمھیں محنت کرنی ہو گی-
    ،اور اگر شیطان کا کہنا مانا
    -تو پھر اسی کے دوست بن جائوگے
    -اللہ نےان کو زمین پر اپنا خلیفہ بنا دیا-
    حضرت آدمؑ اور حواؑ زمین  پر
    -بہت اچھے بن کر رہنےلگے
    -وہ ایک اللہ عبادت کرتےرہتے تھے
    -اللہ نے ان کو بہت سے بچے دئیے
    سب سے پہلے قابیل اور اس کی ایک بہن
    ،ھوئی
    -پھر ہابیل اور اس کی بہن ہوئی
    وہ سب بہت پیار اور محبت سے رہتےتھے
    ہابیل اور قابیل ایک دوسرے
    -سے بہت پیار کرتے تھے
    -لیکن قابیل تھوڑا ضدی اور غصےوالا تھا
    -جب کہ قابیل بہت سمجھ دار تھا
    بس شیطان نے قابیل کو
    -ورغلانا شروع کر دیا
    قابیل کے دل میں شیطان نے
    !یہ بات ڈال دی کہ
    -بابا آدمؑ ہابیل سے زیادہ پیار کرتے ہیں
    جب کہ قابیل سے کم
    اسی لئے قابیل نےہابیل کے
     ساتھ ضد کرنا شروع کردی
    ہابیل کی شادی قابیل کی
    جڑوا بہن سے ہونی تھی
    اور قابیل کی شادی  ہابیل
    کی جڑوا بہن سے ہونا تھی
    .. قابیل کہنے لگا
    کہ! میں تواپنی ہی جڑوا بہن سے شادی کروں گا
    حضرت آدمؑ نے اس کو سمجھایا
    کہ ایسا نہیں ہو سکتا
    .. پھرایک دن وہ جنگل میں
    -اکٹھے کام کر رہے تھے
    -تو اچانک قابیل کا پائوں پھسل گیا
    ،وہ دریا میں گرنےلگا تھا
    کہ !ہابیل نے اس کو بچا لیا
    اس طرح قابیل کے
    دل میں پھر ہابیل کے لئیے  محبت پیدا ہو گئی
    لیکن شیطان نے پھر سے قابیل کو بھڑکانہ شروع دی

    آدمؑ حصہ دوم
    پھر ایک دن حضرت آدمؑ نے
    ، اللہ کے حکم سے دونوں کو کہا
    کہ! چونکہ ہابیل زیادہ سمجھدار
    اور نرم مزاج ہے اس لیے
    میرےبعد ہابیل خلیفہ ہو گا
    -اس بار قابیل کو بہت غصہ آیا
    -اور اس نے یہ بات ماننے سے انکار کر دیا
    – اس نے کہا بلکہ میں خلیفہ بنوں گا
    -اللہ تعالٰی نے دونوں کو حکم دیا
    -کہ !اپنی اپنی طرف سے کچھ قربانی دو
    -جس کی قربانی مجھے پسند آئی وہی خلیفہ ھو گا
    ،قابیل کا پیشہ کھیتی کرنا
    – اور پھل سبزیاں اگانا تھا
    ،اس لیے اس نے کچھ سوکھے سڑے
    ،اور ناقص پھل سبزیاں ایک ٹوکرے میں بھرے
    -اور میدان میں رکھ آ یا
    -جب کہ ہابیل کا پیشہ جانوروں کی دیکھ بھال تھا
    اس نے ایک پیاری سی موٹی،تازی گائے
    -اللہ کے لئے قربانی کرنے کے لئےرکھ دی
    -پھر ایک آسمانی بجلی آئی
    اور ہابیل کی گائے کو لے گئی
    جب کہ قابیل کی قربانی وہاں ہی پڑی
    -رہ گئی
    اب تو قابیل اور بھی زیادہ ہابیل
    -کا دشمن بن گیا
    -اوراس طرح  ایک دن
    -قابیل نے ہابیل کوماردیا
    اس کےبعد قابیل کو
    سمجھ ناآئی کہ اب اس کا کیا کرے؟
    اچانک اس کی نظر
    -ایک کوۓ پر پڑھی
    جو ایک مرے ہوئے
    -کوۓکو زمین میں دبا رہا تھا
    اس طرح قابیل کو ترکیب مل گئی، کہ! وہ ہابیل کو
    کیسے چھپا ۓ ؟
    -قابیل کو بہت افسوس ہوا
    -اس نے کہا
    -یہ کوا بھی مجھ سے زیادہ سیانا  ہے
    پھر اللہ نے ہابیل کی
    جگہ حضرت آدمؑ کوایک اوربیٹا
    – حضرت شیتؑ دئیےجو کےاللہ کےخلیفہ بنے
    !دیکھا؟ پیارے بچو
    شیطان کس طرح غصہ دلا
    .کر ہمارا نقصان کرواتا ہے
    -ہمیں بھی ہمیشہ غصہ کرنے سی بچنا چاھیے

    تحریر :- ادیبہ انور

    -: عملی کام
    اس کہانی کے آخر میں بچوں سی کچھ عملی کام کروایے
    تا کہ کہانی بچوں کو اچھی طرح ذھن نشین ہو جا یے
    اس کا ایک طریقہ تو وہی سوال جواب کا ہے جو
    ہمیشہ سے کیا جا رہا ہے اس کے علاوہ
    بچوں سے کچھ تخلیقی کام کروایا جا سکتا ہے ،جیسے
    اس کہانی کیبعد حضرت آدم کا ممنوعہ درخت بنوایا جا سکتا ہےاس کہانی میں کوۓ کا ذکر ہے لہٰذہ بچوں سے کوے کے بارے میں بات کریں کوا ایک ہوشیار اور چالاک پرندہ ہے پرندووں کے گھونسلے کا معائنہ کروائیں اور گھونسلے وغیرہ بنواحضرت آدم الہ اسلا م اور حضرت یونس کی کہانی کی pdf نیچے دے گئی ہے. شیر کریں تا کہ اور لوگ بھی اٹھائیں اگر آپ بچوں کی پڑھائی ور تعلیم و تربیت کے متعلق مزید videos تخلیقی مواد ور بچوں کو پڑھانے کے طریقوں کے متعلق مواد چاھتے ہیں تومیری انگلش کی ویب سائٹ پر تشریف لے جائیں.

  • Story of Hz Ibraheem A.S.حضرت ابراہیمؑ… free pdf Stories for children In Urdu.

    حضرت ابراہیمؑ
    حضرت ابراہیمؑ ایک وادی کنان میں پیدا ہوے. کنان کے لوگ بت پرست ائر ستارہ پرست تھے. حضت ابراہیمؑ ان لوگوں کو بتوں کی عبادت کرتے اور ان سے مانگتے دیکھتے تو ان کو بہت برا لگتا

    جب وہ ذرا بڑے ہوے تو انہوں نے اپنے بابا(چاچا) آزر سے کہا کہ یہ سب بت جنہیں تم اپنے ہاتھوں سے بناتے ہو وہ تمہیں کیا دے سکتے ہیں. اس بات پر وہ بہت ناراض ہوئے.
    پھر حضرت ابراہیمؑ نے ان لوگوں کو سمجھانے کے لئے ایک دن ایک چمکتا ہوا ستارہ دیکھا تو کہا یہ میرا رب ہے.  لوگ بہت خوش ہوئے کہ اس نے بھی ہماری طرح کی بات کی ہے. پھر وہ ستارہ ڈوب گیا تو ابراہیمؑ نے کیا کہ ڈوبنے والا میرا رب نہیں ہو سکتا. پر چاند نکل آیا تو ابرہیمؑ نے کہا کہ یہ زیادہ روشن اور چمکدار ہے یہ میرا رب ہے
    پھر چاند بھی ڈوب گیا تو انہوں نے کہا کہ ڈوبنے والا میرا رب نہیں ہو سکتا. پھر سورج نکلا تو آپؑ نے کہا یہ میرا رب ہے. پھر وہ بھی شام کو ڈوب گیا تو حضرت ابراہیمؑ نے کہا کہ یہ بھی ڈوب گیا.  میرا رب تو وہ ہےجو ہمیشہ سے ہے کبھی ڈوب نہیں سکتا. تم سب ان کو چھوڑ کر اس اللہ کی عبادت کرو.
     اس بات پر سب لوگ آپؑ سے بہت ناراض ہوئے اور کہنے لگے کہ آپ کے خاندان کی وجہ سے آپ کو چھوڑ رہے ہیں. آئیندہ ہمارے خداؤں کو برا مت کہنا.
    پھر حضرت ابراہیم نے ان کو سمجھانے کے لئے ایک اور ترکیب سوچی.
    ایک دن جب سب لوگ میلے میں جانے لگے تو حضرت ابراہیمؑ ن کہا کہ میں بیمار  میں نہیں جاؤں گا.  لہٰذا جب سب لوگ چلے گئے تو ابراہیمؑ نے ان کے عبادت خانے میں جا کر ان کے سب بتوں کو کلہاڑی سےتوڑ دیا. اور ایک سب سے بڑے بت کو چھوڑ دیا.اور کلہاڑی اس بڑے بت کےاوپر رکھ دی.
    جب لوگ واپس آئےتو اپنے بتوں کا یہ حال دیکھ کے بہت غصہ میں آئے. انہوں نے حضرت ابراہیمؑ سے پوچھا کہ یہ  سب بت کس نے توڑے ہیں .حضرت ابراہیمؑ نے کہا اس بڑے بت نے توڑےہوں گے اس سے پوچھو. لوگوں نے کہا یہ کیسے بول سکتا ہے
    ابراہیمؑ نے کہا کہ جو نا بول سکتے ہیں نا اپنی حفاظت کر سکتے ہیں تم ان سے کیوں مانگتے ہو
    لوگ سمجھنے کی بجائے اور بھی غصہ میں آ گئے. انہوں نے کہا کہ اب ہم تمیں نہیں چھوڑیں گے.
    وہ سب حضرت ابرہیمؑ کی شکایت لے کر نمرود کے پاس چلے گئے.
    حضرت ابراہیمؑ اور نمرود
    لوگ اپنے ٹوٹے ہوئے بت دیکھ کر شدید غصہ میں تھے. وہ حضرت ابراہیمؑ کو نمرود کے پاس لے گئے.
    نمرود نے ان سے پوچھا اچھا بتا کون ہے تیرا اللہ
    حضرت ابراہیمؑ نے کہا ک میرا رب وہ ہے جو زندگی بھی دیتا ہے اور موت بھی
    نمرود نے کہا کہ وہ تو میں بھی کر سکتا ہوں.
    یہ کہ کر نمرود نے ایک پھانسی کے قیدی کوآزاد کر دیا اور ایک بےگناہ کو مروا دیا.
    پھر حضرت ابراہیمؑ نے کہاکہ میرارب سورج کو مشرق سے نکالتا ہے تو مغرب سے نکال کر دیکھا.
    نمرود لاجواب ہو گیا.
    اس نے حکم دیا کہ ابراہیمؑ کو آگ میں ڈال دیا جائے.
    ایک میدان میں بہت ساری لکڑیاں ڈال کر خوب آگ جلائی گئی. پھر حضرت ابراہیمؑ کو اس آگ میں ڈال دیا گیا.  اللہ نے جلدی سےحضرت جبرائیل کو بیجھا.
    حضرت جبرائیل نے اللہ کے حکم سے آگ کو ٹھنڈا کر دیا.  لوگ دیکھنے آئے کہ ابراہیمؑ  آگ میں جل گئے ہوں گے.لیکن انہوں  نے آ کر دیکھا کہحضرت جبرائیل پھولوں پر بیٹھے ہوئے اللہ کو یاد کر  رہے ہیں.
    یہ دیکھ کر بہت سے لوگ مسلمان ہو گئے. لیکن نمرود اور اس کے بہت سارے ساتھی مسلمان نا ہوئے.
     اللہ نے ان پر مچھروں کا عذاب  بیجھا. یہ بہت موٹے موٹے مچھر تھے جوان کو کاٹ کاٹ کر  ان کا گوشت بھی کھا جاتے تھے.
     ایک مچھر نمرود کے ناک میں گھس کر دماغ میں بیٹھ گیا. جب وہ مچھر اس کو کاٹتا تو وہ چیخیں مارتا. پھر لوگوں سے سر میں جوتے مرواتا.
    اس طرح اللہ نےے اس کو نا فرمانی کی سزا دی.

    حضرت ابراہیمؑ کے بیٹے.
     پھر حضرت ابراہیمؑ ہجرت کر کے فلسطین چلے گئے انہوں نے حضرت ساراہ سے شادی کی. لیکن ان کے بچے نا ہوئے. پھر انہوں نے حضرت ہاجرہ سے شادی کی. لیکن ان کے بھی بچے نا ہوئے.
    ایک دن  حضرت ابراہیمؑ کے پاس دو مہمان آئے. انہوں نے سفید لباس پہنے ہوئے تھے. حضرت ابراہیمؑ نے ان کو نا پہچانا.
    حضرت ابراہیمؑ نے کھانا بنوایا. اور ان کے سامنے رکھا.لیکن انہوں نے کھانا نا کھایا.
    حضرت ابراہیمؑ کوان سے خوف محسوس ہوا.
    ان مہمانوں نے کہا کہ ڈریں نا ہم اللہ کی طرف بیجھے ہوئے فرشتے ہیں.
    حضرت ہاجرہ یہ سن کر ہنس پڑیں . فرشتوں نے ان کی طرف دیکھا اور کہا ہم آپ کو ایک بیٹے کی بشارت دیتے ہیں. یہ سن کر حضرت ہاجرہ شرما گئیں اور کہنے لگیں کہ اب میرا بیٹا کیسے پیدا ہو سکتا ہے. کیوں کہ میرا شوہر اور میں دونوں ہی بوڑھے ہو چکے ہیں.
    فرشتوں نے کہا کہ جب اللہ کسی کام کو کرنے کا ارادہ کر لیتا ہے تو وہ بس اس کام کو کہتا ہے کہ ہو جا اور وہ کام ہو جاتا ہے.
    یہ کہ کر فرشتے حضرت لوطؑ کی قوم کی طرف چلے گئے.
    پھر حضرت ہاجرہ کا بیٹا ہوا جس کا نام انہوں نے اسمائیلؑ رکھا.
    اس کے بعد حضرت سارا کا بھی ایک بیٹا ہوا. جس کا نام اسحاقؑ رکھا گیا.
    اس طرح حضرت ابراہیمؑ کے دونوں بیٹے بھی اللہ کے نبی بنے.
    حضرت اسحاقؑ کے بیٹوں کے بیٹوں اور ان نکی نسل میں بہت سارے اور نبی بھی آئے جیسےحضرت یوسفؑ اور حضرت موسیٰؑ  وغیرہ.
    بنکہ حضرت اسمائیلؑ کی نسل میں سے بعد میں صرف ایک ہی نبی آئے. جو کہ آخری نبی حضرت محمدؐ تھے.
    حضرت اسماعیلؑ اور زم زم
    حضرت ابراہیمؑ اپنے دونوں بیٹوں حضرت اسحاقؑ اور حضرت اسماعیلؑ کے ساتھ فلسطین میں تھے. جب اللہ تعا لیٰ نے ان کو آزمائش میں ڈالا اور ان کو حکم دیا کہ حضرت اسماعیلؑ کو ان کی ماں کےساتھ فلسطین سے دور عرب کے شہر مکہ میں چھوڑ آؤ.
    حضرت ابراہیمؑ دونوں کو لے کر مکہ چلے گئے. مکہ کا یہ علاقہ پہاڑی تھا. دور دور تک پانی نہیں ملتا تھا. اس وجہ سے وہاں کوئی رہتا بھی نہیں تھا. بلکل سنسان  جگہ تھی. حضرت ابراہیمؑ اللہ کے حکم کے مطابق کچھ کھانا اور پانی ان دونوں کو دے کر آنے لگے. تو حضرت ہاجرہ نے ان سے پوچھا ہمیں کس کے آسرے پر یہاں چھوڑ کر جا رہے ہیں. انہوں نے کہا
    اللہ کے آسرے پر. یہ سن کر حضرت ہاجرہ نے کہا پھر ٹھیک ہے. اللہ ہمیں کبھی اکیلا نہیں چھوڑے گا.
    حضرت ابراہیمؑ نے ان ک لئے دعا کی کہ اللہ ان کی حفاظت فرمانا اور پھر چلے گئے.
     حضرت ہاجرہ وہاں بیٹھی اللہ کو یاد کرتی رہیں.کچھ وقت گزر گیا تو ان کے پاس کھانا اور پانی ختم ہو گیا.
    حضرت اسماعیلؑ کو بہت پیاس لگی تو وہ رونے لگے.  جب رو رو کر نڈھال ہونے لگے تو حضرت ہاجرہ ان کو لٹا کر پانی تلاش کرنے لگیں.ان کے دونوں طرف صفا اور مروہ پہاڑیاں تھیں.
    انہوں نے صفا کی پہاڑی پر چڑھ کر ادھر ادھر دیکھا لیکن

       حضرت ابراہیمؑ اور اسمائیلؑ کی قربانی
    حضرت اسمائیلؑ مکہ میں اپنی ماں ہاجرہ کےساتھ رہ رہے تھے. جب وہ تقریبا دس سال کے ہوئے تو ایک دن ان کے بابا حضرت ابراہیمؑ جو کہ اپنے دوسرے بیٹے حضرت اسحاقؑ کے ساتھ فلسطین میں رہتے تھے ان سے ملنے آئے.
    حضرت اسماعیلؑ بہت خوش ہوئے وہ پہلی مرتبہ اپنے بابا کو دیکھ رہے تھے.
    کچھ دیر کے بعد ان کے بابا نے ان سے کہا.
     بیٹا میں نے خواب میں دیکھا کہ میں تمہیں زبح کر رہا ہوں.
    لیکن میں نےاس بات کو حقیقت نا سمجھا.
    پھر اگلی رات بھی میں نے یہی خواب دیکھا. اور اسے اپنا خیال سمجھا.
    لیکن پھر تیسری رات بھی میں نے یہی خواب دیکھا.
    پھر میں یہ سمجھ گیا کہ یہ میرا خیال نہیں بلکہ اللہ کا حکم ہے.
    اب بتا تو کیا کہتا ہے
    حضرت اسماعیلؑ ایک بہادر اور فرماں بردار بیٹے تھے.
    انہوں نے اپنے بابا کو بہت پیار سے کہا کہ
    بابا آپ کو جو حکم اللہ سے ملا ہے آپ اس پر عمل کیجیئے
    انشاءاللہ آپ مجھے ثابت قدم دیکھیں گے.
    اس طرح حضرت ابراہیمؑ اپنے پیارے بیٹے حضرت اسماعیلؑ کو ذبح کرنے کے لئے چل پڑے
    رستے میں شیطان نے ان کو اللہ کا حکم ماننے سے روکنا چاہا
    شیطان آ کر حضرت ابراہیمؑ ک دل یہ وہم ڈالنے لگا کہ یہ سچا خواب نہیں ہے.
    لیکن اسی وقت وہاں پر  ایک فرشتہ جس کا نام  حضرت جبرائیلؑ ہے آگیا
    اس نے حضرت ابراہیمؑ کو بتایا کہ یہ شیطان آپ کو اللہ کا حکم ماننے سے روکنے آیا ہے.
    اس کو سات کنکر ماریں
    جب حضرت ابراہیمؑ نے اسکو سات کنکر مارے تو وہ غائب ہو گیا. لیکن تھوڑی آگے جا کے وہ پھر آ گیا
    پھر حضرت ابراہیمؑ نے اس کو سات کنکر مارے
    تو وہ غائب ہو گیا
    تھوڑا اور آگے گئے تو وہ شیطان مردود پھر آ گیا
    کہنے لگا گھر میں اس کی ماں انتظار کر رہی ہو گی
    آپ واپس جا کر ان کو کیا بتائیں گے.
    لیکن پھر جبرائیل کے کہنے پر حضرت ابراہیمؑ نے شیطان کو سات کنکر مارے
    اب شیطان مایوس ہو کر چلا گیا
    حضرت ابراہیمؑ اپنے بیٹے کو لے کر مینا کے مقام پر پہنچے
    حضرت اسماعیلؑ نے اپنے بابا سے کہا کہ اپنی آنکھوں پر پٹی باندھ لیجئے
    ایسا نا ہو میرا چہرا دیکھ کر آپ کو مجھ پر پیار آ جائے اور آپ کو ذبح کرنے میں مشکل ہو
    حضرت ابراہیمؑ نے آنکھوں پر پٹی باندھ لی
    ابھی وہ چھڑی چلانے ہی لگے تھے کہ آواز آئی
    کہ اے ابراہیمؑ تم سچے ہو اور تم نے اپنا خواب بھی سچا کر دیا.
    یہ آپ کی آزمائش تھی آپ اس آزمائش پر پورے اترے ہو.
    اب یہ آپ کے پاس ایک دنبہ ہے آپ اس کو ذبح کریں اور کھائیں اور اللہ کا شکر ادا کریں
    حضرت ابراہیمؑ نے دیکھا کہ ان کے پاس جنت سے آیا ہوا دنبہ کھڑا ہے. اور حضرت اسماعیلؑ پاس کھڑے ہنس
    تھےحضرت ابراہیمؑ اور حضرت اسماعیلؑ نے کعبہ تعمیر کیا.
    جب حضرت اسماعیلؑ جوان ہوئے تو اس وقت خانہ کعبہ کی جگہ سے بت ختم کرنے اور وہاں پر اللہ کا گھر تعمیر کرنے کا حکم ملا. دونوں باپ بیٹا اللہ کا گھر تعمیر کرنے لگے. حضرت اسماعیلؑ پتھر اٹھا کر پکڑانے لگ گئے. اور حضرت ابراہیمؑ ان پتھروں کو ٹھیک ٹھیک اندازے سے جوڑ کر خاںہ کعبہ کی دیواریں بنانے لگے.
    وہ دونوں اپنا کام بھی کرتے جاتے اور اللہ سے دعا بھی کرتے جاتے کہ
    اے اللہ ہمارے اس کام کو قبول فرما لے, اور اس گھر کو برکت والا کر دے, اور ہماری اولاد میں ایک ایسا پیغمبر بھیج دے جو ان کو پاک کر دے اور ان کو دانائی اور حکمت کی باتیں سکھائے اللہ نے ان کی دعا قبول فرما لی .
    اس کے بعد آج تک خانہ کعبہ دنیا کا سب سے زیادہ عزت والا گھر ہے. اللہ نےحضرت اسماعیلؑ کی اولاد میں سے ہمارے پیارے نبی حضرت محمدؐ
     بھیجے
    اللہ نے ان کو کتاب قرآن مجید  بھی دی.  جس میں اللہ نے زندگی گزارنے کے سارےاصول بھی بتا دئیے ہیں
    حضرت محمدؐ نےلوگوں کو یہ بھی بتا دیا ک خانہ کعبہ میں جا کر  حج کیسے کرنا ہے.
    اب ہر سال لوگ ذوالحجہ کے مہینے میں خانه کعبہ جاتے ہیں اور حضرت ابراہیمؑ اور حضرت اسماعیلؑ کی سنت پوری کرتے ہیں.
    خانہ کعبہ کا طواف, صفا اور مروا کی سعی, جمرات اور جانوروں کی قربانی سب کچھ حضرت ابراہیمؑ اور حضرت اسماعیلؑ کی یاد میں ادا کئے جانے والے ارکان ہیں

      اگر آپ بچوں کی پڑھائی ور تعلیم و تربیت کے متعلق مزید
    videos
    تخلیقی مواد ور بچوں کو پڑھانے
    کے طریقوں کے متعلق مواد چاھتے ہیں
    تومیری انگلش کی ویب سائٹ پر تشریف لے جائیں.

  • Abraha ki faoj. Free pdf Urdu Islamic stories for children.

    ہاتھی اور ابابیل  
    ابرہہ ایک بہادرلیکن مغرور جنرل تھا. اس کے پاس لڑنے کے لیئے بہادر فوجی اور ہاتھی تھے.جو وہ افریقہ سے لے کر آیا تھا

     

    islami urdu kahania

     

    اس نے یمن پر قبضہ کر کے وہاں ایک بہت بڑا گرجا بنوایا تھا. وہ عربیوں کو مجبور کرتا کہ سب اس کے گرجا گھر میں آ کر عبادت کریں. اور جب بہت سارے لوگ عبادت کرتے تو وہ فخر سے کہتا کہ میرا گرجا دنیاکا سب سے بڑا عبادت خانہ ہے.

    لیکن ایک دن ایک عربی نے اس کو کہا کہ عرب کے شہر مکہ میں اس سے بھی بڑا ایک عبادت خانہ ہے. جہاں ساری دنیا سے لوگ عبادت کرنے آتے ہیں. اس کو بہت غصہ آیا. اس نےکہا کہ اگر میں اس عبادت خانے کو توڑ دوں تو پھر سب لوگ یہاں ہی آئیں گے. اس لئے وہ اپنی ساری فوج اور ہاتھیوں کو لے کر چل پڑا. اس نے سب سے  بڑے ہاتھی محمود کو بھی لے لیا. تا کہ وہ اس کے زور سے عمارت گرا سکے. اور اس عربی کو بھی ساتھ لیا جس نے خانہ کعبہ کے بارے میں بتایا تھا. تا کہ اس سے راستہ پوچھ سکے.
    مکہ کے قریب پہنچ کر اس نے مکہ والوں کو پیغام بیجھا کہ میں تم لوگوں کو کچھ نہیں کہوں گا اگر تم لوگ مجھے خانہ کعبہ ڈھانے دو گے.
    اس وقت عبدالمطلب خانہ کعبہ کے متولی اور سردار تھے. لوگوں نے ان سے کہا کہ ہاتھیوں والی فوج سےلڑنے کی ہم میں طاقت نہیں. حضرت عبدالمطلب نے اس سے کہا کہ تم سب اپنے مال لےکر پہاڑی پر چلےجائو. حضرت عبدالمطلب خود ساری رات خانہ کعبہ کے اندر بیٹھ کر دعا کرتے رہے. کہ اے اللہ یہ تیرا گھر ہے تو ہی اس کی حفاظت فرما. اللہ نے ان کی دعا قبول فرمائی .
     اور ہاتھی والی فوج حال خراب کر دیا.
    سب سے پہلے ابرہہ نےآگے بڑھنے کے فوج کو تیار کیا.جس عربی کو وہ ساتھ لائے تھے اس نے چپکے سے  ہاتھی محمود کےکان میں کیا کہ خبرداریہ تمھارے خالق کا گھر ہے آگے مت بڑھنا.
    فوج نے بہت زور لگایا. مار مار کر لہولہان کر دیا لیکن ہاتھی آگے نا بڑھا.
    ابرہہ اور اس کے ساتھی بہت غصہ میں تھے.
    اسی وقت اللہ نے ان کے پیچھے سے بے شمار ابابیل پرندے بھیج دیئے جنہوں نے اپنی چونچ میں چھوٹے چھوٹے پتھر پکڑے ہوئے تھے.
    وہ پتھر فوج کے اوپر پیھنکےلگے. تھوڑی دیر میں وہ سب فوجی پتھر کھا کھا کے وہ وہیں مر گئے.
    ایک پتھر ابرہہ کے سر میں لگا جس سے وہ بہت زخمی ہو گیا اور ڈر کر وہاں سے بھاگ گیا.
    اور کچھ دنوں بعد راستے میں ہی مر گیا. اس طرح اللہ تعالٰی نے اپنے گھر کی -حفاظت کی.
    ادیبہ انور 
    اس کہانی کے بعد  بچوں سے سوال جواب سے  بچوں کی معلومات بڑھائیں 
    بچوں کو  الفیل یاد کروائی جائیں اور آسان تخلیکی مشق کروائی جیے 
    اس مشاق میں ہاتھی ابابیل اور اس کا گھونسلا اور خانہ کعبہ بنوایا جایے 
    اس کے علاوہ اللہ کا پہلا  اور لوگوں کے  سب سے بڑھے عبادت خانے کے بارے میں بتایا جایے 
    اس کہانی  کو لوگوں کے ساتھ شیر  کریں تا کہ زیادہ لوگ فائدہ اٹھا سکیں
      اگر آپ بچوں کی پڑھائی ور تعلیم و تربیت کے متعلق مزید
    تخلیقی مواد ور بچوں کو پڑھانے
    کے طریقوں کے متعلق مواد چاھتے ہیں
    کمنٹ کریں
    free PDF kay liy click kerin
      

    My Urdu channel for stories and Islamic video

    My English Channel for Islamic crafts, parenting and Stories

    Read more stories in Stories section above. You can join my stories live sessions comment for info.

  • Free Islamic Stories for children.. ایک بڑھیا کی کہانی

     ایک بڑھیا کی  کہانی 
    حضرت محمد  صلو علیہ ) کی سیرت کے واقعیات   
         
                          بچو ! آج میں آپ کو ایک اایسی  
    The story about seerah of Muhammad SAW: ایک بڑھیا کی کہانی ...حضرت محمد صل کی سیرت کے واقع...                          






                
              عورت کی  
    کہانی سناؤ گی جو ایک  غیرمسلم تھی 
                    بچوآپ کو پتا  ہے ناغیر مسلم کسےکہتےہیں           
     جی ہاں بلکل ٹھیک بتایا آپ نے  
    اس  کو جو اللہ کو ایک نہیں مانتا 
     اور نماز نہیں پڑھتا   
        توبچوں  وہ عورت ایک  
     نوجوان سے بہت نفرت کرتی تھی  –   
      اس لئےکہ وہ نوجوان  
    لوگوں کو ایکاللہ کی باتیں  بتاتا  تھا  
     اور  بتوں کی عبادت سے روکتا تھا   
    تو پیارے بچو!  اس نوجوان کا گزر روز  
    اس عورت کے گھر کے 
                                                   قریب سےہوتا تھا  
    سے  وہ عورت اپنی نفرت  
    کا اظہار اس طرح کرتی 
     کہ جب بھی وہ نوجوان   
    اس کے گھر کے قریب سے گزرتا 
    وہ عورت اس کے اوپر اپنے گھر کا  
    سارا کچرا پھینک دیتی 
     ایک دن ایسے ہوا کہ  
    اس عورت نے  
    نوجوان پر کچرا نہیں پھینکا ۔ 
    نوجوان کو خیرت ہوئی  
    کہ  آج وہ بڑھیا چھت  پر  
    کیوں نہیں کیوں کہ ایسا پہلے  
      کبھی نہی ہوا تھا  
    اس نوجوان نے اس عورت   
    کے ہمسایوں  سے  
    پوچھا کہ وہ بوڑھی   
     عورت کہاں ہے۔ 
    ہمسائیوں نے بتایا کہ  
    وہ تو بیمار ہے۔ 
    نوجوان نے سوچا  
    کہ مجھے ضرور  
    اس کا حال پوچھنے   
        جانا چاہیے  
    جب اس عورت نے دیکھا  
    – کہ یہ تو وہ وہی لڑکا ہے 
    جس پر میں کچرا پھینکتی  تھی 
             تو پیارے بچو 
    وہ عورت بہت ڈری 
    اس نے سوچا کہ  
    اب میں تو بہت کمزور ہوں  
     اس لیے یہ لڑکا پتا نہیں   
    میرے ساتھ  کیا  
    سلوک کرے 
    لیکن جب اس عورت کو  
    معلوم ہواکہ  
    وہ نوجوان تو میرا  
    حال معلوم کرنے آیا ہے 
     تو وہ عورت بہت شرمندہ ہوئی  
    اور پیارے بچو 
     اس لڑکےنےاتنے اچھے  
    انداز سےبات 
    کی کہ وہ عورت اس کے 
    اچھے اخلاق اور میٹھی گفتگو 
    (بات) 
    سے بہت متاثرہوئی  
    اور اس نے اسلام قبول کر لیا 
    پیارے بچو کیا آپ بتا سکتے ہیں کہ  
    وہ نوجوان کون تھا 
                         جی ہاں جی 
    بچو آپ نے بلکل ٹھیک سوچا 
    اتنے اچھے سلوک اور   
    اخلاق والے نوجوان کا نام  
    حضرت محمد صل اللہعلیہوسلم ہے 
    دیکھا بچواچھی میٹھی گفتگو اورi 
    اچھے اخلاق سے دشمن  بھی 
         دوست بن جاتے ہیں 
    اس لیےبچو ہمیشہ  
    اپنے بہن بھائیوں،دوستوں   
    اور دوسرے سب لوگوں سے  
    اچھے سے بات کرنی چاہیے 
    اور سب کا خیال بھی رکھنا چاہیے 
    خاص طورپر اپنے ماں باپ   
                     اور بہن بھائیوں کا 
    کیوں کہ ہم ساری اچھیعادات گھر 
    سے ہی سیکھ سکتے ہیں               
    اچھا بچو پھر ملیں گےایک اور کہانی کے ساتھ
     تب تک،  الله حافظ      
    ادیبہ انور
      اگر آپ بچوں کی پڑھائی ور تعلیم و تربیت کے متعلق مزید
    videos
    تخلیقی مواد ور بچوں کو پڑھانے
    کے طریقوں کے متعلق مواد چاھتے ہیں
    تومیری انگلش کی ویب سائٹ پر تشریف لے جائیں.
      
                        

    Download and print this story